It was reported from Abdur Rehman bin Yazid bin Jabir who said: "Ata' Al-Khurasani narrated to me, from the slave of his wife, Umm Uthman:
Ali رضی اللہ عنہ said on the pulpit in the mosque of Kufah: When Friday comes, the devils go to the markets with their flags, and involve people in their needs and prevent them from the Friday prayer. The angels come early in the morning, sit at the door of the mosque, and record that so-and-so came at the first hour, and so-and-so came at the second hour until the imam comes out (for preaching). When a man sits in a place where he can listen (to the sermon) and look (at the imam), where he remains silent and does not interrupt, he will receive a double reward. If he stays away, sits in a place where he cannot listen (to the sermon), silent, and does not interrupt, he will receive the reward only once. If he sits in a place where he can listen (to the sermon) and look (at the imam), and he does not remain silent, he will have the burden of it. If anyone says to his companion sitting besides him to be silent (while the imam is preaching), he is guilty of idle talk. Anyone who interrupts (during the sermon) will receive nothing (no reward) on that Friday. Then he (the narrator) says in the end of this tradition: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say so. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Walid bin Muslim from Ibn Jabir. This version adds: bi'l-raba'ith (instead of al-raba'ith, needs preventing the people from prayer). Further, this adds: Freed slave of his wife Umm Uthman bin Ata.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: عطاء خراسانی اپنی بیوی ام عثمان کے غلام سے روایت کرتے ہیں کہ
انہوں نے کہا: میں نے کوفہ کے منبر پر علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے جھنڈے لے کر بازاروں میں جاتے ہیں اور لوگوں کو ضرورتوں و حاجتوں کی یاد دلا کر ان کو جمعہ میں آنے سے روکتے ہیں اور فرشتے صبح سویرے مسجد کے دروازے پر آ کر بیٹھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کون پہلی ساعت ( گھڑی ) میں آیا، اور کون دوسری ساعت ( گھڑی ) میں آیا، یہاں تک کہ امام ( خطبہ جمعہ کے لیے ) نکلتا ہے، پھر جب آدمی ایسی جگہ بیٹھتا ہے، جہاں سے وہ خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے اور ( دوران خطبہ ) چپ رہتا ہے، کوئی لغو حرکت نہیں کرتا تو اس کو دوہرا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی شخص دور بیٹھتا ہے جہاں سے خطبہ سنائی نہیں دیتا، لیکن خاموش رہتا ہے اور کوئی بیہودہ بات نہیں کرتا تو ایسے شخص کو ثواب کا ایک حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھا، جہاں سے خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے لیکن ( دوران خطبہ ) بیہودہ باتیں کرتا رہا اور خاموش نہ رہا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ لاد دیا جاتا ہے اور جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ( بغل کے ) ساتھی سے کہا: چپ رہو، تو اس نے لغو حرکت کی اور جس شخص نے لغو حرکت کی تو اسے اس جمعہ کا ثواب کچھ نہ ملے گا، پھر وہ اس روایت کے اخیر میں کہتے ہیں: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے روایت کیا ہے۔ اس میں بغیر شک کے «ربائث» ہے، نیز اس میں «مولى امرأته أم عثمان بن عطاء» ہے۔
Narrated Al-Ja'd ad-Damri رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who leaves the Friday prayer (continuously) for three Friday on account of slackness, Allah will print a stamp on his heart.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عبیدہ بن سفیان الحضرمی نے بیان کیا، ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (انہیں شرف صحبت حاصل تھا) وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سستی سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۔
Narrated Samurah Ibn Jundub رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone omits the Friday prayer without excuse, he must give a dinar in alms, or if he does not have as much, then half a dinar. Abu Dawud said: Khalid bin Qais reported this tradition in this manner, but he disagreed in respect of chain (of transmitters) and agreed in respect of the text.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو ہمام نے خبر دی، ہم سے قتادہ نے بیان کیا، وہ قدامہ بن وبرہ عجیفی کی سند سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ نے فرمایا: جو شخص بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر اسے ایک دینار میسر نہ ہو تو نصف دینار کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن قیس نے اسی طرح روایت کیا ہے، اور سند میں ان کی مخالفت کی ہے اور متن میں موافقت۔
Narrated Qudamah Ibn Wabirah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone omits the Friday prayer without excuse, he must give one dirham or half a dirham, or one sa' or half a sa' of wheat, in alms. Abu Dawud said: Saeed bin Bashir reported this tradition in a like manner, except that he narrated one mudd or half mudd (instead of sa'). He narrated it from Samurah. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal being asked about the differences over the narration of this Hadith. He said: Hammam has a stronger memory - in my opinion - than Ayyub.
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے محمد بن یزید اور اسحاق بن یوسف نے بیان کیا، وہ ایوب ابو العلا کی سند سے، قتادہ کی سند سے, قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز «عن سمرة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں۔
Aishah رضی اللہ عنہا , the wife of Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, said:
The people used to attend the Friday prayer from their houses and from the suburbs of Madina.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے عمرو نے خبر دی، انہیں عبید اللہ بن ابی جعفر نے خبر دی، کہ ان سے محمد بن جعفر نے عروہ بن زبیر کی سند سے بیان کیا,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
لوگ جمعہ کے لیے اپنے اپنے گھروں سے اور بلند مقامات سے باربار آتے تھے۔
Narrated Abdullah Ibn Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The Friday prayer is obligatory on him who hears the call. Abu Dawud said: A group reported this from Sufyan stopping at Abdullah bin 'Amr, and none of them and none of them narrated it in Marfu' from. Only Qabisah narrated it with a (connected Marfu') chain.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ محمد بن سعید کی سند سے، یعنی طائفی نے، ابو سلمہ بن نوبیح کی سند سے، وہ عبداللہ بن ہارون کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ ہر اس شخص پر ہے جس نے جمعہ کی اذان سنی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما پر موقوف کیا ہے اور صرف قبیصہ نے اسے مسند ( یعنی مرفوع روایت ) کیا ہے۔
Narrated Usamah Ibn Umayr al-Huzali رضی اللہ عنہ :
The rain was falling on the day when the Battle of Hunayn took place. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, therefore, commanded that the people should offer their prayer in their camps.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, ابوملیح کے والد اسامہ بن عمیر ھزلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
غزوہ حنین کے روز بارش ہو رہی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ ( وہ اعلان کر دے کہ ) لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لیں۔
Abu al-Malih said:
That took place on a Friday.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عبد العلا نے بیان کیا، ہم سے سعید نے بیان کیا، اپنے ایک صحابی کی سند سے, ابوملیح سے روایت ہے کہ
یہ جمعہ کا دن تھا۔
Narrated Usamah Ibn Umayr al-Huzali رضی اللہ عنہ :
He attended the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم on the occasion of the treaty of al-Hudaybiyyah on Friday. The rain fell as little as the soles of the shoes of the people were not set. He (the Prophet) commanded them to offer Friday prayer in their dwellings.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، انہیں سفیان بن حبیب نے بیان کیا، کہا: انہوں نے ہمیں خالد الحزہ سے اور ابوقلابہ کی سند سے خبر دی,ابوملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر ہزلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صلح حدیبیہ کے موقع پر جمعہ کے روز حاضر ہوئے وہاں ایسی بارش ہوئی تھی کہ ان کے جوتوں کے تلے بھی نہیں بھیگے تھے تو آپ نے انہیں اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لینے کا حکم دیا۔
Nafi said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما stayed at Dajnan (a place between Makkah and Madina) on a cold night. He commanded an announcer (to announce). He announced that the people should offer prayer in their dwellings. Ayyub said: Nafi narrated on the authority of Ibn Umar that whenever there was a cold or a rainy day night, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded the announcer (to announce). He announced to offer prayer in the dwellings.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا، نافع سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما وادی ضجنان میں ایک سرد رات میں اترے اور منادی کو حکم دیا اور اس نے آواز لگائی: لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، ایوب کہتے ہیں: اور ہم سے نافع نے عبداللہ بن عمر کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی یا بارش کی رات ہوتی تو منادی کو حکم دیتے تو وہ «الصلاة في الرحال» لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کا اعلان کرتا۔
Narrated Nafi reported:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما made the call to prayer at Dajnan (a place between Makkah and Madina). Then he announced: Offer prayer in your dwellings: He then narrated a tradition from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He used to command an announcer who made the call to prayer. He then announced: Pray in your dwellings on a cold or rainy night during journey. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Hammad bin Salamah from Ayyub and Ubaid Allah. In his version he added: During journey on a cold or a rainy night.
ہم سے مومل بن ہشام نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ایوب رضی اللہ عنہ سے, نافع کہتے ہیں
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وادی ضجنان میں نماز کے لیے اذان دی، پھر اعلان کیا کہ لوگو! تم لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، اس میں ہے کہ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کی کہ آپ سفر میں سردی یا بارش کی رات میں منادی کو حکم فرماتے تو وہ نماز کے لیے اذان دیتا پھر وہ اعلان کرتا کہ لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ نے ایوب اور عبیداللہ سے روایت کیا ہے اس میں «في الليلة الباردة وفي الليلة المطيرة في السفر» کے بجائے «في السفر في الليلة القرة أو المطيرة» کے الفاظ ہیں۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
He made the call to prayer at Dajnan (a place between Makkah and Madina), on a cold and windy night. He added the words at the end of the call: Lo! pray in your dwellings. Lo! pray in the dwellings. He then said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to command the muadhdhin to announce, Lo! pray in your dwellings. on a cold or rainy night during journey.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے، وہ نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے مقام ضجنان میں سرد اور آندھی والی ایک رات میں اذان دی تو اپنی اذان کے آخر میں کہا: لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے اندر سردی یا بارش کی رات میں مؤذن کو حکم فرماتے تھے کہ اعلان کر دو: لوگو! اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔
Nafi said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما made the call to prayer on a cold and windy night. He then said: “Lo! Pray in the dwellings. “Afterwards he said: Whenever there was a cold or rainy day night, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to command the Muadhdin to announce: “Lo! Pray in the dwellings. ”
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے بیان کیا, نافع کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سرد اور آندھی والی ایک رات میں نماز کے لیے اذان دی تو کہا: لوگو! ڈیروں میں نماز پڑھ لو، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سردی یا بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیتے: لوگو! ڈیروں میں نماز پڑھ لو ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
The announcer of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم announced for that (to pray at homes) at Madina on a rainy night or a cold morning. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Yahya bin Saeed al-Ansari from al-Qasim from Ibn Umar رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This version adds the words “During the journey. ”
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن اسحاق کی سند سے، وہ نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے مدینہ کے اندر بارش کی رات یا سردی کی صبح میں ایسی ہی ندا کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری نے قاسم سے، قاسم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں «في السفر» کے الفاظ بھی ہیں۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
We were in the company of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم during a journey. The rain fell upon us. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Anyone who wants to pray in his dwelling may pray.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے الفضل بن دکین نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو چاہے وہ اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے ۔
Ibn Sirin said:
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said to his Muadhdhin on a rainy day: “when you utter the words ‘ I testify that Muhammad is the Messenger of Allah, ” do not say, ” Come to prayer” but say “Pray at your homes, ” By this (announcement) the people were surprised. He said: One who was better than me has done it. The Friday prayer is an obligatory duty. But I disliked to put you to hardship so that you might walk in mud and rain.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہیں زیادی کے صحابی عبد الحمید نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن حارث نے، جو محمد بن سیرین کے چچا زاد بھائی ہیں، بیان کیا کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم«أشهد أن محمدا رسول الله» کہنا تو اس کے بعد «حي على الصلاة» نہ کہنا بلکہ اس کی جگہ «صلوا في بيوتكم» لوگو! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو کہنا، لوگوں نے اسے برا جانا تو انہوں نے کہا: ایسا اس ذات نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھی ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ، بیشک جمعہ واجب ہے، لیکن مجھے یہ بات گوارہ نہ ہوئی کہ میں تم کو کیچڑ اور پانی میں ( جمعہ کے لیے ) آنے کی زحمت دوں۔
Narrated Tariq Ibn Shihab رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The Friday prayer in congregation is a necessary duty for every Muslim, with four exceptions; a slave, a woman, a boy, and a sick person. Abu Dawud said: Tariq bin Shihab had seen the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم but not heard anything from him.
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے چار لوگوں: غلام، عورت، نابالغ بچہ، اور بیمار کے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: طارق بن شہاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے مگر انہوں نے آپ سے کچھ سنا نہیں ہے۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Friday prayer first offered in Islam after the Friday prayer offered in the mosque of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم is Friday prayer offered at Juwatha, a village from the villages of al-Bahrain. The narrator Uthman said: it is a village from the village of the tribe of Abdul-Qais.
عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن عبداللہ المخریمی نے یہ قول نقل کیا ہے: انہوں نے کہا: وکیع نے ہم سے ابراہیم بن طہمان سے، ابو جمرہ کی سند سے،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں
اسلام میں مسجد نبوی میں جمعہ قائم کئے جانے کے بعد پہلا جمعہ قریہ جواثاء میں قائم کیا گیا، جو علاقہ بحرین کا ایک گاؤں ہے، عثمان کہتے ہیں: وہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک گاؤں ہے ۔
Narrated Kab Ibn Malik: Abdur Rahman Ibn Kab Ibn Malik رضی اللہ عنہ said:
Who was the guide of his father after he lost his sight. When Kab Ibn Malik رضی اللہ عنہ heard the call to prayer on Friday, he prayed for Asad Ibn Zurarah رضی اللہ عنہ . I asked him: What is the matter that when you hear the call to prayer, you pray for Asad Ibn Zurarah رضی اللہ عنہ ? He replied: This is because he held the Friday prayer for the first time for us at Hazm an-Nabit of Harrah belonging to Banu Bayadah in Naqi', called Naqi' al-Khadumat. I asked him: How many were you at that time ? He said: Forty.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، محمد بن ابی امامہ بن سہل کی سند سے, عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے، وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے، عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع ( بستی، گاؤں ) ھزم النبیت میں جمعہ کی نماز پڑھائی، میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ کہا: ہم چالیس تھے۔
Narrated Zayd Ibn Arqam: Ilyas Ibn Abu Ramlah ash-Shami said:
I witnessed Muawiyah Ibn Abu Sufyan رضی اللہ عنہ asking Zayd Ibn Arqam رضی اللہ عنہ : Did you offer along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم the Friday and Eid prayers synchronised on the same day? He said: Yes. He asked: How did he do? He replied: He offered the Eid prayer, then granted concession to offer the Friday prayer, and said: If anyone wants to offer it, he may offer.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن مغیرہ نے بیان کیا, ایاس بن ابی رملۃ شامی کہتے ہیں کہ
میں معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اور وہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو عیدوں میں جو ایک ہی دن آ پڑی ہوں حاضر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، معاویہ نے پوچھا: پھر آپ نے کس طرح کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی، پھر جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا: جو جمعہ کی نماز پڑھنی چاہے پڑھے ۔