Yala bin Shaddad bin Aws said:
I came to Muawiyah رضی اللہ عنہ in Jerusalem. He led us in the Friday prayer. I saw that most of the people in the mosque were the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. I saw them sitting in ihtiba condition, i.e. sitting on hips erecting the feet and sticking them to the stomach and holding them with hands or tying them with a cloth to the back, while the imam was giving sermon. Abu Dawud said: Ibn Umar رضی اللہ عنہ used to sit in ihtiba position while the imam gave the Friday sermon. Anas bin Malik رضی اللہ عنہ, Shuraih, Sa'sa'ah bin Sawhan, Saeed bin al-Musayyib, Ibrahim al-Nakha'i, Makhul, Ismail, Ismail bin Muhammad bin Saad, and Nu'aim bin Sulamah said: There is no harm in sitting in ihtiba position. Abu Dawud said: I do not know whether anyone considered it disapproved except Ubadah bin Nasayy.
ہم سے داؤد بن راشد نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حیان الرقی نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن عبداللہ بن الزبر نے بیان کیا، یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں
میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ، شریح، صعصہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When you tell (your brother on Friday) to be silent while the imam is giving the sermon you are guilty of idle talk.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، سعید کی سند سے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے امام کے خطبہ دینے کی حالت میں ( کسی سے ) کہا: چپ رہو، تو تم نے لغو کیا ۔
Narrated Abdullah Ibn Amr Ibn al-As رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Three types of people attend Friday prayer; One is present in a frivolous way and that is all he gets from it; another comes with a supplication, Allah may grant or refuse his request as He wishes; another is present silently and quietly with-out stepping over a Muslim or annoying anyone, and that is an atonement for his sins till the next Friday and three days more, the reason being that Allah, the Exalted, says: He who does a good deed will have ten times as much (vi. 160).
ہم سے مسدد اور ابو کامل نے بیان کیا: ہم سے یزید نے حبیب المعلم کی سند سے، عمرو بن شعیب کی سند سے، اپنے والد سے,عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں: ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے، اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے ، دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے، نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے، نہ کسی کو تکلیف دے، تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا کیونکہ اللہ فرماتا ہے: جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا ۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you becomes defiled during prayer, he should hold his nose and then turn away. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Hammad bin Salamah and Abu Usamah from Hisham on the authority of his father from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم . They did not mention the name of Aishah رضی اللہ عنہا.
ہم سے ابراہیم بن حسن المصیصی نے بیان کیا، ہم سے حجاج نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، مجھے ہشام بن عروہ نے عروہ کی سند سے خبر دی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حالت نماز میں تم میں سے کسی شخص کو حدث ہو جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر چلا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے ہشام سے ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
I came (to the mouse) while the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was giving the (Friday) sermon. He asked: Did you pray, so-and-so? He replied: No. He said: Stand and pray.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، وہ عمرو سے جو دینار کے بیٹے ہیں, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص جمعہ کے دن ( مسجد میں ) آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟ ، اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اٹھ کر نماز پڑھو ۔
Jabir and Abu Salih reported on the authority of Abu Hurairah:
Sulaik al-Ghatafani رضی اللہ عنہ came (to the mosque) while the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was giving the (Friday) sermon. He asked him: Did you pray something ? He said: No. He said: Offer two rak'ahs and make them short.
ہم سے محمد بن محبوب اور اسماعیل بن ابراہیم المعنی نے بیان کیا، ہم سے حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے العمش سے، ابو سفیان سے، جابر رضی اللہ عنہ سے اور ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم نے کچھ پڑھا؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو ۔
It was narrated from Talhah, that he heard Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما narrated that Sulaik رضی اللہ عنہ completed the Hadith in a similar manner, except that he added:
He (the Prophet) turned to the people and said: When one of you comes (on Friday) while the imam is preaching, he should pray two rak'ahs and make them short.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے سعید کی سند سے، ولید ابو بشیر سے، طلحہ رضی اللہ عنہ سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ سلیک رضی اللہ عنہ آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ
پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے ۔
Abu al-Zahiriyyah said:
We were in the company of Abdullah bin Busr رضی اللہ عنہ , the Companion of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, on a Friday. A man came and stepped over the people. Abdullah bin Busr said: A man came and stepped over the people while the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was giving the sermon on Friday. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Sit down, you have annoyed (the people).
ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، ہم سے بشر بن ساری نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، ابوزاہریہ کہتے ہیں
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن ( مسجد میں ) تھے، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا: ایک شخص ( اسی طرح ) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When any of you dozes in the mosque (on Friday), he should change his place.
ہم سے ہناد بن سری نے عبدہ کی سند سے، ابن اسحاق کی سند سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو مسجد میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے لگے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
I saw the Messenger صلی اللہ علیہ وسلم would descend from the pulpit and a man stop him for his need. He would remain standing with him until his need was fulfilled. Then he would stand and pray. Abu Dawud said: This tradition is not well known from the narrator Thabit. Jarir bin Hazim is the only narrator of this tradition.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے جریر کی سند سے بیان کیا جو ابن حازم ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ ثابت کی طرف سے مسلم نے کیسے کہا یا نہیں, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ( خطبہ دے کر ) منبر سے اترتے تو آدمی کوئی ضرورت آپ کے سامنے رکھتا تو آپ اس کے ساتھ کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کر لیتا، یعنی اپنی گفتگو مکمل کر لیتا، پھر آپ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ثابت سے معروف نہیں ہے، یہ جریر بن حازم کے تفردات میں سے ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone obtains a rak'ah in the prayer (along with the imam), he has obtained the whole prayer.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی ۔
Al-Numan bin Bashir said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to recite at the two Eidds (festivals) and on Friday, Glorify the name of your most high Lord. (87) and Has the story of the overwhelming reached you? (88) He said: When a festival ('Id) and a Friday coincided, he recited them both (at the two prayers).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عونہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن محمد بن المنتشر نے، اپنے والد سے اور حبیب بن سلیم کی سند سے, نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے روز «سبح اسم ربك الأعلى» اور«هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے اور بسا اوقات عید اور جمعہ دونوں ایک ہی دن پڑ جاتا تو ( بھی ) انہیں دونوں کو پڑھتے تھے۔
Al-Dahhak bin Qais asked al-Numan bin Bashir رضی اللہ عنہ :
What did the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم recited on Friday after reciting the Surah al-Jumu'ah (62). He replied: He used to recite, Had the story of overwhelming event reached you ? (88).
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے اور ضمرہ بن سعید المازنی کی سند سے بیان کیا, عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورۃ الجمعہ پڑھنے کے بعد کون سی سورت پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
Ibn Abi Rafi said:
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ led us in the Friday prayer and recited Surah al-Jumu'ah and When the hypocrites come to you (63) in the last rak'ah. He said: I met Abu Hurairah when he finished the prayer and said to him: You recited the two surah that Ali رضی اللہ عنہ used to recite at Kufah. Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم reciting them on Friday.
ہم سے القعْنبی نے بیان کیا، ہم سے سلیمان نے بیان کیا، یعنی ابن بلال نے، جعفر کی سند سے، اپنے والد سے, ابن ابی رافع کہتے ہیں
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز جمعہ پڑھائی تو ( پہلی رکعت میں ) سورۃ الجمعہ اور دوسری میں «إذا جاءك المنافقون»پڑھی، ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے ( نماز جمعہ میں ) ایسی دو سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ اس پر ابوہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
Narrated Samurah Ibn Jundub رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to recite in the Friday prayer: Glorify the name of your most high Lord (Surah 87) and Has the story of the overwhelming event reached you? (Surah 88).
ہم سے مسدد نے یحییٰ بن سعید کی سند سے، شعبہ کی سند سے، معبد بن خالد سے، زید بن عقبہ کی سند سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم offered the prayer in his apartment and people were following him behind apartment.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن سعید نے عمرہ کی سند سے خبر دی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے اندر نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے سے آپ کی اقتداء کر رہے تھے۔
Nafi said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما saw a man praying two rak'ahs after the Friday prayer on the same place (where he offered the Friday prayer). He pushed him and said: Do you offer four rak'ahs of Friday prayer ? Abdullah (bin Umar) used to pray two rak'ahs in his house after the Friday prayer, and he used to say: This is how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did.
ہم سے محمد بن عبید اور سلیمان بن داؤد المعنی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا, نافع کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، ( جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی ) تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا: کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو؟ اور عبداللہ بن عمر جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar: Nafi said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما used to lengthen his prayer before the Friday prayer and would offer two rak'ahs after it in his house. He used to say that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would do that.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا, نافع کہتے ہیں
ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ سے پہلے نماز لمبی کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھتے تھے۔
Umar bin Ata bin Abu al-Khuwar said:
Nafi bin Jubair sent him to al-Saib bin Yazid bin Ukht Namir to ask him about something Muawiyyah had seen him do in prayer. He said: I offered the Friday prayer along with him in enclosure. When I uttered the salutation I stood up in my place and prayed. When he went in, he sent me a message saying: Never again do what you have done. When you pray the Friday prayer, you must not join another prayer to it till you have engaged in conversation or gone out, for the Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave the precise command not to join on prayer till you have engaged in conversation or gone out.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن عطاء بن ابی الخوار نے خبر دی ہے کہ
نافع بن جبیر نے انہیں ایک چیز کے متعلق، جسے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے نماز میں انہیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے بتایا کہ میں نے معاویہ کے ساتھ مسجد کے کمرہ میں نماز جمعہ ادا کی، جب میں نے سلام پھیرا تو اپنی اسی جگہ پر اٹھ کر پھر نماز پڑھی تو جب وہ گھر تشریف لائے تو مجھے بلوایا اور کہا: جو تم نے کیا ہے، اسے پھر دوبارہ نہ کرنا، جب تم جمعہ پڑھ چکو تو اس کے ساتھ دوسری نماز نہ ملاؤ، جب تک کہ بات نہ کر لو یا نکل نہ جاؤ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے کہ کوئی نماز کسی نماز سے ملائی نہ جائے جب تک کہ بات نہ کر لی جائے یا باہر نکل نہ لیا جائے۔
Ata said:
When Ibn Umar رضی اللہ عنہما offered the Friday prayer in Makkah he would go forward and pray two rak'ahs, he would then go forward and pray four rak'ahs; but when he was in Madina, he offered the Friday prayer, then returned to his house and prayed two rak'ahs, not praying them in the mosque. Someone mentioned this to him and he replied that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to do it.
ہم سے محمد بن عبد العزیز بن ابی رزمہ المروزی نے بیان کیا، انہیں فضل بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں عبد الحمید بن جعفر نے انیس بن ابی حبیب کی سند سے, عطاء سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھنے کے بعد آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے پھر آگے بڑھتے اور چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینے میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر واپس آتے اور ( گھر میں ) دو رکعتیں ادا کرتے، مسجد میں نہ پڑھتے، ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔