Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
A man came to the prophet صلی اللہ علیہ وسلم complaining against his neighbor. He said: go and have patience. He again came to him twice or thrice. He then said: Go and throw your property in the way. So he threw his property in the way and the people began to ask him and he would tell them about him. The people then began to curse him; may Allah do with him so and so! Then his neighbor came to him and said: Return, you will not see from me anything which you dislike.
ہم سے ربیع بن نافع ابو توبہ نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن حیان نے بیان کیا، ان سے محمد بن عجلان نے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اپنے پڑوسی کی شکایت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا: جاؤ صبر کرو پھر وہ آپ کے پاس دوسری یا تیسری دفعہ آیا، تو آپ نے فرمایا: جاؤ اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈھیر کر دو تو اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں ڈال دیا، لوگ اس سے وجہ پوچھنے لگے اور وہ پڑوسی کے متعلق لوگوں کو بتانے لگا، لوگ ( سن کر ) اس پر لعنت کرنے اور اسے بد دعا دینے لگے کہ اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے، ایسا کرے، اس پر اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا: اب آپ ( گھر میں ) واپس آ جائے آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہ دیکھیں گے جو آپ کو ناپسند ہو۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: He who believes in Allah and in the last day should honour his guest; he who believes in Allah and in the last day should not harm his neighbor; he who believes in Allah and in the last day should speak good or keep silence.
ہم سے محمد بن متوکل عسقلانی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، ابو سلمہ کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت ( قیامت ) پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
I asked: Messenger of Allah! I have two neighbors. With which of them should I begin? He replied: Begin with the one whose door is nearer to you. Abu Dawud said: Shubah said this tradition: Talhah is a man of the Quraish.
ہم سے مسدد بن مسرہد اور سعید بن منصور نے بیان کیا کہ ان سے حارث بن عبید نے ابوعمران الجونی کی سند سے اور طلحہ کی سند سے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان دونوں میں سے پہلے کس کے ساتھ احسان کروں؟ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کا دروازہ قریب ہو اس کے ساتھ ۔ابوداؤد کہتے ہیں: شعبہ نے یہ روایت کہی: طلحہ قریش کا آدمی ہے۔
Narrated Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ :
The last words which the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم spoke were: Prayer, prayer; fear Allah about those whom your right hands possess.
ہم سے زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا : ہم سے محمد بن الفضیل نے مغیرہ کی سند سے ام موسیٰ سے بیان کیا , علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات ( انتقال کے موقع پر ) یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا، اور جو تمہاری ملکیت میں ( غلام اور لونڈی ) ہیں ان کے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔
Marur bin Suwaid said:
I saw Abu Dharr at Rabadhah. He was wearing a thick cloak, and his slave also wore a similar one. He said: the people said: Abu Dharr! (it would be better) if you could take the cloak which your slave wore, and you combined that with, and it would be a pair of garments (hullah) and you would clothe him with another garment. He said: Abu Dharr said: I abused a man whose mother was a non-Arab and I reviled him for his mother. He complained against me to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: Abu Dharr! You are a man who has a characteristic of pre-Islamic days. He said: they are your brethren; Allah has given you superiority over them; sell those who do not please you and do not punish Allah’s creatures.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے، العمش کی سند سے بیان کیا, معرور بن سوید کہتے ہیں کہ
میں نے ابوذر کو ربذہ ( مدینہ کے قریب ایک گاؤں ) میں دیکھا وہ ایک موٹی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور ان کے غلام کے بھی ( جسم پر ) اسی جیسی چادر تھی، معرور بن سوید کہتے ہیں: تو لوگوں نے کہا: ابوذر! اگر تم وہ ( چادر ) لے لیتے جو غلام کے جسم پر ہے اور اپنی چادر سے ملا لیتے تو پورا جوڑا بن جاتا اور غلام کو اس چادر کے بدلے کوئی اور کپڑا پہننے کو دے دیتے ( تو زیادہ اچھا ہوتا ) اس پر ابوذر نے کہا: میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی، اس کی ماں عجمی تھی، میں نے اس کی ماں کے غیر عربی ہونے کا اسے طعنہ دیا، اس نے میری شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دی، تو آپ نے فرمایا: ابوذر! تم میں ابھی جاہلیت ( کی بو باقی ) ہے وہ ( غلام، لونڈی ) تمہارے بھائی بہن، ہیں ( کیونکہ سب آدم کی اولاد ہیں ) ، اللہ نے تم کو ان پر فضیلت دی ہے، ( تم کو حاکم اور ان کو محکوم بنا دیا ہے ) تو جو تمہارے موافق نہ ہو اسے بیچ دو، اور اللہ کی مخلوق کو تکلیف نہ دو ۔
Marur bin Suwaid said:
We called on Abu Dharr رضی اللہ عنہ at al-Rabadhah. He wore a cloak and his slave also wore a similar one. We said; Abu Dharr! If you took the cloak of your slave and combined it with your cloak, so that it could be a part of garments (hullah) and clothed him in another garment, (it would be better). He said; I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say; They are your brethren. Allah has put them under your authority; so he who has his brother under his authority must feed him from what he eats and clothe him with what he wears, and not impose on him work which is too much for him, but if he does so, he must help him. Abu Dawud said: Ibn Numair transmitted it from al-Amash in a similar way.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے الاعمش نے بیان کیا, معرور بن سوید کہتے ہیں کہ
ہم ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس ربذہ میں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے جسم پر ایک چادر ہے اور ان کے غلام پر بھی اسی جیسی چادر ہے، تو ہم نے کہا: ابوذر! اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیتے، تو آپ کا پورا جوڑا ہو جاتا، اور آپ اسے کوئی اور کپڑا دے دیتے۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: یہ ( غلام اور لونڈی ) تمہارے بھائی ( اور بہن ) ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت کیا ہے، تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو تو اس کو وہی کھلائے جو خود کھائے اور وہی پہنائے جو خود پہنے، اور اسے ایسے کام کرنے کے لیے نہ کہے جسے وہ انجام نہ دے سکے، اگر اسے کسی ایسے کام کا مکلف بنائے جو اس کے بس کا نہ ہو تو خود بھی اس کام میں لگ کر اس کا ہاتھ بٹائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے اعمش سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Abu Masud al-Ansari رضی اللہ عنہ said:
When I was beating a servant of mine, I heard a voice behind me saying: know, Abu Masud-Ibn al-Muthanna said: “twice”-that Allah has more power over you than you have over him. I turned round and saw that it was that it was the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. I said: Messenger of Allah! He is free for Allah’s sake. He said: If you had not done it, fire would have burned you or the fire would have touched you.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا اور ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا : ہم سے ابو معاویہ نے اعمش کی سند سے اور ابراہیم تیمی سے اپنے والد سے بیان کیا , ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا اتنے میں میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: اے ابومسعود! جان لو، اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس ( غلام ) پر رکھتے ہو، یہ آواز دو مرتبہ سنائی پڑی، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے، آپ نے فرمایا: اگر تم اسے ( آزاد ) نہ کرتے تو آگ تمہیں لپٹ جاتی یا آگ تمہیں چھو لیتی ۔
It was narrated from 'Abdullah wahid from Al-Amash, with his chain and its meaning, similarly (as no. 5159). He said:
I was betting a slave of mine with a whip;" but he did not say anything about setting him face.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الواحد نے بیان کیا، اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طرح مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ
میں اپنے ایک کالے غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا، اور انہوں نے آزاد کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Feed those of your slaves who please you from what you eat and clothe them with what you clothe yourselves, but sell those who do not please you and do not punish Allah's creatures.
ہم سے محمد بن عمرو رازی نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، مجاہد کی سند سے، مورق کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو تمہارے موافق ہوں تو انہیں وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو، اور جو تمہارے موافق نہ ہوں، انہیں بیچ دو، اللہ کی مخلوق کو ستاؤ نہیں ۔
Narrated Rafi bin Makith رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Treating those under one's authority will produce prosperity, but an evil nature produces evil fortune.
رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (یہ ان صحابہ میں سے تھے جو صلح حدیبیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے) وہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام و لونڈی کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے پیش آنا برکت ہے اور بدخلقی، نحوست ہے ۔
Narrated Rafi bin Makith:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Treating those under one's authority well produces prosperity, but an evil nature produces evil fortune.
ہم سے ابن المصفی نے بیان کیا، ہم سے بقیہ نے بیان کیا، ہم سے عثمان بن زفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے محمد بن خالد رافع بن مکیث سے روایت ہے، اور رافع قبیلہ جہنیہ سے تعلق رکھتے تھے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام و لونڈی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا برکت اور بدخلقی نحوست ہے ۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and asked: Messenger of Allah! how often shall I forgive a servant? He gave no reply, so the man repeated what he had said, but he still kept silence. When he asked a third time, he replied: Forgive him seventy times daily.
ہم سے احمد بن سعید ہمدانی اور احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا اور یہ ہمدانی کی حدیث ہے اور زیادہ مکمل ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھے ابو ہانی الخولانی نے عباس بن جلید ہجری سے خبر دی، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں، آپ ( سن کر ) چپ رہے، پھر اس نے اپنی بات دھرائی، آپ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ نے فرمایا: ہر دن ستر بار اسے معاف کرو ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
Abu al-Qasim, the Prophet of Atonement صلی اللہ علیہ وسلم said to me: If anyone reviles his slave when he is innocent of what he said, he will be beaten on the Day of Resurrection. The transmitter Mu'ammal said: 'Isa narrated it to us from al-Fudial, that is, Ibn Ghazwan.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، کہا: انہوں نے ہمیں خبر دی۔ اور ہم سے معمل بن الفضل حرانی نے بیان کیا، کہا: ہمیں عیسیٰ نے خبر دی، فضیل، یعنی ابن غزوان نے، ہم سے ابن ابی نعم کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی ۔مومل نے کہا: اسے عیسیٰ نے الفضیل سے روایت کیا ہے، یعنی ابن غزوان سے۔
Hilal bin Yasaf said:
We were staying in the house of Suwaid bin Muqarrin. There was among us an old man who was hot-tempered. He had a slave-girl with him. He gave a slap on her face. I never saw Suwaid more angry than on that day. He said: there is no alternative for you except to free her. I was the seventh child in order of Muqarrin and we had only a female servant. The youngest of us gave a slap on her face. The prophet صلی اللہ علیہ وسلم commanded us to set her free.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے فضیل بن عیاض نے بیان کیا، حصین رضی اللہ عنہ سے, ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ
ہم سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے ( ایک بار ) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے آزاد کر دینے کا حکم دیا۔
Narrated Muawiyah bin Suwayd bin Muqarrin:
I slapped a freed slave of ours. My father called him and me and said: Take retaliation on him. We, the people of Banu Muqarrin, were seven during the time of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, and we had only a female servant. A man of us slapped her. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Set her free. They said: We have no other servant than her. He said: She must serve them till they become well off. When they become well off, they should set her free.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان سے، انہوں نے کہا: مجھ سے سلمہ بن کلہیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں
میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا تو ہمارے والد نے ہم دونوں کو بلایا اور اس سے کہا کہ اس سے قصاص ( بدلہ ) لو، ہم مقرن کی اولاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سات نفر تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، ہم میں سے ایک نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو لوگوں نے عرض کیا: اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی خادم نہیں ہے، آپ نے فرمایا: اچھا جب تک یہ لوگ غنی نہ ہو جائیں تم ان کی خدمت کرتے رہو، اور جب یہ لوگ غنی ہو جائیں تو وہ لوگ اسے آزاد کر دیں ۔
Zadhan said:
I came to Ibn Umar رضی اللہ عنہما when he set his slave free. He took a stick or something else from the earth and said; for me there is no reward even equivalent to this. I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If anyone slaps or beats his slave the atonement due from him is to set him free.
ہم سے مسدد اور ابو کامل نے بیان کیا : ہم سے ابو عوانہ نے فراس کی سند سے اور ابو صالح ذکوان کی سند سے بیان کیا , زاذان کہتے ہیں کہ
میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، آپ نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا، آپ نے زمین سے ایک لکڑی یا کوئی ( معمولی ) چیز لی اور کہا: اس میں مجھے اس لکڑی بھر بھی ثواب نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ لگائے یا اسے مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: when a slave acts sincerely towards his master and worship Allah well, he will have a double reward.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone corrupts (instigates) the wife of a man or his slave (against him), he is not from us.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، ان سے عمار بن رزاق نے، عبداللہ بن عیسیٰ سے، عکرمہ سے، یحییٰ بن یمر سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کی بیوی یا غلام و لونڈی کو ( اس کے شوہر یا مالک کے خلاف ) ورغلائے تو وہ ہم میں سے نہیں ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
A man peeped into some of the apartment of the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The prophet صلی اللہ علیہ وسلم got up taking an arrowhead or arrowheads. He said: I can still picture myself looking at the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم when he was exploring to pierce him.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، عبید اللہ بن ابی بکر سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایک کمرے سے جھانکا تو آپ تیر کا ایک یا کئی پھل لے کر اس کی طرف بڑھے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کی آپ اس کی طرف اس طرح بڑھ رہے ہیں کہ وہ جان نہ پائے تاکہ اسے گھونپ دیں۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
He heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say: If anyone peeps into the house of a people without their permission and he knocks out his eye, no responsibility is incurred for his eye.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے سہیل سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی آنکھ رائیگاں گئی ۔