Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one of you sneezes, he should say: praise be to Allah in every circumstance, and his brother or his companion should say: Allah in every on you! And he should then reply: May Allah guide you well-being.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے عبد العزیز بن عبد اللہ بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو چاہیئے کہ وہ کہے: «الحمد لله على كل حال» ( ہر حالت میں تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں ) اور چاہیئے کہ اس کا بھائی یا اس کا ساتھی کہے: «يرحمك الله» ( اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اب وہ پھر کہے: «يهديكم الله ويصلح بالكم» ( اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہیں ٹھیک رکھے، اور تمہاری حالت درست فرما دے ) ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
Respond three times to your brother when he sneezes, and if he sneezes more often, he has a cold in his head.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ابن عجلان سے، انہوں نے کہا: مجھ سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا، رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
تین بار اپنے بھائی کی چھینک کا جواب دو اور جو اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah رضی اللہ عنہ through a different chain from the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. A transmitter Saeed bin Saeed said:
I know him that he traced this tradition back to the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Abu Dawud said: Abu Nuaim transmitted it from Musa bin Qais, from Muhammad bin Ajlan, from Saeed, on the authority of Abu Hurairah, from the prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے عیسیٰ بن حماد المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ابن عجلان کی سند سے, سعید بن ابی سعید ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے
اسی مفہوم کی حدیث کو مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابونعیم نے موسی بن قیس سے، موسیٰ نے محمد بن عجلان سے، ابن عجلان نے سعید سے، سعید نے ابوہریرہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
Narrated Ubayd bin Rifaah az-Zuraqi رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Invoke a blessing on one who sneezes three times; (and if he sneezes more often), then if you wish to invoke a blessing on him, you may invoke, and if you wish (to stop), then stop.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے، وہ اپنی والدہ حمیدہ رضی اللہ عنہا سے, عبید بن رفاعہ زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھینکنے والے کا جواب تین بار دو اس کے بعد اگر جواب دینا چاہو تو دو، اور نہ دینا چاہو تو نہ دو ۔
Salamah bin al-Akwa رضی اللہ عنہ said from his father:
When a man sneezed beside the prophet صلی اللہ علیہ وسلم, he said to him: Allah have mercy on you, but when he sneezed again, he said: The man has a cold in the head.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن ابی زیدہ نے خبر دی، انہیں عکرمہ بن عمار نے، وہ ایاس بن سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے، وہ اپنے والد سے
ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا:«يرحمك الله» اللہ تم پر رحم فرمائے اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: آدمی کو زکام ہوا ہے ۔
Narrated Abu Burdah that his father said:
The Jews used to try to sneezes in the presence of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم hoping that he would say to them: Allah have mercy on you! but he would say: May Allah guide you and grant you well-being!
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے حکیم بن الدیلم نے، وہ ابو بردہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود جان بوجھ کر اس امید میں چھینکا کرتے کہ آپ ان کے لئے «يرحمكم الله» تم پر اللہ کی رحمت ہو کہہ دیں، لیکن آپ فرماتے: «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے ۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
Two men sneezed in the presence of the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said: Allah have mercy on you! To one and not to the other. He was asked: Messenger of Allah! Two persons sneezed. Ahmad’s version has: You invoked a blessing on one of them and left the other. He replied: This man praised Allah, and this man did not praise Allah.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان المعنی نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
دو لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے ان میں سے ایک کی چھینک کا جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا، تو آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! دو لوگوں کو چھینک آئی، تو آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا؟ ۔ احمد کی روایت میں اس طرح ہے: کیا آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو نہیں دیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: دراصل اس نے «الحمد الله» کہا تھا اور اس نے «الحمد الله» نہیں کہا تھا۔
Narrated Ya'ish bin Tikhfat al-Ghifari said:
My father was one of the people in the Suffah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Come with us to the house of Aishah رضی اللہ عنہا . So we went and he said: Give us food, Aishah. She brought hashishah and we ate. He then said: Give us food, Aishah رضی اللہ عنہا . She then brought haysah as small in quantity as a pigeon and we ate. He then said: Give us something to drink, Aishah. So she brought a bowl of milk, and we drank. Again he said: Give us something to drink, Aishah. She then brought a small cup and we drank. He then said: If you wish, you may spend the night (here), or if you wish, you may go to the mosque. He said: While I was lying on my stomach because of pain in the lung, a man began to shake me with his foot and then said: This is a method of lying which Allah hates. I looked and saw that he was the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ
میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو تو ہم گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ تو وہ تھوڑا سا حیس لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو ( اسے بھی ) ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہم کو پلاؤ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہم لوگوں سے ) فرمایا: تم لوگ چاہو ( ادھر ہی ) سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ وہ کہتے ہیں: تو میں ( مسجد میں ) صبح کے قریب اوندھا ( پیٹ کے بل ) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے ہلا کر جگانے لگا، اس نے کہا: اس طرح لیٹنے کو اللہ ناپسند کرتا ہے، میں نے ( آنکھ کھول کر ) دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
Narrated Ali bin Shayban رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone spends the night on the roof of a house with no stone palisade, Allah's responsibility to guard him no longer applies.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سالم، یعنی ابن نوح نے، کہا ہم سے عمر بن جابر حنفی نے بیان کیا، وہ والہ بن عبدالرحمٰن بن وثاب کی سند سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن علی کی سند سے، ان سے علی بن شیبان رضی اللہ عنہ نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پتھر ( کی مڈیر ) نہ ہو ( یعنی کوئی چار دیواری نہ ہو تو اس سے ( حفاظت کا ) ذمہ اٹھ گی ( گرے یا بچے وہ جانے ) ۔
Narrated Muadh bin Jabal رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If a Muslim sleeps while remembering Allah, in the state of purification, is alarmed while asleep at night, and asks Allah for good in this world and in the Hereafter. He surely gives it to him. Thabit al-Bunani said: Abu Zabyah came to visit us and he transmitted this tradition to us from Muadh ibn Jabal from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Thabit said: So and so said: I tried my best to utter these (prayers) when I got up, but I could not do.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو عاصم بن بہدلہ نے خبر دی، انہیں شہر بن حوشب نے ابو ظبیہ کی سند سے, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہوا باوضو سوتا ہے پھر رات میں ( کسی بھی وقت ) چونک کر اٹھتا ہے اور اللہ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دیتا ہے ۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: ہمارے پاس ابوظبیہ آئے تو انہوں نے ہم سے معاذ بن جبل کی یہ حدیث بیان کی، جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: فلاں شخص نے کہا کہ میں نے اپنی نیند سے بیدار ہوتے وقت کئی بار اس کلمہ کے ادا کرنے کی کوشش کی مگر کہہ نہ سکا ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم got up at night, fulfilled his need and washed his face and hand and then slept. Abu Dawud said: that is to say, he urinated
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، سلمہ بن کلہیل سے، وہ کریب کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔
Narrated Some relative of Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
The bed of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was set as a man is laid in his grave; the mosque was towards his head.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، خالد الحذا سے، ابو قلابہ سے، اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے خاندان کے کچھ لوگوں سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اس طرح بچھایا جاتا جس طرح انسان اپنی قبر میں لٹایا جاتا ہے، اور مسجد ( نماز پڑھنے کی جگہ یا مسجد نبوی ) آپ کے سرہانے ہوتی۔
Narrated Hafsah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wanted to go to sleep, he put his right hand under his cheek and would then say three times: O Allah, guard me from Thy punishment on the day when Thou raisest up Thy servants.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، ہم سے عاصم نے بیان کیا، ان سے معبد بن خالد نے سواع کی سند سے, ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھتے، پھر تین مرتبہ «اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك» اے اللہ جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچا لے کہتے۔
Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: When you go to your bed, perform ablution like the ablution for prayer, and then lie on your right side and say: O Allah I have handed over my face to thee, entrusted my affairs to thee, and committed my back to thee out of desire for and fear to thee. There is no refuge and no place of safety from thee except by having recource to thee. I believe in Thy Book which Thou hast sent down and in Thy prophet whom thou hast sent down. He said: If you die (that night), you would die in the true religion, and utter these words in the last of that you utter (other prayers). Al-Bara said: I said: I memorise them, and then I repeated, saying “and in Thy Messenger whom Thou hast sent”. He said: No, say: “and in Thy Prophet whom Thou hast sent.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے منصور کو سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ ( یعنی سونے چلو ) تو وضو کرو جیسے اپنے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹو، اور کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت» اے اللہ میں نے اپنی ذات کو تیری تابعداری میں دے دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، میں نے امید وبیم کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، تجھ سے بھاگ کر تیرے سوا کہیں اور جائے پناہ نہیں، میں ایمان لایا اس کتاب پر جو تو نے نازل فرمائی ہے، اور میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ( یہ دعا پڑھ کر ) انتقال کر گئے تو فطرت ( یعنی دین اسلام ) پر انتقال ہوا اور اس دعا کو اپنی دیگر دعاؤں کے آخر میں پڑھو براء کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا کہ میں انہیں یاد کر لوں گا، تو میں نے ( یاد کرتے ہوئے ) کہا «وبرسولك الذي أرسلت» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں بلکہ«وبنبيك الذي أرسلت» ( جیسا دعا میں ہے ویسے ہی کہو ) ۔
Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: when you go to bed while you are in the state of purification, lay your head on your right hand. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner as above.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے فطر بن خلیفہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم پاک و صاف ( باوضو ) ہو کر اپنے بستر پر ( سونے کے لیے ) آؤ تو اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناؤ پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
It was narrated from Sufyan from Al-Amash and Mansur from Sad bin Ubaidah, from Al Bara bin Azib. Sufyan said:
One of them (the narrator) said: When you go to your bed while you are in the state of purification. The other said: Perform ablution like the ablution for prayer. He then transmitted the tradition to the effect as Mu’tamir transmitted.
ہم سے محمد بن عبد الملک الغزل نے بیان کیا، ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے العمش اور منصور نے، سعد بن عبیدہ سے, اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث , نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں
ایک راوی نے «إذا أتيت فراشك طاهرا» جب تم باوضو اپنے بستر پر آؤ کہا اور دوسرے نے «توضأ وضوءك للصلاة» تم جب نماز جیسا وضو کر لو کہا اور آگے راوی نے معتمر جیسی روایت بیان کی۔
Hudhaifah رضی اللہ عنہ said:
When the prophet صلی اللہ علیہ وسلم lay down on his bed (at night), he would say: O Allah! In Thy name I die and live. When he awoke, he said: praise be to Allah who has given us life after causing us to die and to whom we shall be resurrected.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، عبد الملک بن عمیر کی سند سے، ربیع کی سند سے, حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت فرماتے: «اللهم باسمك أحيا وأموت» اے اللہ میں تیرے ہی نام پر جیتا اور مرتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی ( ایک طرح سے ) موت طاری کر دینے کے بعد اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: when any of you goes to his bed, he should dust his bedding with the inner extremity of his lower garment, for he does not know what has come on it since he left it. He should then lie down on his right side and say: In Thy name, my mercy on it, but if Thou lettest it go, guard it with that which Thou guardest Thy upright servants.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبوری نے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو اپنے ازار کے کونے سے اسے جھاڑے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ اس کی عدم موجودگی میں کون آ بسا ہے، پھر وہ اپنے داہنے پہلو پر لیٹے، پھر کہے «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» تیرے نام پر میں اپنا پہلو ڈال کر لیٹتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاتا ہوں، اگر تو میری جان کو روک لے تو تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
When the prophet صلی اللہ علیہ وسلم went to his bed, he used to say: O Allah! Lord of the heavens, Lord of the earth, Lord of everything, who splittest the grain and the kernel, who hast sent down the Torah, forelock Thou seizes. Thou art the first and there is nothing before thee; Thou art the Last and there is nothing after Thee; Thou art the Outward and there is nothing above Thee; Thou art the Inward and there is nothing below Thee. Wahb added in his version: pay the debt for me and grant me riches instead of poverty.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا اور ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد کی سند سے بیان کیا، اسی طرح سہیل کی سند سے، وہ اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شىء وأنت الآخر فليس بعدك شىء وأنت الظاهر فليس فوقك شىء وأنت الباطن فليس دونك شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے اللہ! آسمانوں و زمین کے مالک! اے ہر چیز کے پالنہار! اے دانے اگانے والے! اے بیج سے درخت پیدا کرنے والے! اے توراۃ، انجیل اور قرآن اتارنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ہر شر والے کے شر سے جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، تو سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر ( اوپر ) ہے، تجھ سے اوپر کوئی نہیں، تو چھپا ہوا ہے، تجھ سے زیادہ چھپا ہوا کوئی نہیں وہب نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ: تو میرا قرض اتار دے اور تنگ دستی سے نکال کر مجھے مالدار بنا دے۔
Narrated Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to say when he lay down: O Allah, I seek refuge in Thy noble Person and in Thy perfect Words from the evil of what Thou seizest by its forelock; O Allah! Thou removest debt and sin; O Allah! thy troop's not routed, Thy promise is not broken and the riches of the rich do not avail against Thee. Glory and praise be unto Thee!.
ہم سے العباس بن عبد العظیم الانباری نے بیان کیا، ہم سے الاحواس نے بیان کیا، ہم سے ابن جواب نے بیان کیا، ہم سے عمار بن رزاق نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، حارث کی سند سے، وہ علی رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواب گاہ میں جاتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بوجهك الكريم وكلماتك التامة من شر ما أنت آخذ بناصيته اللهم أنت تكشف المغرم والمأثم اللهم لا يهزم جندك ولا يخلف وعدك ولا ينفع ذا الجد منك الجد سبحانك وبحمدك» اے اللہ! میں تیری بزرگ ذات اور تیرے مکمل کلموں کے ذریعہ اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ تو ہی قرض اتارتا، اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے، اے اللہ! تیرے لشکر کو شکست نہیں دی جا سکتی، تیرا وعدہ ٹل نہیں سکتا، مالدار کی مالداری تیرے سامنے کام نہ آئے گی، پاک ہے تیری ذات، میں تیری حمد و ثنا بیان کرتا ہوں ۔