Saeed said:
Umar رضی اللہ عنہ passed by Hassan رضی اللہ عنہ when he was reciting verses in the mosque. He looked at him. Thereupon he said: I used to recite verses when there was present in it the one who was better than you (i.e. the Prophet).
ہم سے ابن ابی خلف اور احمد بن عبدہ المعنی نے بیان کیا , ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے بیان کیا , سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں گھور کر دیکھا، تو انہوں نے کہا: میں شعر پڑھتا تھا حالانکہ اس ( مسجد ) میں آپ سے بہتر شخص ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود ہوتے تھے۔
The tradition mention above has also been transmitted by Saeed bin al-Musayyab through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:
So he (Umar’ رضی اللہ عنہ) feared that he would refer to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم; therefore he allowed him.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، سعید بن المسیب کی سند سے, اس سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے
تو وہ ( عمر رضی اللہ عنہ ) ڈرے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کو بطور دلیل پیش نہ کر دیں چنانچہ انہوں نے انہیں ( مسجد میں شعر پڑھنے کی ) اجازت دے دی۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to setup a pulpit in the mosque for Hassan رضی اللہ عنہ who would stand on it and satirise those who spoke against the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would say: The spirit of holiness (i.e. Gabriel) is with Hassan so long as he speaks in defence of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن سلیمان المیسی لووین نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے، عروہ اور ہشام کی سند سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کی ہجو کرتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرتے تھے، تو ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً روح القدس ( جبرائیل ) حسان کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتے ہیں ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The verse “And the poets it is those straying in evil who follow them. He (Allah) then abrogated it and made an exception saying: Except those who believe and work righteousness, engage much in the remembrance of Allah.
ہم سے احمد بن محمد المروزی نے بیان کیا: مجھ سے علی بن حسین نے اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
آیت کریمہ «والشعراء يتبعهم الغاوون» شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے ہوں ( الشعراء: ۲۲۴ ) میں سے وہ لوگ مخصوص و مستثنیٰ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے «إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وذكروا الله كثيرا» سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا ( الشعراء: ۲۲۷ ) میں بیان کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم finished the dawn prayer, he would ask: Did any of you have a dream last night? And he said: All that is left of Prophecy after me is a good vision.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کی سند سے، زفر بن صعصعہ سے، اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے ( سلام پھیر کر ) پلٹتے تو پوچھتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اور فرماتے: میرے بعد نیک خواب کے سوا نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا ۔
Ubadah bin al-Samit رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: A believer’s vision is the forty-sixth part of Prophecy.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے اور انس رضی اللہ عنہ سے,عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When the time draws near, a believer’s vision can hardly be false. The truer one of them is in his speech, the truer he is in his vision. Visions are of three types: Good visions are glad tidings from Allah, a terrifying vision caused by the devil, and the ideas which come from within a man. So when one sees anything he dislikes, he should get up and pray, and should not tell it to the people. He said: I like a fetter and dislike a shackle on the neck; a fetter indicates being firmly established in religion. Abu Dawud said: “when the time draws near” means that when the day and night are equal.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمانہ قریب ہو جائے گا، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہو گا، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہو گا، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہو گا، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( خواب میں ) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے، فرمایا: میں قید ( پیر میں بیڑی پہننے ) کو ( خواب میں ) پسند کرتا ہوں اور غل ( گردن میں طوق ) کو ناپسند کرتا ہوں اور قید ( پیر میں بیڑی ہونے ) کا مطلب دین میں ثابت قدم ہونا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب زمانہ قریب ہو جائے گا کا مطلب یہ ہے کہ جب رات اور دن قریب قریب یعنی برابر ہو جائیں۔
Narrated Abu Razin رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The vision flutters over a man as long as it is not interpreted, but when it is interpreted, it settles. And I think he said: Tell it only to one who loves (i. e. friend) or one who has judgment.
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب پرندے کے پیر پر ہوتا ہے ۱؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کر دی جائے، اور جب اس کی تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے ۔
Abu Qatadah رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: A good vision comes from Allah and a dream (hulm) from the devil, so when one of you sees what he dislikes, he must spit on his left (three times), and seek refuge in Allah from its evil. It will then not harm him.
ہم سے نفیلی نے بیان کیا کہ میں نے زہیر کو کہتے سنا, میں نے یحییٰ بن سعید کو کہتے سنا: میں نے ابو سلمہ کو کہتے سنا, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خیالات شیطان کی طرف سے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( خواب میں ) ایسی چیز دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے، تو اپنے بائیں جانب تین بار تھوکے، پھر اس کے شر سے پناہ طلب کرے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one of you sees a vision which he dislikes, he must spit on his left (three times), seek refuge in Allah from the devil three times, and turn from the side on which he was lying.
ہم سے یزید بن خالد ہمدانی اور قتیبہ بن سعید ثقفی نے بیان کیا , ہمیں لیث نے ابو الزبیر سے خبر دی , جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے، اور اپنے اس پہلو کو بدل دے جس پر وہ تھا ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: He who sees me in a dream will see me when awake or as if he will see me when awake, for the devil does not take my likeness.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے خبر دی، وہ ابن شہاب کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا، اور شیطان میری شکل میں نہیں آ سکتا۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone makes a representation of anything, Allah will punish him on the day of Resurrection for it until he breathes into it, but he will bw unable to do so. If anyone pretends to have had a dream which he did not see, he will gives the task of joining barley-seed. If anyone listens to other people’s talk when they try to avoid him, lead will be poured into his ears on the Day of resurrection.
ہم سے مسدد اور سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا، عکرمہ کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تصویر بنائے گا، اس کی وجہ سے اسے ( اللہ ) قیامت کے دن عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان ڈال دے، اور وہ اس میں جان نہیں ڈال سکتا، اور جو جھوٹا خواب بنا کر بیان کرے گا اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے اور جو ایسے لوگوں کی بات سنے گا جو اسے سنانا نہیں چاہتے ہیں، تو اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: One night it seemed to me in a dream that we were in the house of Uqbah ibn Rafi and were brought some of the fresh dates of Ibn tab. I interpreted it as meaning that to us is granted eminence (rif'ah) in this world, a blessed hereafter ('aqibah), and that our religion has been good (tabah).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں، اور ہمارے پاس ابن طاب کی رطب تازہ ( کھجوریں ) لائی گئیں، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہو گیا ۔
Abu Saeed Al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one of you yawns, he should hold his hand over his mouth, for the devil enters.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے، سہیل کی سند سے، ابن ابی سعید خدری سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ کو بند کر لے، اس لیے کہ شیطان ( منہ میں ) داخل ہو جاتا ہے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted in a similar way by Suhail through a different chain of narrators. This version has;
“during prayer, so he should hold as far as possible”.
ہم سے ابن العلاء نے وکیع کی سند سے اور سفیان کی سند سے بیان کیا, سہیل سے بھی اسی طرح مروی ہے
اس میں یہ ہے ( جب جمائی ) نماز میں ہو تو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Allah likes sneezing but dislikes yawning. So when one of you yawns, he should restrain it as much as possible, and should not say Ha, Ha, for that is from the devil who laughs at him.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں ابن ابی ذہب نے خبر دی، وہ سعید مقبری سے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے رہے، اور ہاہ ہاہ نہ کہے، اس لیے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، وہ اس پر ہنستا ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sneezed, he placed his hand or a garment on his mouth, and lessened the noise. The transmitter Yahya is doubtful about the exact words khafada or ghadda (lessened).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، وہ ابن عجلان سے، سمی نے ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور آہستہ آواز سے چھینکتے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: There are five qualities which a Muslim should display to his brother: return of salutation, response to the one who sneezes, acceptance of the invitation, paying sick visit to a patient, and accompanying the funeral.
ہم سے محمد بن داؤد بن سفیان اور خشیش بن اسرم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، ابن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں ہر مسلمان پر اپنے بھائی کے لیے واجب ہیں، سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا اور جنازے کے ساتھ جانا ۔
Narrated Hilal bin Yasar said:
We were with Salim bin Ubayd when a man from among the people sneezed and said: Peace be upon you. Salim said: And upon you and your mother. Later he said: Perhaps you found something (annoying) in what I said to you. He said: I wished you would not mention my mother with good or evil. He said: I have just said to you what the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said. We were in the presence of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم when a man from among the people sneezed, saying: Peace be upon you! The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: And upon you and your mother. He then said: When one of you sneezes, he should praise Allah. He further mentioned some attributes (of Allah), saying: The one who is with him should say to him: Allah have mercy on you, and he should reply to them: Allah forgive us and you.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، منصور کی سند سے, ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ
ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «السلام عليكم» ( تم پر سلامتی ہو ) تو سالم نے کہا: «عليك وعلى أمك» ( تم پر بھی اور تمہاری ماں پر بھی ) پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے: شاید جو بات میں نے تم سے کہی تمہیں ناگوار لگی، اس نے کہا: میری خواہش تھی کہ آپ میری ماں کا ذکر نہ کرتے، نہ خیر کے ساتھ نہ شر کے ساتھ، وہ بولے، میں نے تم سے اسی طرح کہا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، اسی دوران کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اچانک لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: «السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك وعلى أمك» ، پھر آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد الله» کہے اللہ کی تعریف کرے پھر آپ نے حمد کے بعض کلمات کا تذکرہ کیا ( جو چھینک آنے والا کہے ) اور چاہیئے کہ وہ جو اس کے پاس ہو «يرحمك الله» ( اللہ تم پر رحم کرے ) کہے، اور چاہیئے کہ وہ ( چھینکنے والا ) ان کو پھر جواب دے، «يغفر الله لنا ولكم» ( اللہ ہماری اور آپ کی مغفرت فرمائے ) ۔
Narrated Salim bin Ubayd al-Ashjai: The tradition mentioned above (No. 5013) has also been mentioned by Salim ibn Ubayd al-Ashjai to the same effect from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators.
ہم سے تمیم بن المنتصر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق نے، یعنی ہم سے ابن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے ابو بشر ورقا کی سند سے، ان سے منصور نے، ہلال بن یساف کی سند سے، وہ خالد بن عرفجہ کی سند سے, اس سند سے سالم بن عبید اشجعی سے یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے۔