Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: To harbour good thoughts is a part of well-conducted worship. (This is according to Nasr's version). Abu Dawud said: Mahna' is reliable and he is from Basrah.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا, ہم سے اور نصر بن علی نے مھنا ابو شبل کی سند سے بیان کیا, ابوداؤد نے کہا: میں نے حماد بن سلمہ کی سند سے، محمد بن واسع کی سند سے، شتیر کی سند سے اسے اچھی طرح سے نہیں سمجھا, نصر نے کہا: ابن نھار , ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے ۔
Safiyyah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was in the I’TIKAF (seclusion in the mosque). I came to visit him at night. I talked to him, got up and turned my back. He got up with me to accompany me. He was living in the house of Usamah bin Zaid. Two men of the Ansar passed by him. When they saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, they walked quickly. The prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Be at ease; she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Glory be to Allah, Messenger of Allah! He said: The devil flows in man as the blood flows in him. I feared that he might inject something in your hearts, or he said “evil” (instead of something).
ہم سے احمد بن محمد المروازی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے, ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں ایک رات آپ کے پاس آپ سے ملنے آئی تو میں نے آپ سے گفتگو کی اور اٹھ کر جانے لگی، آپ مجھے پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے اور اس وقت وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر میں رہتی تھیں، اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے، آپ نے فرمایا: تم دونوں ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کے رسول! ( یعنی کیا ہم آپ کے سلسلہ میں بدگمانی کر سکتے ہیں ) آپ نے فرمایا: شیطان آدمی میں اسی طرح پھرتا ہے، جیسے خون ( رگوں میں ) پھرتا ہے، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں کچھ ڈال نہ دے، یا یوں کہا: کوئی بری بات نہ ڈال دے ۔
Narrated Zayd bin Arqam:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When a man makes a promise to his brother with the intention of fulfilling it and does not do so, and does not come at the appointed time, he is guilty of no sin.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے علی بن عبد الاعلٰی نے، ابو النعمان کی سند سے، ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے, زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے گا، پھر وہ اسے پورا نہ کر سکے اور وعدے پر نہ آ سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔
Narrated Abdullah bin Abul Hamsa رضی اللہ عنہ :
I bought something from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم before he received his Prophetic commission, and as there was something still due to him I promised him that I would bring it to him at his place, but I forgot. When I remembered three days later, I went to that place and found him there. He said: You have vexed me, young man. I have been here for three days waiting for you. Abu Dawud said: Muhammad bin Yahya said: This is, in our opinion, Abd al-Karim bin Abdullah bin Shaqiq (instead of from Abd al-Karim from Abdullah bin Shaqiq ). Abu Dawud said: In a similar way I have been informed by Ali bin Abdullah. Abu Dawud said: I have been told that Bishr bin al-Sarri transmitted it from Abdullah bin Shaqiq.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس النیسابوری نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، وہ بدیل کی سند سے، عبد الکریم سے، عبداللہ بن شقیق سے اپنے والد سے, عبداللہ بن ابو حمساء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے بعثت سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میرے ذمے رہ گئی تو میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ اسے لا کر دوں گا، پھر میں بھول گیا، پھر مجھے تین ( دن ) کے بعد یاد آیا تو میں آیا، دیکھا کہ آپ اسی جگہ موجود ہیں، آپ نے فرمایا: اے جوان! تو نے مجھے زحمت میں ڈال دیا، اسی جگہ تین دن سے میں تیرا انتظار کر رہا ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن یحییٰ نے کہا: یہ ہمارے نزدیک عبد الکریم بن عبداللہ بن شقیق ہے (عبدالکریم کے بجائے عبداللہ بن شقیق سے)۔ ابوداؤد نے کہا: اسی طرح مجھے علی بن عبداللہ نے خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے بتایا گیا ہے کہ بشر بن ساری نے اسے عبداللہ بن شقیق سے روایت کیا ہے۔
Narrated Asma, daughter of Abu Bakr رضی اللہ عنہما :
A woman said: Messenger of Allah! I have a fellow-wife; will it be wrong for me to boast of receiving from my husband what he does not give me? He replied: the one who boasts of receiving what he has not been given is like him who has put on two garments of falsehood.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، اور ان سے فاطمہ بنت المند رضی اللہ عنہا نے بیان کیا, اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا: جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah! give me a mount. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: We shall give you a she-camel's child to ride on. He said: What shall I do with a she-camel's child? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم replied: Do any others than she-camels give birth to camels?
ہم سے وہب بن بقیہ نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد نے حمید کی سند سے خبر دی , انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سواری عطا فرما دیجئیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کرائیں گے وہ بولا: میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ تو ہوتا ہے ۔
Narrated An-Numan bin Bashir رضی اللہ عنہما :
When Abu Bakr رضی اللہ عنہ asked the permission of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to come in, he heard Aishah رضی اللہ عنہا speaking in a loud voice. So when he entered, he caught hold of her in order to slap her, and said: Do I see you raising your voice to the Messenger of Allah? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم began to prevent him and Abu Bakr went out angry. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said when Abu Bakr went out: You see I rescued you from the man. Abu Bakr waited for some days, then asked permission of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to enter, and found that they had made peace with each other. He said to them: Bring me into your peace as you brought me into your war. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: We have done so: we have done so.
ہم سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، ہم سے یونس بن ابی اسحاق نے بیان کیا، ان سے ابی اسحاق نے، وہ الاثار بن حریث کی سند سے,نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو سنا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اونچی آواز میں بول رہی ہیں، تو وہ جب اندر آئے تو انہوں نے انہیں طمانچہ مارنے کے لیے پکڑا اور بولے: سنو! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بلند کرتی ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روکنے لگے اور ابوبکر غصے میں باہر نکل گئے، تو جب ابوبکر باہر چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھا تو نے میں نے تجھے اس شخص سے کیسے بچایا پھر ابوبکر کچھ دنوں تک رکے رہے ( یعنی ان کے گھر نہیں گئے ) اس کے بعد ایک بار پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو ان دونوں کو پایا کہ دونوں میں صلح ہو گئی ہے، تو وہ دونوں سے بولے: آپ لوگ مجھے اپنی صلح میں بھی شامل کر لیجئے جس طرح مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے شریک کیا، ہم نے شریک کیا ۔
Awf bin Malik al-Ashjai رضی اللہ عنہ said:
I came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at the expedition to Tabuk when he was in a small skin tent. I gave him a salutation and he returned it, saying: come in. I asked: the whole of me Messenger of Allah? He replied: The whole of you. So I entered.
ہم سے مو مل بن الفضل نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن العلاء نے، بسر بن عبید اللہ کی سند سے، وہ ابو ادریس خولانی کی سند سے, عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک خیمے میں قیام پذیر تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا، اور فرمایا: اندر آ جاؤ تو میں نے کہا کہ پورے طور سے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: پورے طور سے چنانچہ میں اندر چلا گیا۔
Uthman bin Abu 'Atikah said:
The only reason why he asked whether the whole of him should come in was because of the smallness of the tent
ہم سے صفوان بن صالح نے بیان کیا، ہم سے الولید نے بیان کیا، عثمان بن ابی العاتکہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے جو یہ پوچھا کہ کیا پورے طور پر اندر آ جاؤں تو اس وجہ سے کہ خیمہ چھوٹا تھا۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم addressed me as: O you with the two ears.
ہم سے ابراہیم بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے شارق نے، عاصم کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے دو کانوں والے! ۔
Narrated Abdullah bin as-Saib bin Yazid رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: None of you should take the property of his brother in amusement (i.e. jest), nor in earnest. The narrator Sulayman said: Out of amusement and out of earnest. If anyone takes the staff of his brother, he should return it. The transmitter Ibn Bashshar did not say Ibn Yazid, and he said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے ابن ابی ذہب کی سند سے بیان کیا۔ ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن دمشقی نے بیان کیا، ہم سے شعیب بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ذہب نے، عبداللہ بن السائب بن یزید کے واسطہ سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا کی سند سے , یزید بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان ( بلا اجازت ) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ۔ سلیمان کی روایت میں ( «لاعبا ولا جادا » کے بجائے ) «لعبا ولا جدا» ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ ( ضرورت پوری کر کے ) اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہا ہے۔
Narrated Abdur Rahman bin Abu Layla:
The Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم told us that they were travelling with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. A man of them slept, and one of them went to the rope which he had with him. He took it, by which he was frightened. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: It is not lawful for a Muslim that he frightens a Muslim.
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے ابن نمیر نے العمش کی سند سے بیان کیا, عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ
ہم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے، ان میں سے ایک صاحب سو گئے، کچھ لوگ اس رسی کے پاس گئے، جو اس کے پاس تھی اور اسے لے لیا تو وہ ڈر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے ۔
Narrated Abdullah bin Amr bin al-As:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah, the Exalted, hates the eloquent one among men who moves his tongue round (among his teeth), as cattle do.
ہم سے محمد بن سنان الباہلی نے بیان کیا، وہ عوقہ میں قیام کیا کرتے تھے۔ ہم سے نافع بن عمر نے بشر بن عاصم سے، اپنے والد سے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ سے۔ ابوداؤد نے کہا:عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دشمنی رکھتا ہے تڑتڑ بولنے والے ایسے لوگوں سے جو اپنی زبان کو ایسے پھراتے ہیں جیسے گائے ( گھاس کھانے میں ) چپڑ چپڑ کرتی ہے، یعنی بے سوچے سمجھے جو جی میں آتا ہے بکے جاتا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: On the Day of resurrection Allah will not accept repentance or ransom from him who learns excellence of speech to captivate thereby the hearts of men, or of people.
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن المسیب نے، ضحاک بن شرحبیل کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی باتوں کو گھمانا اس لیے سیکھے کہ اس سے آدمیوں یا لوگوں کے دلوں کو حق بات سے پھیر کر اپنی طرف مائل کر لے، تو اللہ قیامت کے دن اس کی نہ نفل ( عبادت ) قبول کرے گا اور نہ فرض ۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said:
When two men who came from the east made a speech and the people were charmed with their eloquence, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: In some eloquent speech there is magic.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور زید بن اسلم کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
دو آدمی پورب سے آئے تو ان دونوں نے خطبہ دیا، لوگ حیرت میں پڑ گئے، یعنی ان کے عمدہ بیان سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی سحر کی سی تاثیر رکھتی ہیں راوی کو شک ہے کہ «إن من البيان لسحرا» کہا یا «إن بعض البيان لسحر» کہا۔
Amr bin al-As said:
One day when a man got up and spoke at length Amr bin al-As said If he had been moderate in what he said: It would have been better for him. I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: I think (or, I have been commanded) that I should be brief in what I say, for brevity is better.
ہم سے سلیمان بن عبد الحمید البحرانی نے بیان کیا کہ انہوں نے اسماعیل بن عیاش کی اصل عبارت میں پڑھا، ان سے ان کے بیٹے محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ددم نے شریح بن عبید کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوظبیہ کا بیان ہے کہ عمرو بن العاص نے ایک دن کہا
اور ( اس سے پہلے ) ایک شخص کھڑے ہو کر بے تحاشہ بولے جا رہا تھا، اس پر عمرو نے کہا: اگر وہ بات میں درمیانی روش اپناتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے یا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں گفتگو میں اختصار سے کام یعنی جتنی بات کافی ہو اسی پر اکتفا کروں اس لیے کہ اختصار ہی بہتر روش ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: it is better for a man’s belly to be full of pus than to be full of poetry. Abu Ali said: I have been told that Abu Ubaid said: It means that his heart is full of poetry so much so that it makes him neglectful of the Quran and remembrance of Allah. If the Quran and the knowledge (of religion) are dominant, the belly will not be full of poetry in our opinion. Some eloquent speech is magic. It means that a man expresses his eloquence by praising another man, and he speaks the truth about him so much so that he attracts the hearts to his speech. He then condemns him and speaks the truth about him so much so that he attracts the hearts to another of his speech, as if he spelled the audience by it.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، العمش کی سند سے، ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل ( شعر سے پیٹ بھرنے کی ) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے ( اور آپ نے فرمایا ) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات ( تعریف میں ) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت کرے اور اس میں بھی سچی بات کہے، یہاں تک کہ دلوں کو اپنی دوسری بات جو پہلی بات کے مخالف ہو کی طرف موڑ دے، تو گویا اس نے سامعین کو اس کے ذریعہ سے مسحور کر دیا ۔
Ubayy bin Kaab رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: In poetry there is wisdom.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن المبارک نے یونس کی سند سے، انہوں نے زہری کی سند سے، انہوں نے کہا: ہم سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے مروان بن عبداللہ بن عبداللہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی سند سے۔ ابن الاسود بن عبد یغوث, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض اشعار دانائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
A desert Arab came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and began to speak. Thereupon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: In eloquence there is magic and in poetry there is wisdom.
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض اشعار «حكم» ۱؎ ( یعنی حکمت ) پر مبنی ہوتے ہیں ۔
Narrated Buraydah bin al-Hasib:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: In eloquence there is magic, in knowledge ignorance, in poetry wisdom, and in speech heaviness. Sa'sa'ah ibn Suhan said: The Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم spoke the truth. His statement In eloquence there is magic means: (For example), there is a right due from a man who is more eloquent in reasoning than the man who is demanding his right. He (the defendant) charms the people by his speech and takes away his right. His statement In knowledge there is ignorance means: A scholar brings to his knowledge what he does not know, and thus he becomes ignorant of that. His statement In poetry there is wisdom means: These are the sermons and examples by which people receive admonition. His statement In speech there is heaviness means: That you present your speech and your talk to a man who is not capable of understanding it, and who does not want it.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے سعید بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو تمیلہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو جعفر گرامی عبداللہ بن ثابت نے بیان کیا، انہوں نے کہا: صخر بن عبداللہ بن بریدہ نے مجھ سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بعض بیان یعنی گفتگو، خطبہ اور تقریر جادو ہوتی ہیں ( یعنی ان میں جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے ) ، بعض علم جہالت ہوتے ہیں، بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں، اور بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں ۔ تو صعصہ بن صوحان بولے: اللہ کے نبی نے سچ کہا، رہا آپ کا فرمانا بعض بیان جادو ہوتے ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی پر دوسرے کا حق ہوتا ہے، لیکن وہ دلائل ( پیش کرنے ) میں صاحب حق سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے، چنانچہ وہ اپنی دلیل بہتر طور سے پیش کر کے اس کے حق کو مار لے جاتا ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض علم جہل ہوتا ہے تو وہ اس طرح کہ عالم بعض ایسی باتیں بھی اپنے علم میں ملانے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کے علم میں نہیں چنانچہ یہ چیز اسے جاہل بنا دیتی ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسی نصیحتیں اور مثالیں ہوتی ہیں، جن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں، رہا آپ کا قول کہ بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بات یا اپنی گفتگو ایسے شخص پر پیش کرو جو اس کا اہل نہ ہو یا وہ اس کا خواہاں نہ ہو۔