Narrated Salim from his father:
The prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: A Muslim is a Muslim’s brother: he does not wrong him or abandon him. If anyone cares for his brother’s need, Allah will care for his need ; if anyone removes a Muslim’s anxiety, Allah will remove from him, on account of it, one of the anxieties of the Day of resurrection; and if anyone conceals a Muslim’s fault, Allah will conceal his fault on the Day of resurrection.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے، ان سے سالم نے اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ ( خود ) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے ( کسی ظالم ) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: when two men abuse one another, what they say is laid to the charge of the one who began it, so long as the one who is wronged does not go over the score.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، یعنی ابن محمد نے، انہوں نے العلاء کی سند سے، اپنے والد کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہم گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہتے ہیں اس کا گناہ اس شخص پر ہو گا جس نے ابتداء کی ہو گی جب تک کہ مظلوم اس سے تجاوز نہ کرے ( اگر وہ تجاوز کر جائے تو زیادتی و تجاوز کا گناہ اس پر ہو گا ) ۔
Narrated Iyad bin Himar (al-Mujashi'i) رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah has revealed to me that you must be humble, so that no one oppresses another and boasts over another.
ہم سے احمد بن حفص نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، وہ حجاج کی سند سے، قتادہ کی سند سے، وہ یزید بن عبداللہ کی سند سے, عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھ کو وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر فخر کرے ۔
Narrated Saeed bin al-Musayyab:
While the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was sitting with some of his companions, a man reviled Abu Bakr رضی اللہ عنہ and insulted him. But Abu Bakr رضی اللہ عنہ remained silent. He insulted him twice, but Abu Bakr controlled himself. He insulted him thrice and Abu Bakr رضی اللہ عنہ took revenge on him. Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم got up when Abu Bakr رضی اللہ عنہ took revenge. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: Were you angry with me, Messenger of Allah? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم replied: An angel came down from Heaven and he was rejecting what he had said to you. When you took revenge, a devil came down. I was not going to sit when the devil came down.
ہم سے عیسیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے سعید المقبوری کی سند سے اور بشیر بن محرر کی سند سے, سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ سے الجھ پڑا اور آپ کو ایذاء پہنچائی تو آپ اس پر خاموش رہے، اس نے دوسری بار ایذاء دی، ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بار بھی چپ رہے پھر اس نے تیسری بار بھی ایذاء دی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے بدلہ لے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ بدلہ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ سے ناراض ہو گئے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا تھا، وہ ان باتوں میں اس کے قول کی تکذیب کر رہا تھا، لیکن جب تم نے بدلہ لے لیا تو شیطان آ پڑا پھر جب شیطان آ پڑا ہو تو میں بیٹھنے والا نہیں ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators. This version has: A man was reviling Abu Bakr رضی اللہ عنہ . He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner. Abu Dawud said: Similarly, it has been transmitted by Safwan bin ‘Isa, from Ibn Ajlan, as Sufyan said.
ہم سے عبد الاعلٰی بن حماد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابن عجلان نے سعید بن ابی سعید کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دے رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin: Ibn Awn said:
I asked about the meaning of intisar (revenge) in the Quranic verse: But indeed if any do help and defend themselves (intasara) after a wrong (done) to them, against them there is no cause of blame. Then Ali bin Zayd bin Jad'an told me on the authority of Umm Muhammad, the wife of his father. Ibn Awn said: It was believed that she used to go to the Mother of the Faithful (i. e. Aishah). She said: The Mother of the Faithful said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came upon me while Zaynab رضی اللہ عنہا, daughter of Jahsh, was with us. He began to do something with his hand. I signaled to him until I made him understand about her. So he stopped. Zaynab came on and began to abuse Aishah رضی اللہ عنہا. She tried to prevent her but she did not stop. So he (the Prophet) said to Aishah: Abuse her. So she abused her and dominated her. Zaynab رضی اللہ عنہا then went to Ali رضی اللہ عنہ and said: Aishah رضی اللہ عنہا abused you and did (such and such). Then Fatimah رضی اللہ عنہاd came (to the Prophet) and he said to her: She is the favourite of your father, by the Lord of the Kabah! She then returned and said to them: I said to him such and such, and he said to me such and such. Then Ali رضی اللہ عنہ came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and spoke to him about that.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا اور ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، ہمیں معاذ بن معاذ نے خبر دی، معنی ایک ہی ہے، ابن عون کہتے ہیں
آیت کریمہ «ولمن انتصر بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل» اور جو لوگ اپنے مظلوم ہونے کے بعد ( برابر کا ) بدلہ لے لیں تو ایسے لوگوں پر الزام کا کوئی راستہ نہیں ( سورۃ الشوریٰ: ۴۱ ) میں بدلہ لینے کا جو ذکر ہے اس کے متعلق میں پوچھ رہا تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بیان کیا، وہ اپنی سوتیلی ماں ام محمد سے روایت کر رہے تھے، ( ابن عون کہتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ وہ ( ام محمد ) ام المؤمنین کے پاس جایا کرتی تھیں ) ام محمد کہتی ہیں: ام المؤمنین نے کہا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، ہمارے پاس زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا تھیں آپ اپنے ہاتھ سے مجھے کچھ چھیڑنے لگے ( جیسے میاں بیوی میں ہوتا ہے ) تو میں نے ہاتھ کے اشارہ سے آپ کو بتا دیا کہ زینب بنت حجش بیٹھی ہوئی ہیں، تو آپ رک گئے اتنے میں زینب آ کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے الجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا لیکن وہ نہ مانیں، تو آپ نے ام المؤمنین عائشہ سے فرمایا: تم بھی انہیں کہو ، تو انہوں نے بھی کہا اور وہ ان پر غالب آ گئیں، تو ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا، علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں، اور ان سے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں یعنی بنو ہاشم کو گالیاں دیں ہیں ( کیونکہ ام زینب ہاشمیہ تھیں ) پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکایت کرنے ) آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم ہے کعبہ کے رب کی وہ ( یعنی عائشہ ) تمہارے والد کی چہیتی ہیں تو وہ لوٹ گئیں اور بنو ہاشم کے لوگوں سے جا کر انہوں نے کہا: میں نے آپ سے ایسا اور ایسا کہا تو آپ نے مجھے ایسا اور ایسا فرمایا، اور علی رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کی۔
Aishah رضی اللہ عنہا reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When your companion dies, leave him and do not revile him.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارا ساتھی ( یعنی مسلمان جس کے ساتھ تم رہتے سہتے ہو ) مر جائے تو اسے چھوڑ دو ۱اس کے عیوب نہ بیان کرو۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Make a mention of the virtues of your dead, and refrain from (mentioning) their evils.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن ہشام نے بیان کیا، عمران بن انس مکی نے عطاء کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: There were two men among Banu Isra'il, who were striving for the same goal. One of them would commit sin and the other would strive to do his best in the world. The man who exerted himself in worship continued to see the other in sin. He would say: Refrain from it. One day he found him in sin and said to him: Refrain from it. He said: Leave me alone with my Lord. Have you been sent as a watchman over me? He said: I swear by Allah, Allah will not forgive you, nor will he admit you to Paradise. Then their souls were taken back (by Allah), and they met together with the Lord of the worlds. He (Allah) said to this man who had striven hard in worship; Had you knowledge about Me or had you power over that which I had in My hand? He said to the man who sinned: Go and enter Paradise by My mercy. He said about the other: Take him to Hell. Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said: By Him in Whose hand my soul is, he spoke a word by which this world and the next world of his were destroyed.
ہم سے محمد بن صباح بن سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن ثابت نے بیان کیا، وہ عکرمہ بن عمار سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ضمضم بن جوس نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بنی اسرائیل میں دو شخص برابر کے تھے، ان میں سے ایک تو گناہ کے کاموں میں لگا رہتا تھا اور دوسرا عبادت میں کوشاں رہتا تھا، عبادت گزار دوسرے کو برابر گناہ میں لگا رہتا دیکھتا تو اس سے کہتا: باز رہ، ایک دفعہ اس نے اسے گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا: باز رہ اس نے کہا: قسم ہے میرے رب کی تو مجھے چھوڑ دے ( اپنا کام کرو ) کیا تم میرا نگہبان بنا کر بھیجے گئے ہو؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا یا تمہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا، پھر ان کی روحیں قبض کر لی گئیں تو وہ دونوں رب العالمین کے پاس اکٹھا ہوئے، اللہ نے اس عبادت گزار سے کہا: تو مجھے جانتا تھا، یا تو اس پر قادر تھا، جو میرے دست قدرت میں ہے؟ اور گنہگار سے کہا: جا اور میری رحمت سے جنت میں داخل ہو جا، اور دوسرے کے متعلق کہا: اسے جہنم میں لے جاؤ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا اور آخرت خراب کر دی۔
Narrated Abu Bakrah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: There is no sin more fitted to have punishment meted out by Allah to its perpetrator in advance in this world along with what He stores up for him in the next world than oppression and severing ties of relationship.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، ان سے عیینہ بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے بیان کیا, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظلم و بغاوت اور قطع رحمی ( رشتہ ناتا توڑنے ) جیسا کوئی اور گناہ نہیں ہے، جو اس لائق ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو اسی دنیا میں سزا دے باوجود اس کے کہ اس کی سزا اس نے آخرت میں رکھ چھوڑی ہو ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Avoid envy, for envy devours good deeds just as fire devours fuel or (he said) grass.
ہم سے عثمان بن صالح البغدادی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عامر نے بیان کیا، ان سے عبد الملک بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن ابی اسید نے اپنے دادا کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے یا کہا گھاس کو ( کھا لیتی ہے ) ۔
Narrated Sahl bin Abu Umamah said:
He and his father (Abu Umamah) visited Anas bin Malik رضی اللہ عنہ at Madina during the time (rule) of Umar bin Abdul Aziz when he (Anas bin Malik) was the governor of Madina. He was praying a very short prayer as if it were the prayer of a traveller or near it. When he gave a greeting, my father said: May Allah have mercy on you! Tell me about this prayer: Is it obligatory or supererogatory? He said: It is obligatory; it is the prayer performed by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I did not make a mistake except in one thing that I forgot. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to say: Do not impose austerities on yourselves so that austerities will be imposed on you, for people have imposed austerities on themselves and Allah imposed austerities on them. Their survivors are to be found in cells and monasteries. (Then he quoted: ) Monasticism, they invented it; we did not prescribe it for them. Next day he went out in the morning and said: will you not go out for a ride, so that you may see something and take a lesson from it? He said: Yes. Then all of them rode away and reached a land whose inhabitants had perished, passed away and died. The roofs of the town had fallen in. He asked: Do you know this land? I said: Who acquainted me with it and its inhabitants? (Anas said: ) This is the land of the people whom oppression and envy destroyed. Envy extinguishes the light of good deeds, and oppression confirms or falsifies it. The eye commits fornication, and the palm of the hand, the foot, body, tongue and private part of the body confirm it or deny it.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابی الامیہ نے خبر دی،سہل بن ابی امامہ کا بیان ہے کہ
وہ اور ان کے والد عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں جب وہ مدینے کے گورنر تھے، مدینے میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو دیکھا، وہ ہلکی یا مختصر نماز پڑھ رہے ہیں، جیسے وہ مسافر کی نماز ہو یا اس سے قریب تر کوئی نماز، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میرے والد نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، آپ بتائیے کہ یہ فرض نماز تھی یا آپ کوئی نفلی نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا: یہ فرض نماز تھی، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، اور جب بھی مجھ سے کوئی غلطی ہوتی ہے، میں اس کے بدلے سجدہ سہو کر لیتا ہوں، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اپنی جانوں پر سختی نہ کرو کہ تم پر سختی کی جائے اس لیے کہ کچھ لوگوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کر دی تو ایسے ہی لوگوں کے باقی ماندہ لوگ گرجا گھروں میں ہیں انہوں نے رہبانیت کی شروعات کی جو کہ ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی تو کہا: کیا تم سواری نہیں کرتے یعنی سفر نہیں کرتے کہ دیکھو اور نصیحت حاصل کرو، انہوں نے کہا: ہاں ( کرتے ہیں ) پھر وہ سب سوار ہوئے تو جب وہ اچانک کچھ ایسے گھروں کے پاس پہنچے، جہاں کے لوگ ہلاک اور فنا ہو کر ختم ہو چکے تھے، اور گھر چھتوں کے بل گرے ہوئے تھے، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان گھروں کو پہنچانتے ہو؟ میں نے کہا: مجھے کس نے ان کے اور ان کے لوگوں کے بارے میں بتایا؟ ( یعنی میں نہیں جانتا ) تو انس نے کہا: یہ ان لوگوں کے گھر ہیں جنہیں ان کے ظلم اور حسد نے ہلاک کر دیا، بیشک حسد نیکیوں کے نور کو گل کر دیتا ہے اور ظلم اس کی تصدیق کرتا ہے یا تکذیب اور آنکھ زنا کرتی ہے اور ہتھیلی، قدم جسم اور زبان بھی اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
Abu al-Darda رضی اللہ عنہا reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: when a man cures anything, the curse goes up to heaven and the gates of heaven are locked against it. Then it comes down to the earth and its gates are locked against it. Then it goes right and left, and if it finds no place of entrance it returns to the thing which was cursed, and if it finds no place of entrance it returns to the thing which was cursed, and if it deserves what was said (it enters it), otherwise it returns to the one who uttered it. Abu Dawud said: Marwan bin Muhammad said: He is Rabah bin al-Walid who heard from him (nimran). He (Marwan bin Muhammad) said: Yahya bin Hussain was confused in it.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن حسن نے بیان کیا، ان سے ولید بن رباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے نمران کو ذکر کرتے ہوئے سنا، ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابو الدرداء کو کہتے ہوئے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے، تو یہ لعنت آسمان پر چڑھتی ہے، تو آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند ہو جاتے ہیں پھر وہ اتر کر زمین پر آتی ہے، تو اس کے دروازے بھی بند ہو جاتے ہیں پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے، پھر جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس کی طرف پلٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی، اب اگر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ کہنے والے کی طرف ہی پلٹ آتی ہے۔ابوداؤد کہتے ہیں: مروان بن محمد نے کہا: وہ رباح بن ولید ہیں جنہوں نے ان سے (نمران) سنا۔ اس نے (مروان بن محمد) کہا: یحییٰ بن حسین اس میں الجھ گئے۔
Narrated Samurah bin Jundub رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not invoke Allah's curse, Allah's anger, or Hell.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، ہم سے قتادہ نے بیان کیا، حسن رضی اللہ عنہ سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت یا اللہ کا غضب یا جہنم کی لعنت کسی پر نہ کیا کرو ۔
Abu al-Darda رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Men given to cursing will not be witnesses or intercessors.
ہم سے ہارون بن زید بن ابی الزرقا نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ہشام بن سعد نے، ابوحازم اور زید بن اسلم کی سند سے کہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا
میں نے ابوالدرداء کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: لعنت کرنے والے نہ سفارشی ہو سکتے ہیں اور نہ گواہ ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
A man cursed the wind. The narrator Muslim's version has: The wind snatched away a man's cloak during the time of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and he cursed it. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not curse it, for it is under command, and if anyone curses a thing undeservedly, the curse returns upon him.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا۔ ہم سے زید بن اخزام طائی نے بیان کیا، ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ہم سے ابان بن یزید العطار نے بیان کیا، ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ابو العالیہ کی سند سے زید نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی ( مسلم کی روایت میں اس طرح ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ تابعدار ہے، اور اس لیے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
Something of her was stolen, and she began to curse him (i.e. the thief). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to her: Do not lessen his sin.
ہم سے ابن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، حبیب سے اور عطاء سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ان کی کوئی چیز چوری ہو گئی، تو وہ اس پر بد دعا کرنے لگیں، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( چور ) سے عذاب کو ہلکا نہ کر ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Do not hate each other; do not envy each other; do not desert each other; and be the servants of Allah as brethren. It is not allowable for a Muslim to keep apart from his brother for more than three days.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کو پیٹھ نہ دکھاؤ ( یعنی ملاقات ترک نہ کرو ) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو، اور کسی مسلمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ملنا جلنا چھوڑے رکھے ۔
Abu Ayyub al-Ansari رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: it is not allowable for a Muslim to keep apart from his brother for more than three days. When they meet, this turns away from him, and that turns away from him. The better of the two is the one who initiates in salutation.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عطاء بن یزید لیثی کی سند سے بیان کیا، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے کہ وہ دونوں ملیں تو یہ منہ پھیر لے، اور وہ منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: It is not allowable for a believer to keep from a believer for more than three days. If three days pass, he should meet him and give him a salutation, and if he replies to it they will both have shared in the reward; but if he does not reply he will bear his sin (according to Ahmad's version) and the one who gives the salutation will have come forth from the sin of keeping apart.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ اور احمد بن سعید سرخاسی نے بیان کیا کہ انہیں ابو عامر نے خبر دی, ہم سے محمد بن ہلال نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مومن کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہگار ہوا، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا ۔