Saeed bin Malik رضی اللہ عنہ said:
My ears heard it end my heart remembered it from Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم who said: if a man claims to be the son of a man who is not his father, paradise will be forbidden for him. He said: I then met Abu Bakrah رضی اللہ عنہ and mentioned it to him. He said: my ears heard it and my heart remembered it from Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم. Asim said: I said: Abu Uthman! Two men testified before you. Who are they? He said: One of them is the one who is first to shoot arrow in the path of Allah or in the path of Islam, that is to say: Saad bin Malik رضی اللہ عنہ . The other is the one came from al-Taif with ten and some men on foot. He then mentioned his excellence. Abu Dawud said: When al-Nufaili mentioned this tradition, he said: I swear by Allah, this is sweater with me than honey, that is no say, his way transmission. Abu Ali said: I heard Abu Dawud say: I heard Ahmad say: The people of Kufah have no light in their traditions. I did not see them like the people of Basrah. They learnt it from Shubah.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے عاصم الاحول نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا:سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میرے کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، آپ نے فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر، اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے تو جنت اس پر حرام ہے ۔ عثمان کہتے ہیں: میں سعد رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا، تو انہوں نے بھی کہا: میرے کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا، عاصم کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: ابوعثمان تمہارے پاس دو آدمیوں نے اس بات کی گواہی دی، لیکن یہ دونوں صاحب کون ہیں؟ ان کی صفات و خصوصیات کیا ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ایک وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں یا اسلام میں سب سے پہلے تیر چلایا یعنی سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور دوسرے وہ ہیں جو طائف سے بیس سے زائد آدمیوں کے ساتھ پیدل چل کر آئے پھر ان کی فضیلت بیان کی۔ نفیلی نے یہ حدیث بیان کی تو کہا: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے لیے شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے، یعنی ان کا «حدثنا وحدثني» کہنا ( مجھے بہت پسند ہے ) ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد سے سنا ہے، وہ کہتے تھے: میں نے احمد کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل کوفہ کی حدیث میں کوئی نور نہیں ہوتا ( کیونکہ وہ اسانید کو صحیح طریقہ پر بیان نہیں کرتے، اور اخبار و تحدیث کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ) اور کہا: میں نے اہل بصرہ جیسے اچھے لوگ بھی نہیں دیکھے انہوں نے شعبہ سے حدیث حاصل کی ( اور شعبہ کا طریقہ اسناد کو اچھی طرح بتا دینے کا تھا ) ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: if a man becomes the client of any people without the permission of his patrons (i.e. those who have freed him), on him will be the curse of Allah, of angels and of all people; no obligatory or supererogatory worship will be accepted from him.
ہم سے حجاج بن ابی یعقوب نے بیان کیا، ہم سے معاویہ نے بیان کیا، ہم سے ابن عمرو نے بیان کیا، ہم سے زایدہ نے بیان کیا، ان سے الاعمش نے، ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مولیٰ ( آقا ) کی اجازت کے بغیر کسی قوم کو اپنا مولیٰ ( آقا ) بنائے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام ہی لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن نہ اس کا کوئی فرض قبول ہو گا اور نہ ہی کوئی نفل قبول ہو گی ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone pretends to be the son of a man other than his father, or attributes his freedom to people other than those who set him free, on him will be the curse of Allah that will continue till the day of resurrection.
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن دمشقی نے بیان کیا، ہم سے عمر بن عبد الواحد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا جب ہم بیروت میں تھے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اپنے کو اپنے والد کے سوا کسی اور کا بیٹا بتائے یا اپنے مولیٰ ( آقا ) کے بجائے کسی اور کو اپنا آقا بنائے تو اس پر پیہم قیامت تک اللہ کی لعنت ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah, Most High, has removed from you the pride of the pre-Islamic period and its boasting in ancestors. One is only a pious believer or a miserable sinner. You are sons of Adam, and Adam came from dust. Let the people cease to boast about their ancestors. They are merely fuel in Jahannam; or they will certainly be of less account with Allah than the beetle which rolls dung with its nose.
ہم سے موسیٰ بن مروان الرقی نے بیان کیا، ہم سے المعافی نے بیان کیا, ہم سے احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، انہیں ابن وہب نے خبر دی اور یہ ان کی حدیث ہے , ہشام بن سعد سے، وہ سعید بن ابی سعید سے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کر دیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا، ( اب دو قسم کے لوگ ہیں ) ایک متقی و پرہیزگار مومن، دوسرا بدبخت فاجر، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں ، لوگوں کو اپنی قوموں پر فخر کرنا چھوڑ دینا چاہیئے کیونکہ ان کے آباء جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ ہیں ( اس لیے کہ وہ کافر تھے، اور کوئلے پر فخر کرنے کے کیا معنی ) اگر انہوں نے اپنے آباء پر فخر کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے گندگی کو ڈھکیل کر لے جاتا ہے ۔
Narrated Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ :
If anyone helps his people in an unrighteous cause, he is like a camel which falls into a well and is pulled out by its tail.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سماک بن حرب نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے کہا
جس نے اپنی قوم کی ناحق مدد کی تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کنوئیں میں گرا دیا گیا ہو اور پھر دم پکڑ کر نکالا جا رہا ہو ۱؎۔
Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ said:
I went to the prophet صلی اللہ علیہ وسلم when he was in a skin tent. He then mentioned something similar to it.
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے سماک بن حرب نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبد اللہ نے اپنے والد سے
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ چمڑے کے ایک خیمے میں تھے، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Narrated Wathilah bin al-Asqa رضی اللہ عنہ:
I asked: Messenger of Allah! what is party spirit? He replied: That you should help your people in wrongdoing.
ہم سے محمود بن خالد الدمشقی نے بیان کیا، ہم سے فریابی نے بیان کیا، ہم سے سلمہ بن بشر الدمشقی نے بنت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے پوچھا: اللہ کے رسول: عصبیت کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عصبیت یہ ہے کہ تم اپنی قوم کا ظلم و زیادتی میں ساتھ دو، اور ان کی مدد کرو ۔
Narrated Suraqah bin Malik bin Jusham al-Mudlaji رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave us an address and said: The best of you is the one who defends his tribe, so long as he commits no sin. Abu Dawud said: Abu Ayyub bin Suwaid is weak.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، ہم سے ایوب بن سوید نے بیان کیا، ان سے اسامہ بن زید نے بیان کیا کہ انہوں نے سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا, سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا: تم میں بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے، جب تک کہ وہ ( اس دفاع سے ) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن سوید ضعیف ہیں۔
Jubair bin Mutim رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: he who summons others to party-spirit does not belong to us; and he who dies upholding party spirit does not belong to us. ’
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے سعید بن ابی ایوب کی سند سے، انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن مکی کی سند سے، یعنی ابن ابی لبیبہ نے، عبداللہ بن ابی سلیمان کی سند سے, جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے ۔
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: the son of a sister of a people belongs to them.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے، عوف کی سند سے، زیاد بن مخرق سے، وہ ابو کنانہ کی سند سے, ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کی بہن کا لڑکا یعنی بھانجا اسی قوم کا ایک فرد ہے ۔
Narrated Abu Uqbah رضی اللہ عنہ :
He was a client from the people of Persia as saying: I was present at Uhud along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and on smiting one of the polytheists I said: Take this from me who is the young Persian. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then turned to me and said: Why did you not say: Take this from me who is the young Ansari?
ہم سے محمد بن عبد الرحیم نے بیان کیا، ہم سے حسین بن محمد نے بیان کیا، ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، داؤد بن حصین کی سند سے، عبدالرحمٰن بن ابی عقبہ کی سند سے, ابوعقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
وہ فارس کے رہنے والے اور عرب کے غلام تھے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھا میں نے ایک مشرک شخص کو مارا اور بول اٹھا: یہ لے میرا وار، میں ایک فارسی جوان ہوں ( میری آواز سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ایسا کیوں نہ کہا؟ یہ لے میرا وار، میں انصاری جوان ہوں ۔
Narrated Al-Miqdam bin Madikarib رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When a man loves his brother, he should tell him that he loves him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے، ثور کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے حبیب بن عبید نے بیان کیا، مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے محبت رکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت رکھتا ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
A man was with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and a man passed by him and said: Messenger of Allah! I love this man. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then asked: Have you informed him? He replied: No. He said: Inform him. He then went to him and said: I love you for Allah's sake. He replied: May He for Whose sake you love me love you!
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے مبارک بن فضلہ نے بیان کیا، ہم سے ثابت البنانی نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، اتنے میں ایک شخص اس کے سامنے سے گزرا تو اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم نے اسے یہ بات بتا دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اسے بتا دو یہ سن کر وہ شخص اٹھا اور اس شخص سے جا کر ملا اور اسے بتایا کہ میں تم سے اللہ واسطے کی محبت رکھتا ہوں، اس نے کہا: تم سے وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی ہے۔
Abu Dharr رضی اللہ عنہ said:
Messenger of Allah! A man loves some people, but he cannot do work like their work. He replied; Yes, Abu Dharr, will be with those whom you love. Abu Dharr then repeated it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم also repeated it.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے سلیمان نے بیان کیا، وہ حمید بن ہلال سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ایک شخص ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسا عمل نہیں کر پاتا؟ آپ نے فرمایا: اے ابوذر! تو اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو تو انہوں نے کہا: میں تو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: تم اسی کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو ابوذر نے پھر یہی کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی دہرایا۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
I never saw the Companions of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم so happy about anything as I saw them happy about this thing. A man said: Messenger of Allah! A man loves another man for the good work which he does, but he himself cannot do like it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: A man will be with those whom he loves.
ہم سے وہب بن بقیہ نے بیان کیا، ہم سے خالد نے بیان کیا، وہ یونس بن عبید سے، وہ ثابت کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آدمی ایک آدمی سے اس کے بھلے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور وہ خود اس جیسا عمل نہیں کر پاتا، تو آپ نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے اس نے محبت کی ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who is consulted is trustworthy.
ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ابی بکر نے بیان کیا، ہم سے شیبان نے بیان کیا، وہ عبد الملک بن عمیر کی سند سے، وہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے ۔
Abu Masud al-Ansari رضی اللہ عنہ said:
A man came to the prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah! I have been left without a mount. So give me a mount. He replied: I have no mount to give, but go to so and so; he may perhaps give you a mount. He then went to him and he gave him a mount. He came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and informed him about it. Thereupon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: if anyone guides someone to a good (deed), he will get the reward like the reward of the one who does it.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے اور ابو عمرو شیبانی کی سند سے, ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری سواری تھک گئی ہے مجھے کوئی سواری دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تجھے سوار کرا سکوں لیکن تم فلاں شخص کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دیدے تو وہ شخص اس شخص کے پاس گیا، اس نے اسے سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: جس نے کسی بھلائی کی طرف کسی کی رہنمائی کی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کام کے کرنے والے کو ملے گا ۔
Narrated Abud Darda رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Your love for a thing causes blindness and deafness.
ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، ہم سے بقیہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن ابی مریم نے، وہ خالد بن محمد ثقفی کی سند سے، وہ بلال بن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ سے, ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کسی چیز سے محبت کرنا تمہیں اندھا بہرہ بنا دیتا ہے ۔
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Make intercession to me, you will be rewarded, for Allah decrees what he wishes by the tongue of his prophet.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے برید بن ابی بردہ نے اپنے والد سے, ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے سفارش کرو تاکہ تم کو ( سفارش کا ) ثواب ملے، اور فیصلہ اللہ اپنے نبی کی زبان سے کرے گا جو اسے منظور ہو گا ۔
Narrated Muawiyah رضی اللہ عنہ :
Make intercession, you will be rewarded, for I purposely delay a matter so that you intercede and then you are rewarded. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If you make intercession, you will be rewarded.
ہم سے احمد بن صالح اور احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے، وہب بن منبیح سے اپنے بھائی کی سند سے بیان کیا, معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
سفارش کرو، اجر پاؤ گے، میں کسی معاملے کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں، تو اسے مؤخر کر دیتا ہوں، تاکہ تم سفارش کر کے اجر کے مستحق بن جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سفارش کرو تم اجر پاؤ گے ۔