Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم addressed them, saying: To proceed (amma ba’d)
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے ابو حیان نے بیان کیا، وہ یزید بن حیان کی سند سے, زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطبہ دیا تو «أما بعد» کہا ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: None of you should Call (grapes) karm, for the karm is a Muslim man, but call (grapes) garden of grapes (hada’iq al-a’nab).
ہم سے سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے لیث بن سعد نے جعفر بن ربیعہ کی سند سے، انہوں نے العرج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ( انگور اور اس کے باغ کو ) «كرم» نہ کہے ، اس لیے کہ «كرم» مسلمان مرد کو کہتے ہیں ، بلکہ اسے انگور کے باغ کہو۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: None of you must say: My slave (abdi) and My slave-woman (amati), and a slave must not say: My lord (rabbi or rabbati). The master (of a slave) should say: My young man (fataya) and My young woman (fatati), and a slave should say My master (sayyidi) and My mistress (sayyidati), for you are all (Allah's slave and the Lord is Allah, Most High.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب، حبیب بن الشہید اور ہشام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ( اپنے غلام یا لونڈی کو ) «عبدي» ( میرا بندہ ) اور «أمتي» ( میری بندی ) نہ کہے اور نہ کوئی غلام یا لونڈی ( اپنے آقا کو ) «ربي» ( میرے مالک ) اور «ربتي» ( میری مالکن ) کہے بلکہ مالک یوں کہے: میرے جوان! یا میری جوان! اور غلام اور لونڈی یوں کہیں: «سيدي» ( میرے آقا ) اور «سيدتي» ( میری مالکن ) اس لیے کہ تم سب مملوک ہو اور رب صرف اللہ ہے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators.
This version does not mention the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم i.e, it does not go back to him. It has: He must say: “My master” (sayyidi) and “My patron” (mawlaya).
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا، ان سے ابو یونس نے بیان کیا, اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے
لیکن اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں یہ ہے فرمایا: اور چاہیئے کہ وہ «سيدي» ( میرے آقا ) اور «مولاى» ( میرے مولی ) کہے۔
Narrated Buraydah رضی اللہ عنہ that his father:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not call a hypocrite sayyid (master), for if he is a sayyid, you will displease your Lord, Most High.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے قتادہ کی سند سے، عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ منافق کو سید نہ کہو اس لیے کہ اگر وہ سید ہے ( یعنی قوم کا سردار ہے یا غلام و لونڈی اور مال والا ہے ) تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا ۔
Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif رضی اللہ عنہ quoted his father as saying:
None of you must say Khabuthat nafsi (My heart is heaving), but one should say Laqisat nafsi (My heart is being annoyed).
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب کی سند سے، ابوامامہ بن سہل بن حنیف کے واسطہ سے، اپنے والد سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی میرا نفس خبیث ہو گیا نہ کہے، بلکہ یوں کہے میرا جی پریشان ہو گیا ۔
Aishah رضی اللہ عنہا reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: None of you should say Ja’shat nafsi (My heart is being agitated), but one should say Laqisat nafsi (My heart is being annoyed).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: میرے دل نے جوش مارا بلکہ یوں کہے: میرا جی پریشان ہو گیا۔
Narrated Hudhayfah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not say: What Allah wills and so and so wills, but say: What Allah wills and afterwards so and so wills.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے منصور سے اور عبداللہ بن یسار سے, حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوں نہ کہو: جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے بلکہ یوں کہو: جو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے۔
Adi bin Hatim رضی اللہ عنہ said:
A speaker gave sermon before the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said: he who obeys Allah and his Prophet will follow the right course, and he who disobeys them. He (The prophet) said: get up; he said: go away, a bad speaker you are.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان بن سعید کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے عبدالعزیز بن روفع نے تمیم طائی کی سند سے بیان کیا, عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک خطیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خطبہ دیا، تو اس نے ( خطبہ میں ) کہا:«من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما» جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرتا ہے ... ( ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ ) آپ نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ یا یوں فرمایا: چلے جاؤ تم بہت برے خطیب ہو۔
Abu al-Malih reported:
A man said: I was riding on a mount behind the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. It stumbled. Thereupon I said: May the devil perish! He said: do not say; may the devil perish! For you say that, he will swell so much so that he will be like a house, and say: by my power. But say: in the name of Allah; for when you say that, he will diminish so much so that he will be like a fly.
ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد کی سند سے، یعنی ابن عبداللہ نے خالد کی سند سے، یعنی الحداۃ نے، ابو تمیمہ کی سند سے, ابوالملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ
اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، کہ آپ کی سواری پھسل گئی، میں نے کہا: شیطان مرے، تو آپ نے فرمایا: یوں نہ کہو کہ شیطان مرے اس لیے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھر کے برابر ہو جائے گا، اور کہے گا: میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کر لیا، بلکہ یوں کہو: اللہ کے نام سے اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہو جائے گا جیسے مکھی۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When you hear. . . . (Musa's version has): When a man says people have perished, he is the one who has suffered that fate most. Abu Dawud said: Malik said: If he says that out of sadness for the decadence of religion which he sees among the people, I do not think there is any harm in that. If he says that out of self-conceit and servility of the people, it is an abominable act which has been prohibited.
ہم سے القَنبی نے مالک کی سند سے بیان کیا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، سہیل بن ابی صالح سے، اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو! ( اور موسیٰ کی روایت میں یوں ہے، کہ جب آدمی کہے ) کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہی ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک نے کہا: جب وہ یہ بات دینی معاملات میں لوگوں کی روش دیکھ کر رنج سے کہے تو میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا، اور جب یہ بات وہ خود پر ناز کر کے اور لوگوں کو حقیر سمجھ کر کہے تو یہی وہ مکروہ و ناپسندیدہ چیز ہے، جس سے روکا گیا ہے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما reported:
The prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The desert Arabs may not dominate you in respect of the name of your prayer. Beware! It is al-`Isha, but they milk their camels when it is fairly dark.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن ابی لبید نے، وہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر «أعراب» ( دیہاتی لوگ ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں ہرگز غالب نہ آ جائیں، سنو! اس کا نام عشاء ہے اور وہ لوگ تو اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کے لیے تاخیر اور اندھیرا کرتے ہیں ۔
Narrated Salim bin Abul Jadah said:
A man said: (Misar said: I think he was from the tribe of Khuzaah): would that I had prayed, and got comfort. The people objected to him for it. Thereupon he said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: O Bilal, call iqamah for prayer: give us comfort by it.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے مسعر بن کدم نے عمرو بن مرہ کی سند سے بیان کیا, سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھ لیتا تو مجھے سکون مل جاتا، مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے یہ بنو خزاعہ کا کوئی آدمی تھا، تو لوگوں نے اس پر نکیر کی کہ یہ نماز کو تکلیف کی چیز سمجھتا ہے تو اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: اے بلال نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں اس سے آرام و سکون پہنچاؤ ۔
Narrated Abdullah bin Muhammad bin al-Hanafiyyah:
I and my father went to the house of my father-in-law from the Ansar to pay a sick visit to him. The time of prayer came. He said to someone of his relatives: O girl! bring me water for ablution so that I pray and get comfort. We objected to him for it. He said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Get up, Bilal, and give us comfort by the prayer.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن مغیرہ نے بیان کیا، وہ سالم بن ابی الجعد کی سند سے, عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں
میں اور میرے والد انصار میں سے اپنے ایک سسرالی رشتہ دار کے پاس اس کی ( عیادت ) بیمار پرسی کرنے کے لیے گئے، تو نماز کا وقت ہو گیا، تو اس نے اپنے گھر کی کسی لڑکی سے کہا: اے لڑکی! میرے لیے وضو کا پانی لے آتا کہ میں نماز پڑھ کر راحت پا لوں تو اس پر ہم نے ان کی نکیر کی، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اے بلال اٹھو اور ہمیں نماز سے آرام پہنچاؤ ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
I never heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم attributing anyone to anything except to religion.
ہم سے ہارون بن زید بن ابی الزرقا نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن سعد نے زید بن اسلم کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کے علاوہ کسی اور معاملے کی طرف کسی کی نسبت کرتے نہیں دیکھا ۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
The people of Madina were started. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم rode on the horse belonging to Abu Talhah. He said: We did not see anything, or he said: we did not see (find) any fear. I found it (could run) like a river.
ہم سے عمرو بن مرزوق نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، قتادہ سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مدینہ میں ایک بار ( دشمن کا ) خوف ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے، ( واپس آئے تو ) فرمایا: ہم نے تو کوئی چیز نہیں دیکھی، یا ہم نے کوئی خوف نہیں دیکھا اور ہم نے اسے ( گھوڑے کو ) سمندر ( سبک رفتار ) پایا ۔
Abdullah (bin Masud رضی اللہ عنہ ) reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Avoid falsehood, for falsehood leads to wickedness, and wickedness to hell; and if a man continues to speak falsehood and makes falsehood his object, he will be recorded in Allah’s presence as a great liar. And adhere to truth, for truth leads to good deeds, and good deeds lead to paradise. If a man continues to speak the truth and makes truth his object, he will be recorded in Allah’s presence as eminently truthful.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہیں ا عمش نے خبر دی اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، ان سے عمش نے بیان کیا، ابو وائل کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے، اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے، آدمی جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے اور سچ بولنے کو لازم کر لو اس لیے کہ سچ بھلائی اور نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے، آدمی سچ بولتا ہے اور سچ بولنے ہی میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے ۔
Narrated Muawiyah bin Jaydah al-Qushayri رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Woe to him who tells things, speaking falsely, to make people laugh thereby. Woe to him! Woe to him!.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بہز بن حکیم کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تباہی ہے اس کے لیے جو بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ہنسائے، تباہی ہے اس کے لیے، تباہی ہے اس کے لیے۔
Narrated Abdullah bin Amir رضی اللہ عنہ :
My mother called me one day when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was sitting in our house. She said: Come here and I shall give you something. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم asked her: What did you intend to give him? She replied: I intended to give him some dates. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If you were not to give him anything, a lie would be recorded against you.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہیں لیث نے ابن عجلان کی سند سے بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ العدوی کے مؤکلوں میں سے ایک شخص نے بیان کیا, عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دن میری ماں نے مجھے بلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر بیٹھے ہوئے تھے، وہ بولیں: سنو یہاں آؤ، میں تمہیں کچھ دوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ وہ بولیں، میں اسے کھجور دوں گی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: سنو، اگر تم اسے کوئی چیز نہیں دیتی، تو تم پر ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: It is enough falsehood for a man to relate everything he hears. Abu Dawud said: Hafs did not mention Abu Hurairah (in his version). Abu Dawud said: No other transmitter except this old man, that is, Ali bin Hafs al-Mada'ini related the perfect chain of this tradition.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا, ہم سے اور محمد بن حسین نے بیان کیا، ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے اور حفص بن عاصم کی سند سے، ابن حصین نے اپنی حدیث میں کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات ( بلا تحقیق ) بیان کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حفص نے ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اسے صرف اسی شیخ یعنی علی بن حفص المدائنی نے ہی مسند کیا ہے۔