The tradition mentioned above has been transmitted by Aishah رضی اللہ عنہا through a different chain of narrators. This version has:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Aishah! There are some bad people who are respected for fear of their tongues.
ہم سے عباس العنبری نے بیان کیا، ہم سے اسود بن عامر نے بیان کیا، ہم سے شریک نے بیان کیا، العمش کی سند سے، مجاہد کی سند سے،اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی واقعہ مروی ہے، وہ کہتی ہیں
آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! لوگوں میں سب سے بدترین لوگ وہ ہیں وہ جن کا احترام و تکریم ان کی زبانوں سے بچنے کے لیے کیا جائے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
I never said that when any man brought his mouth to the ear of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he withdrew his head until the man himself withdrew his head, and I never saw that when any man took him by his hand and he withdrew his hand, until the man himself withdrew his hand.
ہم سے احمد بن منیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو قطان نے بیان کیا، انہیں مبارک نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان پر منہ رکھا ہو ( کچھ کہنے کے لیے ) تو آپ نے اپنا سر ہٹا لیا ہو یہاں تک کہ خود وہی شخص نہ ہٹا لے، اور میں نے ایسا بھی کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو، تو آپ نے اس سے ہاتھ چھڑا لیا ہو، یہاں تک کہ خود اس شخص نے آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیا ہو۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم passed by a man of the Ansar when he was giving his brother a warning against modesty. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Leave him alone, for modesty is a part of faith.
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، سالم بن عبداللہ کی سند سے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک شخص پر سے گزرے، وہ اپنے بھائی کو شرم و حیاء کرنے پر ڈانٹ رہا تھا ( اور سمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم کرنا اچھی بات نہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، شرم تو ایمان کا ایک حصہ ہے ۔
Abu Qatadah said:
We were sitting with Imran bin Hussain رضی اللہ عنہما and Bushair bin Kaab was also there. Imran bin Hussain رضی اللہ عنہما reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Modesty is a good altogether, or he said: Modesty is altogether good. Bushair bin Kaab said: We find in some books that there is a modesty which produces peace and dignified bearing, and there is a modesty which produces weakness. Imran bin Hussain repeated the same words. So Imran became angry so much so that his eyes became red, and he said: Don’t you see that i am transmitting a tradition from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and you are mentioning something from your books? He (Qatadah) said: We said: Abu Nujaid, it is sufficient.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، وہ اسحاق بن سوید سے, ابوقتادہ کہتے ہیں
ہم عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے اور وہاں بشیر بن کعب بھی تھے تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: حیاء خیر ہے پورا کا پورا، یا کہا حیاء پورا کا پورا خیر ہے،، اس پر بشیر بن کعب نے کہا: ہم بعض کتابوں میں لکھا پاتے ہیں کہ حیاء میں سے کچھ تو سکینہ اور وقار ہے، اور کچھ ضعف و ناتوانی، یہ سن کر عمران نے حدیث دہرائی تو بشیر نے پھر اپنی بات دہرائی تو عمران رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، اور بولے: میں تم سے حدیث رسول اللہ بیان کر رہا ہوں، اور تم اپنی کتابوں کے بارے میں مجھ سے بیان کرتے ہو۔ ابوقتادہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابونجید ( عمران کی کنیت ہے ) چھوڑئیے جانے دیجئیے۔
Abu Masud رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: One of the things people have learnt from the words of the earliest prophecy is: If you have no shame, do what you like.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے منصور سے اور ربیع بن حراش کی سند سے, ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سابقہ نبوتوں کے کلام میں سے باقی ماندہ چیزیں جو لوگوں کو ملی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب تمہیں شرم نہ ہو تو جو چاہو کرو ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: By his good character a believer will attain the degree of one who prays during the night and fasts during the day.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے یعقوب نے بیان کیا، ان سے اسکندرانی نے بیان کیا، انہوں نے عمرو کی سند سے، انہوں نے المطلب کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مومن اپنی خوش اخلاقی سے روزے دار اور رات کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے ۔
Narrated Abud Darda رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: There is nothing heavier than good character put in the scale of a believer on the Day of Resurrection. Abu al-Walid said: I heard Ata al-Kaikharani say: Abu Dawud said: His name is Ata bin Ya'qub. He is the maternal uncle of Ibrahim bin Nafi. He is called Kaikharani or Kukharani.
ہم سے ابو الولید طیالسی اور حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن کثیر نے بیان کیا، کہا: ہمیں شعبہ نے قاسم بن ابی بازہ کی سند سے اور عطاء کیخا ر انی کی سند سے بیان کیا, ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی ۔ابو الولید کہتے ہیں: میں نے عطاء کیکھرانی کو کہتے سنا: ابوداؤد نے کہا: اس کا نام عطاء بن یعقوب ہے۔ وہ ابراہیم بن نافع کے ماموں ہیں۔ اسے کیخا ر انی یا کو خا ر انی کہا جاتا ہے۔
Narrated Abu Umamah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: I guarantee a house in the surroundings of Paradise for a man who avoids quarrelling even if he were in the right, a house in the middle of Paradise for a man who avoids lying even if he were joking, and a house in the upper part of Paradise for a man who made his character good.
ہم سے محمد بن عثمان الدمشقی ابو الجماہر نے بیان کیا، ہم سے ابو کعب ایوب بن محمد السعدی نے بیان کیا، مجھ سے سلیمان بن حبیب المحاربی نے بیان کیا, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو ۔
Harithah bin Wahab رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Neither the Jawwaz nor the Jazari will enter paradise. He said that the Jawwaz is the one who is coarse and uncivil.
ہم سے ابو شیبہ کے بیٹے ابوبکر اور عثمان نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے سفیان سے اور معبد بن خالد کی سند سے بیان کیا, حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جواظ» جنت میں نہ داخل ہو گا اور نہ «جعظری»جنت میں داخل ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں «جواظ» کے معنی بدخلق اور سخت دل کے ہیں۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
The she-camel of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم called Al-Adba had not been outstripped by another, but an Arabi (a nomadic Arab) came on a young riding camel of his and it outstripped it. That distressed the companions of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, but he said: It is Allah’s right that nothing should become exalted in the world but he lowers it.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ) عضباء مقابلے میں کبھی پیچھے نہیں رہی تھی ( ایک بار ) ایک اعرابی اپنے ایک نوعمر اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اس نے اس سے مقابلہ کیا تو اعرابی اس سے آگے نکل گیا تو ایسا لگا کہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر گراں گزری ہے تو آپ نے فرمایا: اللہ کا یہ دستور ہے کہ جو چیز بھی اوپر اٹھے اسے نیچا کر دے ۔
Narrating Anas رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: it is Allah’s right that nothing should become exalted in the world but he lowers it.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے حمید نے بیان کیا، اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے
آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ دنیا کی جو بھی چیز بہت اوپر اٹھے تو اسے نیچا کر دے ۔
Hammam said:
A man came and praised Uthman in his face, Al-Miqdad bin Al-Aswad took dust and threw it on his face, saying: the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: when you see those who are given to praising people, throw dust in their faces.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، منصور کی سند سے، ابراہیم کی سند سے, ہمام کہتے ہیں کہ
ایک شخص آیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف انہی کے سامنے کرنے لگا، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے مٹی لی اور اس کے چہرے پہ ڈال دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو۔
Abu Bakrah رضی اللہ عنہ said:
When a man praised another man in his face in the presence of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: You have beheaded your friend (saying it three times). He then said: One who cannot help expressing praise of his companion, should say: I consider him such and such (as he intends to say), but I do not declare him pure with Allah.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو شہاب نے بیان کیا، ان سے خالد الحذا نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کی تعریف کی، تو آپ نے اس سے فرمایا: تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی اسے آپ نے تین بار کہا، پھر فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنے ساتھی کی مدح و تعریف کرنی ہی پڑ جائے تو یوں کہے: میں اسے ایسے ہی سمجھ رہا ہوں، لیکن میں اللہ کے بالمقابل اس کا تزکیہ نہیں کرتا ۔
Narrated Abdullah bin ash-Shikhkhir:
I went with a deputation of Banu Amir to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and we said: You are our lord (sayyid). To this he replied: The lord is Allah, the Blessed and Exalted. Then we said: And the one of us most endowed with excellence and superiority. To this he replied: Say what you have to say, or part of what you have to say, and do not let the devil make you his agents.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے بشر نے بیان کیا، ان سے ابن المفضل نے بیان کیا، ہم سے ابو مسلمہ سعید بن یزید نے ابو نضرۃ کی سند سے بیان کیا, مطرف کے والد عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ
میں بنی عامر کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، تو ہم نے عرض کیا: آپ ہمارے سید، آپ نے فرمایا: سید تو اللہ تعالیٰ ہے ۱؎ ہم نے عرض کیا: اور آپ ہم سب میں درجے میں افضل ہیں اور دوستوں کو نوازنے اور دشمنوں پر فائق ہونے میں سب سے عظیم ہیں، آپ نے فرمایا: جو کہتے ہو کہو، یا اس میں سے کچھ کہو، ( البتہ ) شیطان تمہیں میرے سلسلے میں جری نہ کر دے ( کہ تم ایسے کلمات کہہ بیٹھو جو میرے لیے زیبا نہ ہو ) ۔
Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Allah is gentle, likes gentleness, and gives for gentleness what he does not give for harshness.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، یونس اور حمید نے حسن کی سند سے, عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رفیق ہے، رفق اور نرمی پسند کرتا ہے، اور اس پر وہ دیتا ہے، جو سختی پر نہیں دیتا ۔
Narrated Al-Miqdam bin Shurayh, quoting his father, said:
I asked Aishah رضی اللہ عنہا about living in the desert. She said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to go to the desert to these rivulets. Once he intended to go to the desert and he sent to me a she-camel from the camel of sadaqah which had not been used for riding so far. He said to me: Aishah! show gentleness, for if gentleness is found in anything, it beautifies it and when it is taken out from anything it damages it. Ibn al-Sabbah said in his version: Muharramah means a mount which has not been used for riding.
ہم سے عثمان، ابوبکر، ابی شیبہ کے بیٹے اور محمد بن الصباح البزاز نے بیان کیا, ہم سے شریک نے مقدام بن شریح سے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا:شریح کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دیہات ( بادیہ ) جانے، وہاں قیام کرنے کے بارے میں پوچھا ( کہ کیسا ہے ) آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان نالوں کی طرف دیہات ( بادیہ ) جایا کرتے تھے، ایک بار آپ نے باہر دیہات ( بادیہ ) جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی بھیجی، جس پر سواری نہیں کی گئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! نرمی کرو، اس لیے کہ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے، اسے زینت دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکل جاتی ہے، اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔ ابن الصباح اپنی حدیث میں کہتے ہیں: «محرمۃ» سے مراد وہ اونٹنی ہے جس پر سواری نہ کی گئی ہو۔
Narrated Jarir رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who is deprived of gentleness is deprived of good.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ اور وکیع نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، تمیم بن سلمہ کی سند سے، وہ عبدالرحمٰن بن ہلال کی سند سے, جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رفق ( نرمی ) سے محروم کر دیا جاتا ہے وہ تمام خیر سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
Narrated Alamash said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: There is hesitation in everything except in the actions of the next world.
ہم سے حسن بن محمد بن الصباح نے بیان کیا، ہم سے عفان نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد نے بیان کیا، ہم سے سلیمان اعمش نے مالک بن حارث کی سند سے بیان کیا۔ الاعمش نے کہا: میں نے انہیں مصعب بن سعد سے اپنے والد سے ذکر کرتے ہوئے سنا ہے, الاعمش نے کہا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
تاخیر اور آہستگی ہر چیز میں ( بہتر ) ہے، سوائے آخرت کے عمل کے ۔ اعمش کہتے ہیں میں یہی جانتا ہوں کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے یعنی مرفوع ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who does not thank Allah does not thank people.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ربیع بن مسلم نے بیان کیا، محمد بن زیاد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا ( بھی ) شکر ادا نہیں کرتا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Immigrants (Muhajirun) said: Messenger of Allah! the Helpers (Ansar) got the entire reward. He said: no, so long as you pray to Allah for them and praise them.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مہاجرین نے کہا: اللہ کے رسول! سارا اجر تو انصار لے گئے، آپ نے فرمایا: نہیں ( ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم اجر سے محروم رہو ) جب تک تم اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف کرتے رہو گے ۔