Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A man follows the religion of his friend; so each one should consider whom he makes his friend.
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر اور ابوداؤد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے زہیر بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے موسیٰ بن وردان نے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The spirits are in marshalled hosts; those who know one another will be friendly, and those who do not, will keep apart.
ہم سے ہارون بن زید بن ابی الزرقا نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے جعفر نے، یعنی ابن برقان نے، ہم سے یزید کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن الاصم نے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روحیں ( عالم ارواح میں ) الگ الگ جھنڈوں میں ہوتی ہیں یعنی ( بدن کے پیدا ہونے سے پہلے روحوں کے جھنڈ الگ الگ ہوتے ہیں ) تو ان میں سے جن میں آپس میں ( عالم ارواح میں ) جان پہچان تھی وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور جن میں اجنبیت تھی وہ دنیا میں بھی الگ الگ رہتی ہیں ۔
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Gladden people and do not scare them; make things easy and do not make them difficult.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ہم سے برید بن عبداللہ نے اپنے دادا ابو بردہ سے بیان کیا, ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو اپنے کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے، خوشخبری دینا، نفرت مت دلانا، آسانی اور نرمی کرنا، دشواری اور مشکل میں نہ ڈالنا۔
Narrated as-Saib رضی اللہ عنہ :
I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The people began to praise me and make a mention of me. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: I know you, that is, he knew him. I said: My father and mother be sacrificed for you! you were my partner and how good a partner; you neither disputed nor quarrelled.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ابراہیم بن المہاجر نے مجاہد کی سند سے بیان کیا، سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو لوگ میری تعریف اور میرا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان کو تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں میں نے عرض کیا: سچ کہا آپ نے میرے باپ ماں آپ پر قربان ہوں، آپ میرے شریک تھے، تو آپ ایک بہترین شریک تھے، نہ آپ لڑتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔
Narrated Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sat talking (to the people), he would often raise his eyes to the sky.
ہم سے عبدالعزیز بن یحییٰ حرانی نے بیان کیا: مجھ سے محمد نے بیان کیا، یعنی ابن سلمہ نے، مجھ سے محمد بن اسحاق نے، یعقوب بن عتبہ کی سند سے، عمر بن عبدالعزیز کی سند سے، یوسف بن عبداللہ کی سند سے، جو اپنے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گفتگو کرنے بیٹھتے تو آپ اکثر اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے.
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم spoke in a distinct and leisurely manner.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بشر نے مسعر کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا:میں نے مسجد میں ایک بزرگ کو کہتے سنا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا, مسعر کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو میں ترتیل یا ترسیل ہوتی تھی یعنی آپ ٹھہر ٹھہر کر صاف صاف گفتگو کرتے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم spoke in a distinct manner so that anyone who listened to him could understand it.
ہم سے ابی شیبہ کے بیٹوں عثمان اور ابوبکر نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے سفیان کی سند سے، اسامہ کی سند سے، زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ہر لفظ الگ الگ اور واضح ہوتا تھا، جو بھی اسے سنتا سمجھ لیتا۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Every important matter which is not begun by an expression of praise to Allah is maimed. Abu Dawud said: It has also been transmitted by Yunus, Aqil, Shuaib, Saeed bin Abdul-Aziz from al-Zuhri from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in Mursal form (the link of the Companion is missing).
ہم سے ابو توبہ نے بیان کیا: ولید نے الاوزاعی کی سند سے، قرہ کی سند سے، الزہری کی سند سے، ابو سلمہ کی سند سے،ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ کلام جس کی ابتداء الحمدللہ ( اللہ کی تعریف ) سے نہ ہو تو وہ ناقص و ناتمام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس، عقیل، شعیب، اور سعید بن عبدالعزیز نے زہری سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Every sermon which does not contain a tashahhud is like a hand cut off.
ہم سے مسدد اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں تشہد نہ ہو تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے ( یعنی وہ ناتمام اور ناقص ہے ) یا اس ہاتھ کی طرح ہے جس میں جذام ہو ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
A beggar passed by Aishah and gave him a piece of bread. Another man who wore clothes and had good appearance passed by her, and she made her seated and he ate (with her). When she was asked about that, she replied: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: treat the people according to their ranks. Abu Dawud said: The version of Yahya is short. Abu Dawud said: Maimun did not see 'Aishah رضی اللہ عنہا.
ہم سے یحییٰ بن اسماعیل اور ابن ابی خلف نے بیان کیا کہ انہیں یحییٰ بن یمان نے سفیان کی سند سے، حبیب بن ابی ثابت سے اور میمون بن ابی شبیب کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ان کے پاس سے ایک بھکاری گزرا تو انہوں نے اس کو روٹی کا ایک ٹکڑا دے دیا، پھر ایک شخص کپڑوں میں ملبوس اور معقول صورت میں گزرا تو انہوں نے اسے بٹھایا اور ( اسے کھانا پیش کیا ) اور اس نے کھایا، لوگوں نے ان سے اس ( امتیاز ) کی بابت پوچھا تو وہ بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ کی حدیث مختصر ہے، اور میمون نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔
Narrated Abu Musa al-Ashari رضی اللہ عنہ:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Glorifying Allah involves showing honour to a grey-haired Muslim and to one who can expound the Quran, but not to one who acts extravagantly regarding it, or turns away from it, and showing honour to a just ruler.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الصوف نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن حمران نے بیان کیا، انہیں عوف بن ابی جمیلہ نے خبر دی، انہیں زیاد بن مخراق نے ابو کنانہ کی سند سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معمر اور سن رسیدہ مسلمان کی اور حافظ قرآن کی جو نہ اس میں غلو کرنے والا ہو اور نہ اس سے دور پڑ جانے والا ہو، اور عادل بادشاہ کی عزت و تکریم دراصل اللہ کے اجلال و تکریم ہی کا ایک حصہ ہے۔
Narrated Abdullah bin Amr bin al-As رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: One should not sit between two men except with their permission.
ہم سے محمد بن عبید اور احمد بن عبدہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا:ہم سے حماد نے بیان کیا، عامر الاحول نے کہا, عمرو بن شعیب کی سند سے بیان کیا, ابن عبدہ نے اپنے والد جان کی سند سے کہا ,عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں کے درمیان گھس کر ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھا جائے ۔
Narrated Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: It is not lawful for a man to separate two persons except with their permission.
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے اسامہ بن زید لیثی نے عمرو بن شعیب سے اپنے والد کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر گھس کر دونوں میں جدائی ڈال دے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sat, he had his knees drawn up supported by his hands. Abu Dawud said: 'And Allah bin Ibrahim was an old man and his traditions were rejected.
ہم سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے اسحاق بن محمد الانصاری نے ربیع بن عبدالرحمٰن سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تھے تو اپنے ہاتھ سے احتباء کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن ابراہیم ایک ایسے شیخ ہیں جو منکر الحدیث ہیں۔
Narrated Qaylah daughter of Makhramah رضی اللہ عنہا :
She saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sitting with his arms round his legs. She said: When I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in such humble condition in the sitting position (according to Musa's version), I trembled with fear.
ہم سے حفص بن عمر اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن حسن العنبری نے بیان کیا: مجھ سے میری دادیوں صفیہ اور ضحیبہ نے بیان کیا جو الیبہ کی بیٹیاں تھیں, موسیٰ نے کہا: حرملہ کی بیٹی، اور وہ میری رضاعی بیٹیاں تھیں, قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ دونوں ہاتھ سے احتباء کرنے والے کی طرح بیٹھے ہوئے تھے تو جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھنے میں «مختشع» اور موسیٰ کی روایت میں ہے «متخشع» دیکھا تو میں خوف سے لرز گئی ۔
Amr bin al-Sharid quoted his father al-Sharid bin Suwaid رضی اللہ عنہ saying:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came upon me when I was sitting thus: having my left hand behind my back and leaning on the fleshy part of it, and said: Are you sitting in the manner of those with whom Allah is angry?
ہم سے علی بن بحر نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن میسرہ نے، وہ عمرو بن شرید سے، وہ اپنے والد شرید بن سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھ چھوڑا تھا اور اپنے ایک ہاتھ کی ہتھیلی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا: کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر غضب نازل ہوا؟ ۔
Abu Barzah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade sleeping before the night prayer and talking after it.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے عوف کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو المنہال نے بیان کیا, ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے سے منع فرماتے تھے۔
Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prayed the dawn prayer, he sat cross-legged where he was till the sun had come well up.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابوداؤد حفری نے بیان کیا، ہم سے سفیان ثوری نے سماک بن حرب کی سند سے بیان کیا, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو چارزانو ( آلتی پالتی ) ہو کر بیٹھتے یہاں تک کہ سورج خوب اچھی طرح نکل آتا۔
Abdullah (bin Masud) رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Two persons should not talk privately ignoring the third, for that will grieve him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے، العمش کی سند سے بیان کیا اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عیسیٰ بن یونس نے العماش کی سند سے، انہوں نے شقیق (یعنی ابن سلمہ) کی سند سے، عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ چیز اسے رنجیدہ کر دے گی ۔
A similar tradition has been transmitted by Ibn Umar رضی اللہ عنہما through a different chain of narrators. This version has: Abu Salih said: I asked Ibn Umar: If they are four? He replied: then it does not harm you.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے اعمش نے بیان کیا، ابوصالح کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مثل فرمایا، ابوصالح کہتے ہیں: میں نے ابن عمر سے کہا: اگر چار آدمی ہوں تو؟ وہ بولے ( تو کوئی حرج نہیں ) اس لیے کہ یہ چیز تم کو ایذاء نہ دے گی۔