Narrated Qatadah:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saw the new moon, he turned away his face from it. Abu Dawud said: On this subject there is no tradition which has perfect chain and is sound.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا کہ انہیں زید بن حباب نے ابو ہلال کی سند سے خبر دی, قتادہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو آپ اس سے اپنا منہ پھیر لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی صحیح مسند حدیث نہیں ہے۔
Narrated Umm Salamah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم never went out of my house without raising his eye to the sky and saying: O Allah! I seek refuge in Thee lest I stray or be led astray, or slip or made to slip, or cause injustice, or suffer injustice, or do wrong, or have wrong done to me.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، منصور سے اور شعبی کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے گھر سے نکلتے تو اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے پھر فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أضل أو أزل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل على» اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں گمراہ کروں، یا گمراہ کیا جاؤں، میں خود پھسلوں یا پھسلایا جاؤں، میں خود ظلم کروں یا کسی کے ظلم کا شکار بنایا جاؤں، میں خود جہالت کروں، یا مجھ سے جہالت کی جائے۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When a man goes out of his house and says: In the name of Allah, I trust in Allah; there is no might and no power but in Allah, the following will be said to him at that time: You are guided, defended and protected. The devils will go far from him and another devil will say: How can you deal with a man who has been guided, defended and protected?
ہم سے ابراہیم بن الحسن الخثمی نے بیان کیا، ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، وہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کی سند سے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر سے نکلے پھر کہے «بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله» اللہ کے نام سے نکل رہا ہوں، میرا پورا پورا توکل اللہ ہی پر ہے، تمام طاقت و قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو آپ نے فرمایا: اس وقت کہا جاتا ہے ( یعنی فرشتے کہتے ہیں ) : اب تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی، اور تو بچا لیا گیا، ( یہ سن کر ) شیطان اس سے جدا ہو جاتا ہے، تو اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے: تیرے ہاتھ سے آدمی کیسے نکل گیا کہ اسے ہدایت دے دی گئی، اس کی جانب سے کفایت کر دی گئی اور وہ ( تیری گرفت اور تیرے چنگل سے ) بچا لیا گیا۔
Narrated Abu Malik Al-Ashari رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When a man goes into his house, he should say: O Allah! I ask Thee for good both when entering and when going out; in the name of Allah we have entered, and in the name of Allah we have gone out, and in Allah or Lord do we trust. He should then greet his family.
ہم سے ابن عوف نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ابن عوف نے کہا: میں نے اصل اسماعیل میں دیکھا، انہوں نے کہا: مجھ سے ضمضم نے شریح کی سند سے بیان کیا، ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو کہے«اللهم إني أسألك خير المولج وخير المخرج بسم الله ولجنا وبسم الله خرجنا وعلى الله ربنا توكلنا» اے اللہ! ہم تجھ سے اندر جانے اور گھر سے باہر آنے کی بہتری مانگتے ہیں، ہم اللہ کا نام لے کر اندر جاتے ہیں اور اللہ ہی کا نام لے کر باہر نکلتے ہیں اور اللہ ہی پر جو ہمارا رب ہے بھروسہ کرتے ہیں پھر اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: The wind comes from Allah's mercy. Salamah's version has: It is Allah's mercy; it (sometimes) brings blessing and (sometimes) brings punishment. So when you see it, do not revile it, but ask Allah for some of its good, and seek refuge in Allah from its evil.
ہم سے احمد بن محمد مروازی اور سلمہ نے بیان کیا، ہم سے ابن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ثابت بن قیس نے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «ریح» ( ہوا ) اللہ کی رحمت میں سے ہے ( سلمہ کی روایت میں «من روح الله» ہے ) ، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو۔
Aishah رضی اللہ عنہا , wife of the prophet صلی اللہ علیہ وسلم, said:
I never saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم laugh fully to such an extent that I could see his uvula. He would only smile, and when he saw clouds or wind, his face showed signs (of fear). I asked him: Messenger of Allah! When the people see the cloud, they rejoice, hoping for that it may contain rain, and I notice that when you see it, (the signs of) abomination on your face. He replied: Aishah! What gives me safety from the fact that it might contain punishment? A people were punished by the wind. When those people saw the punishment, they said: this is a cloud which would give us rain.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، کہا کہ ان سے ابوالنضر نے سلیمان بن یسار سے بیان کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں، آپ تو صرف تبسم فرماتے ( ہلکا سا مسکراتے ) تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا ( آپ تردد اور تشویش میں مبتلا ہو جاتے ) تو ( ایک بار ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری ( گھبراہٹ اور پریشانی ) جھلکتی ہے ( اس کی وجہ کیا ہے؟ ) آپ نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ ایک قوم ( قوم عاد ) ہوا کے عذاب سے دو چار ہو چکی ہے، اور ایک قوم نے ( بدلی کا ) عذاب دیکھا، تو وہ کہنے لگی «هذا عارض ممطرنا» : یہ بادل تو ہم پر برسے گا ( وہ برسا تو لیکن، بارش پتھروں کی ہوئی، سب ہلاک کر دیے گئے ) ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم saw a cloud formation in the sky, he left work, even if he were at prayer, and then would say: O Allah! I seek refuge in Thee from its evil. If it rained, he would say: O Allah! send a beneficial downpour.
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، مقدام بن شریح نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے گوشے سے بدلی اٹھتے دیکھتے تو کام ( دھام ) سب چھوڑ دیتے یہاں تک کہ نماز میں ہوتے تو اسے بھی چھوڑ دیتے، اور یوں دعا فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك من شرها» اے اللہ! میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر اگر بارش ہونے لگتی، تو آپ فرماتے: «اللهم صيبا هنيئا» اے اللہ! اس بارش کو زوردار اور خوشگوار و بابرکت بنا ۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
A shower of rain fell on us when we were with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went out and removed his garment till some of the rain fell on him. We asked him; Messenger of Allah! Why did you do this? He replied: Because it has recently been with its Lord.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور مسدد المعنی نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن سلیمان نے ثابت کی سند سے بیان کیا، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، آپ باہر نکلے اور اپنے کپڑے اتار لیے یہاں تک کہ بارش کے قطرات آپ کے بدن پر پڑنے لگے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آ رہی ہے ۔
Narrated Zayd bin Khalid رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not curse the cock, for it awakens for prayer.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی سند سے, زید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرغ کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ نماز فجر کے لیے جگاتا ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: when you hear the cocks crowing, ask Allah for some of His grace, for they have seen as angel; but when you hear an ass braying, seek refuge in Allah from the devil, for it has seen the devil.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے، جعفر بن ربیعہ کی سند سے، انہوں نے العرج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ فرشتہ دیکھ کر آواز لگاتا ہے اور جب تم گدھے کو ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر آواز نکالتا ہے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When you hear the barking of dogs and the braying of asses at night, seek refuge in Allah, for they see which you do not see.
ہم سے ہناد بن سری نے عبدہ کی سند سے، محمد بن اسحاق سے، محمد بن ابراہیم کی سند سے، عطاء بن یسار کی سند سے,جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رات میں کتوں کا بھونکنا اور گدھوں کا رینکنا سنو تو اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھتے ۔
Narrated Ali bin Umar bin Husayn bin Ali:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Do not go out much when there are few people about, for Allah the Exalted scatters abroad of His beasts in that hour (according to Ibn Marwan's version). Ibn Marwan's version has: For Allah has creatures. He then mentioned the barking of dogs and braying of asses in a similar manner. He added in his version: Ibn al-Had said: Shurahbil bin al-Hajib told me on the authority of Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم similar to it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے خالد بن یزید سے، سعید بن ابی ہلال سے، سعید بن زیاد سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بیان کیا اور ہم سے ابراہیم بن مروان الدمشقی نے اپنے والد سے روایت کی،ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن عبداللہ بن الحاد نے بیان کیا,علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے، وہ دونوں (مرسلاً) کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( رات میں ) آمدورفت بند ہو جانے ( اور سناٹا چھا جانے ) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے، ( وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں ) ( ابن مروان کی روایت میں «في تلك الساعة» کے الفاظ ہیں اور اس میں «فإن لله تعالى دواب» کے بجائے «فإن لله خلقا» ہے ) ، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ابن الہاد کہتے ہیں: مجھ سے شرحبیل بن حاجب نے بیان کیا ہے انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Rafi رضی اللہ عنہ :
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم uttering the call to prayer (Adhan) in the ear of al-Hasan bin Ali when Fatimah رضی اللہ عنہا gave birth to him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے عاصم بن عبید اللہ نے عبید اللہ بن ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن بن علی کے کان میں جس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنا اذان کہتے دیکھا جیسے نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
Boys used to be brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and he would invoke blessings on them. Yusuf added: and soften some dates and rub their palates with them . He did not mention blessings .
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا, ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے تھے تو آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے تھے، ( یوسف کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ) آپ ان کی تحنیک فرماتے یعنی کھجور چبا کر ان کے منہ میں دیتے تھے، البتہ انہوں نے برکت کی دعا فرمانے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: Have the mugharribun been seen (or some other word) among you? I asked: What do the mugharribun mean? He replied: They are those in whom is a strain of the jinn.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن ابی الوزیر نے بیان کیا، ہم سے داؤد بن عبدالرحمٰن العطار نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، اپنے والد سے، ام حمید رضی اللہ عنہا سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم میں «مغربون» دیکھے گئے ہیں آپ نے دیکھے گئے ہیں کہا یا اسی طرح کا کوئی اور لفظ کہا، میں نے پوچھا: «مغربون» کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ لوگ جن میں جنوں کی شرکت ہو ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone asks (you) for refuge for the sake of Allah, give him refuge; and if anyone asks you (for something) for the pleasure of Allah, give him. Ubaydullah said: If anyone asks you for the sake of Allah.
ہم سے نصر بن علی اور عبید اللہ بن عمر الجشمی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے نصر بن ابی عروبہ نے کہا: ہم سے قتادہ نے بیان کیا: ابو نحیک نے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص لوجہ اللہ ( اللہ کی رضا و خوشنودی کا حوالہ دے کر ) سوال کرے تو اس کو دو ۔ عبیداللہ کی روایت میں «من سألكم لوجه الله» کے بجائے «من سألكم بالله» ہے۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone asks you refuge for Allah’s sake give him refuge; and if anyone asks you (for something) for Allah’s sake, give him. Sahl and Sulaiman said: if anyone calls you, respond to him. The Agreed version goes; if you do not afford to compensate him, pray Allah for him until you know that you have compensated him.
ہم سے مسدد اور سہل بن بکار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا اور ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا: ہم سے جریر المعنی نے، العمش کی سند سے، مجاہد کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دو، جو تمہیں مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرو، جو شخص تم پر احسان کرے تو تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ۔
Narrated Abu Zumayl said:
I asked Ibn Abbas رضی اللہ عنہما, saying: What is that I find in my breast? He asked: What is it? I replied: I swear by Allah, I cannot speak about it. He asked me: Is it something doubtful? and he laughed. He then said: No one could escape that, until Allah, the exalted, revealed: If thou went in doubt as to what we have revealed unto thee, and ask those who have been reading the Book from before thee. He said: If you find something in your heart, say: He is the first and the Last, the Evident and the Immanent, and He has full knowledge of all things.
ہم سے عباس بن عبدالعظیم نے بیان کیا، ہم سے نضر بن محمد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ہم سے ابن عمار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوزمیل کہتے ہیں
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میرے دل میں کیسی کھٹک ہو رہی ہے؟ انہوں نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: قسم اللہ کی! میں اس کے متعلق کچھ نہ کہوں گا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا کوئی شک کی چیز ہے، یہ کہہ کر ہنسے اور بولے: اس سے تو کوئی نہیں بچا ہے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی «فإن كنت في شك مما أنزلنا إليك فاسأل الذين يقرءون الكتاب» اگر تجھے اس کلام میں شک ہے جو ہم نے تجھ پر اتارا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تم سے پہلے اتاری ہوئی کتاب ( توراۃ و انجیل ) پڑھتے ہیں ( یونس: ۹۴ ) ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: جب تم اپنے دل میں اس قسم کا وسوسہ پاؤ تو «هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شىء عليم» وہی اول ہے اور وہی آخر وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ ( الحدید: ۳ ) ، پڑھ لیا کرو۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said His companion came to him and said;
Messenger of Allah! We have thoughts which we cannot dare talk about and we do not like that we have them or talk about them. He said: Have you experienced that? They replied: yes. He said: that is clear faith.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سہیل نے اپنے والد سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آئے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنے دلوں میں ایسے وسوسے پاتے ہیں، جن کو بیان کرنا ہم پر بہت گراں ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے اندر ایسے وسوسے پیدا ہوں اور ہم ان کو بیان کریں، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں ایسے وسوسے ہوتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: یہ تو عین ایمان ہے ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah! one of us has thoughts of such nature that he would rather be reduced to charcoal than speak about them. He said: Allah is Most Great, Allah is Most Great, Allah is Most Great. Praise be to Allah Who has reduced the guile of the devil to evil prompting. Ibn Qudamah said reduced his matter instead of reduced his guile . Ibn Qudamah said reduced his matter instead of reduced his guile .
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور ابن قدامہ بن اعین نے بیان کیا, ہم سے جریر نے منصور کی سند سے، دھریر سے، عبداللہ بن شداد سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے دل میں ایسا وسوسہ پیدا ہوتا ہے، کہ اس کو بیان کرنے سے راکھ ہو جانا یا جل کر کوئلہ ہو جانا بہتر معلوم ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے شیطان کے مکر کو وسوسہ بنا دیا ( اور وسوسہ مومن کو نقصان نہیں پہنچاتا ) ۔ ابن قدامہ نے اپنی روایت میں «رد كيده» کی جگہ «رد أمره» کہا ہے۔