Back to Sunan Abu Dawood

Prayer (Kitab Al-Salat)

كتاب الصلاة

Chapter 2

Hadith 991
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ قُدَامَةَ، - مِنْ بَنِي بُجَيْلَةَ - عَنْ مَالِكِ بْنِ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاضِعًا ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى رَافِعًا أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ قَدْ حَنَاهَا شَيْئًا ‏.‏
English

Narrated Abu Malik Numayr al-Khuza'i:

I saw the Prophet ﷺ placing his right hand on his right thigh and raising his forefinger curving it a little.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان نے بیان کیا، ان سے ابن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ہم سے عصام بن قدامہ نے بیان کیا، وہ بنو بوجیلہ سے، انہوں نے مالک بن نمیر الخزاعی سے، وہ اپنے والد سے، انہوں نے کہا

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں ہاتھ کی انگلی اور دائیں ہاتھ کی انگلی پر سلام پھیرتے ہوئے دیکھا۔ اسے تھوڑا سا موڑنا.

Hadith 992
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّويَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ - أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلاَةِ وَهُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى يَدِهِ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ شَبُّويَةَ نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدِهِ فِي الصَّلاَةِ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى يَدِهِ ‏.‏ وَذَكَرَهُ فِي بَابِ الرَّفْعِ مِنَ السُّجُودِ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدَيْهِ إِذَا نَهَضَ فِي الصَّلاَةِ ‏.‏
English

Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :

The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited, according to the version of Ahmad ibn Hanbal, that a person should sit during prayer while he is leaning on his hand. According to the version of Ibn Shibwayh, he prohibited that a man should lean on his hand during prayer. According to the version of Ibn Rafi', he prohibited that a man should pray while he is leaning on his hand, and he mentioned this tradition in the chapter on "Raising the head after prostration." According to the version of Ibn Abdul Malik, he prohibited that a man should lean on his hand when he stands up after prostration.

Urdu

ہم سے احمد بن حنبل، احمد بن محمد بن شبویہ، محمد بن رافع اور محمد بن عبد الملک الغزل نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرزاق نے معمر کی سند سے، اسماعیل بن امیہ سے، نافع کی سند سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں: آدمی کے لیے جائز نہیں کہ نماز میں ہاتھ پر ٹیک لگائے بیٹھے۔ ابن شبویہ کہتے ہیں: آپ نے نماز میں آدمی کو ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع فرمایا۔ ابن رافع کہتے ہیں: آپ نے آدمی کو ہاتھ پر ٹیک لگا کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔اس کا ذکر انہوں نے سجدے سے اٹھنے کے باب میں کیا ہے۔ ابن عبد الملک کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو نماز میں کھڑے ہوتے وقت اپنے ہاتھ ٹیکنے سے منع فرمایا۔

Hadith 993
Sahih
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، سَأَلْتُ نَافِعًا عَنِ الرَّجُلِ، يُصَلِّي وَهُوَ مُشَبِّكٌ يَدَيْهِ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ تِلْكَ صَلاَةُ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ‏.‏
English

Isma’il bin Umayyah said:

I asked Nafi' regarding a man who intertwines his fingers while he is engaged in prayer. He said that Ibn ‘Umar had said: This is the prayer of those who earn the anger of Allah.

Urdu

ہم سے بشر بن ہلال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے اسماعیل بن امیہ سے بیان کیا

میں نے نافع سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا: ابن عمر نے کہا: یہ ان لوگوں کی دعا ہے جن پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔

Hadith 994
Sahih
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلاً يَتَّكِئُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الصَّلاَةِ - وَقَالَ هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ سَاقِطًا عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ ثُمَّ اتَّفَقَا - فَقَالَ لَهُ لاَ تَجْلِسْ هَكَذَا فَإِنَّ هَكَذَا يَجْلِسُ الَّذِينَ يُعَذَّبُونَ ‏.‏
English

Nafi said:

Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہ saw a man resting on his left hand while he was sitting during prayer. The version of Harun bin Zaid رضی اللہ عنہ goes: He was lying on his left side. the agreed version goes: he said to him: Do not sit like this, because those who are punished sit like this.

Urdu

ہم سے ہارون بن زید بن ابی الزرقا نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ء اور یہ ان کا قول ہے ء یہ سب ہشام بن سعد کی سند سے، نافع کی سند سے

ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ پر بیٹھا ہوا نماز پڑھ رہا تھا۔ ہارون بن زید رضی اللہ عنہ کا قول ہے: وہ بائیں جانب لیٹا ہوا تھا۔ متفق علیہ روایت ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے نہ بیٹھو، کیونکہ سزا پانے والے ایسے ہی بیٹھتے ہیں۔

Hadith 995
Da`eef
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ حَتَّى يَقُومَ قَالَ حَتَّى يَقُومَ ‏.‏
English

It was reported from Shu'bah from Sa'd bin Ibrahim, from Ubaidah, from his father (Abdullah Ibn Mas'ud):

The Prophet (ﷺ) was in the first two rak'ahs as though he were on heated stones. The narrator (Shu'bah) said: We said: Till he (the Prophet) got up.

Urdu

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، وہ ابو عبیدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں اس طرح پڑھتے تھے جیسے کنکریوں پر ہوں۔ اس نے کہا: میں نے کہا: جب تک وہ کھڑا نہ ہو جائے؟ فرمایا: یہاں تک کہ وہ کھڑا ہو جائے۔

Hadith 996
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، - يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ - عَنْ شَرِيكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَالَ، إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، وَالأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ ‏ "‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَحَدِيثُ إِسْرَائِيلَ لَمْ يُفَسِّرْهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ شُعْبَةُ كَانَ يُنْكِرُ هَذَا الْحَدِيثَ - حَدِيثَ أَبِي إِسْحَاقَ - أَنْ يَكُونَ مَرْفُوعًا ‏.‏
English

Narrated Abdullah Ibn Mas'ud:

The Prophet (ﷺ) used to give the salutation to his left and right sides until the whiteness of his cheek was seen, (saying: "Peace be upon you, and mercy of Allah" twice. Abu Dawud said: This is a version of the tradition reported by Abu Sufyan. The version of Isra'il did not explain it. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Zuhair from Abu Ishaq and Yahya Ibn Adam from Isra'il from AbuIshaq from AbdurRahman ibn al-Aswad from his father from Alqamah on the authority of Abdullah Ibn Mas'ud. Abu Dawud said: Shu'bah used to reject this tradition, the tradition narrated by Abu Ishaq as coming from the Prophet (ﷺ).

Urdu

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، اور ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زیدہ نے بیان کیا، اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو الاحواس نے بیان کیا، اور ہم سے محمد بن عبید المحربی اور زیاد بن ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عمر بن عبید الطنین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے التنفعین نے بیان کیا, اسحاق نے بتایا,یعنی ہم سے ابن یوسف - شریک کی سند سے اور احمد بن منی نے بیان کیا، ہم سے حسین بن محمد نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سب نے ابواسحاق کی سند سے، ابو الاحواس کی سند سے، عبداللہ کی سند سے، اور انہوں نے کہا: بنی اسرائیل کی سند سے، اور انہوں نے کہا: ابوعاص کی سند سے, عبداللہ کے اختیار پر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں طرف آنے والوں کو سلام کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی نظر آتی تھی: "السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت۔" ابوداؤد نے کہا: یہ سفیان کی حدیث کا لفظ ہے، اور اس نے اسرائیل کی حدیث کی وضاحت نہیں کی۔ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہیر نے ابو اسحاق سے اور یحییٰ بن آدم نے اسرائیل کی سند سے ابو اسحاق کی سند سے عبدالرحمٰن بن اسود سے اور علقمہ نے عبداللہ کی سند سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعبہ اس حدیث کو رد کرتے تھے - ابو اسحاق کی حدیث - کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا جاتا ہے۔

Hadith 997
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ قَيْسٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ ‏"‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ‏"‏ ‏.‏ وَعَنْ شِمَالِهِ ‏"‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
English

Narrated Wa'il Ibn Hujr:

I offered prayer along with the Prophet (ﷺ). He would give the salutation to his right side (saying): Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings; and to his left side (saying): Peace be upon you and mercy of Allah.

Urdu

ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے موسیٰ بن قیس الحضرمی نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کوہیل نے، ان سے علقمہ بن وائل نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا حق ادا کیا۔"السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ" اور اس کے بائیں طرف: "السلام علیکم اور اللہ کی رحمت۔"

Hadith 998
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، ‏‏‏‏‏‏وَوَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مِسْعَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ أَحَدُنَا أَشَارَ بِيَدِهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ عَنْ يَسَارِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا صَلَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُرْمِي بِيَدِهِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ.
English

Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ said:

When we prayed behind the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, one of us gave the salutation and pointed with his hand to the man to his right side and left side. When he finished his prayer, he said: What is the matter that one of you points with his hand (during prayer) just like the tails of restive horses. It is sufficient for one of you, or is it not sufficient for one of you to say in this manner? And he pointed with his finger; one should salute his brother at his right and left side.

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن زکریا اور وکیع نے بیان کیا، انہوں نے مسعر کی سند سے، انہوں نے عبید اللہ بن کبتیہ کی سند سے, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی سلام پھیرتا تو اپنے ہاتھ سے اپنے دائیں اور بائیں اشارے کرتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم لوگوں کا کیا حال ہے کہ تم میں سے کوئی ( نماز میں ) اپنے ہاتھ سے اشارے کرتا ہے، گویا اس کا ہاتھ شریر گھوڑے کی دم ہے، تم میں سے ہر ایک کو بس اتنا کافی ہے ( یا یہ کہا: کیا تم میں سے ہر ایک کو اس طرح کرنا کافی نہیں؟ ) ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا کہ دائیں اور بائیں طرف کے اپنے بھائی کو سلام کرے۔

Hadith 999
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مِسْعَرٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ أَحَدَهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخْذِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُسَلِّمَ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ .
English

The aforesaid tradition has also been narrated by Mis’ar through a different chain of transmitters to the same effect. This version adds:

Is it not sufficient for one of you or for one of them that he puts his hand on his thigh, and then gives the salutation to his brother to his right and left sides.

Urdu

ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، اس طریق سے بھی مسعر سے اس مفہوم کی حدیث مروی ہے

اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی کو یا ان میں سے کسی کو کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں اپنے بھائی کو سلام کرے ۔

Hadith 1000
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ .
English

Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ said:

The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم entered upon us while the people were raising their hands. The narrator Zuhair said: I think ( they were raising the hands) during prayer. He (the prophet) said: What is the matter, I see you raising your hands as if they are the tails of restive horses! Maintain tranquility during prayer.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے مسیب بن رافع نے، تمیم الطائی کی سند سے, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے تو زہیر نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا: کہ میں تمہیں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں؟ نماز میں سکون سے رہا کرو ۔

Hadith 1001
Da`eef
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَرُدَّ عَلَى الإِمَامِ وَأَنْ نَتَحَابَّ وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ ‏.‏
English

Narrated Samurah Ibn Jundub رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) commanded us to respond to the salutation of the imam. and to love each other, and to salute each other.

Urdu

ہم سے محمد بن عثمان ابو الجماہر نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن بشیر نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں امام کی بات کا جواب دینے، ایک دوسرے سے محبت کرنے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا۔

Hadith 1002
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ يُعْلَمُ انْقِضَاءُ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالتَّكْبِيرِ ‏.‏
English

Ibn ‘Abbas said:

The end of the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) was known by the takbir (pronounced aloud).

Urdu

ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عمرو کی سند سے، وہ ابو معبد سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا اختتام تکبیر سے جانا جاتا تھا۔

Hadith 1003
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ لِلذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ وَأَسْمَعُهُ ‏.‏
English

Ibn Abbas رضی اللہ عنہ said :

To raise the voice for making the mention of Allah after the people had finished their obligatory prayer was for in vogue the time of the Messenger of Allah (May peace be upon him). Ibn ‘Abbas said : I used to know by it when they finished the prayer and would listen to it (making the mention of Allah).

Urdu

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے ابن عباس کے موکل ابو معبد نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ

جب لوگ فرض نماز سے نکلتے ہیں تو یاد کے لیے آواز بلند کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ کب نکلے اور میں نے اسے سنا۔

Hadith 1004
Da`eef
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حَذْفُ السَّلاَمِ سُنَّةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِيسَى نَهَانِي ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَبَا عُمَيْرٍ عِيسَى بْنَ يُونُسَ الْفَاخُورِيَّ الرَّمْلِيَّ قَالَ لَمَّا رَجَعَ الْفِرْيَابِيُّ مِنْ مَكَّةَ تَرَكَ رَفْعَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ نَهَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ رَفْعِهِ ‏.‏
English

Narrated Abu Hurairah:

The Prophet (ﷺ) said: Shortening the salutation is sunnah (commendable). The narrator 'Isa said: Ibn al-Mubarak prohibited me from reporting this tradition as a statement of the Prophet (ﷺ). Abu Dawud said: I heard Abu 'Umar 'Isa bin Yunus al-Fakhuri al-Ramil saying: When al-Firyabi returned from Mecca, he gave up narrating this tradition as a statement of the Prophet (ﷺ). He said: Ahmad bin Hanbal forbade to report this tradition directly from the Prophet (ﷺ).

Urdu

ہم سے احمد بن محمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے محمد بن یوسف الفریابی نے بیان کیا، ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے قرہ بن عبدالرحمٰن نے، وہ الزہری کی سند سے، وہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کو ترک کرنا سنت ہے۔ عیسیٰ نے کہا: ابن مبارک نے مجھے اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے سے منع کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابو عمیر عیسیٰ بن یونس الفخوری الرملی کو کہتے سنا: جب فریابی مکہ سے واپس آئے تو انہوں نے اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا: احمد بن حنبل نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے سے منع کیا ہے۔

Hadith 1005
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدْ صَلَاتَهُ .
English

Ali bin Talq رضی اللہ عنہ reported:

The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: When any of you breaks wind during prayer, he must withdraw, perform ablution, and repeat the prayer.

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر بن عبد الحمید نے بیان کیا، ان سے عاصم الاحوال نے، عیسیٰ بن حطان کی سند سے، مسلم بن سلام سے, علی بن طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دوران نماز بغیر آواز کے ہوا خارج ہو تو وہ ( نماز ) چھوڑ کر چلا جائے اور وضو کرے اور نماز دہرائے ۔

Hadith 1006
Da`eef
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الْوَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ لَيْثٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ فِي الصَّلَاةِ:‏‏‏‏ يَعْنِي فِي السُّبْحَةِ.
English

Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :

The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Cannot any one of you (according to the version of the narrator Abdul Warith) step forward or backward or at his right or left. The version of Hammad added: during prayer; that is, in supererogatory prayer.

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حماد اور عبدالوارث نے بیان کیا، لیث کی سند سے، حجاج بن عبید کی سند سے، ابراہیم بن اسماعیل کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص عاجز ہے ۔ عبدالوارث کی روایت میں ہے: آگے بڑھ جانے سے یا پیچھے ہٹ جانے سے یا دائیں یا بائیں چلے جانے سے۔ حماد کی روایت میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے یعنی نفل نماز پڑھنے کے لیے۔

Hadith 1007
Da`eef
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكْنَى أَبَا رِمْثَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ يَعْنِي نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ فَهَزَّهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اجْلِسْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ لَمْ يَهْلِكْ أَهْلُ الْكِتَابِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَوَاتِهِمْ فَصْلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَصَابَ اللَّهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَقَدْ قِيلَ:‏‏‏‏ أَبُو أُمَيَّةَ مَكَانَ أَبِي رِمْثَةَ.
English

Narrated Al-Azraq Ibn Qays:

An imam of ours, whose kunyah (surname) was Abu Rimthah, led us in prayer and said: I prayed this prayer, or one like it, with the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. Abu Bakr and Umar رضی اللہ عنہما were standing in the front row on his right and there was a man who had been present at the first takbir in the prayer. The Prophet of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم offered the prayer, then gave the salutation to his right and his left so that we saw the whiteness of his cheeks, then turned away as Abu Rimthah (meaning himself) had done. The man who has been present with him at the first takbir in the prayer then got up to pray another prayer, whereupon Umar leaped up and, seizing him by the shoulders, shook him and said: Sit down, for the People of the Book perished for no other reason than that there was no interval between their prayers. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم raised his eyes and said: Allah has made you say what is right, son of al-Khattab. Abu Dawud said: Sometimes the name of Abu Umayyah is narrated instead of Abu Rimthah.

Urdu

ہم سے عبد الوہاب بن نجدہ نے بیان کیا، ہم سے اشعث بن شعبہ نے، المنہال بن خلیفہ کی سند سے بیان کیا, ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ

کہ ہمیں ہمارے ایک امام نے جن کی کنیت ابورمثہ ہے نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے کہا: یہی نماز یا ایسی ہی نماز میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہے، وہ کہتے ہیں: اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اگلی صف میں آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوتے تھے، اور ایک اور شخص بھی تھا جو تکبیر اولیٰ میں موجود تھا، اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تو آپ نے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا، یہاں تک کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گالوں کی سفیدی دیکھی، پھر آپ پلٹے ایسے ہی جیسے ابورمثہ یعنی وہ خود پلٹے، پھر وہ شخص جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر اولیٰ پائی تھی اٹھ کر دو رکعت پڑھنے لگا تو اٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ تیزی کے ساتھ اس کی طرف بڑھے اور اس کا کندھا پکڑ کر زور سے جھنجوڑ کر کہا بیٹھ جاؤ، کیونکہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کو صرف اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھائی ( اور یہ صورت حال دیکھی ) تو فرمایا: خطاب کے بیٹے! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک اور درست بات کہنے کی توفیق دی ۔

Hadith 1008
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهِمَا إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ سَرْعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ:‏‏‏‏ ذَا الْيَدَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَسِيتَ أَمْ قُصُرَتِ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ أَنْسَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ قَالَ:‏‏‏‏ بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ فَأَوْمَئُوا، ‏‏‏‏‏‏أَيْ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ . قَالَ:‏‏‏‏ فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ:‏‏‏‏ سَلَّمَ فِي السَّهْوِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَمْ أَحْفَظْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ سَلَّمَ.
English

Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:

The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم led us in one of the evening (Asha) prayers, noon or afternoon. He led us in two Rak’ahs and gave the salutation. He then got up going towards a piece of wood which was placed in the front part of the mosque. He placed his hands upon it, one on the other, looking from his face as if he were angry. The people came out hastily saying: the prayer has been shortened. Abu Bakr and Umar رضی اللہ عنہما were among the people, but they were too afraid to speak to him. A man whom the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم would call “ the possessor of arms” (Dhu al-Yadain) stood up (asking him): Have you forgotten. The Messenger of Allah, or has the prayer been shortened? He said: I have neither forgotten nor has it been shortened. He said: Messenger of Allah, you have forgotten. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم turned towards the people and asked: did the possessor of arms speak the truth? They made a sign, that is, yes. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم returned to his place and prayed the remaining two Rak’ahs, then gave the salutation; he then uttered the takbir and prostrated himself as usual or prolonged. He then raised his head and uttered the takbir; then he uttered the takbir and made prostration as usual or made longer (prostration). Then he raised his head his and uttered the takbir (Allah is most great). The narrator Muhammad was asked: Did he give the salutation (while prostrating) due to forgetfulness? He said: I do not remember it from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ . But we Are sure that Imran bin Husain رضی اللہ عنہما (in his version) said; he then gave the salutation.

Urdu

محمد بن عبید کا کوئی بیان نہیں ہے اور حماد بن زید کا کوئی بیان نہیں ہے، ایوب کے پاس ایک سلسلہ ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم گزر چکے ہیں,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی دونوں یعنی ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی مگر صرف دو رکعتیں پڑھا کر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے اگلے حصہ میں لگی ہوئی ایک لکڑی کے پاس اٹھ کر گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر لکڑی پر رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کا اثر ظاہر ہو رہا تھا، پھر جلد باز لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن وہ دونوں آپ سے ( اس سلسلہ میں ) بات کرنے سے ڈرے، پھر ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں، نہ ہی نماز کم کی گئی ہے ، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، پھر آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ ، لوگوں نے اشارہ سے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر واپس آئے اور باقی دونوں رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، اس کے بعد «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر«الله أكبر» کہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر «الله أكبر» کہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا دوسرا سجدہ کیا پھر «الله أكبر» کہہ کر اٹھے۔ راوی کہتے ہیں: تو محمد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے بعد پھر سلام پھیرا؟ انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ یاد نہیں، لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: آپ نے پھر سلام پھیرا۔

Hadith 1009
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ بِإِسْنَادِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَتَمُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَقُلْ:‏‏‏‏ بِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَقُلْ:‏‏‏‏ فَأَوْمَئُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ رَفَعَ وَلَمْ يَقُلْ:‏‏‏‏ وَكَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ وَتَمَّ حَدِيثُهُ ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَوْمَئُوا إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَكُلُّ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ لَمْ يَقُلْ:‏‏‏‏ فَكَبَّرَ وَلَا ذَكَرَ رَجَعَ.
English

This tradition has been narrated through a different chain of transmitters; but the version of Hammad is more perfect. This version goes:

Then the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم prayed; it does not have the words, “led us (in prayer), ” nor the words “they made a sign”. Thereupon the people said: Yes. He then raised his head. The version does not mention the words “he uttered the takbir. He then uttered the takbir and made the prostration as usual or prolonged it. He then raised his head”. The narrator then prostration as usual or prolonged it. He then raised his head”. The narrator then finished the tradition and did not mention the words that follow it. He did not mention the words “they made a sign”, but Hammad bin Zaid mentioned them in his version. Abu dawud said: Anyone who narrated this tradition did not mention the words “ then he uttered the takbir”, nor the words “he returned”

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، ایوب کی سند سے،اس طریق سے بھی محمد بن سیرین سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے,اور حماد کی روایت زیادہ کامل ہے

مالک نے «صلى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» کہا ہے «صلى بنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» نہیں کہا ہے اور نہ ہی انہوں نے «فأومئوا» کہا ہے ( جیسا کہ حماد نے کہا ہے بلکہ اس کی جگہ ) انہوں نے «فقال الناس نعم» کہا ہے، اور مالک نے «ثم رفع» کہا ہے، «وكبر» نہیں کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے، یعنی مالک نے «رفع وكبر» کہنے کے بجائے صرف «رفع» پر اکتفا کیا ہے اور مالک نے «ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع» کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے اور مالک کی حدیث یہاں پوری ہو گئی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے مالک نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کے اشارے کا انہوں نے ذکر کیا ہے صرف حماد بن زید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث جتنے لوگوں نے بھی روایت کی ہے کسی نے بھی لفظ «فكبر‏.‏» نہیں کہا ہے اور نہ ہی «رجع.‏» کا ذکر کیا ہے۔

Hadith 1010
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَمَّادٍ كُلِّهِ إِلَى آخِرِ قَوْلِهِ:‏‏‏‏ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ سَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ فَالتَّشَهُّدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ أَسْمَعْ فِي التَّشَهُّدِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ:‏‏‏‏ كَانَ يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا ذَكَرَ:‏‏‏‏ فَأَوْمَئُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا ذَكَرَ:‏‏‏‏ الْغَضَبَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ حَمَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏أَتَمُّ.
English

Abu Hurairah said:

The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم led us in prayer. He then narrated the same version reported by Hammad up to the words “we are sure that Imran bin Husain said: then he gave the salutation. ” The narrator said: I asked; What about the Tashahud? He replied: I did not hear thing about the tashahhud, but it is more liking to me that one should recite the tashahhud. This version has not the words “whom he called the possessor of arms (Dhu al-yadain). ” Nor the words “they made a sign, ” nor the word “anger”. The tradition narrated by Hammad from Ayyub is more perfect.

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے بشر نے بیان کیا، ہم سے ابن المفضل نے بیان کیا، ہم سے سلمہ نے بیان کیا، یعنی ابن علقمہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر راوی نے پورے طور سے حماد کی روایت کے ہم معنی روایت ان کے قول: «نبئت أن عمران بن حصين قال ثم سلم» تک ذکر کی۔ سلمہ بن علقمہ کہتے ہیں: میں نے ان سے ( یعنی محمد بن سیرین سے ) پوچھا کہ آپ نے تشہد پڑھا یا نہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے تشہد کے سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے لیکن میرے نزدیک تشہد پڑھنا بہتر ہے، لیکن اس روایت میں آپ انہیں ذوالیدین کہتے تھے کا ذکر نہیں ہے اور نہ لوگوں کے اشارہ کرنے کا اور نہ ہی ناراضگی کا ذکر ہے، حماد کی حدیث جو انہوں نے ایوب سے روایت کی ہے زیادہ کامل ہے۔