Narrated Abdullah bin Ghannam رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone says in the morning: O Allah! whatever favour has come to me, it comes from Thee alone Who has no partner; to Thee praise is due and thanksgiving, '! he will have expressed full thanksgiving for the day; and if anyone says the same in the evening, he will have expressed full thanksgiving for the night.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن حسن اور اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سلیمان بن بلال نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عبداللہ بن عنبسہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, عبداللہ بن غنام بیاضی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی «اللهم ما أصبح بي من نعمة فمنك وحدك لا شريك لك فلك الحمد ولك الشكر» اے اللہ! صبح کو جو نعمتیں میرے پاس ہیں وہ تیری ہی دی ہوئی ہیں، تو اکیلا ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے، تو ہی ہر طرح کی تعریف کا مستحق ہے، اور میں تیرا ہی شکر گزار ہوں تو اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا اور جس نے شام کے وقت ایسا ہی کہا تو اس نے اس رات کا شکر ادا کر دیا۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم never failed to utter these supplications in the evening and in the morning: O Allah, I ask Thee for security in this world and in the Hereafter: O Allah! I ask Thee for forgiveness and security in my religion and my worldly affairs, in my family and my property; O Allah! conceal my fault or faults (according to Uthman's version), and keep me safe from the things which I fear; O Allah! guard me in front of me and behind me, on my right hand and on my left, and from above me: and I seek in Thy greatness from receiving unexpected harm from below me. Abu Dawud said: Waki said: That is to say, swallowing by the earth.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا۔ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ المعنا نے بیان کیا، ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبادہ بن مسلم الفزاری نے بیان کیا، انہوں نے جبیر بن ابی سلیمان بن جبیر بن مطعم کی سند سے، انہوں نے کہا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح اور شام کرتے تو ان دعاؤں کا پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے«اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياى وأهلي ومالي اللهم استر عورتي» ( عثمان کی روایت میں «عوراتي» ہے ) «عوراتي وآمن روعاتي اللهم احفظني من بين يدى ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» اے للہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے عفو و درگزر کی، اپنے دین و دنیا، اہل و عیال، مال میں بہتری و درستگی کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ! ہماری ستر پوشی فرما۔ اے اللہ! ہماری شرمگاہوں کی حفاظت فرما، اور ہمیں خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ، اے اللہ! تو ہماری حفاظت فرما آگے سے، اور پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے، اوپر سے، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے پکڑ لیا جاؤں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں۔
Narrated Daughter of the Prophet: Abdul Hamid, a client of Banu Hashim, said that h
His mother who served some of the daughters of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم told him that one of the daughters of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to teach her saying: Say in the morning: Glory be to Allah, and I begin with praise of Him; there is no power but in Allah ; what Allah wills comes to pass and what He does not will does not come to pass; I know that Allah is Omnipotent and that Allah has comprehended everything in knowledge ; for whoever says it in the morning will be guarded till the evening, and whoever says it in the evening will be guarded till the morning.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے عمرو نے خبر دی، ان سے سالم الفر اع نے بیان کیا، بنی ہاشم کے غلام عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ
ان کی ماں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کی خدمت میں رہا کرتی تھیں انہیں بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب تم صبح کرو تو کہو «سبحان الله وبحمده لا قوة إلا بالله ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شىء قدير وأن الله قد أحاط بكل شىء علما» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا، اور اس کی تعریف کرتا ہوں، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا، اور جو وہ نہیں چاہے وہ نہیں ہو گا، میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ اپنے علم سے ہر چیز کو محیط ہے جو شخص ان کلمات کو صبح کے وقت کہے گا اس کی ( اللہ کی طرف سے ) شام تک حفاظت کی جائے گی، اور جو شام کے وقت کہے گا اس کی صبح تک۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone repeats in the morning: So glory be to Allah in the evening and in the morning; to Him is the praise in the heavens and the earth, and in the late evening and at noon. . . . thus shall you be brought forth, he will get that day what he has missed; and if anyone repeats these words in the evening he will get that night what he has missed. Ar-Rabi transmitted it from al-Layth.
ہم سے احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، کہا: انہوں نے ہمیں خبر دی۔ اور ہم سے ربیع بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھے لیث نے سعید بن بشیر نجاری کی سند سے خبر دی,محمد بن عبدالرحمٰن البیلمانی کی روایت پر انہوں نے کہا: الربیع بن البیلمانی, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون، وله الحمد في السموات والأرض وعشيا وحين تظهرون» سے لے کر «وكذلك تخرجون» تک کہے تو اس دن کے ثواب میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی، اور جو شخص شام کو ان کلمات کو کہے تو اس رات میں اس کی نیکیوں و بھلائیوں میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی۔ربیع نے اسے لیث سے نقل کیا ہے۔
Narrated Abu Ayyash رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone says in the morning: There is no god but Allah alone Who has no partner; to Him belong the dominions, to Him praise is due, and He is Omnipotent, he will have a reward equivalent to that for setting free a slave from among the descendants of Ismail. He will have ten good deeds recorded for him, ten evil deeds deducted from him, he will be advanced ten degrees, and will be guarded from the Devil till the evening. If he says them in the evening, he will have a similar recompense till the morning. The version of Hammad says: A man saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in a dream and said: Messenger of Allah! Abu Ayyash is relating such and such on your authority. He said: Abu Ayyash has spoken the truth. Abu Dawud said: Ismail bin Jafar, Musa al-Zim'i and Adb Allah bin Jafar transmitted it from Suhail, from his father on the authority of Ibn 'A'ish.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، حماد اور وہیب نے سہیل سے اور اپنے والد سے اسی طرح کی روایت کی, ابوعیاش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہے تو اسے اولاد اسماعیل میں سے ایک گردن آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دئیے جائیں گے، اور وہ شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا، اور اگر شام کے وقت کہے تو صبح تک اس کے ساتھ یہی معاملہ ہو گا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( خواب میں ) دیکھا جیسے سونے والا دیکھتا ہے تو اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوعیاش آپ سے ایسی ایسی حدیث روایت کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ابوعیاش صحیح کہہ رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسماعیل بن جعفر، موسی زمعی اور عبداللہ بن جعفر نے سہیل بن أبی صالح سے سہیل نے اپنے والد سے اور ابوصالح نے ابن عائش سے روایت کیا ہے۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone says in the morning: O Allah! in the morning we call Thee, the bearers of Thy Throne, Thy angels, and all Thy creatures to witness that Thou art Allah than Whom there is no god, Thou being alone and without a partner, and that Muhammad is Thy servant and Thy Messenger, Allah will forgive him any sins that he commits that day; and if he repeats them in the evening. Allah will forgive him any sins he commits that night.
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے بقیہ نے بیان کیا، مسلم کی سند سے، یعنی ابن زیاد نے کہا, مسلم بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» اے اللہ! میں نے صبح کی میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں کہا تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوئے ہوں گے، سب معاف کر دیے جائیں گے، اور جس کسی نے ان کلمات کو شام کے وقت کہا تو اس رات میں اس سے جتنے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے سب معاف کر دئیے جائیں گے۔
Al-Harith bin Muslim al-Tamimi quoted his father Muslim bin al-Harith al-Tamimi رضی اللہ عنہ as saying:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم told him secretly: When you finish the sunset prayer, say: 'O Allah, protect me from Hell seven times; for if you say that and die that night, protection from it would be recorded for you; and when you finish the dawn prayer, say it in a similar way, for if you die that day, protection from it would be recorded for you. Abu Saeed told me that al-Harith said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said this to us secretly, so we confine it to our brethren.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم ابو النضر الدمشقی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن شعیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے ابو سعید فلسطِینی عبدالرحمٰن بن حسن نے حارث بن مسلم کی روایت سے خبر دی، انہوں نے انہیں خبر دی, مسلم بن حارث تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے ان سے کہا: جب تم مغرب سے فارغ ہو جاؤ تو سات مرتبہ کہو «اللهم أجرني من النار» اے اللہ مجھے جہنم سے بچا لے اگر تم نے یہ دعا پڑھ لی اور اسی رات میں تمہارا انتقال ہو گیا، تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی، اور جب تم فجر پڑھ کر فارغ ہو اور ایسے ہی ( یعنی سات مرتبہ «اللهم أجرني من النار» ) کہو اور پھر اسی دن میں تمہارا انتقال ہو جائے تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں کہ مجھے ابوسعید نے بتایا وہ حارث سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات مجھے چپکے سے بتائی ہے، اس لیے ہم اسے اپنے خاص بھائیوں ہی سے بیان کرتے ہیں ( ہر شخص سے نہیں کہتے، یا ہم اس دعا کو اپنے خاندان والوں کے لیے خاص سمجھتے ہیں ) ۔
Narrated Muslim ibn al-Harith bin Muslim at-Tamimi: A similar tradition (to No. 5061) has been transmitted by Muslim bin al-Harith bin Muslim at-Tamimi on the authority of his father from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators, up to protection from it . But this version says: before speaking to anyone . In this version Ali bin Sahl said that his father told him. Ali and Ibn al-Musaffa said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent us on an expedition. When we reached the place of attack, I galloped my horse and outstripped my companions, and the people of that locality received me with a great noise. I said to them: Say There is no god but Allah, and you will be protected. They said this. My companions blamed me, saying: You deprived us of the booty. When we came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, they told him what I had done. So he called me, appreciating what I had done, and said: Allah has recorded for you so and so (a reward) for every man of them. Abdur Rahman said: I forgot the reward. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: I shall write a will for you after me. He did this and stamped it, and gave it to me, saying. . . . He then mentioned the rest of the tradition to the same effect. Ibn al-Musaffa said: I heard al-Harith bin Muslim bin al-Harith at-Tamimi transmitting it from his father.
انہوں نے کہا ہم سے محمد بن المصفی الحمصی، علی بن سہل رملی، مومل بن الفضل حرانی اور عمرو بن عثمان الحمصی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے الولید نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن حسن کنانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا:حارث بن مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا جیسے اوپر گزرا «كتب لك جوار منها» تک مگر اس میں دونوں میں اتنا اضافہ ہے کہ: یہ دعا کسی سے بات کرنے سے پہلے پڑھے۔ اور علی اور ابن مصفٰی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا پھر جب ہم اس جگہ کے قریب پہنچے جہاں ہمیں چھاپہ مارنا اور حملہ کرنا تھا، تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیزی سے آگے بڑھایا اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، بستی والے ( ہمیں دیکھ کر ) چیخنے چلانے لگے، میں نے ان سے کہا: «لا إله إلا الله» کہہ دو ( ایمان لے آؤ ) تو بچ جاؤ گے، تو انہوں نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا، میرے ساتھی مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے: تو نے ہمیں غنیمت سے محروم کر دیا، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ان لوگوں نے میں نے جو کیا تھا اس سے آپ کو باخبر کیا، تو آپ نے مجھے بلایا اور میرے کام کی تعریف کی اور فرمایا: سن! اللہ نے تمہیں اس بستی کے ہر ہر فرد کے بدلے اتنا اتنا ثواب دیا ہے ( عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں ثواب بھول گیا ) ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے ایک وصیت نامہ لکھ دیتا ہوں ( وہ میرے بعد تیرے کام آئے گا ) ، پھر آپ نے لکھا، اس پر اپنی مہر ثبت کی اور مجھے دے دیا اور فرمایا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ابن المصفہ کہتے ہیں: میں نے حارث بن مسلم بن الحارث التمیمی کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا ہے۔
Abu al-Darda رضی اللہ عنہ said:
If anyone says seven times morning and evening; “Allah sufficient me: there is no god but He; on him is my trust- he, the Lord of the Throne (of glory) Supreme”, Allah will be sufficient for him against anything which grieves him, whether he is true or false in (repeating) them.
ہم سے یزید بن محمد الدمشقی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق بن مسلم الدمشقی نے بیان کیا، اور وہ ثقہ اور متقی مسلمانوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہا: ہم سے مدرک بن سعد نے بیان کیا۔ یزید نے کہا: ایک ثقہ شیخ، یونس بن میسرہ بن حلبس کی سند سے, ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سات مرتبہ «حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» کافی ہے مجھے اللہ، صرف وہی معبود برحق ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، وہی عرش عظیم کا رب ہے کہے تو اللہ اس کی پریشانیوں سے اسے کافی ہو گا چاہے ان کے کہنے میں وہ سچا ہو یا جھوٹا۔
Narrated Abdullah bin Khubayb رضی اللہ عنہ :
We went out one rainy and intensely dark night to look for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to lead us in prayer, and when we found him, he asked: Have you prayed?, but I did not say anything. So he said: Say, but I did not say anything. He again said: Say, but I did not say anything. He then said: Say. So I said: What am I to say? He said: Say: Say, He is Allah, One, and al-Mu'awwadhatan thirty three times in the morning and evening; they will serve you for every purpose.
ہم سے محمد بن المصفہ نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فودیک نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے ابن ابی ذہب نے ابو اسید البراد کی سند سے اور معاذ بن عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کی ایک سخت اندھیری رات میں نماز پڑھانے کے لیے تلاش کرنے نکلے، تو ہم نے آپ کو پا لیا، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے فرمایا: کچھ کہو اس پر بھی ہم نے کچھ نہیں کہا، آپ نے پھر فرمایا: کچھ کہو ( پھر بھی ) ہم نے کچھ نہیں کہا، پھر آپ نے فرمایا: کچھ تو کہو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت، اور تین مرتبہ شام کے وقت کہہ لیا کرو تو یہ تمہیں ( ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاؤ کے لیے ) کافی ہوں گی۔
Narrated Abu Malik رضی اللہ عنہ :
The people asked: Tell us a word which we repeat in the morning, evening and when we rise. So he commanded us to say: O Allah! Creator of Heavens and Earth; Knower of all that is hidden and open; Thou art the Lord of everything; the angels testify that there is no god but Thee, for we seek refuge in Thee from the evil within ourselves, from the evil of the Devil accused and from the evil of his suggestion about partnership with Allah, and that we earn sin for ourselves or drag it to a Muslim.
ہم سے محمد بن عوف نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ابن عوف نے کہا: میں نے اسے اصل اسماعیل میں دیکھا، انہوں نے کہا: مجھ سے ضمضم نے شریح کی سند سے بیان کیا، ابو مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں کوئی ایسی ( جامع ) بات بتائیے، جسے ہم صبح و شام اور لیٹتے وقت کہا کریں، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ کہا کریں: «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت رب كل شىء والملائكة يشهدون أنك لا إله إلا أنت فإنا نعوذ بك من شر أنفسنا ومن شر الشيطان الرجيم وشركه وأن نقترف سوءا على أنفسنا أو نجره إلى مسلم» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو ہر چیز کا رب ہے، فرشتے گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں ہے، ہم تیری پناہ مانگتے ہیں، اپنے نفسوں کے شر سے، اور دھتکارے ہوئے شیطان کے شر، اور اس کے شرک سے، اور گناہ کی بات خود کرنے سے، یا کسی مسلمان سے گناہ کی بات کرانے سے ۔
Abu Dawud said:
And through the same chain of transmitters the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When one rises in the morning, one should say: We have reached the morning, and in the morning the dominion belongs to Allah, the Lord of the universe. O Allah! I ask Thee for the good this day contains, for conquest, victory, light, blessing and guidance during it; and I seek refuge in Thee from the evil it contains and the evil contained in what comes after it. In the evening he should say the equivalent.
ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسی اسناد سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو یہ کہے «أصبحنا وأصبح الملك لله رب العالمين اللهم إني أسألك خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبركته وهداه وأعوذ بك من شر ما فيه وشر ما بعده» ہم نے صبح کی اور ملک ( پوری کائنات ) نے صبح کی جو اللہ رب العالمین کا ہے، اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی، اس دن کی فتح و نصرت، نور و برکت اور ہدایت کا طالب ہوں، اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس دن کی اور اس کے بعد کے دنوں کی برائی سے اور جب شام کرے تو بھی اسی طرح کہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin: Shariq al-Hawzani and I came to Aishah (رضی اللہ عنہا) and asked her:
By which (prayer) the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم began when he woke up at night? She replied: You asked me about a thing which no one asked me before. When he woke up at night, he uttered: Allah is Most Great ten times, and uttered Praise be to Allah ten times, and said Glory be to Allah and I begin with His praise ten times, and said: Glory be to the King, the Most Holy ten times, and asked Allah's pardon ten times, and said: There is no god but Allah ten times, and then said: O Allah! I seek refuge in Thee from the strait of the Day of resurrection, ten times. He then began the prayer.
ہم سے کثیر بن عبید نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیع بن ولید نے بیان کیا، ان سے عمر بن جعثم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے الازہر بن عبداللہ الحرازی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: شریق ہوزنی کہتے ہیں, میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور ان سے پوچھا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں نیند سے جاگتے تو پہلے کیا کرتے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی، جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی ہے، آپ جب رات میں نیند سے جاگتے تو دس بار، «الله اكبر» کہتے، دس بار «الحمد الله» کہتے، دس بار «سبحان الله وبحمده» کہتے، دس بار«سبحان الملك القدوس» کہتے، اور دس بار «استغفر الله» کہتے، اور دس بار «لا إله إلا الله» کہتے، پھر دس بار «اللهم إني أعوذ بك من ضيق الدنيا وضيق يوم القيامة» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی تنگی سے اور قیامت کے دن کی تنگی سے کہتے، پھر نماز شروع کرتے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was on a journey, he would say at daybreak: Let a hearer hear beginning with praise of Allah and His good favours and blessing to us. Our Lord, accompany us and show favour to us, and I seek refuge in Allah from Hell.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے سلیمان بن بلال نے، سہیل بن ابی صالح کے واسطہ سے، اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور سحر میں اٹھتے تو کہتے «سمع سامع بحمد الله ونعمته وحسن بلائه علينا اللهم صاحبنا فأفضل علينا عائذا بالله من النار» سننے والے نے اللہ کی حمد، اس کی نعمتوں کی شکر گزاری اور اپنے امتحان میں ہماری حسن کارکردگی کو ( دیکھ اور ) سن لیا، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ رہ، اور ہمیں اپنے فضل سے نواز، اور میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
If anyone says in the morning: O Allah! whatever oath I take, whatever word I speak, and whatever vow I take, Thine will precedes all that: whatever Thou willeth, occurs, and whatever Thou dost not will, dost not occur. O Allah! pardon me and disregard me for it. O Allah! whomsoever Thou sendest thine blessing, to him my blessing is due, and whomsoever thou cursest, to him my curse is due, exemption from it will be granted to him that day.
ہم سے ابن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے مسعودی نے بیان کیا، ہم سے القاسم نے بیان کیا، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے تھے
جو شخص صبح کرتے وقت کہے «اللهم ما حلفت من حلف أو قلت من قول أو نذرت من نذر فمشيئتك بين يدى ذلك كله ما شئت كان وما لم تشأ لم يكن اللهم اغفر لي وتجاوز لي عنه اللهم فمن صليت عليه فعليه صلاتي ومن لعنت فعليه لعنتي» اے اللہ! میں جو بھی قسم کھاؤں یا جو بھی بات کہوں یا جو بھی نذر مانوں ان تمام میں تیری مشیت ہی میری نظروں میں مقدم ہے، جو تو، چاہے گا ہو گا، جو تو نہیں چاہے گا نہیں ہو گا، اے اللہ! تو مجھے بخش دے، اور مجھ سے درگزر فرما، اے اللہ! جس پر تیری رحمت ہو تو اسے میری دعا بھی شامل حال رہے اور جس پر تو لعنت فرمائے اس پر میری طرف سے بھی لعنت ہو ۔ تو وہ اس دن کے ( فتنوں ) سے محفوظ و مستثنٰی رہے گا، راوی کو شک ہے «يومه ذلك» کہا یا «ذلك اليوم» کہا۔
Narrated Uthman bin Affan رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If anyone says three times: In the name of Allah, when Whose name is mentioned nothing on Earth or in Heaven can cause harm, and He is the Hearer, the Knower he will not suffer sudden affliction till the morning, and if anyone says this in the morning, he will not suffer sudden affliction till the evening. Aban was afflicted by some paralysis and when a man who heard the tradition began to look at him, he said to him: Why are you looking at me? I swear by Allah, I did not tell a lie about Uthman رضی اللہ عنہ , nor did Uthman tell a lie about the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, but that day when I was afflicted by it, I became angry and forgot to say them.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابومودود نے بیان کیا، انہوں نے ایک ایسے شخص سے بیان کیا جس نے ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا, عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص تین بار «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شىء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» اللہ کے نام سے کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے کہے تو اسے صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، اور جو شخص تین مرتبہ صبح کے وقت اسے کہے تو اسے شام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، راوی حدیث ابومودود کہتے ہیں: پھر راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہوا تو وہ شخص جس نے ان سے یہ حدیث سنی تھی انہیں دیکھنے لگا، تو ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو، قسم اللہ کی! نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے اور نہ ہی عثمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، لیکن ( بات یہ ہے کہ ) جس دن مجھے یہ بیماری لاحق ہوئی اس دن مجھ پر غصہ سوار تھا ( اور غصے میں ) اس دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔
A similar tradition has been transmitted by Aban bin Uthman رضی اللہ عنہ , from Uthman رضی اللہ عنہ , from the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This version does not mention the story of paralysis.
ہم سے نصر بن عاصم الانطاکی نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابومودودنے محمد بن کعب کی سند سے، انہوں نے ابان بن عثمان کی سند سے بیان کیا, عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہےلیکن اس میں فالج کا قصہ مذکور نہیں۔
Narrated Abdur Rahman bin Abu Bakrah said that he told his father:
O my father! I hear you supplicating every morning: O Allah! Grant me health in my body. O Allah! Grant me good hearing. O Allah! Grant me good eyesight. There is no god but Thou. You repeat them three times in the morning and three times in the evening. He said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم using these words as a supplication and I like to follow his practice. The transmitter, Abbas, said in this version: And you say: O Allah! I seek refuge in Thee from infidelity and poverty. O Allah! I seek refuge in Thee from punishment in the grave. There is no god but Thee . You repeat them three times in the morning and three times in the evening, and use them as a supplication. I like to follow his practice. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The supplications to be used by one who is distressed are: O Allah! Thy mercy is what I hope for. Do not abandon me to myself for an instant, but put all my affairs in good order for me. There is no god but Thou. Some transmitters added more than others.
ہم سے عباس بن عبد العظیم اور محمد بن المثنی نے بیان کیا، ہم سے عبد الملک بن عمرو نے، عبدالجلیل بن عطیہ سے اور جعفر بن میمون کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا:عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے کہا
ابو جان! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں «اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا إله إلا أنت» اے اللہ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر، اے اللہ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر، اے اللہ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں آپ اسے تین مرتبہ دہراتے ہیں جب صبح کرتے ہیں اور تین مرتبہ جب شام کرتے ہیں؟، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی دعا کرتے ہوئے سنا ہے، اور مجھے پسند ہے کہ میں آپ کا مسنون طریقہ اپناؤں۔ عباس بن عبدالعظیم کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ آپ کہتے «اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر لا إله إلا أنت» اے اللہ! میں کفر و محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، تو ہی معبود برحق ہے تین مرتبہ اسے صبح دہراتے اور تین مرتبہ اسے شام میں، ان کے ذریعہ آپ دعا کرتے تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ کی سنت کا طریقہ اپناؤں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مصیبت زدہ و پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے «اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت» اے اللہ! میں تیری ہی رحمت چاہتا ہوں، تو مجھے ایک لمحہ بھی نظر انداز نہ کر، اور میرے تمام کام درست فرما دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے بعض راوی الفاظ میں کچھ اضافہ کرتے ہیں۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: if anyone says a hundred times in the morning: “Glory be to Allah, the Sublime, and I begin with praise of him”, and says likewise in the evening, no one from the creatures will bring anything like the one which he will bring.
ہم سے محمد بن المنہال نے بیان کیا، ان سے یزید نے، ہم سے ابن زریع نے بیان کیا، ہم سے رواہ بن قاسم نے، سہیل کی سند سے، سمیہ کی سند سے، ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص «سبحان الله العظيم وبحمده» سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہو سکتا۔
Narrated Qatadah:
When the Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saw the new moon, he said: a new moon of good and right guidance; a new moon of good and right guidance; a new moon of good and right guidance. I believe in Him Who created you three times. He would then say: Praise be to Allah Who has made such and such a month to pass and has brought such and such a month.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابان نے بیان کیا, قتادہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے: «هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقك» یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، میں ایمان لایا اس پر جس نے تجھے پیدا کیا ہے یہ تین مرتبہ فرماتے، پھر فرماتے: شکر ہے، اس اللہ کا جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا۔