Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Prophet said: Whatever I have commanded you do it, and whatever I have forbidden you, refrain from it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے شریک نے، العمش کی سند سے، ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جس چیز کا حکم دوں اسے مانو، اور جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Prophet said: Leave me as I have left you (Don't ask me the minor things that I have avoided to tell you). For those who came before you were doomed because of their questions and differences with their Prophets. If I commanded you to do something, then do as much of it as you can, and if I forbid you from doing something, then refrain from it.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا , ہم سے جریر نے اعمش کی سند سے اور ابوصالح کی سند سے بیان کیا , ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز میں نے تمہیں نہ بتائی ہو اسے یوں ہی رہنے دو ، اس لیے کہ تم سے پہلے کی امتیں زیادہ سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، لہٰذا جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو طاقت بھر اس پر عمل کرو، اور جب کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے رک جاؤ ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Prophet said: Whoever obeys me, obeys Allah; and whoever disobeys me, disobeys Allah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔
Abu Ja'far said:
Whenever Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما heard a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ), he would not do more than it said, and he would not do less.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے زکریا بن عدی نے بیان کیا، ان سے ابن مبارک نے، وہ محمد بن سوقہ کی سند سے, ابو جعفر کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتے تو نہ اس میں کچھ بڑھاتے، اور نہ ہی کچھ گھٹاتے ۔
Abu Darda' رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us when we were speaking of poverty and how we feared it. He said: 'Is it poverty that you fear? By the One in Whose Hand is my soul, (the delights and luxuries of) this world will come to you in plenty, and nothing will cause the heart of anyone of you to deviate except that. By Allah, I am leaving you upon something like Bayda (white, bright, clear path) the night and day of which are the same.'
ہم سے ہشام بن عمار دمشقی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عیسیٰ بن سمیع نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن سلیمان الافطس نے بیان کیا، ان سے ولید بن عبدالرحمٰن الجرشی نے جبیر بن نفیر کی سند سے, ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم اس وقت غربت و افلاس اور فقر کا تذکرہ کر رہے تھے، اور اس سے ڈر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ فقر سے ڈرتے ہو؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور تم پر دنیا آئندہ ایسی لائی جائے گی کہ اس کی طلب مزید تمہارے دل کو حق سے پھیر دے گی ، قسم اللہ کی! میں نے تم کو ایسی تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا ہے جس کی رات ( تابناکی میں ) اس کے دن کی طرح ہے ۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، قسم اللہ کی! آپ نے ہم کو ایک تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا، جس کی رات ( تابناکی میں ) اس کے دن کی طرح ہے ۔
Mu'awiyah bin Qurrah رضی اللہ عنہ narrated that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: A group of my Ummah will continue to prevail and they will never be harmed by those who forsake them, until the Hour begins.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا, معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد کی سند پر، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ کو ہمیشہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل رہے گی ، اور جو اس کی تائید و مدد نہ کرے گا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: A group of my Ummah will continue to adhere steadfastly to the command of Allah and those who oppose them will not be able to harm them.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو علقمہ نصر بن علقمہ نے بیان کیا، عمیر بن اسود اور کثیر بن مرہ الحضرمی نے کہا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم ( دین ) پر قائم رہنے والا ہو گا، اس کی مخالفت کرنے والا اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا ۔
Abu 'Inabah Al-Khawlani رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah will continue to plant new people in this religion and use them in His obedience.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے الجراح بن ملیح نے بیان کیا، ہم سے بکر بن زرعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ ہمیشہ اس دین میں نئے پودے اگا کر ان سے اپنی اطاعت کراتا رہے گا ۔
Amr bin Shu'aib narrated that his father said:
Mu'awiyah رضی اللہ عنہ stood up to deliver a sermon and said: 'Where are your scholars? Where are your scholars? For I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The Hour will not begin until a group of my Ummah will prevail over the people, and they will not care who lets them down and who supports them.
ہم سے یعقوب بن حمید بن کاسب نے بیان کیا، ہم سے القاسم بن نافع نے بیان کیا، ہم سے حجاج بن ارطاہ نے، عمرو بن شعیب سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا: تمہارے علماء کہاں ہیں؟ تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: قیامت تک میری امت میں سے ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، کوئی اس کی مدد کرے یا نہ کرے اسے اس کی پرواہ نہ ہو گی ۔
Narrated Thawban رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) said: A group among my Ummah will continue to follow the truth and prevail, and those who oppose them will not be able to harm them, until the command of Allah comes to pass.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن شعیب نے بیان کیا، ہم سے سعید بن بشیر نے بیان کیا، وہ قتادہ کی سند سے، ابو قلابہ سے، ابو اسماء الرحبی کی سند سے, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ نصرت الٰہی سے بہرہ ور ہو کر حق پر قائم رہے گا، مخالفین کی مخالفت اسے ( اللہ کے امر یعنی: ) قیامت تک کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما said:
We were with the Prophet (ﷺ), and he drew a line (in the sand), then he drew two lines to its right and two to its left. Then he put his hand on the middle line and said : 'This is the path of Allah. Then he recited the Verse: And verily, this (i.e. Allah's Commandments) is My straight path, so follow it and follow not (other) paths, for they will separate you from His path...
ہم سے ابو سعید عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے شعبی کی روایت سے مجالد کو ذکر کرتے ہوئے سنا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے ایک لکیر کھینچی اور دو لکیریں اس کے دائیں جانب اور دو بائیں جانب کھینچیں، پھر اپنا ہاتھ بیچ والی لکیر پر رکھا اور فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے ، پھر اس آیت کی تلاوت کی: «وأن هذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله» یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی پر چلو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ یہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے ( سورۃ الانعام: ۱۵۳ ) ۔
Miqdam bin Ma'dikarib Al-Kindi رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Soon there will come a time that a man will be reclining on his pillow, and when one of my Ahadith is narrated he will say: 'The Book of Allah is (sufficient) between us and you. Whatever it states is permissible, we will take as permissible, and whatever it states is forbidden, we will take as forbidden.' Verily, whatever the Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden is like that which Allah has forbidden.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، مجھ سے حسن بن جابر نے بیان کیا, مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس سے میری کوئی حدیث بیان کی جائے تو وہ کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کافی ہے، ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور جو چیز حرام پائیں گے اسی کو حرام جانیں گے ، تو سن لو! جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے وہ ویسے ہی ہے جیسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔
It was narrated from Ubaidullah bin Abu Rafi from his father:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: I do not want to find anyone of you reclining on his pillow, and when bad news comes to him of something that I have commanded or forbidden, he says, 'I do not know, whatever we find in the Book of Allah, we will follow.
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے اپنے گھر میں بیان کیا، کہا کہ میں نے ان سے سالم ابو النضر کی سند سے پوچھا، پھر انہوں نے حدیث میں آگے چل کر کہا: یا زید بن اسلم، عبید اللہ بن ابی رافع کی سند سے، ان کے والد سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے ہو، اور اس کے پاس جن چیزوں کا میں نے حکم دیا ہے، یا جن چیزوں سے منع کیا ہے میں سے کوئی بات پہنچے تو وہ یہ کہے کہ میں نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو چیز پائی اس کی پیروی کی ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever innovates something in this matter of ours (i.e. Islam) that is not part of it, will have it rejected.
ہم سے ابو مروان محمد بن عثمان العثمانی نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اپنے والد سے، وہ القاسم بن محمد کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ قابل رد ہے ۔
It was narrated from Urwah bin Zubair that 'Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہما told him that:
A man from the Ansar had a dispute with Zubair رضی اللہ عنہ in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning a stream in the Harrah which they used to irrigate the date-palm trees. The Ansari said: Let the water flow but Zubair رضی اللہ عنہ refused. So they referred that dispute to the Messenger of Allah (ﷺ) who said: Irrigate (your land), O Zubair., and then let the water flow to your neighbor. The Ansari became angry and said O Messenger of Allah, is it because he is your cousin? The face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed color (because of anger) and he said: O Zubair, irrigate (your land) then block the water until it flows back to the walls around the date-palm trees. Zubair said: By Allah, I think that this verse was revealed concerning this matter.' But no, by your Lord, they can have no Faith, until they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them, and find in themselves no resistance against your decisions, and accept (them) with full submission.'
ہم سے محمد بن روم بن المہاجر المصری نے بیان کیا، انہیں لیث بن سعد نے ابن شہاب کی سند سے اور عروہ بن زبیر کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقام حرہ کی اس نالی کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے، زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، ان دونوں نے اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا کھیت سینچ لو! پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ، انصاری غضبناک ہو کر بولا: اللہ کے رسول! یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا باغ سینچ لو، پھر پانی روکے رکھو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک پہنچ جائے ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: زبیر نے کہا: قسم اللہ کی! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی سلسلہ میں نازل ہوئی ہے: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما» قسم ہے آپ کے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس کے سارے اختلافات اور جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ ان میں کر دیں اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں، اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ( سورة النساء: 65 ) ۔
It was narrated from Ibn Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not prevent the female slaves of Allah from praying in the mosque. A son of his said: We will indeed prevent them! He got very angry and said: I tell you a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ) and you say, we will indeed prevent them?!
ہم سے محمد بن یحییٰ النیسابوری نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، سلیم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی بندیوں ( عورتوں ) کو مسجد میں نماز پڑھنے سے نہ روکو ، تو ان کے ایک بیٹے نے ان سے کہا: ہم تو انہیں ضرور روکیں گے، یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما سخت ناراض ہوئے اور بولے: میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے.
Narrated Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ :
He was sitting beside a nephew of his, the nephew hurled a pebble and he told him not to do that, and he said: The Messenger of Allah (ﷺ) had forbidden that. He (the Prophet) said: 'It cannot be used for hunting and it cannot harm an enemy, but it may break a tooth or put an eye out. He said. His nephew hurled another pebble and he ( Abdullah bin Mughaffal) said: 'I tell you that the Messenger of Allah forbade that (and you go hurl another pebble)? I will never speak to you again.'
ہم سے احمد بن ثابت الجہدری اور ابو عمر حفص بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے سعید بن جبیر کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ان کا ایک بھتیجا ان کے بغل میں بیٹھا ہوا تھا، اس نے دو انگلیوں کے درمیان کنکری رکھ کر پھینکی، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے روکا ہے اور فرمایا ہے کہ: یہ کنکری نہ تو کوئی شکار کرتی ہے، اور نہ ہی دشمن کو زخمی کرتی ہے، البتہ یہ دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ان کا بھتیجا دوبارہ کنکریاں پھینکنے لگا تو انہوں نے کہا: میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے روکا ہے اور تم پھر اسے کرنے لگے، میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔
It was narrated from Ishaq bin Qabisah from his father:
Ubadah bin Samit Al-Ansari رضی اللہ عنہ, head of the army unit, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), went on a military campaign with Mu'awiyah رضی اللہ عنہ in the land of the Byzantines. He saw people trading pieces of gold for Dinar and pieces of silver for Dirham. He said: O people, you are consuming Riba (usury)! For I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Do not sell gold for gold unless it is like for like; there should be no increase and no delay (between the two transactions).' Mu'awiyah رضی اللہ عنہ said to him: O Abu Walid, I do not think there is any Riba involved in this , except in cases where there is a delay. 'Ubadah رضی اللہ عنہ said to him: I tell you a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ) and you tell me your opinion! If Allah brings me back safely I will never live in a land in which you have authority over me. When he returned, he stayed in Al-Madinah, and 'Umar bin Khattab said to him: What brought you here, O Abu Walid? So he told him the story, and what he had said about not living in the same land as Mu'awiyah رضی اللہ عنہ. 'Umar رضی اللہ عنہ said: Go back to your land, O Abu Walid, for what a bad land is the land from where you and people like you are absent. Then he wrote to Mu'awiyah رضی اللہ عنہ and said: You have no authority over him; make the people follow what he says , for he is right.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، مجھ سے برد بن سنان نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن قبیصہ نے اپنے والد سے
عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ نے ( جو کہ عقبہ کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والے صحابی ہیں ) معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں جہاد کیا، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونے کے ٹکڑوں کو دینار ( اشرفی ) کے بدلے اور چاندی کے ٹکڑوں کو درہم کے بدلے بیچتے ہیں، تو کہا: لوگو! تم سود کھاتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم سونے کو سونے سے نہ بیچو مگر برابر برابر، نہ تو اس میں زیادتی ہو اور نہ ادھار ، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابوالولید! میری رائے میں تو یہ سود نہیں ہے، یعنی نقدا نقد میں تفاضل ( کمی بیشی ) جائز ہے، ہاں اگر ادھار ہے تو وہ سود ہے، عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ سے حدیث رسول بیان کر رہا ہوں اور آپ اپنی رائے بیان کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں سے صحیح سالم نکال دیا تو میں کسی ایسی سر زمین میں نہیں رہ سکتا جہاں میرے اوپر آپ کی حکمرانی چلے، پھر جب وہ واپس لوٹے تو مدینہ چلے گئے، تو ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابوالولید! مدینہ آنے کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے ان سے پورا واقعہ بیان کیا، اور معاویہ رضی اللہ عنہ سے ان کے زیر انتظام علاقہ میں نہ رہنے کی جو بات کہی تھی اسے بھی بیان کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوالولید! آپ اپنی سر زمین کی طرف واپس لوٹ جائیں، اللہ اس سر زمین میں کوئی بھلائی نہ رکھے جس میں آپ اور آپ جیسے لوگ نہ ہوں ، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ عبادہ پر آپ کا حکم نہیں چلے گا، آپ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ عبادہ کی بات پر چلیں کیونکہ شرعی حکم دراصل وہی ہے جو انہوں نے بیان کیا۔
Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ said:
When I tell you of a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ), then think of the Messenger of Allah (ﷺ) as being the best, the utmost rightly guided and the one with the utmost Taqwa (piety, righteousness).
ہم سے ابوبکر بن خلاد باہلی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے شعبہ کی سند سے، ابن عجلان کی سند سے، عون بن عبداللہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہی ( خیال و گمان ) رکھو کہ آپ کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے۔
It was narrated that Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ said:
When I narrate a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ), to you, then think of him as being the best, the most rightly guided and the one with the utmost Taqwa (piety, righteousness)
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے شعبہ کی سند سے، عمرو بن مرہ سے، ابو البختری کی سند سے، ابوعبدالرحمٰن السلمی کی سند سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے کہ
جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کروں تو تم یہی ( خیال گمان ) رکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے ۱؎۔