Narrated Asma daughter of Abu Bakr رضی اللہ عنہما :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: One of you who believes in Allah and in the Last Day should not raise her head until the men raise their heads (after prostration) lest they should see the private parts of men.
ہم سے محمد بن متوکل عسقلانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، وہ زہری کے بھائی عبداللہ بن مسلمہ نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے مولیٰ کی سند سے, اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، وہ اپنا سر ( سجدے سے ) اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک کہ مرد نہ اٹھا لیں، اس اندیشہ سے کہ ان کی نظر کہیں مردوں کے ستر پر نہ پڑے ۔
Al-Bara رضی اللہ عنہ said:
The prostration observed by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, his bowing, and his sitting between the two prostrations were nearly equal.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے الحکم سے، ابن ابی لیلیٰ کی سند سے, براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع، سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا سب قریب قریب برابر ہوتے تھے۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
I did not offer prayer behind anyone more brief than the one offered by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and that was perfect. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: “Allah listens to him who praises Him, ” he stood long we thought that he had omitted something; then he say takbir (Allah is most great) and prostrate, and would sit between the two prostrations so long that we thought that he had omitted something.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم کو ثابت اور حمید نے خبر دی، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہم ہو گیا ہے، پھر آپ «اللہ اکبر» کہتے اور سجدہ کرتے اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہم ہو گیا ہے۔
Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہما said:
I witnessed Muhammed صلی اللہ علیہ وسلم –Abu Kamil’s version has the wording: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم-during his prayer. I found his standing like his bowing and prostration and his moderation in bowing was like that of his prostration, and his sitting between the two prostration and his prostration (and his sitting between the salutation) and going away ( after finishing the prayer) were nearly equal to one another. Abu Dawud said: Musaddad said: His bowing and his moderation in bowing and prostration, and his prostration and his sitting between the two prostrations, and his prostration and sitting between the salutation and going away (after finishing the prayer) were nearly equal.
ہم سے مسدد اور ابو کامل نے بیان کیا اور ان میں سے ایک کی حدیث دوسرے میں شامل ہے, انہوں نے کہا: ہم سے ابو عوانہ نے ہلال بن ابی حمید کی سند سے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی سند سے بیان کیا, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ( اور ابوکامل کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ) حالت نماز میں بغور دیکھا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کو آپ کے رکوع اور سجدے کی طرح، اور رکوع سے آپ کے سیدھے ہونے کو آپ کے سجدے کی طرح، اور دونوں سجدوں کے درمیان آپ کے بیٹھنے کو، اور سلام پھیرنے اور نمازیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنے کو، پھر دوسرے سجدہ سے قریب قریب برابر پایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مسدد کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع اور دونوں رکعتوں کے درمیان آپ کا اعتدال پھر آپ کا سجدہ پھر دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور پھر دوسرا سجدہ پھر آپ کا سلام پھیرنے اور لوگوں کی طرف چہرہ کرنے کے درمیان بیٹھنا، یہ سب تقریباً برابر ہوتے تھے۔
Narrated Abu Masud al-Badri رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A man's prayer does not avail him unless he keeps his back steady when bowing and prostrating.
ہم سے حفص بن عمر النمری نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سلیمان سے، عمارہ بن عمیر کی سند سے، ابو معمر کی سند سے, ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز درست نہیں، جب تک کہ وہ رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کر لے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered the mosque, a man also entered it and prayed. He then came and saluted the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم returned the salutation and said to him: Go back and pray, for you have not prayed. The man returned and prayed as he prayed before. He then came to Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and saluted him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to him: “ And upon you be peace. “ Go back and pray, for you have not prayed. He did so three times. Then the man said: By Him who has sent you (as a Prophet) with truth; I cannot do better than this; so teach me. He said: When you get up to pray, utter the takbir (Allah is most great); then recite a convenient portion of the Quran; then bow and remain quietly in that position; then sit and remain quietly in that position; then raise yourself and stand erect: then prostrate yourself and remain quietly in that position; then sit and remain quietly in that position; then do that throughout all your prayer. Abu Dawud said: Al-Qanabi reported this tradition from Saeed bin Abi Saeed on the authority of Abu Hurairah. This version has the wording in the last: When you do this, then your prayer is completed. If you omit anything form this, you omit that much from your prayer. This version also has the wording: when you get up for praying, perform the abulation perfectly.
ہم سے القعنبی نے بیان کیا، ہم سے انس نے بیان کیا، یعنی ابن عیاض نے, ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، عبید اللہ کی سند سے، اور یہ ابن المثنی کا قول ہے، مجھ سے سعید بن ابی سعید نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو ایک شخص اس نے نماز پڑھی پھر آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جاؤ، پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، وہ شخص واپس گیا اور پھر سے اسی طرح نماز پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، پھر آ کر سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور تم پر بھی سلامتی ہو، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، یہاں تک کہ تین بار ایسا ہوا، پھر اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اس سے اچھی نماز پڑھنا نہیں جانتا تو آپ مجھے سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ( پہلے ) تکبیر کہو، پھر جتنا قرآن بآسانی پڑھ سکتے ہو پڑھو، اس کے بعد اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، اس کے بعد اطمینان سے سجدہ کرو، پھر اطمینان سے قعدہ میں بیٹھو، اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو ۔ قعنبی نے «عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبي هريرة» کہا ہے اور اس کے اخیر میں یوں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے ایسا کر لیا تو تمہاری نماز مکمل ہو گئی، اور اگر تم نے اس میں کچھ کم کیا تو اپنی نماز میں کم کیا ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو کامل وضو کرو ۔
Narrated Ali bin Yahya bin Khallad:
A man entered the mosque. . . . . . He then narrated the tradition like the one narrated in (No. 855). This version is as follows: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The prayer of anyone is not perfect unless he performs ablution perfectly; he should then utter the takbir, and praise Allah, the Exalted, and admire Him; he should then recite the Quran as much as he desires. He should then say: Allah is Most Great . Next he should bow so that all his joints return to their proper places. Then he should say: Allah listens to the one who praises Him , and stand erect. He should then say: Allah is most great, and should prostrate himself so that all his joints are completely at rest. Then he should say: Allah is most great ; he should raise his head (at the end of prostration) till he sits erect. Then he should say: Allah is most great; then he should prostrate himself till all his joints return to their proper places. Then he should raise his head and say the takbir. When he does so, then his prayer is completed.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا، علی بن یحییٰ بن خلاد اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ
ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، پھر راوی نے گذشتہ حدیث کے مانند روایت ذکر کی، اس میں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کی نماز مکمل نہیں ہوتی، جب تک وہ اچھی طرح وضو نہ کرے، پھر«الله أكبر» کہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور قرآن سے جتنا آسان ہو پڑھے پھر «الله أكبر» کہے پھر اطمینان و سکون کے ساتھ اس طرح رکوع کرے کہ سب جوڑ اپنی جگہ پر آ جائیں، پھر «سمع الله لمن حمده» کہے اور سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر «الله أكبر»کہے، پھر اطمینان سے اس طرح سجدہ کرے کہ اس کے جسم کے سارے جوڑ اپنی جگہ پر آ جائیں، پھر «الله أكبر» کہے اور اپنا سر سجدے سے اٹھائے یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جائے پھر «الله أكبر» کہے پھر ( دوسرا ) سجدہ اطمینان سے اس طرح کرے کہ سب جوڑ اپنی جگہ پر آ جائیں، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائے اور «الله أكبر» کہے، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کی نماز پوری ہو گئی ۔
Narrated Rifaah Ibn Rafi رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The prayer of any of you is not complete until he performs ablution perfectly, as Allah, the Exalted, has ordered you. He should wash his face and hands up to the elbows, and wipe his head and (wash) his feet up to the ankles. Then he should exalt Allah and praise Him. Then he should recite the Quran as much as it is convenient for him. (Narrator then narrated the tradition like Hammad's, No. 856). He said: He then utter the takbir and prostration himself so that his face is at rest. Hammam (sub-narrator) said: Sometimes he reported: So that his forehead is at rest on the ground, and his joints return to their places and are loosened. Then he should say the takbir and then sit right on his hips and erect his back. He described the nature of prayer in this way by offering four rak'ahs until he finished it. The prayer of any of you is not complete unless he does so.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عبد الملک اور حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا، ان سے علی بن یحییٰ بن خلاد نے اپنے چچا کی سند سے بیان کیا, رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز پوری ( مکمل ) نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ اچھی طرح وضو کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، ( یعنی ) وہ اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے اور اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر «الله اكبر» کہے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر قرآن میں سے جو آسان ہو اسے پڑھے ، پھر راوی نے حماد کی حدیث کے مانند ذکر کیا اور کہا: پھر وہ «الله اكبر»کہے اور سجدہ کرے تو اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے ۔ ہمام کہتے ہیں: اسحاق بن عبداللہ نے کبھی یوں کہا: اپنی پیشانی زمین پر ٹکا دے یہاں تک کہ اس کے جوڑ آرام پا لیں اور ڈھیلے ہو جائیں، پھر «الله اكبر» کہے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی پیٹھ سیدھی کر لے پھر نماز کی چاروں رکعتوں کی کیفیت فارغ ہونے تک اسی طرح بیان کی ( پھر فرمایا ) : تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کرے ۔
This tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Rifaah bin Rafi رضی اللہ عنہ . This version goes:
He ﷺ said: When you get up and face the qiblah, what Allah wishes you to recite. And when you bow, put your palms on your knees and stretch out your back. When you prostrate yourself, do it completely ( so that you are at the rest). When you raise yourself then sit on your left thigh.
ہم سے وھب بن بقیہ نے خالد کی سند سے، محمد کی سند سے، یعنی ابن عمرو نے، علی بن یحییٰ بن خلاد سے، اپنے والد کی سند سے, اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو اور اپنا رخ ( چہرہ ) قبلہ کی طرف کر لو تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہو، پھر سورۃ فاتحہ پڑھو اور قرآن مجید میں سے جس کی اللہ توفیق دے پڑھو، پھر جب رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنی پیٹھ برابر رکھو ، اور فرمایا: جب تم سجدہ میں جاؤ تو اپنے سجدوں میں ( پیشانی کو ) ٹکائے رکھو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو ۔
Ali bin Yahya bin Khallad, from his father, from his paternal uncle Rifaah bin Rafi, form the prophet ﷺ with this narration:
He ﷺ said: When you get up to pray, say the takbir, exalting Allah; then recite the Quran as much as it is convenient for you. The version adds: When you sit in the middle of the prayer, do it completely (so that you are at rest) and spread your left thigh; then recite the tashahhud. Then if you get up (again), do in a similar way until you finish your prayer.
ہم سے مومل بن ہشام نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، مجھ سے علی بن یحییٰ بن خلاد بن رافع نے اپنے والد سے اور اپنے چچا سے, اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ روایت کرتے ہیں، اس میں ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ( پہلے ) «الله اكبر» کہو، پھر قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو پڑھو ، اور اس میں ہے: جب تم نماز کے بیچ میں بیٹھو تو اطمینان و سکون سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران کو بچھا لو، پھر تشہد پڑھو، پھر جب کھڑے ہو تو ایسا ہی کرو یہاں تک کہ تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ ۔
Yahya bin Ali bin Yahya bin Khallad bin Rafi Az-Zuraqi, from his father, from his grand father, from Rifa'ah bin Rafi رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Then perform ablution in a way Allah, the exalted, has command you, then say the Tashah-hud and get up and say the takbir. Then if you know any of the Quran, recite it; otherwise say: “Praise be to Allah”; “Allah is most great”; “ There is no god but Allah” He ( the narrator) also said in this version: If some defect remains in this, that detect will remain in your prayer.
ہم سے عباد بن موسیٰ الختلی نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن علی بن یحییٰ بن خلاد بن رافع الزرقی نے اپنے والد سے اور اپنے دادا کی سند سے, اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرمایا ) ، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی اس میں ہے: پھر وضو کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے، پھر تشہد پڑھو ۱؎، پھر اقامت کہو، پھر «الله اكبر» کہو، پھر اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو، ورنہ «الحمد لله، الله أكبر، لا إله إلا الله» کہو ، اور اس میں ہے کہ: اگر تم نے اس میں سے کچھ کم کیا تو اپنی نماز میں سے کم کیا ۔
Narrated Abdur Rahman Ibn Shibl رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited to peck like a crow, and to spread (the forearms) like a wild beast, and to fix a place in the mosque like a camel which fixes its place. These are the wordings of Qutaybah.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے اور جعفر بن الحکم کی سند سے۔ اور ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، وہ جعفر بن عبداللہ الانصاری سے، تمیم بن محمود کی سند سے, عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوے کی طرح چونچ مارنے ، درندے کی طرح بازو بچھانے ، اور اونٹ کے مانند آدمی کے مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ متعین کر لینے سے ( جیسے اونٹ متعین کر لیتا ہے ) منع فرمایا ہے ( یہ قتیبہ کے الفاظ ہیں ) ۔
Narrated Uqbah Ibn Amr al-Ansari: Salim al-Barrad said:
We came to Abu Masud Uqbah Ibn Amr al-Ansari رضی اللہ عنہ and said to him: Tell us about the prayer of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He stood up before us in the mosque and said the takbir. When he bowed, he placed his hands upon his knees and put his fingers below, and kept his elbows (arms) away from his sides, so everything returned properly to its place. Then he said: Allah listens to him who praises Him ; then he stood up so that everything returned properly to its place; then he said the takbir and prostrated and put the palms of his hands on the ground; he kept his elbow (arms) away from his sides, so that everything returned to its proper place. Then he raised his head and sat so that everything returned to its place; he then repeated it in a similar way. Then he offered four rak'ahs of prayer like this rak'ah and completed his prayer. Then he said: Thus we witnessed the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم offering his prayer.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے جریر نے عطاء بن ال سائب کی سند سے بیان کیا, سالم براد کہتے ہیں کہ
ہم ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بتائیے تو وہ مسجد میں ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے «الله اكبر» کہا، پھر جب وہ رکوع میں گئے تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے اور اپنی انگلیاں اس سے نیچے رکھیں اور اپنی دونوں کہنیوں کے درمیان فاصلہ رکھا یہاں تک کہ ہر ایک عضو اپنے اپنے مقام پر جم گیا، پھر انہوں نے «سمع الله لمن حمده» کہا اور کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر آ کر ٹھہر گیا، پھر «الله اكبر» کہہ کر سجدہ کیا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھیں اور اپنی دونوں کہنیوں کے درمیان فاصلہ رکھا یہاں تک کہ ہر عضو اپنے مقام پر آ کر ٹھہر گیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور بیٹھے یہاں تک کہ ہر عضو اپنے مقام پر آ کر ٹھہر گیا، پھر دوبارہ ایسا ہی کیا، پھر چاروں رکعتیں اسی کی طرح پڑھیں ( اس طرح ) انہوں نے اپنی نماز پوری کی پھر کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ : Anas Ibn Hakim ad-Dabbi said:
He feared Ziyad or Ibn Ziyad; so he came to Madina and met Abu Hurairah رضی اللہ عنہ . He attributed his lineage to me and I became a member of his lineage. Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said (to me): O youth, should I not narrate a tradition to you? I said: Why not, may Allah have mercy on you? (Yunus (a narrator) said: I think he narrated it (the tradition) from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: ) The first thing about which the people will be called to account out of their actions on the Day of Judgment is prayer. Our Lord, the Exalted, will say to the angels - though He knows better: Look into the prayer of My servant and see whether he has offered it perfectly or imperfectly. If it is perfect, that will be recorded perfect. If it is defective, He will say: See there are some optional prayers offered by My servant. If there are optional prayer to his credit, He will say: Compensate the obligatory prayer by the optional prayer for My servant. Then all the actions will be considered similarly.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے یونس نے بیان کیا، حسن رضی اللہ عنہ سے, انس بن حکیم ضبی کہتے ہیں کہ
وہ زیاد یا ابن زیاد سے ڈر کر مدینہ آئے تو ان کی ملاقات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انس کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا نسب مجھ سے جوڑا تو میں ان سے جڑ گیا، پھر وہ کہنے لگے: اے نوجوان! کیا میں تم سے ایک حدیث نہ بیان کروں؟ انس کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور بیان کیجئے، اللہ آپ پر رحم فرمائے، یونس کہتے ہیں: میں یہی سمجھتا ہوں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں سے ان کے اعمال میں سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے پوچھ تاچھ کی جائے گی وہ نماز ہو گی، ہمارا رب اپنے فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے میرے بندے کی نماز کو دیکھو وہ پوری ہے یا اس میں کوئی کمی ہے؟ اگر پوری ہو گی تو پورا ثواب لکھا جائے گا اور اگر کمی ہو گی تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو، میرے بندے کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر نفل ہو گی تو فرمائے گا: میرے بندے کے فرض کو اس کی نفلوں سے پورا کرو، پھر تمام اعمال کا یہی حال ہو گا ۔
The above-mentioned tradition has also been transmitted by Abu Hurairah رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators to the same effect.
اس سند سے بھی
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہوں نے حمید کی سند سے، انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ سے، وہ بنو سلیط کے ایک شخص سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گذشتہ حدیث کے ہم معنی حدیث مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔
Narrated Tamim ad-Dari رضی اللہ عنہ : Tamim reported this tradition from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as (Hadith No 863). This version adds:
Then zakat will be considered in a similar way. Then all the actions will be considered accordingly.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے داؤد بن ابی ہند نے، زرارہ بن اوفی کی سند سے, تمیم داری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً روایت کی ہے,اس میں ہے
پھر زکوۃ کا یہی حال ہو گا، پھر تمام اعمال کا حساب اسی طرح سے ہو گا ۔
Musab bin Saad said:
I prayed by the side of my father. I put both of my hands between my knees (in bowing condition). He prohibited me from it. I then repeated; so he said: Do not do so, because we used to do so. But we were prohibited to do that, and commanded to put our hands on the knees.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو یعفور سے، انہوں نے کہا: ابوداؤد جس کا نام وقدان تھا, مصعب بن سعد کہتے ہیں
میں نے اپنے والد کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے ( رکوع میں ) اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں کر لیے تو انہوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا، پھر میں نے دوبارہ ایسے ہی کیا تو انہوں نے کہا: تم ایسا نہ کیا کرو کیونکہ پہلے ہم بھی ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہم کو ایسا کرنے سے روک دیا گیا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھیں۔
Abdullah (bin Masud) رضی اللہ عنہ said:
When any of you bows, he should spread his arms on his thighs and clap both his palms (Placing them between the knees), as if I am seeing the variation of the fingers of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم کی سند سے، علقمہ اور اسود سے,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے دونوں بازؤوں کو اپنی رانوں پر بچھا لے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق کرے ، گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے اختلاف کو دیکھ رہا ہوں۔
Narrated Uqbah Ibn Amir رضی اللہ عنہ :
When Glorify the name of your mighty Lord was revealed, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Use it when bowing, and when Glorify the name of your most high Lord was revealed, he ﷺ said: Use it when prostrating yourself.
ہم سے ربیع بن نافع، ابو توبہ اور موسیٰ بن اسماعیل المعنیٰ نے بیان کیا: ہم سے ابن المبارک نے موسیٰ کی سند سے بیان کیا۔ ابو سلمہ موسیٰ بن ایوب نے کہا: اپنے چچا کی سند سے,عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
جب آیت کریمہ: «فسبح باسم ربك العظيم» اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو ( سورۃ الواقعۃ: ۷۴ ) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے رکوع میں کر لو ، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى» اپنے بہت ہی بلند رب کے نام پاکیزگی بیان کرو ( سورۃ الاعلی: ۱ ) اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے سجدے میں کر لو ۔
The above (No 868) tradition has also been reported through a different chain of narrators by Uqbah Ibn Amir رضی اللہ عنہ to the same effect. This version adds:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم bowed, he said: Glory and praise be to my mighty Lord three times, and when he prostrated himself, he said: Glory and praise be to my most high Lord three times. Abu Dawud said: We are afraid the addition of the word praise is not guarded.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے لیث یعنی ابن سعد نے بیان کیا، ہم سے ایوب بن موسیٰ یا موسیٰ بن ایوب نے ان کی قوم کے ایک شخص کی سند سے بیان کیا, اس طریق سے بھی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں راوی نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو تین بار «سبحان ربي العظيم وبحمده» کہتے، اور جب سجدہ کرتے تو تین بار «سبحان ربي الأعلى وبحمده» کہتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ «وبحمده» کا یہ اضافہ محفوظ نہ ہو ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع اور احمد بن یونس کی ان دونوں حدیثوں کی اسناد کے سلسلے میں اہل مصر منفرد ہیں۔