Abu Salih said:
I was sitting with my father and there was also a boy with him. He got up and then returned. So my father mentioned a tradition on the authority of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the prophet صلی اللہ علیہ وسلم saying: If anyone gets up from where he has been sitting and comes back to it, he has most right to it.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ
میں اپنے والد کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک لڑکا تھا، وہ اٹھ کر گیا پھر واپس آیا، تو میرے والد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب آدمی ایک جگہ سے اٹھ کر جائے پھر وہاں لوٹ کر آئے تو وہی اس ( اس جگہ بیٹھنے ) کا زیادہ مستحق ہے ۔
Narrated Abud Darda:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would sit and we would also sit around him. If he got up intending to return, he would take off his sandals or something he was wearing, and his Companions recognizing his purpose (that he would return) would stay where they were.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، ہم سے مبشر حلبی نے بیان کیا، تمام بن نجیح کی سند سے, کعب الایادی کہتے ہیں کہ میں ابو درداء کے پاس جاتا تھا، ابو درداء نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے تو آپ ( کسی کام سے جانے کے لیے ) کھڑے ہوتے اور لوٹنے کا ارادہ ہوتا تو اپنی جوتیاں اتار کر رکھ جاتے یا اور کوئی چیز رکھ جاتے جو آپ کے پاس ہوتی، اس سے آپ کے اصحاب سمجھ لیتے تو وہ ٹھہرے رہتے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: People who get up from an assembly in which they did not remember Allah will be just as if they had got up from an ass's corpse, and it will be a cause of grief to them.
ہم سے محمد بن صباح البزاز نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ بھی بغیر اللہ کو یاد کئے کسی مجلس سے اٹھ کھڑے ہوتے ہوں تو وہ ایسی مجلس سے اٹھے ہوتے ہیں جو بدبو میں مرے ہوئے گدھے کی لاش کی طرح ہوتی ہے، اور وہ مجلس ان کے لیے ( قیامت کے روز ) باعث حسرت ہو گی ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone sits at a place where he does not remember Allah, deprivation will descend on him from Allah; and if he lies at a place where he does not remember Allah, deprivation will descend on him from Allah.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن عجلان نے، سعید مقبوری کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے، تو یہ بیٹھک اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہو گی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہو گا ۔
Narrated Abdullah bin Amr bin al-As رضی اللہ عنہما :
There are some expressions which a man utters three times when he gets up from an assembly he will be forgiven for what happened in the assembly; and no one utters them in an assembly held for a noble cause or for remembrance of Allah but that is stamped with them just as a document is stamped with a signet-ring. These expressions are: Glory be to Thee, O Allah, and I begin with praise of Thee, there is no god but thou; I ask Thy pardon, and return to Thee in repentance.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے عمرو نے خبر دی، ان سے سعید بن ابی ہلال نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید المقبوری نے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
تین کلمے ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ پڑھے تو یہ اس کے لیے ( ان گناہوں کا جو اس مجلس میں اس سے ہوئے ) کفارہ بن جاتے ہیں، اور اگر انہیں نیکی یا ذکر الٰہی کی مجلس میں کہے گا تو وہ مانند مہر کے ہوں گے جیسے کسی تحریر یا دستاویز پر اخیر میں مہر ہوتی ہے اور وہ کلمات یہ ہیں «سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» اے اللہ! تو پاک ہے، اور تو اپنی ساری تعریفوں کے ساتھ ہے، نہیں ہے معبود برحق مگر تو ہی اور میں تجھی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں ۔
A similar tradition has also been transmitted by Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: عمرو نے کہا اور مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرو نے مقبوری کی روایت سے اسی طرح کی روایت بیان کی, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
Narrated Abu Barzah al-Aslami رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم intended to get up from the assembly he used to say in the last. Glory be to Thee. O Allah, and I begin with praise of Thee, I testify that there is no god but Thou; I ask Thy pardon, and return to Thee in repentance. The man asked: Messenger of Allah! you utter the words now which you did not do in the past? He replied: (This is an) atonement for what takes place in the assembly.
ہم سے محمد بن حاتم جرجر اعی اور عثمان بن ابی شیبہ المعنی نے بیان کیا کہ انہیں عبدہ بن سلیمان نے حجاج بن دینار سے، ابو ہاشم کی سند سے اور ابو العالیہ کی سند سے, ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اب ایک ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: یہ کفارہ ہے ان ( لغزشوں ) کا جو مجلس میں ہو جاتی ہیں ۔
Narrated Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: None of my Companions must tell me anything about anyone, for I like to come out to you with no ill-feelings.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے فریابی نے، بنی اسرائیل کی سند سے، الولید کی سند سے بیان کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہیر بن حرب نے اس حدیث میں حسین بن محمد سے اور اسرائیل کی سند سے اسے ہم سے منسوب کیا ہے,الولید ابن ابی ہشام نے زید بن زید کی روایت سے کہا,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ میں سے کوئی کسی کے بارے میں کوئی شکایت مجھ تک نہ پہنچائے، اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ میں ( گھر سے ) نکل کر تمہاری طرف آؤں، تو میرا سینہ صاف ہو ( یعنی کسی کی طرف سے میرے دل کوئی میں کدورت نہ ہو ) ۔
Narrated Amr bin al-Faghwa' al-Khuzai رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم called me. He intended to send me with some goods to Abu Sufyan to distribute among the Quraysh at Makkah after the conquest. He said: Search for a companion. Then Amr ibn Umayyah ad-Damri came to me and said: I have been told that you are intending to make a journey and are seeking a companion. I said: Yes. He said: I am your companion. I then went to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: I have found a companion. He asked: Who is he? I replied: Amr ibn Umayyah ad-Damri. He said: When you come down to the territory of his people, be careful of him, for a maxim says: If one is your real brother, do not feel safe with him. So we proceeded, and when I reached al-Abwa', he said to me: I have some work with my people at Waddan, so stay here till I come back. I said: Do not lose your way. When he turned his back, I recalled the words of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. So I rode my camel and galloped without stopping. When I reached al-Asafir, he was pursuing me with a group of men. So I galloped and forged ahead of him. When he saw me that I had outstripped him, they returned and he came to me. He said to me: I had some work with my people. I said: Yes. We then went on until we reached Makkah, and I gave the goods to Abu Sufyan.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے نوح بن یزید بن سیار المعدیب نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابن اسحاق نے عیسیٰ بن معمر کی سند سے بیان کیا, عمرو بن فغواء خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا، آپ مجھے کچھ مال دے کر ابوسفیان کے پاس بھیجنا چاہتے تھے، جو آپ فتح مکہ کے بعد قریش میں تقسیم فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: کوئی اور ساتھی تلاش کر لو ، تو میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارا ارادہ نکلنے کا ہے اور تمہیں ایک ساتھی کی تلاش ہے، میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں تمہارا ساتھی بنتا ہوں چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا، مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، آپ نے فرمایا: کون؟ میں نے کہا: عمرو بن امیہ ضمری، آپ نے فرمایا: جب تم اس کی قوم کے ملک میں پہنچو تو اس سے بچ کے رہنا اس لیے کہ کہنے والے نے کہا ہے کہ تمہارا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو اس سے مامون نہ رہو ، چنانچہ ہم نکلے یہاں تک کہ جب ہم ابواء میں پہنچے تو اس نے کہا: میں ودان میں اپنی قوم کے پاس ایک ضرورت کے تحت جانا چاہتا ہوں لہٰذا تم میرے لیے تھوڑی دیر ٹھہرو، میں نے کہا: جاؤ راستہ نہ بھولنا، جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آئی، تو میں نے زور سے اپنے اونٹ کو بھگایا، اور تیزی سے دوڑاتا وہاں سے نکلا، یہاں تک کہ جب مقام اصافر میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ مجھے روکنے آ رہا ہے میں نے اونٹ کو اور تیز کر دیا، اور میں اس سے بہت آگے نکل گیا، جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اسے بہت پیچھے چھوڑ چکا ہوں، تو وہ لوگ لوٹ گئے، اور وہ میرے پاس آیا اور بولا، مجھے اپنی قوم میں ایک کام تھا، میں نے کہا: ٹھیک ہے اور ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم مکہ پہنچ گئے تو میں نے وہ مال ابوسفیان کو دے دیا۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: A believer is not stung twice from the same hole.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے عقیل کی سند سے، زہری کی سند سے، سعید بن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم walked, it looked as if he bent forwards.
ہم سے وہب بن بقیہ نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد نے حمید سے خبر دی، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ آگے کی جانب جھکے ہوئے ہیں ( جیسے کوئی اونچے سے نیچے کی طرف اتر رہا ہو ) ۔
Saeed al-Jariri quoted Abu al-Tufail رضی اللہ عنہ saying:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I asked: How did you see him? He said: He was white, good-looking, and when he walked, it looked as if he was descending to a low ground.
ہم سے حسین بن معاذ بن خلیف نے بیان کیا، ہم سے عبد الا علی نے بیان کیا،سعید جریری کی روایت ہے کہ ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، سعید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آپ کو کیسا دیکھا؟ وہ کہا: آپ گورے خوبصورت تھے جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ نیچی جگہ میں اتر رہے ہیں۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade that a man should lie placing (and according to Qutaibah’s version: “should raise”) one of his legs over the other. Qutaibah’s version adds: When he was lying on his back.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ابو الزبیر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے۔ قتیبہ کی روایت میں«أن يضع» کے بجائے «أن يرفع» کے الفاظ ہیں، اور قتیبہ کی روایت میں یہ بھی زیادہ ہے اور وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہو ۔
Abbad bin Tamim quoted his paternal uncle as saying:
He had seen the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم lying on his back in the mosque according to Qanabi’s version) placing one foot over the other.
ہم سے نفیلی نے بیان کیا، ہم سے مالک نے بیان کیا۔ ہم سے اور القعنبی نے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا ہے, عباد بن تمیم اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھے ہوئے چت لیٹے دیکھا ۔
Saeed bin al-musayyab said:
Umar bin al-khattab and Uthman bin Affan used to do that.
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیاسعید بن مسیب کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما بھی اسے کیا کرتے تھے۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When a man tells something and then departs, it is a trust.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی ذہب نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عطاء نے، وہ عبد الملک بن جبیر بن عتیک کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کوئی بات کرے، پھر ادھر ادھر مڑ مڑ کر دیکھے تو وہ امانت ہے ( اسے افشاء نہیں کرنا چاہیئے ) ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Meetings are confidential except three: those for the purpose of shedding blood unlawfully, or committing fornication, or acquiring property unjustly.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن نافع کو پڑھا، انہوں نے کہا: مجھے ابن ابی ذہب نے خبر دی، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجلسیں امانت داری کے ساتھ ہیں ( یعنی ایک مجلس کی بات دوسری جگہ جا کر بیان نہیں کرنی چاہیئے ) سوائے تین مجلسوں کے، ایک جس میں ناحق خون بہایا جائے، دوسری جس میں بدکاری کی جائے اور تیسری جس میں ناحق کسی کا مال لوٹا جائے ۔
Abu Saeed Al-khudri رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The most serious breach of trust in Allah’s sight is that a man who has intercourse with his wife, and she with him, spreads her secret.
ہم سے محمد بن العلاء اور ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابو اسامہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے کہا: ابراہیم، عمر بن حمزہ بن عبداللہ العمری، عبدالرحمٰن بن سعد کی سند سے، انہوں نے کہا:ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی سے خلوت میں ملے اور وہ ( بیوی ) اس سے ملے پھر وہ ( مرد ) اس کا راز فاش کرے ۔
Hudhaifah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: A mischief-maker will not enter paradise.
ہم سے مسدد اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا: ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، ہمام کی سند سے، حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The worst of the people is a man who is double-faced; he present one face to some and another to others.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابو الزناد نے، العراج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں برا وہ شخص ہے جو دورخا ہو، اِن کے پاس ایک منہ لے کر آتا ہو اور ان کے پاس دوسرا منہ لے کر جاتا ہو ۔