Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: It is not right for a Muslim to keep apart from another Muslim for more than three days. Then when he meets him and gives three salutations, receiving during that time no response, the other bears his sin.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن خالد بن عثمہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن المنیب نے بیان کیا، یعنی مدنی نے کہا: مجھے ہشام بن عروہ نے عروہ کی سند سے خبر دی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے تو جب وہ ( تین دن کے بعد ) اس سے ملے اسے تین مرتبہ سلام کرے، اور وہ ایک بار بھی سلام کا جواب نہ دے تو وہ اپنا گناہ لے کر لوٹے گا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: It is not allowable for a Muslim to keep apart from his brother for more than three days, for one who does so and dies will enter Hell.
ہم سے محمد بن صباح البزاز نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، منصور کی سند سے، ابو حازم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، لہٰذا جو تین سے زیادہ چھوڑے رکھے پھر وہ ( بغیر توبہ کے اسی حال میں ) مر جائے تو وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔
Narrated AbuKhirash as-Sulami رضی اللہ عنہ :
He heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If one keeps apart from his brother for a year, it is like shedding his blood.
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے حیوہ کی سند سے، ان سے ابو عثمان الولید بن ابی الولید نے، عمران بن ابی انس کی سند سے بیان کیا, ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلق رکھا تو یہ اس کے خون بہانے کی طرح ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The gates of Paradise are opened on Mondays and Thursdays, and forgiveness is granted to every man who does not associate anything with Allah, except for a man between whom and his brother there is rancor. Command will be given that they should be given respite till they conciliate. Abu Dawud said: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم kept apart from some of his wives for forty days, and Ibn Umar رضی اللہ عنہما kept apart from his son till he died. Abu Dawud said: If keeping apart is meant for the sake of Allah, then it has no concern with it. Umar bin Abdul-Aziz covered his face from a man.
ہم سے مسدد، ابو عوانہ نے سہیل بن ابی صالح سے اپنے والد سے روایت کی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دوشنبہ اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر ان دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کی جاتی ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا البتہ اس بندے کی نہیں جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی اور رقابت ہو، پھر کہا جاتا ہے: ان دونوں ( کی مغفرت ) کو ابھی رہنے دو جب تک کہ یہ صلح نہ کر لیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات کو چالیس دن تک چھوڑے رکھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک بیٹے سے بات چیت بند رکھی یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ قطع کلامی اگر اللہ کے لیے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور عمر بن عبدالعزیز نے ایک شخص سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Avoid suspicion for suspicion is the most lying form of talk. Do not be inquisitive about one another, or spy on one another.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، ابو الزناد سے، العراج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظن و گمان کے پیچھے پڑنے سے بچو یا بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، نہ ٹوہ میں پڑو اور نہ جاسوسی کرو ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The believer is the believer's mirror, and the believer is the believer's brother who guards him against loss and protects him when he is absent.
ہم سے ربیع بن سلیمان المحدثین نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، سلیمان کی سند سے، یعنی ابن بلال نے، کثیر بن زید کی سند سے، وہ ولید بن رباح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اس کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے ۔
Narrated Abud Darda رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Shall I not inform you of something more excellent in degree than fasting, prayer and almsgiving (sadaqah)? The people replied: Yes, Prophet of Allah! He said: It is putting things right between people, spoiling them is the shaver (destructive).
ہم سے محمد بن العلٰا نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے العماش کی سند سے، عمرو بن مرہ سے، سالم سے، ام الدرداء سے، ابو الدرداء کی سند سے، انہوں نے کہا:ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو درجے میں روزے، نماز اور زکاۃ سے بڑھ کر ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: آپس میں میل جول کرا دینا، اور آپس کی لڑائی اور پھوٹ تو سر مونڈنے والی ہے ۔
Humaid bin Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ quoted his mother as saying:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who forged in order to put things right between two persons did not lie. The version by Ahmad ibn Muhammad and Musaddad has: The liar is not the one who puts things right between people, saying what is good and increasing good.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، ہمیں سفیان نے زہری کی سند سے خبر دی, ہم سے اور مسدد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا۔ ہم سے احمد بن محمد بن شبویح المروازی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہمیں معمر نے خبر دی،الزہری کی سند سے، حمید بن عبدالرحمٰن کی سند سے، ان کی والدہ سے،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے جھوٹ نہیں بولا جس نے دو آدمیوں میں صلح کرانے کے لیے کوئی بات خود سے بنا کر کہی۔ احمد بن محمد اور مسدد کی روایت میں ہے، وہ جھوٹا نہیں ہے: جس نے لوگوں میں صلح کرائی اور کوئی اچھی بات کہی یا کوئی اچھی بات پہنچائی ۔
Umm Kulthum, daughter of Uqbah رضی اللہ عنہا said:
I did not hear the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم giving licence for anything people say falsely except in three matters. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would say: I do not count liar a man who puts things right between people, saying a word by which he intends only putting things right, and a man who says something in war, and a man who says something to his wife says something to his husband.
ہم سے ربیع بن سلیمان الجیزی نے بیان کیا، ہم سے ابو الاسود نے نافع کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن یزید نے، ابن الہادی کی سند سے، ان سے عبد الوہاب بن ابی بکر نے، ان سے عبد الوہاب بن ابی بکر نے، ابن شعیب کی سند سے, الرحمٰن ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا، ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے۔
Al-Ruhayyi, daughter of Muawwidh bin Afra رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came and visited me in the morning when I had been conducted to my husband, and sat on my bedding as you are sitting beside me. Some little girls of ours began to play the tambourine and eulogize those of my ancestors who were killed in the battle of Badr, and then one of them said: And among us is a Prophet who knows what will happen tomorrow. He said: Stop this and say what you were saying.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے بشر نے خالد بن ذکوان سے بیان کیا, ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اس صبح آئے، جس رات میرا شب زفاف ہوا تھا تو آپ میرے بستر پر ایسے بیٹھ گئے جیسے تم ( خالد بن ذکوان ) بیٹھے ہو، پھر ( انصار کی ) کچھ بچیاں اپنے دف بجانے لگیں اور اپنے غزوہ بدر کی شہید ہونے والے آباء و اجداد کا اوصاف ذکر کرنے لگیں یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: اور ہمارے بیچ ایک ایسا نبی ہے جو کل ہونے والی باتوں کو بھی جانتا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور وہی کہو جو تم پہلے کہہ رہی تھیں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to Madina, the Abyssinians played for his coming out of joy; they played with spears.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ثابت کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو حبشی آپ کی آمد پر خوش ہو کر خوب کھیلے اور اپنی برچھیاں لے کر کھیلے۔
Narrated Nafi said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما heard a pipe, put his fingers in his ears and went away from the road. He said to me: Are you hearing anything? I said: No. He said: He then took his fingers out of his ears and said: I was with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, and he heard like this and he did like this. Abu Ali al-Lu'lu said: I heard Abu Dawud say: This is a rejected tradition.
ہم سے احمد بن عبید اللہ الغدانی نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے سعید بن عبدالعزیز نے بیان کیا، سلیمان بن موسیٰ سے, نافع کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے۔
Nafi said:
I was sitting behind Ibn Umar on the mount when he passed a shepherd who was blowing a pipe. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner. Abu Dawud said: Between Mutim and Nafi the name of a narrator Sulaiman bin Musa has been inserted.
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے مطعم بن المقد ام نے بیان کیا، انہوں نے کہا: نافع کہتے ہیں کہ
میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے سوار تھا، کہ ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جو بانسری بجا رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
Nafi said:
When we were with Ibn Umar رضی اللہ عنہما , he heard the sound of a man who was blowing a pipe. He then mentioned a similar tradition. Abu Dawud said: This is more rejected.
ہم سے احمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن جعفر الرقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو ملیح نے میمون کی سند سے بیان کیا, نافع کہتے ہیں کہ
میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا تو آپ نے ایک بانسری بجانے والے کی آواز سنی پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ان احادیث میں سب سے زیادہ منکر ہے ۔
Salam bin Miskin narrated:
An old man who witnessed Abu Wail in a wedding feast, said: They began to play, amuse and sing. He united the support of his hand round his knees that were drawn up, and said: I heard Abdullah (bin Masud) say: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Singing produces hypocrisy in the heart.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا:سلام بن مسکین ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں
جو ابووائل کے ساتھ ایک ولیمہ میں موجود تھے تو لوگ کھیل کود اور گانے بجانے میں لگے گئے، تو ابووائل نے اپنا حبوہ کھولا اور بولے: میں نے عبداللہ بن مسعود کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: گانا بجانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
A hermaphrodite (mukhannath) who had dyed his hands and feet with henna was brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He asked: What is the matter with this man? He was told: Messenger of Allah! he affects women's get-up. So he ordered regarding him and he was banished to an-Naqi'. The people said: Messenger of Allah! should we not kill him? He said: I have been prohibited from killing people who pray. Abu Usamah said: Naqi' is a region near Madina and not a Baqi'.
ہم سے ہارون بن عبداللہ اور محمد بن العلاء نے بیان کیا کہ انہیں ابو اسامہ نے مفضل بن یونس کی سند سے، اوزاعی نے ابو یسار القرشی کی سند سے، ابو ہاشم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہجڑا لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا رکھی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ عورتوں جیسا بنتا ہے، آپ نے حکم دیا تو اسے نقیع کی طرف نکال دیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اسے قتل نہ کر دیں؟، آپ نے فرمایا: مجھے نماز پڑھنے والوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے نقیع مدینے کے نواح میں ایک جگہ ہے اس سے مراد بقیع ( مدینہ کا قبرستان ) نہیں ہے۔
Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came upon her when there was with her a hermaohrodite (mukhannath) who said to her brother Abdullah (bin Abi Umayyah): if Allah conquers al-Ta’if for you tomorrow, I shall lead you to a woman who has four folds of fats in front and eight behind. Thereupon the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Put them out of your houses. Abu Dawud said: The woman had four folds of fat on her belly.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہیں وکیع نے ہشام کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن عروہ نے اپنے والد سے، وہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ان کے پاس ایک ہجڑا بیٹھا ہوا تھا اور وہ ان کے بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا: اگر کل اللہ طائف کو فتح کرا دے تو میں تمہیں ایک عورت بتاؤں گا، کہ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو چار سلوٹیں لے کر آتی ہے، اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں لے کر جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں اپنے گھروں سے نکال دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تقبل بأربع» کا مطلب ہے عورت کے پیٹ میں چار سلوٹیں ہوتی ہیں یعنی پیٹ میں چربی چھا جانے کی وجہ سے خوب موٹی اور تیار ہے۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم cursed the hermaphrodites (mukhannathan) among men and women who imitated men, saying: Put them out of your houses, and put so and so out, that is to say, the hermaphrodites.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنانے مردوں اور مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا: انہیں اپنے گھروں سے نکال دو اور فلاں فلاں کو نکال دو یعنی ہجڑوں کو۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
I used to play with dolls. Sometimes the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered upon me when the girls were with me. When he came in, they went out, and when he went out, they came in.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ہشام بن عروہ سے، اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی، کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے، میرے پاس لڑکیاں ہوتیں، تو جب آپ اندر آتے تو وہ باہر نکل جاتیں اور جب آپ باہر نکل جاتے تو وہ اندر آ جاتیں۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم arrived after the expedition to Tabuk or Khaybar (the narrator is doubtful), the draught raised an end of a curtain which was hung in front of her store-room, revealing some dolls which belonged to her. He asked: What is this? She replied: My dolls. Among them he saw a horse with wings made of rags, and asked: What is this I see among them? She replied: A horse. He asked: What is this that it has on it? She replied: Two wings. He asked: A horse with two wings? She replied: Have you not heard that Solomon had horses with wings? She said: Thereupon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم laughed so heartily that I could see his molar teeth.
ہم سے محمد بن عوف نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمیرہ بن غازیہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے آئے، اور ان کے گھر کے طاق پر پردہ پڑا تھا، اچانک ہوا چلی، تو پردے کا ایک کونا ہٹ گیا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں نظر آنے لگیں، آپ نے فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میری گڑیاں ہیں، آپ نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے، پوچھا: یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولیں: گھوڑا، آپ نے فرمایا: اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟ وہ بولیں: دو بازو، آپ نے فرمایا: گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ وہ بولیں: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھ لیں۔