Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
When the people of the Yemen came, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The people of the Yemen have come to you and they are first to shake hands.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم سے حمید نے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب یمن کے لوگ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس یمن کے لوگ آئے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مصافحہ کرنا شروع کیا ۔
Narrated Ayyub bin Bushayr bin Kab al-Adawi quoted a man of Anazah who said that
he asked Abu Dharr when he left Syria: I wish to ask you about a tradition of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: I shall tell you except that it is something secret. Did the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم shake hands with you when you met him? He replied: I never met him without his shaking hands with me. One day he sent for me when I was not at home. When I came I was informed that he had sent for me. I came to him and found him on a couch. He embraced me and that was better and better.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہیں ابو الحسین نے، یعنی خالد بن ذکوان نے، ہم کو ایوب بن بشیر بن کعب العدوی سے خبر دی، قبیلہ عنزہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ
اس نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے جب وہ شام سے واپس لائے گئے کہا: میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا: اگر راز کی بات نہ ہوئی تو میں تمہیں ضرور بتاؤں گا، میں نے کہا: وہ راز کی بات نہیں ہے ( پوچھنا یہ ہے ) کہ جب آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تھے تو کیا وہ آپ سے مصافحہ کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میری تو جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ ہی فرمایا، اور ایک دن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا، میں گھر پر موجود نہ تھا، پھر جب میں آیا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا تھا تو میں آپ کے پاس آیا اس وقت آپ اپنی چارپائی پر تشریف فرما تھے، تو آپ نے مجھے چمٹا لیا، یہ بہت اچھا اور بہت عمدہ ( طریقہ ) ہے۔
Abu Saeed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
When Banu Quraizah capitulated agreeing to accept Saad رضی اللہ عنہ judgement, the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent a messenger to him. When he came riding on a white ass, the prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: stand up to (show respect to) your chief, or he said: “to the best of you”. He came and sat beside the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، اور ابوامامہ بن سہل بن حنیف کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
جب قریظہ کے لوگ سعد کے حکم ( فیصلہ ) پر اترے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ ایک سفید گدھے پر سوار ہو کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے سردار یا اپنے بہتر شخص کی طرف بڑھو پھر وہ آئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Shubah through a different chain of narrators. This version has:
when he came near the mosque, he said to the Ansar; stand up showing respect to your chief.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے , اس میں ہے
جب وہ مسجد سے قریب ہوئے تو آپ نے انصار سے فرمایا: اپنے سردار کی طرف بڑھو ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
I never saw anyone more like the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in respect of gravity, calm deportment, pleasant disposition - according to al-Hasan's version: in respect of talk and speech. Al-Hasan did not mention gravity, calm deportment, pleasant disposition - than Fatimah, may Allah honour her face. When she came to visit him (the Prophet) he got up to (welcome) her, took her by the hand, kissed her and made her sit where he was sitting; and when he went to visit her, she got up to (welcome) him, took him by the hand, kissed him, and made him sit where she was sitting.
ہم سے حسن بن علی اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا: ہم کو اسرائیل نے میسرہ بن حبیب سے، منہال بن عمرو کی سند سے، عائشہ بنت طلحہ رضی اللہ عنہا سے,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے طور طریق اور چال ڈھال میں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا ( حسن کی روایت میں بات چیت میں کے الفاظ ہیں، اور حسن نے «سمتا وهديا ودلا» ( طور طریق اور چال ڈھال ) کا ذکر نہیں کیا ہے ) وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ کھڑے ہو کر ان کی طرف لپکتے اور ان کا ہاتھ پکڑ لیتے، ان کو بوسہ دیتے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے پاس لپک کر پہنچتیں، آپ کا ہاتھ تھام لیتیں، آپ کو بوسہ دیتیں، اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
Al-Aqra bin Habib رضی اللہ عنہ saw that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was kissing Husain. He said: I have ten children and I have never kissed any of them. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: He who does not show tenderness will not be shown tenderness.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، زہری نے ابوسلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسین ( حسین بن علی رضی اللہ عنہما ) کو بوسہ لیتے دیکھا تو کہنے لگے: میرے دس لڑکے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی سے بھی ایسا نہیں کیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی پر رحم نہیں کیا تو اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا ( پیار و شفقت رحم ہی تو ہے ) ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The prophet صلی اللہ علیہ وسلم said; Good tidings to you, Aishah, for Allah Most High has revealed your innocence. He then recited to her the Quranic verses. Her parents said: Kiss the head of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I said: Praise be to Allah, most High, not to you.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہمیں ہشام بن عروہ نے عروہ کی سند سے خبر دی , ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے کلام پاک میں تیرے عذر سے متعلق آیت نازل فرما دی ہے اور پھر آپ نے قرآن پاک کی وہ آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں، تو اس وقت میرے والدین نے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو چوم لو، میں نے کہا: میں تو اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی ہوں ( کہ اس نے میری پاکدامنی کے متعلق آیتیں اتاریں ) نہ کہ آپ دونوں کا ( کیونکہ آپ دونوں کو بھی تو مجھ پر شبہ ہونے لگا تھا ) ۔
Narrated Ash-Shabi:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم received Jafar bin Abu Talib رضی اللہ عنہ , embraced him and kissed him between both of his eyes (forehead).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، شعبی سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں چمٹا لیا ( معانقہ کیا ) اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔
Narrated Ilyas bin Dighfal said:
I saw Abu Nadrah kissing on the cheek of al-Hasan رضی اللہ عنہما .
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے المعتمر نے بیان کیا، ایاس بن دغفل کہتے ہیں کہ
میں نے ابونضرہ کو دیکھا انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے گال پر بوسہ دیا۔
Narrated Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہ :
I went in with Abu Bakr رضی اللہ عنہ when he had newly come to Madina and he found his daughter Aishah رضی اللہ عنہا lying down afflicted with fever. Abu Bakr رضی اللہ عنہ went to her, and saying: How are you, girlie? kissed her on the cheek.
ہم سے عبداللہ بن سلیم نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن یوسف نے، اپنے والد سے، ابواسحاق کی سند سے, براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، پہلے پہل جب وہ مدینہ آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی ہیں اور انہیں بخار چڑھا ہوا ہے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، ان سے کہا: کیا حال ہے بیٹی؟ اور ان کے رخسار کو چوما.
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما told a story and said:
We then came near the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and kissed his hand.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ابی زیاد نے بیان کیا، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا اور راوی نے ایک واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے
تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔
Narrated Abdur Rahman bin Abu Layla, quoting Usayd bin Hudayr رضی اللہ عنہ, a man of the Ansar, said:
While he was given to jesting and was talking to the people and making them laugh, the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم poked him under the ribs with a stick. He said: Let me take retaliation. He said: Take retaliation. He said: You are wearing a shirt but I am not. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم then raised his shirt and the man embraced him and began to kiss his side. Then he said: This is what I wanted, Messenger of Allah!
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد نے خبر دی، انہیں حصین نے خبر دی، وہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے,اسید بن حضیرانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ کچھ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مسخرے والے آدمی تھے لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں لکڑی سے ایک کونچہ دیا، تو وہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اس کا بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا: بدلہ لے لو تو انہوں نے کہا: آپ تو قمیص پہنے ہوئے ہیں میں تو ننگا تھا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو وہ آپ سے چمٹ گئے، اور آپ کے پہلو کے بوسے لینے لگے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا منشأ یہی تھا۔
Narrated al-Wazi ibn Zari: Umm Aban, daughter of al-Wazi ibn Zari, quoting his grandfather, who was a member of the deputation of AbdulQays, said:
When we came to Madina, we raced to be first to dismount and kiss the hand and foot of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. But al-Mundhir al-Ashajj waited until he came to the bundle of his clothes. He put on his two garments and then he went to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said to him: You have two characteristics which Allah likes: gentleness and deliberation. He asked: Have I acquired them or has Allah has created (them) my nature? He replied: No, Allah has created (them) in your nature. He then said: Praise be to Allah Who has created in my nature two characteristics which Allah and His Messenger like.
ہم سے محمد بن عیسیٰ بن الطباع نے بیان کیا، ہم سے مطر بن عبدالرحمٰن الاعنق نے بیان کیا، مجھ سے ام ابان بنت الوازع بن زارع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، زارع سے روایت ہے، وہ وفد عبدالقیس میں تھے وہ کہتے ہیں
جب ہم مدینہ پہنچے تو اپنے اونٹوں سے جلدی جلدی اترنے لگے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے، اور منذر اشج انتظار میں رہے یہاں تک کہ وہ اپنے کپڑے کے صندوق کے پاس آئے اور دو کپڑے نکال کر پہن لیے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں: ایک بردباری اور دوسری وقار و متانت انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ دونوں خصلتیں جو مجھ میں ہیں میں نے اختیار کیا ہے؟ ( کسبی ہیں ) ( یا وہبی ) اللہ نے مجھ میں پیدائش سے یہ خصلتیں رکھی ہیں، آپ نے فرمایا: بلکہ اللہ نے پیدائش سے ہی تم میں یہ خصلتیں رکھی ہیں، اس پر انہوں نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے جس نے مجھے دو ایسی خصلتوں کے ساتھ پیدا کیا جن دونوں کو اللہ اور اس کے رسول پسند فرماتے ہیں۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم addressed me, saying: O Abu Dharr! I replied: At thy service and at thy pleasure, Messenger of Allah! may I be ransom for thee.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم سے مسلم نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، حماد کی سند سے، یعنی ابن ابی سلیمان نے زید بن وہب کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو پکارا: اے ابوذر! میں نے کہا: میں حاضر ہوں حکم فرمائیے اللہ کے رسول! میں آپ پر فدا ہوں۔
Narrated Imran bin Husayn رضی اللہ عنہما :
In the pre-Islamic period we used to say: May Allah make the eye happy for you, and Good morning but when Islam came, we were forbidden to say that. Abdur Razzaq said on the authority of Mamar: It is disapproved that a man should say: May Allah make the eye happy for you, but there is no harm in saying: May Allah make your eye happy.
ہم سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے، قتادہ یا کسی اور کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے: «أنعم الله بك عينا وأنعم صباحا» اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی رکھے اور صبح خوشگوار بنائے لیکن جب اسلام آیا تو ہمیں اس طرح کہنے سے روک دیا گیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ معمر کہتے ہیں:«أنعم الله بك عينا» کہنا مکروہ ہے اور «أنعم الله عينك» کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
Abu Qatadah رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was on journey. The people became thirsty, and they went quickly. I guarded the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on that night. He said: May Allah guard you for the reason you have guarded His Prophet!
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ثابت البنانی کی سند سے,عبداللہ بن رباح انصاری کہتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، لوگ پیاسے ہوئے تو جلدباز لوگ آگے نکل گئے، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اس رات رہا ( آپ کو چھوڑ کر نہ گیا ) تو آپ نے فرمایا: اللہ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے ۔
Narrated Abu Mijlaz said:
Muawiyah رضی اللہ عنہ went out to Ibn az-Zubayr and Ibn Amir رضی اللہ عنہ . Ibn Amir got up and Ibn az-Zubayr remained sitting. Muawiyah said to Ibn Amir: Sit down, for I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Let him who likes people to stand up before him prepare his place in Hell.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے حبیب بن شہیٰد کی سند سے بیان کیا، ابومجلز کہتے ہیں کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ ابن زبیر اور ابن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو ابن عامر کھڑے ہو گئے اور ابن زبیر بیٹھے رہے، معاویہ نے ابن عامر سے کہا: بیٹھ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو یہ چاہے کہ لوگ اس کے سامنے ( با ادب ) کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے ۔
Narrated Abu Umamah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came out to us leaning on a stick. We stood up to show respect to him. He said: Do not stand up as foreigners do for showing respect to one another.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے مسعر کی سند سے، انہوں نے ابو العنبس سے، ابو العدبس سے، ابو مرزوق سے، ابو غالب رضی اللہ عنہ سے, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک چھڑی کا سہارا لیے ہوئے تشریف لائے تو ہم سب کھڑے ہو گئے، آپ نے فرمایا: عجمیوں کی طرح ایک دوسرے کے احترام میں کھڑے نہ ہوا کرو ۔
Narrated Ghalib said:
When we were sitting at al-Hasan's door, a man came along. He said: My father told me on the authority of my grandfather, saying: My father sent me to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: Go to him and give him a greeting. So I went to him and said: My father sends you a greeting. He said: Upon you and upon your father be peace.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا،غالب کہتے ہیں کہ
ہم حسن کے دروازے پر بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا: آپ کے پاس جاؤ اور آپ کو میرا سلام کہو میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا: میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلام ہو ۔
Aishah رضی اللہ عنہا told:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to her: Gabriel gives you a greeting. Replying she said: Upon him be peace and grace of Allah.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحیم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے زکریا کی سند سے اور شعبی کی سند سے, ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل تجھے سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو ۔