Narrated Ammar رضی اللہ عنہ:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who is two-faced in this world will have two tongues of fire on the Day of Resurrection.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے شریک نے، رکین بن ربیع کی سند سے، نعیم بن حنظلہ کی سند سے, عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دنیا میں دو رخ ہوں گے قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو زبانیں ہوں گی ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was asked: Messenger of Allah! What is back-biting? He replied: it is saying something about your brother which he would dislike. He was asked again: Tell me how the matter stands if what I say about my brother is true? He replied: if what you say of him is true, you have slandered him is true you have slandered him, and if what you say of him is not true, you have reviled him.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے بیان کیا، ان سے عبد العزیز نے، یعنی ابن محمد نے، ہم سے العلا کی سند سے، اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا کہ اسے ناگوار ہو عرض کیا گیا: اور اگر میرے بھائی میں وہ چیز پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ چیز اس کے اندر ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر جو تم کہہ رہے ہو اس کے اندر نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
I said to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: It is enough for you in Safiyyah رضی اللہ عنہا that she is such and such (the other version than Musaddad's has: ) meaning that she was short-statured. He replied; You have said a word which would change the sea if it were mixed in it. She said: I imitated a man before him (out of disgrace). He said: I do not like that I imitate anyone even if I should get such and such.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے علی بن الاکمر نے ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ کے لیے تو صفیہ رضی اللہ عنہا کا یہ اور یہ عیب ہی کافی ہے، یعنی پستہ قد ہونا تو آپ نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں گھول دی جائے تو وہ اس پر بھی غالب آ جائے اور میں نے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اگرچہ میرے لیے اتنا اور اتنا ( مال ) ہو ۔
Narrated Saeed bin Zayd رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The most prevalent kind of usury is going to lengths in talking unjustly against a Muslim's honour.
ہم سے محمد بن عوف نے بیان کیا، ہم سے ابو یمان نے بیان کیا، ہم سے شعیب نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن ابی حصین نے بیان کیا، ہم سے نوفل بن مصاحق نے بیان کیا, سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی کرے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The gravest sin is going to lengths in talking unjustly against a Muslim's honour, and it is a major sin to abuse twice for abusing once.
ہم سے جعفر بن مسافر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن ابی سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے زہیر نے علاء بن عبدالرحمٰن سے اپنے والد سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی میں زبان دراز کرے، اور یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دی جائیں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When I was taken up to heaven I passed by people who had nails of copper and were scratching their faces and their breasts. I said: Who are these people, Gabriel? He replied: They are those who were given to back biting and who aspersed people's honour. Abu Dawud said: Yahya bin Uthman has also transmitted it from Baqiyyah, there is no mention of Anas in it.
ہم سے ابن المصفہ نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیہ نے اور ان سے ابو المغیرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے صفوان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے راشد بن سعد اور عبدالرحمٰن بن جبیر نے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ( غیبت کرتے ) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے یحییٰ بن عثمان نے بیان کیا ہے اور بقیہ سے روایت کر رہے تھے، اس میں انس موجود نہیں ہیں۔
This tradition has also been transmitted by ‘Isa bin Abi ‘Isa al-sailahini from Abu al-Mughirah, as Ibn al-musaffa said.
ہم سے عیسیٰ بن ابی عیسیٰ السیلحینی نے بیان کیاابومغیرہ سے بھی اسی طرح مروی ہےجیسا کہ ابن مصفیٰ نے روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Barzah al-Aslami رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: O community of people, who believed by their tongue, and belief did not enter their hearts, do not back-bite Muslims, and do not search for their faults, for if anyone searches for their faults, Allah will search for his fault, and if Allah searches for the fault of anyone, He disgraces him in his house.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسود بن عامر نے بیان کیا، ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے العمش نے، وہ سعید بن عبداللہ بن جریج کی سند سے, ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنی زبان سے اور حال یہ ہے کہ ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو، اس لیے کہ جو ان کے عیوب کے پیچھے پڑے گا، اللہ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اسے اسی کے گھر میں ذلیل و رسوا کر دے گا ۔
Narrated Al-Mustawrid رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone eats once at the cost of a Muslim's honour, Allah will give him a like amount of Jahannam to eat; if anyone clothes himself with a garment at the cost of a Muslim's honour, Allah will clothe him with like amount of Jahannam; and if anyone puts himself in a position of reputation and show Allah will disgrace him with a place of reputation and show on the Day of Resurrection.
ہم سے حیوہ بن شریح المصری نے بیان کیا، ہم سے بقیہ نے بیان کیا، ان سے ابن ثوبان نے، اپنے والد سے، مکول کی سند سے، وقاص بن ربیعہ سے, مستورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک نوالا کھائے گا تو اس کو اللہ اتنا ہی جہنم سے کھلائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک کپڑا پہنے گا تو اللہ اسے اسی جیسا لباس جہنم میں پہنائے گا، اور جو شخص کسی شخص کو شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچائے گا تو قیامت کے دن اللہ اسے خوب شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچا دے گا ( یعنی اس کی ایسی رسوائی ہو گی کہ سارے لوگوں میں اس کا چرچا ہو گا ) ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Everything of a Muslim is sacred to a Muslim: his property, honour and blood. It is enough evil for any man to despise his brother Muslim.
ہم سے واصل بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، ہم سے اسباط بن محمد نے بیان کیا، ان سے ہشام بن سعد نے، زید بن اسلم کی سند سے، وہ ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی ہر چیز اس کا مال، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ۔
Narrated Muadh bin Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone guards a believer from a hypocrite, Allah will send an angel who will guard his flesh on the Day of Resurrection from the fire of Jahannam; but if anyone attacks a Muslim saying something by which he wishes to disgrace him, he will be restrained by Allah on the bridge over Jahannam till he is acquitted of what he said.
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء بن عبید نے بیان کیا، ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن سلیمان سے، اسماعیل بن یحیی المعافری کی سند سے، سہل بن معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کی سند سے، اپنے والد کی سند سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مومن کی عزت و آبرو کی کسی منافق سے حفاظت کرے گا تو اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا اور جو شخص کسی مسلمان پر تہمت لگائے گا، اس سے اس کا مقصد اسے مطعون کرنا ہو تو اللہ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا یہاں تک کہ جو اس نے جو کچھ کہا ہے اس سے نکل جائے۔
Narrated Jabir bin Abdullah and Abu Talhah ibn Sahl al-Ansari رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: No (Muslim) man will desert a man who is a Muslim in a place where his respect may be violated and his honour aspersed without Allah deserting him in a place here he wishes his help; and no (Muslim) man who will help a Muslim in a place where his honour may be aspersed and his respect violated without Allah helping him in a place where he wishes his help. Yahya said: Ubaid Allah bin Abdullah bin Umar and Uqbah bin Shaddad transmitted it to me. Abu Dawud said: This Yahya bin Sulaim is the son of Zaid, the freed slave of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, and Ismail bin Bashir is the freed slave of Banu Maghalah. Sometimes the name of Utbah bin Shaddad is mentioned instead of Uqbah.
ہم سے اسحاق بن الصباح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں لیث نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھ سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا کہ انہوں نے اسماعیل بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, جابربن عبداللہ اور ابوطلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان شخص کو کسی ایسی جگہ میں ذلیل کرے گا، جہاں اس کی بے عزتی کی جائے اس کی عزت میں کمی آئے تو اللہ اسے ایسی جگہ ذلیل کرے گا، جہاں وہ اس کی مدد چاہے گا، اور جو کسی مسلمان کی ایسی جگہ میں مدد کرے گا جہاں اس کی عزت میں کمی آ رہی ہو اور اس کی آبرو جا رہی ہو تو اللہ اس کی ایسی جگہ پر مدد کرے گا، جہاں پر اس کو اللہ کی مدد محبوب ہو گی ۔یحییٰ نے کہا: عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر اور عقبہ بن شداد نے اسے مجھ تک پہنچایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یحییٰ بن سلیم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام زید کے بیٹے ہیں اور اسماعیل بن بشیر بنو مغلہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ بعض اوقات عقبہ کے بجائے عتبہ بن شداد کا نام آتا ہے۔
Narrated Jundub رضی اللہ عنہ :
A desert Arab came and making his camel kneel and tethering it, entered the mosque and prayed behind the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. When The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had given the salutation, he went to his riding beast and, after untethering and riding it, he called out: O Allah, show mercy to me and to Muhammad and associate no one else in Thy mercy to us. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: Do you think that he or his camel is farther astray? Did you not listen to what he said? They replied: Certainly.
ہم سے علی بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الصمد بن عبد الوارث نے اپنی کتاب سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے الجریری نے بیان کیا, ابوعبداللہ جشمی کہتے ہیں کہ ہم سے جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک اعرابی آیا اس نے اپنی سواری بٹھائی پھر اسے باندھا، اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا، اسے اس نے کھولا پھر اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے اس رحم میں کسی اور کو شامل نہ کر ( یعنی کسی اور پر رحم نہ فرما ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کیا کہتے ہو؟ یہ زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے وہ نہیں سنا جو اس نے کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور سنا ہے ۔
Narrated Qatadah:
Is one of you helpless to be like AbuDaygham or Damdam (Ibn Ubayd is doubtful) who would say when morning came: O Allah, I gave my honour as alms to Thy servants?
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے ابن ثور نے معمر کی سند سے بیان کیا, قتادہ کہتے ہیں
کیا تم میں سے کوئی شخص ابوضیغم یا ضمضم کی طرح ہونے سے عاجز ہے، وہ جب صبح کرتے تو کہتے: اے اللہ میں نے اپنی عزت و آبرو کو تیرے بندوں پر صدقہ کر دیا ہے۔
Abdur-Rahman bin ‘Ajlan reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Is one of you unable to be like Abu Damdam? The people asked: who is Abu Damdam? He replied: A man of old before you. He then mentioned the rest of tradition to the tradition to the same effect. This version has: who would say (in the morning): My honors is for the one who reviles me. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Hashim bin al-Qasim from Muhammad bin Abdullah al-'Ammi from Thabit on the authority of Anas from Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to the same effect. Abu Dawud said: The tradition of Hammad (i. e. Abdur-Rahman's version) is sounder.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے ثابت کی سند سے بیان کیا، عبدالرحمٰن بن عجلان کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابوضمضم کی طرح ہو لوگوں نے عرض کیا: ابوضمضم کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ( «عرضي على عبادك» ) کے بجائے ( «عرضي لمن شتمني» ) ( میری آبرو اس شخص کے لیے صدقہ ہے جو مجھے برا بھلا کہے ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہاشم بن قاسم نے روایت کیا وہ اسے محمد بن عبداللہ العمی سے، اور وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں، ثابت کہتے ہیں: ہم سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Muawiyah رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If you search for the faults of the people, you will corrupt them, or will nearly corrupt them. Abud Darda said: These are the words which Muawiyah himself from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and Allah benefited him by them.
ہم سے عیسیٰ بن محمد رملی اور ابن عوف نے بیان کیا اور اس کا قول یہ ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے فریابی نے سفیان کی سند سے، ثور کی سند سے، راشد بن سعد کی سند سے بیان کیا, معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں بگاڑ پیدا کر دو گے، یا قریب ہے کہ ان میں اور بگاڑ پیدا کر دو ۔ ابو الدرداء کہتے ہیں: یہ وہ کلمہ ہے جسے معاویہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور اللہ نے انہیں اس سے فائدہ پہنچایا ہے۔
Narrated Miqdam bin Madikarib; Abu Umamah رضی اللہ عنہم :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When a ruler seeks to make imputations against the people, he corrupts them.
ہم سے سعید بن عمرو الحضرمی نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ہم سے دمدم بن زرعہ نے شریح بن عبید کی سند سے بیان کیا, جبیر بن نفیر، کثیر بن مرہ، عمرو بن اسود، مقدام بن معد یکرب اور ابوامامہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حاکم جب لوگوں کے معاملات میں بدگمانی اور تہمت پر عمل کرے گا تو انہیں بگاڑ دے گا ۔
Narrated Zayd bin Wahb said:
A man was brought to Ibn Masud رضی اللہ عنہ . He was told: This is so and so, and wine was dropping from his beard. Abdullah thereupon said: We have been prohibited to seek out (faults). If anything becomes manifest to us, we shall seize it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے، العمش کی سند سے بیان کیا, زید بن وہب کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کسی آدمی کو لایا گیا اور کہا گیا: یہ فلاں شخص ہے جس کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے تو عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) نے کہا: ہمیں ٹوہ میں پڑنے سے روکا گیا ہے، ہاں البتہ اگر کوئی چیز ہمارے سامنے کھل کر آئے تو ہم اسے پکڑیں گے۔
Narrated Uqbah bin Amir رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who sees something which should be kept hidden and conceals it will be like one who has brought to life a girl buried alive.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن نشیط نے، کعب بن علقمہ کی سند سے، ابو الہیثم کی سند سے, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کا کوئی عیب دیکھے پھر اس کی پردہ پوشی کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے کسی زندہ دفنائی گئی لڑکی کو نئی زندگی بخشی ہو ۔
Narrated Uqbah ibn Amir: Abul Haytham quoted Dukhayn, the scribe of Uqbah bin Amir, saying: We had some neighbours who used to drink wine. I for them, but they did not stop. I then said to Uqbah bin Amir: These neighbours of ours drink wine, and I tried to prevent them but they did not stop, and I am going to call the police about them. He said: Leave them. I again came to Uqbah bin Amir رضی اللہ عنہ and said: Our neighbours have refused to refrain from drinking wine, and I am going to call the police for them. He said: Woe to thee! Leave them alone. I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: he then mentioned the tradition to the same effect as recorded above on the authority of the narrator Muslim. Abu Dawud said: In this version Hashim bin al-Qasim said on the authority of Laith: Do not do it, but preach them and threaten them.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے منشی (سکریٹری) دخین کہتے ہیں کہ
ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے تھے، میں نے انہیں منع کیا تو وہ باز نہیں آئے، چنانچہ میں نے عقبہ بن عامر سے کہا کہ ہمارے یہ پڑوسی شراب پیتے ہیں، ہم نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہیں آئے، لہٰذا اب میں ان کے لیے پولیس کو بلاؤں گا، تو انہوں نے کہا: انہیں چھوڑ دو، پھر میں دوبارہ عقبہ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے ان سے کہا: میرے پڑوسیوں نے شراب پینے سے باز آنے سے انکار کر دیا ہے، اور اب میں ان کے لیے پولیس بلانے والا ہوں، انہوں نے کہا: تمہارا برا ہو، انہیں چھوڑ دو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ... پھر انہوں نے مسلم جیسی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہاشم بن قاسم نے کہا کہ اس حدیث میں لیث سے اس طرح روایت ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہا: ایسا نہ کرو بلکہ انہیں نصیحت کرو اور انہیں دھمکاؤ ۔