Imran bin Hussain رضی اللہ عنہما :
He asked the prophet صلی اللہ علیہ وسلم about the prayer a man offers in sitting condition. He replied: his prayer in standing condition is better than his prayer in sitting condition, and his prayer in sitting condition is half the prayer he offers in standing condition, and his prayer in lying condition is half the prayer he offers in sitting condition.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، حسین المعلم کی سند سے، عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: آدمی کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ہے اور لیٹ کر پڑھنے میں بیٹھ کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ملتا ہے ۔
Imran bin Husain رضی اللہ عنہما said:
I had a fistula; so I asked the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said: offer prayer in standing condition; if you are unable to do so, then in sitting condition: if you are then at your side (i.e, in lying condition).
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن طہمان نے، حسین المعلم کی سند سے، ابن بریدہ کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
مجھے ناسور تھا ۱؎، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہو کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو ( لیٹ کر ) پہلو کے بل پڑھو ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
I never saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم reciting the Quraan in his prayer at night in sitting condition until he became old. Then he used to sit in it (the prayer) and recite the Quran until forty or thirty verses remained, then he stood and recited them and prostrated himself.
ہم سے احمد بن عبداللہ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، عروہ کی سند سے,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ عمر رسیدہ ہو گئے تو اس میں بیٹھ کر قرآت کرتے تھے پھر جب تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر سجدہ کرتے۔
Aishah رضی اللہ عنہا , wife of the prophet صلی اللہ علیہ وسلم, said:
When the prophet صلی اللہ علیہ وسلم prayed sitting, he recited the Quran in sitting condition. When the amount of his recitation remained about thirty or forty verses he stood up and recited them standing. He then bowed and prostrated and then did so in the second Rak’ah of the prayer. Abu Dawud said: Alqamah bin Waqqas narrated this tradition on the authority of Aishah رضی اللہ عنہا from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to the same effect.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے، عبداللہ بن یزید کی سند سے، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھ کر قرآت کرتے تھے، پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرآت رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے، پھر انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے، پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں ( بھی ) اسی طرح کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث علقمہ بن وقاص نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to pray standing at night for a long time, and used to pray sitting at night for a long time. When he prayed standing, he bowed standing, and when he prayed sitting, he bowed sitting.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن شقیق کی سند سے بدیل بن میسرہ اور ایوب کو بیان کرتے ہوئے سنا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کبھی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر، جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔
Abdullah bin Shaqiq said:
I asked Aishah رضی اللہ عنہا whether the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم recited a whole Surah (of the Quran) in one Rak’ah of the prayer. She replied: (He recited from among) the Mufassal surahs. I asked: Did he pray (at night) sitting? She replied: (he prayed sitting) when the people made him old.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ہم سے کہمس بن الحسن نے بیان کیا, عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری سورت ایک رکعت میں پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: ( ہاں ) مفصل کی، پھر میں نے پوچھا: کیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جس وقت لوگوں ( کے کثرت معاملات ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکستہ ( یعنی بوڑھا ) کر دیا۔
Narrated Wail Ibn Hujr رضی اللہ عنہ :
I said that I should look at the prayer of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم how he prays. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood up and faced the qiblah (i. e. the direction of Kabah) and uttered the takbir (Allah is most great); then he raised his hands till he brought them in front of his ears; then he caught hold of his left hand with his right hand (i. e. folded his hands). When he was about to bow, he raised them (his hands) in a like manner. Then he sat, stretched out his left foot (to sit on it), placed his left hand on his left thigh, and kept away the tip of his right elbow from his right thigh, joined two fingers, formed a ring, to do so. And the narrator Bishr made a ring with the thumb and the middle finger.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے, وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے تو قبلہ کا استقبال کیا پھر تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ انہیں پھر اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا پھر اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑا، پھر جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں پھر اسی طرح اٹھایا، ( رفع یدین کیا ) وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی کو اپنی داہنی ران سے اٹھائے رکھا اور دونوں انگلیاں ( یعنی چھنگلیا اور اس کے قریب کی انگلی ) بند کر لی اور ( بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے ) حلقہ بنا لیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ اور بشر ( راوی ) نے بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا ۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said:
A Sunnah of the prayer is that you should raise your right foot, and make your left foot lie (on the ground).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور عبدالرحمٰن بن القاسم کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نماز کی سنت یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پیر کھڑا رکھو اور بایاں پیر موڑ کر رکھو۔
(There is another chain) reported from Yahya who said: I heard Al-Qasim saying: Abdullah bin Abdullah informed me that he heard Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما saying:
From the Sunnah of the prayer is to lay your left foot on the ground, and raise your right foot.
ہم سے ابن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے یحییٰ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے قاسم سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن عبداللہ نے خبر دی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تم اپنا بایاں پیر بچھائے رکھو اور داہنا پیر کھڑا رکھو۔
(There is another chain) from Yahya with his chain and similar (to the previous hadith). Abu Dawud said:
Hammad bin Zaid also said (the wording): From the Sunnah (narrating) from Yahya just as Jarir did.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے، یحییٰ کی سند سے، اسی طرح روایت کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے کہا, اس طریق سے بھی یحییٰ سے اسی سند سے اسی کے مثل مروی ہے,ابوداؤد کہتے ہیں
حماد بن زید نے یحییٰ سے «من السنة» کا لفظ روایت کیا ہے جیسے جریر نے کہا ہے۔
(There is another chain) from Yahya bin Sa'eed:
Al-Qasim bin Muhammad saw them sitting in Tashah-hud, so he mentioned the Hadith.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے بیان کیا, یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ
قاسم بن محمد نے ( اپنے ساتھیوں کو ) تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت دکھائی پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
It was reported from Ibrahim that he said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم would sit in the prayer, he would place his left foot horizontally - so much so that the upper-part of his foot became black.
ہم سے ہناد بن سری نے وکیع کی سند سے، سفیان کی سند سے، انہوں نے زبیر بن عدی کی سند سے بیان کیا, ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں ( تشہد کے لیے ) بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر بچھاتے یہاں تک کہ آپ کے قدم کی پشت سیاہ ہو گئی تھی۔
It was reported from Abu Humaid al-Saeedi - meaning Jafar,
He was informed by Muhammad bin 'Amr bin Ata' who said: "I heard Abu Hamid As-Sa'idi while he was amidst a group of ten Companions of Messenger of Allah - Among them Abu Qatadah saying: 'I am more informed than any of you regarding the manner in which the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم offered his prayer. They said: Present it. The narrator then reported the tradition, saying: he bent the toes of his feet turning them towards the Qiblah when he prostrated, then he uttered “ Allah is most great, ” and raised (his head), and bent his left foot and sat on it, and he did the same in the second Rakah. The narrator then transmitted the tradition, and added: In the prostration (i.e., the Rakah) which ended at the salutation, he sat on the hips at the left side. ahmad (bin Hanbal) added: they said: You are right. This is how he used to pray. They (Ahmed and Musaddad) did not mention in their versions how he sat after offering two rak’ahs of prayer.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، انہیں عبد الحمید نے، یعنی ابن جعفر نے خبر دی, ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبد الحمید نے، یعنی ابن جعفر نے, محمد بن عمرو کہتے کہ
میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں سنا، اور احمد بن حنبل کی روایت میں ہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں، جن میں ابوقتادہ بھی تھے، ابوحمید کو یہ کہتا سنا کہ میں تم لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کو جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: تو آپ پیش کیجئے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو پاؤں کی انگلیاں کھلی رکھتے پھر «الله أكبر» کہتے اور سجدے سے سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے اور اس پر بیٹھتے پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرتے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( آخری ) سجدے سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام پھیرنا رہتا ہے تو بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔ احمد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے: پھر لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے سچ کہا، آپ اسی طرح نماز پڑھتے تھے، لیکن ان دونوں نے یہ نہیں ذکر کیا کہ دو رکعت پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح بیٹھے تھے؟ ۔
Muhammad bin Amr bin Ata said:
He was sitting in the company of a few Companions of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He then narrated his tradition, but he did not mention the name of Abu Qatadah. He said: When he ( the Prophet) sat up the two rak’ahs he sat on his left foot; and when sat up after the last rak’ah he put out his left foot and sat on his hip.
ہم سے عیسیٰ بن ابراہیم المصری نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے لیث کی سند سے، ان سے یزید بن محمد القرشی نے اور یزید بن ابی حبیب نے محمد بن عمرو بن حلالہ کی سند سے بیان کیا, محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ ( ایک مجلس میں ) بیٹھے ہوئے تھے، پھر انہوں نے یہی مذکورہ حدیث بیان کی، اور ابوقتادہ کا ذکر نہیں کیا کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت کے بعد ( تشہد کے لیے ) بیٹھتے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھتے اور جب اخیر رکعت کے بعد بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر ( دائیں جانب ) آگے نکال لیتے اور اپنے سرین پر بیٹھتے۔
Muhammad bin Amr al-Amir said:
I was sitting in the company ( of the Companions). He then narrated this tradition saying: When he (the Prophet) sat up after two rak’ahs, he sat on the sole of his left foot and raised his left foot. When he sat up after four rak’ahs, he placed his left hip on the ground and put out his both feet on one side.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن لہیعہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، وہ محمد بن عمرو بن حلحلہ سے ,محمد بن عمرو عامری کہتے ہیں کہ
میں ایک مجلس میں تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی جس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں قدم کے تلوے پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پیر کھڑا رکھتے پھر جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کو ایک طرف نکال لیتے۔
Abbas or Ayyash bin Sahl al-Saeed:
He attended a company in which his father was also present. He then narrated this tradition saying: He (the Prophet) prostrated himself, he depended on his palms, knees and the toes of his feet. When he sat up, he sat on his hips, and raised his other foot. He then uttered the takbir (Allah is most great) and prostrated himself. He uttered the takbir and stood up and did not sit on his hips. Then he repeated (the same) and offered the second rak’ah; he uttered the takbir in the same manner, and sat up after two rak’ahs. When he was about to stand up, he stood up after saying the takbir. Then he offered the last two rak’ahs. When he saluted, he saluted on his right and left sides. Abu Dawud said: in this tradition there is no mention of sitting on hips and raising hands when he stood after two rak’ahs as narrated by Abu al-Hamid.
ہم سے علی بن حصین بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابو بدر نے بیان کیا، ہم سے زہیر ابو خیثمہ نے بیان کیا، ہم سے حسن بن حریر نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن عبداللہ بن مالک نے بیان کیا، عباس بن سہل یا عیاش بن سہل ساعدی سے روایت ہے کہ
وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد سہل ساعدی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے تو اس مجلس میں انہوں نے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر اور اپنے دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کے سروں پر سہارا کیا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سجدے سے سر اٹھا کر ) بیٹھے تو تورک کیا یعنی سرین پر بیٹھے اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر «الله أكبر» کہہ کر کھڑے ہوئے اور تورک نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور دوسری رکعت پڑھی تو اسی طرح «الله أكبر» کہا، پھر دو رکعت کے بعد بیٹھے یہاں تک کہ جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرنے لگے تو «الله أكبر» کہہ کر اٹھے، پھر آخری دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر جب سلام پھیرا تو اپنی دائیں جانب اور بائیں جانب پھیرا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن عبداللہ نے اپنی روایت میں تورک اور دو رکعت پڑھ کر اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا ہے، جس کا ذکر عبدالحمید نے کیا ہے۔
Abbas bin Sahl said:
Abu Humaid, Abu usaid, Sahl bin Saad and Muhammad bin Maslamah got together. Then he narrated this tradition. He did not mention the raising of hands when he stood after two rak’ahs, nor did he mention sitting. He said: When he finished (his prostration), he spread his foot (on the ground) and turned the toes of his right feet towards the qiblah (and then he sat on his left foot).
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الملک بن عمرو نے بیان کیا, فلیح کہتے ہیں, عباس بن سہل نے مجھے خبر دی ہے کہ
ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ اکٹھا ہوئے، پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی اور دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی بیٹھنے کا، وہ کہتے ہیں: یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنے داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی جانب کیں۔
Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ said:
When we (prayed and) sat up during prayer along the Messenger of Allah (ﷺ), we said: “Peace be to Allah before it is supplicated for His servants; peace be to so and so. “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not say “Peace be to Allah, ”for Allah Himself is peace. When one of you sits (during the prayer), he should say: The adoration of the tongue are due to Allah, and acts of worship and all good things. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allah’s upright servants. When you say that, it reaches every upright servant in heavens and earth or between heavens and earth. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. Then he may choose any supplication which pleases him and offer it.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سلیمان عماش کی سند سے، مجھ سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو یہ کہتے تھے «السلام على الله قبل عباده السلام على فلان وفلان» یعنی اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں پر سلام سے پہلے یا اس کے بندوں کی طرف سے اور فلاں فلاں شخص پر سلام ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا مت کہا کرو کہ اللہ پر سلام ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ خود سلام ہے، بلکہ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو یہ کہے «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» آداب، بندگیاں، صلاتیں اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو ہر نیک بندے کو خواہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو یا دونوں کے بیچ میں ہو اس ( دعا کے پڑھنے ) کا ثواب پہنچے گا ( پھر یہ کہو ) : «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں پھر تم میں سے جس کو جو دعا زیادہ پسند ہو، وہ اس کے ذریعہ دعا کرے ۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
We did not know what we should say when we sat during prayer. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was taught (by Allah). He then narrated the tradition to the same effect. Sharik reported from Jami', from Abu Wail on the authority of Abdullah ibn Masud رضی اللہ عنہ something similar. He said: He used to teach us also some other words, but he did not teach them as he taught us the tashahhud: O Allah, join our hearts, mend our social relationship, guide us to the path of peace, bring us from darkness to light, save us from obscenities, outward or inward, and bless our ears, our eyes, our hearts, our wives, our children, and relent toward us; Thou art the Relenting, the Merciful. And make us grateful for Thy blessing and make us praise it while accepting it and give it to us in full.
ہم سے تمیم بن المنتصر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسحاق نے بیان کیا، یعنی ابن یوسف نے، انہوں نے شریک کی سند سے، ابواسحاق کی سند سے، ابو الاحواس کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم کو معلوم نہ تھا کہ جب ہم نماز میں بیٹھیں تو کیا کہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ شریک کہتے ہیں: ہم سے جامع یعنی ابن شداد نے بیان کیا کہ انہوں نے ابووائل سے اور ابووائل نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے اس میں ( اتنا اضافہ ) ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چند کلمات سکھاتے تھے اور انہیں اس طرح نہیں سکھاتے تھے جیسے تشہد سکھاتے تھے اور وہ یہ ہیں: «اللهم ألف بين قلوبنا وأصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات إلى النور وجنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن وبارك لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم واجعلنا شاكرين لنعمتك مثنين بها قابليها وأتمها علينا» اے اللہ! تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے، اور ہماری حالتوں کو درست فرما دے، اور راہ سلامتی کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے، آنکھوں، دلوں اور ہماری بیوی بچوں میں برکت عطا کر دے، اور ہماری توبہ قبول فرما لے تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے، اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار و ثنا خواں اور اسے قبول کرنے والا بنا دے، اور اے اللہ! ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے ۔
Narrated Al-Qasim bin Mukhaimirah:
Alqamah said that Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ caught hold of his hand saying that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم caught hold of his (Ibn Masud's) hand and taught him the tashahhud during prayer. He then narrated the (well known ) tradition (of tashahhud). This version adds: When you say this or finish this, then you have completed your prayer. If you want to stand up, then stand, and if you want to remain sitting, then remain sitting.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن حر نے بیان کیا، ان سے قاسم بن مخیمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا
علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا ( اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے، پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا، اس میں ( اتنا اضافہ ) ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کر لی تو تمہاری نماز پوری ہو گئی، اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہو جاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔