It was narrated that Sa`d bin Waqqas رضی اللہ عنہ said:
Mu`awiyah رضی اللہ عنہ came on one of his pilgrimages and Sa`d رضی اللہ عنہ entered upon him. They mentioned `Ali رضی اللہ عنہ, and Mu`awiyah رضی اللہ عنہ criticized him. Sa`d رضی اللہ عنہ became angry and said: 'Are you saying this of a man of whom I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If I am a person's close friend, `Ali is also his close friend. And I heard him say: You are to me like Harun was to Musa, except that there will be no Prophet after me. And I heard him say: I will give the banner today to a man who loves Allah and His Messenger.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن مسلم نے بیان کیا، ابن ثابت کی سند سے جو عبدالرحمٰن ہیں, سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس کا مولیٰ میں ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ بھی سنا: تم ( یعنی علی ) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah said on the Day of Quraizah: 'Who will bring us news of the people?' Zubair رضی اللہ عنہ said: 'I will.' The Prophet said: 'Who will bring us news of the people?' Zubair رضی اللہ عنہ said: 'I will,' three times. Every Prophet has a Hawari (sincere supporter or disciple) and my Hawari is Zubair.'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ محمد بن المنکدر کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم ( یعنی یہود بنی قریظہ ) کی خبر لائے؟، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟ ، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری ( خاص مددگار ) ہوتے ہیں، اور میرے حواری ( خاص مددگار ) زبیر ہیں ۔
It was narrated that Zubair رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah named his parents together for me on the Day of Uhud.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا ۔
It was narrated from Hisham bin 'Urwah that his father said:
''Aishah رضی اللہ عنہا said to me: 'O 'Urwah, your two fathers were of those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammed) after being wounded, (they were) Abu Bakr and Zubair رضی اللہ عنہما .''
ہم سے ہشام بن عمار اور ہادیہ بن عبد الوہاب نے بیان کیا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا
مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عروہ! تمہارے نانا ( ابوبکر ) اور والد ( زبیر ) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح» جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا ( سورة آل عمران: 172 ) ، یعنی ابوبکر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
Talhah رضی اللہ عنہ passed by the Prophet and he said: A martyr walking upon the face of the earth.
ہم سے علی بن محمد اور عمرو بن عبداللہ العودی نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے الصلت الازدی نے بیان کیا: ہم سے ابو نضرہ نے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید ہیں جو روئے زمین پر چل رہے ہیں ۔
It was narrated that Mu'awiyah bin Abu Sufyan رضی اللہ عنہما said:
The Prophet looked at Talhah رضی اللہ عنہ and said: 'This is one of those who fulfilled their covenant.'
ہم سے احمد بن الازہر نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا, معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کر دیا ۔
It was narrated that Musa bin Talhah رضی اللہ عنہ said:
We were with Mu'awiyah and he said: I heard the Messenger of Allah say: 'Talhah is one of those who fulfilled their covenant.'
ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو اسحاق نے خبر دی، موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ
ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ۔
It was narrated that Qais said:
I saw the paralyzed hand of Talhah رضی اللہ عنہ, with which he had defended the Messenger of Allah on the Day of Uhud.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، اسماعیل کی سند سے, قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ
میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ( بیکار ) ہو گیا تھا، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی۔
It was narrated that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
I never saw the Messenger of Allah mention his parents together for anyone except Sa'd bin Malik رضی اللہ عنہ . He said to him on the Day of Uhud: 'Shoot, Sa'd! May my father and mother be sacrificed for you!'
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، وہ عبداللہ بن شداد کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سعد! تم تیر چلاؤ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں ۔
It was narrated that Sa'eed bin Musayyab said:
I heard Sa'd bin Abu Waqqas رضی اللہ عنہ say: 'The Messenger of Allah mentioned his parents together for me on the Day of Uhud. He said: 'Shoot, Sa'd! May my father and mother be sacrificed for you!'
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی اور ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل اور اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن سعید کی سند سے, سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ
میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے غزوہ احد کے دن اپنے والدین کو جمع کیا، اور فرمایا: اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔
It was narrated that Qais said:
I heard Sa'd bin Abu Waqqas رضی اللہ عنہ say: 'I am the first of the Arabs to shoot an arrow in the cause of Allah.'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن ادریس نے، میرے ماموں یعلی نے اور ہم سے وکیع نے اسماعیل کی سند سے بیان کیا,قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ
میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں پہلا عربی شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا۔
It was narrated that Hashim bin Hashim said: I heard Sa'eed bin Musayyab رضی اللہ عنہ say: 'Sa'd bin Abu Waqqas رضی اللہ عنہ said:
'No one else became Muslim on the same day as I did; for seven days I was one-third of Islam.'
ہم سے مسروق بن المرزبان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی زایدہ نے ہاشم بن ہاشم کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جس دن میں نے اسلام قبول کیا اس دن کسی نے اسلام نہ قبول کیا تھا، اور میں ( ابتدائی عہد میں ) سات دن تک مسلمانوں کا تیسرا شخص تھا ۔
It was narrated that Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah was one of the Ten (given glad tidings of Paradise). He said: 'Abu Bakr will be in Paradise; 'Umar will be in Paradise; 'Uthman will be in Paradise; 'Ali will be in Paradise; Talhah will be in Paradise; Zubair will be in Paradise; Sa'd will be in Paradise; 'Abdur-Rahman will be in Paradise. He was asked: 'Who will be the ninth?' He said: 'I will.'
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے صدقہ بن المثنیٰ ابو المثنیٰ النخعی نے اپنے دادا ریاح بن حارث کی سند سے بیان کیا, سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، عبدالرحمٰن جنت میں ہیں ، سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: نواں کون تھا؟ بولے: میں۔
It was narrated that Sa'eed bin Zaid رضی اللہ عنہ :
'I bear witness that I heard the Messenger of Allah say: 'Stand firm, O (mountain of) Hira', for there is no one upon you but a Prophet, a Siddiq or a martyr.' Then he listed them as follows: The Messenger of Allah, Abu Bakr, 'Umar, 'Uthman, 'Ali, Talhah, Zubair, Sa'd, Ibn 'Awf and Sa'eed bin Zaid رضی اللہ عنہم.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے شعبہ کی سند سے، حصین رضی اللہ عنہ سے، ہلال بن یاصف سے، عبداللہ بن ظالم سے, سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ٹھہر، اے حرا! ۱؎ ( وہ لرزنے لگا تھا ) تیرے اوپر سوائے نبی، صدیق اور شہید کے کوئی اور نہیں ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام گنوائے: ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن زید رضی اللہ عنہم۔
It was narrated from Hudhaifah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah said to the people of Najran: I will send you a trustworthy man with you, who is indeed trustworthy. The people craned their necks to see, and he sent Abu 'Ubaidah bin Jarrah.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے، سفیان کی سند سے بیان کیا اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سب نے ابو اسحاق کی سند سے اور صلہ بن زفر سے, حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو انتہائی درجہ امانت دار ہے ، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ اس امین شخص کی جانب گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح کو بھیجا۔
It was narrated from 'Abdullah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah said to Abu 'Ubaidah bin Jarrah رضی اللہ عنہ : This is the trustworthy man of this Ummah.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، وہ ابواسحاق کی سند سے، وہ صلہ بن زفر سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: یہ اس امت کے امین ہیں ۔
It was narrated that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'If I were to appoint anyone as my successor without consulting anyone, I would have appointed Ibn Umm 'Abd.'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابواسحاق نے حارث کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو خلیفہ مقرر کرتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو مقرر کرتا ۔
It was narrated from 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ that:
Abu Bakr and 'Umar رضی اللہ عنہما gave him the glad tidings that the Messenger of Allah had said: Whoever would like to recite the Qur'an as fresh as when it was revealed, let him recite it like Ibn Umm 'Abd.'
ہم سے حسن بن علی الخلال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوبکر بن عیاش نے عاصم کی سند سے، انہوں نے زر کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بشارت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص چاہتا ہو کہ قرآن کو بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کے ویسے ہی پڑھے جیسے نازل ہوا ہے تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کی قراءت کے مطابق پڑھے ۔
It was narrated that 'Abdullah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said to me: 'The sign that you have been permitted to come in is that you raise the curtain and that you hear me speaking quietly, until I forbid you.' (i.e. unless I forbid you).
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، انہوں نے حسن بن عبید اللہ سے اور ابراہیم بن سوید کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں ۔
It was narrated that 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib رضی اللہ عنہ said:
We used to come across groups of Quraish who would be talking, but they would stop talking (when we approached). We mentioned that to the Messenger of Allah and he said: 'What is the matter with people who talk, then when they see a man from my family they stop talking? By Allah, faith will not enter a person's heart until he loves them for the sake of Allah and because of their closeness to me.'
ہم سے محمد بن طریف نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، کہا ہم سے الاعمش نے بیان کیا، وہ ابو سبرہ نخعی سے، وہ محمد بن کعب القرظی سے, عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
قریش کے ( کچھ لوگوں کا حال یہ تھا ) جب ہم ان سے ملتے اور وہ باتیں کر رہے ہوتے تو ہمیں دیکھ کر وہ اپنی بات بند کر دیتے، ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور جب میرے اہل بیت میں سے کسی کو دیکھتے ہیں تو چپ ہو جاتے ہیں، اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک گھر نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ میرے اہل بیت سے اللہ کے واسطے اور ان کے ساتھ میری قرابت کی بناء پر محبت نہ کرے ۔