Muhammad bin Amr bin Ata said:
Zainab daughter of Abu Salamah asked him: Which name did you give to your daughter? He replied: Barrah. She said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade giving this name. I was called Barrah but the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not declare yourselves pure, for Allah knows best those of you who are obedient. He said: we asked; which name should we give her? He replied: Call her Zainab.
ہم سے عیسیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ابی حبیب کی سند سے، وہ محمد بن اسحاق کی سند سے, محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ
زینب بنت ابوسلمہ نے ان سے پوچھا: تم نے اپنی بیٹی کا نام کیا رکھا ہے؟ کہا: میں نے اس کا نام برہ رکھا ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع کیا ہے، میرا نام پہلے برہ رکھا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خود سے پاکباز نہ بنو، اللہ خوب جانتا ہے، تم میں پاکباز کون ہے، پھر ( میرے گھر والوں میں سے ) کسی نے پوچھا: تو ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ نے فرمایا: زینب رکھ دو۔
Narrated Usamah bin Akhdari رضی اللہ عنہ :
A man called Asram was among those who came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: What is your name? He replied: Asram. He said: No, you are Zurah.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے بشر نے بیان کیا، یعنی ابن المفضل نے، انہوں نے کہا: مجھ سے بشیر بن میمون نے بیان کیا، اسامہ بن اخدری تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک آدمی جسے اصرم ( بہت زیادہ کاٹنے والا ) کہا جاتا تھا، اس گروہ میں تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں اصرم ہوں، آپ نے فرمایا: نہیں تم اصرم نہیں بلکہ زرعہ ( کھیتی لگانے والے ) ہو، ( یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے ) ۔
Narrated Hani bin Yazid رضی اللہ عنہ :
When Hani went with his people in a deputation to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, he heard them calling him by his kunyah (surname), Abul Hakam. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم called him and said: Allah is the judge (al-Hakam), and to Him judgment belongs. Why are you given the kunyah AbulHakam? He replied: When my people disagree about a matter, they come to me, and I decide between them, and both parties are satisfied with my decision. He said: How good this is! What children have you? He replied: I have Shurayh, Muslim and Abdullah. He asked; Who is the oldest of them? I replied: Shurayh. He said: Then you are Abu Shurayh. Abu Dawud said: This is Shuraib who broke the chain, and who entered Tustar. Abu Dawud said: I have been told that Shuraib broke the gate of Tustar, and he entered it through tunnel.
ہم سے ربیع بن نافع نے یزید کی سند سے، یعنی ابن مقدام بن شریح نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابوشریح ہانی کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی قوم کے ساتھ وفد میں آئے، تو آپ نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے تھے، آپ نے انہیں بلایا، اور فرمایا: حکم تو اللہ ہے، اور حکم اسی کا ہے تو تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: میری قوم کے لوگوں کا جب کسی معاملے میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اس پر راضی ہو جاتے ہیں، آپ نے فرمایا: یہ تو اچھی بات ہے، تو کیا تمہارے کچھ لڑکے بھی ہیں؟ انہوں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ میرے بیٹے ہیں آپ نے پوچھا: ان میں بڑا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: شریح آپ نے فرمایا: تو تم ابوشریح ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریح ہی وہ شخص ہیں جس نے زنجیر توڑی تھی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تستر میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کی شریح نے ہی تستر کا دروازہ توڑا تھا اور وہی نالے کے راستے سے اس میں داخل ہوئے تھے۔
Saeed bin Musayyab told that his father said on the authority of his grandfather (Hazn):
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم asked: What is your name? He replied: Hazn (rugged). He said: You are Sahl (smooth). He said: No, smooth is trodden upon and disgraced. Saeed said: I then thought that ruggedness would remain among us after it. Abu Dawud said: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم changed the names al-As, Aziz, Atalah, Shaytan, al-Hakam, Ghurab, Hubab, and Shihab and called him Hisham. He changed the name Harb (war) and called him Silm (peace). He changed the name al-Munba'ith (one who lies) and called him al-Mudtaji' (one who stands up). He changed the name of a land Afrah (barren) and called it Khadrah (green). He changed the name Shi'b ad-Dalalah (the mountain path of a stray), the name of a mountain path and called it Shi'b al-Huda (mountain path of guidance). He changed the name Banu az-Zinyah (children of fornication) and called them Banu ar-Rushdah (children of those who are on the right path), and changed the name Banu Mughwiyah (children of a woman who allures and goes astray), and called them Banu Rushdah (children of a woman who is on the right path). Abu Dawud said: I omitted the chains of these for the sake of brevity.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، معمر کی سند سے، وہ زہری کی سند سے, سعید بن مسیب کے دادا (حزن رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ کہا: حزن آپ نے فرمایا: تم سہل ہو، انہوں نے کہا: نہیں، سہل روندا جانا اور ذلیل کیا جانا ہے، سعید کہتے ہیں: تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی ( اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاص ( گنہگار ) عزیز ( اللہ کا نام ہے ) ، عتلہ ( سختی ) شیطان، حکم ( اللہ کی صفت ہے ) ، غراب ( کوے کو کہتے ہیں اور اس کے معنی دوری اور غربت کے ہیں ) ، حباب ( شیطان کا نام ) اور شہاب ( شیطان کو بھگانے والا ایک شعلہ ہے ) کے نام بدل دیئے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا، اور حرب ( جنگ ) کے بدلے سلم ( امن ) رکھا، مضطجع ( لیٹنے والا ) کے بدلے منبعث ( اٹھنے والا ) رکھا، اور جس زمین کا نام عفرۃ ( بنجر اور غیر آباد ) تھا، اس کا خضرہ ( سرسبز و شاداب ) رکھا، شعب الضلالۃ ( گمراہی کی گھاٹی ) کا نام شعب الہدی ( ہدایت کی گھاٹی ) رکھا، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں۔
Narrated Masruq said:
I met Umar ibn al-Khattab ( رضی اللہ عنہ) who said: Who are you? I replied: Masruq ibn al-Ajda'. Umar then said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: al-Ajda' (mutilated) is a devil.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ہاشم بن القاسم نے بیان کیا، ہم سے ابو عقیل نے بیان کیا، ہم سے مجالد بن سعید نے شعبی کی سند سے بیان کیا, مسروق کہتے ہیں کہ
میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: مسروق بن اجدع، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اجدع تو شیطان ہے ۔
Samurah bin Jundub رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Do not call your servant Yasar (wealth), Rabah (profit), Nijih (prosperous) and Aflah (successful), for you may ask; Is he there? And someone says: No. Samurah said: These are four (names), so do not attribute more to me.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا، ان سے ہلال بن یساف نے، ربیع بن عمیلہ کی سند سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بچے یا اپنے غلام کا نام یسار، رباح، نجیح اور افلح ہرگز نہ رکھو، اس لیے کہ تم پوچھو گے: کیا وہاں ہے وہ؟ تو جواب دینے والا کہے گا: نہیں ( تو تم اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھو گے ) ( سمرہ نے کہا ) یہ تو بس چار ہیں اور تم اس سے زیادہ مجھ سے نہ نقل کرنا۔
Samurah رضی اللہ عنہ said:
The Apostle of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade giving four names to our slaves: Aflah (successful), Yasar (wealth), Naf (beneficial) and Rabah (profit).
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے الر کین کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا, سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم افلح، یسار، نافع اور رباح ان چار ناموں میں سے کوئی اپنے غلاموں یا بچوں کا رکھیں۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If I survive (God willing), I shall forbid my people to give the names Nafi (beneficial), Aflah (successful) and Barakah (blessing). Al-Amash said: I do not know whether he mentioned Nafi or not. When a man comes and asks: Is there Barakah (blessing)? The people say: No. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abu al-Zubair on the authority of Jabir from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators. This version has no mention of Barakah.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، ابو سفیان کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا، ( اعمش کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم انہوں ( سفیان ) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں ) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا: کیا برکت ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں، ( تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں برکت کا ذکر نہیں ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The vilest names in Allah’s sight on the Day of resurrection will be that of a man called Malik al-Amlak. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Shuaib bin Abi Hamzah from Abi al-Zinad through different chain of narrators. This version has the words akhna' ismin (most obscene name) instead of akhna ismin (the vilest name).
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو الزناد سے، انہوں نے العراج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے ذلیل نام والا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہو گا جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے اسے ابوالزناد سے، اسی سند سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے «أخنع اسم» کے بجائے «أخنى اسم» کہا ہے، ( جس کے معنیٰ سب سے فحش اور قبیح نام کے ہیں ) ۔
Narrated Abu Jubayrah bin ad-Dahhak:
This verse was revealed about us, the Banu Salimah: Nor call each other by (offensive) nicknames: ill-seeming is a name connoting wickedness (to be used of one) after he has believed. He said: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to us, every one of us had two or three names. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم began to say: O so and so! But they would say: Keep silence, Messenger of Allah! He becomes angry by this name. So this verse was revealed: Nor call each other by (offensive) nicknames.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا، داؤد کی سند سے، وہ عامر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ
ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان» ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد برے نام سے پکارنا برا ہے ( الحجرات: ۱۱ ) ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا: اے فلاں، تو لوگ کہتے: اللہ کے رسول! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب» ۔
Narrated Zayd ibn Aslam quoted his father as saying:
Umar ibn al-Khattab ( رضی اللہ عنہ) struck one of his sons who was given the kunyah Abu Isa, and al-Mughirah bin Shubah رضی اللہ عنہ had the kunyah Abu Isa. Umar رضی اللہ عنہ said to him: Is it not sufficient for you that you are called by the kunyah Abu Abdullah? He replied: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave me this kunyah. Thereupon he said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was forgiven all his sins, past and those followed. But we are among the people similar to us. Henceforth he was called by the kunyah Abu Abdullah until he died.
ہم سے ہارون بن زید بن ابی الزرقا نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن سعد نے بیان کیا، وہ زید بن اسلم سے اپنے والد سے
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو؟ وہ بولے: میری یہ کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں چنانچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to him: My sonny. Abu Dawud said: I heard Yahya bin Main praising the transmitter Muhammad bin Mahbub, and he said: He transmitted a large number of traditions.
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا: انہوں نے ہمیں خبر دی۔ اور ہم سے مسدد اور محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو عوانہ نے ابوعثمان کی سند سے بیان کیا اور ابن محبوب نے انہیں الجعد کہا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے میرے بیٹے! ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو محمد بن محبوب کی تعریف کرتے ہوئے سنا، اور انہوں نے کہا: اس نے بہت سی روایات نقل کی ہیں۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Call yourselves by my name, but do not use my KUNYAH (surname). Abu Dawud said: Abu Salih has transmitted it in a similar way from Abu Hurairah, and similar are the traditions of Abu Sufyan from Jabir, of Salim bin Abul-Ja’d from Jabir, of Sulaiman al-Yashkuri from Jabir, and of Ibn al-Munkadir from Jabir رضی اللہ عنہ and similar others and Anas bin Malik رضی اللہ عنہ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے ( یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ) ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone is called by my name, he must not be given my kunyah (surname), and if anyone uses my kunyah (surname), he must not be called by my name. Abu Dawud said: Ibn 'Ajlan transmitted it to the same effect from his father on the authority if Abu Hurairah رضی اللہ عنہ . It has also been transmitted by Abu Zar'ah from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ in two different versions. And similar is the version of Abdur-Rahman bin Abi Amrah from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ . This version is disputed: Al-Thawri and Ibn Juraij transmitted it according to the version of Abu al-Zubair; and Maqil bin Ubaid Allah transmitted it according to the version of Ibn Sirin. It is again dispted on Musa bin Yasar from Abu Hurariah رضی اللہ عنہ , transmitting it in two versions: Hammad bin Khalid and Ibn Abi Fudaik varied in their versions.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے، ابو الزبیر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میرا نام رکھے، وہ میری کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی مفہوم کی حدیث ابن عجلان نے اپنے والد سے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور ابوزرعہ کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دونوں روایتوں سے مختلف روایت کی گئی ہے، اور اسی طرح عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی روایت جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی کچھ اختلاف ہے، اسے ثوری اور ابن جریج نے ابو الزبیر کی طرح روایت کیا ہے، اور اسے معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح روایت کیا ہے، اور جسے موسیٰ بن یسار نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے، حماد بن خالد اور ابن ابی فدیک کے دو مختلف قول ہیں ۔
Muhammad bin al-Hanafiyyah quoted:
Ali as saying: I said: Messenger of Allah! tell me if a son is born to me after your death, may I give him your name and your kunyah? He replied: Yes. The transmitter Abu Bakr did not mention the words I said . Instead, he said: Ali رضی اللہ عنہ said to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے ابو شیبہ کے بیٹوں عثمان اور ابوبکر نے بیان کیا: ہم سے ابو اسامہ نے فطر کی سند سے اور منذر کی سند سے بیان کیا, محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔(راوی حدیث) ابوبکر کے الفاظ میں [قُلْتُ] کا ذکر نہیں کیا بلکہ یو ں ہے کہ [قَالَ عَلِيٌّ لِلنَّبِيِّ ﷺ]حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
A woman came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah! I have given birth to a boy, and call him Muhammad and Abul Qasim as kunyah (surname), but I have been told that you disapproved of that. He replied: What is it which has made my name lawful and my kunyah unlawful, or what is it which has made my kunyah unlawful and my name lawful?
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنا نا درست یا یوں فرمایا: کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنا نا درست ہے اور نام رکھنا درست؟
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to come to visit us. I had a younger brother who was called Abu ‘Umair by Kunyah (surname). He had a sparrow with which he played, but it died. So one day the prophet صلی اللہ علیہ وسلم came to see him and saw him grieved. He asked: What is the matter with him? The people replied: His sparrow has died. He then said: Abu ‘Umair! What has happened to the little sparrow?
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم سے ثابت نے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں آتے تھے، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مر گئی، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس کی چڑیا مر گئی، تو آپ نے فرمایا: اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر ( چڑیا ) کو؟ ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا said:
O Messenger of Allah! All my fellow-wives have kunyahs? He said: Give yourself the kunyah by Abdullah, your son - that is to say, her nephew (her sister's son). Musaddad said: Abdullah ibn az-Zubayr. She was called by the kunyah Umm Abdullah. Abu Dawud said: Qurran bin Tammam and Mamar all have transmitted it from Hisham in a similar manner. It has also been transmitted by Abu Usamah from Hisham, from 'Abbad bin Hamzah. Similarly, Hammad bin Salamah and Maslamah bin Qa'nab have narrated it from Hisham, like the tradition transmitted by Abu Usamah.
ہم سے مسدد اور سلیمان بن حرب المعنی نے بیان کیا , ہم سے حماد نے ہشام بن عروہ سے اپنے والد سے بیان کیا , ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا
اللہ کے رسول! میری تمام سہیلیوں کی کنیتیں ہیں، آپ نے فرمایا: تو تم اپنے بیٹے یعنی اپنے بھانجے عبداللہ کے ساتھ کنیت رکھ لو مسدد کی روایت میں ( عبداللہ کے بجائے ) عبداللہ بن زبیر ہے، عروہ کہتے ہیں: چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قران بن تمام اور معمر دونوں نے ہشام سے اسی طرح روایت کی ہے، اور ابواسامہ نے ہشام سے اور ہشام نے عباد بن حمزہ سے اسے روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے حماد بن سلمہ اور مسلمہ بن قعنب نے ہشام سے روایت کیا ہے جیسا کہ ابواسامہ نے کہا ہے۔
Narrated Sufyan bin Asid al-Hadrami رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: It is great treachery that you should tell your brother something and have him believe you when you are lying.
ہم سے مسجد حمص کے امام حیوا بن شریح حضرمی نے بیان کیا, ہم سے بقیہ بن ولید نے بیان کیا، وہ ضبارہ بن مالک الحضرمی سے، انہوں نے اپنے والد سے، عبدالرحمٰن بن جبیر نے اپنے والد بن نوفی سے روایت کی, سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو جسے وہ تو سچ جانے اور تم خود اس سے جھوٹ کہو۔
Abu Masud asked Abu Abu Allah, or Abu Abdullah asked Abu Masud:
What did you hear the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say about za’ama (they alleged, asserted, or it is said). He replied: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: it is a bad riding-beast for a man (to say) za’ama (they asserted). Abu DAwud said: This Abu Abdullah is Hudhaifah.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے الاوزاعی کی سند سے، یحییٰ سے اور ابوقلابہ سے، انہوں نے کہا: ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ابوعبداللہ (حذیفہ) رضی اللہ عنہ سے یا ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا
نے «زعموا» کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے سنا؟ وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «زعموا» ( لوگوں نے گمان کیا ) آدمی کی بہت بری سواری ہے ۔ابوداؤد نے کہا: یہ ابو عبداللہ حذیفہ ہیں۔