'Ali رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'No slave truly believes until he believes in four things: in Allah alone with no partner; that I am the Messenger of Allah; in the resurrection after death; and in the Divine Decree (Qadar).'
ہم سے عبداللہ بن عامر بن زرارہ نے بیان کیا، ہم سے شارق نے بیان کیا، منصور کی سند سے، ربعی کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص چار چیزوں پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہو سکتا: اللہ واحد پر جس کا کوئی شریک نہیں، میرے اللہ کے رسول ہونے پر، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر، اور تقدیر پر ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا the Mother of the Believers said:
The Messenger of Allah (ﷺ) was called to the funeral of a child from among the Ansar. I said: 'O Messenger of Allah, glad tidings for him! He is one of the little birds of Paradise, who never did evil or reached the age of doing evil (i.e, the age of accountability).' He said: 'It may not be so, O 'Aishah! For Allah created people for Paradise, He created them for it when they were still in their father's loins, And He has created people for Hell, He created them for it when they were still in their fathers' loins.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا, ہم سے طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ نے اپنی خالہ عائشہ بنت طلحہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک بچے کے جنازے میں بلائے گئے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بچہ کے لیے مبارک باد ہو، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نہ تو اس نے کوئی برائی کی اور نہ ہی برائی کرنے کا وقت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ بات یوں نہیں ہے، بلکہ اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے، اور جہنم کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The idolators and Quraish came and disputed with the Prophet (ﷺ) concerning the Divine Decree. Then the following verse was revealed: 'The Day they will be dragged on their faces into the Fire (it will be said to them): Taste you the touch of Hell! Verily We have created all things with Qadar. (Divine Decree)'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا , ہم سے وکیع نے بیان کیا : ہم سے سفیان ثوری نے زیاد بن اسماعیل المخزومی سے اور محمد بن عباد بن جعفر کی سند سے بیان کیا , ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مشرکین قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے تقدیر کے سلسلے میں جھگڑنے لگے، تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:«يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی: جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا: جہنم کی آگ لگنے کے مزے چکھو، بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے پر پیدا کیا ہے ۔
`Abdullah bin Abi Mulaikah narrated that his father entered upon `A'ishah رضی اللہ عنہا and said:
He something to her about the Divine Decree: She said: I heard The Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever says anything about the Divine decree will be questioned about that on the Day of Resurrection, and whoever does not say anything about it will not be questioned about it.' Another chain with similar wording.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوبکر کے آزاد کردہ غلام یحییٰ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ بن عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک بات کا ذکر کیا، جو انہوں نے اپنے والد سے بیان کیا اور کہا: کہا
وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے تقدیر کے سلسلے میں کچھ ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو تقدیر کے سلسلے میں ذرا بھی بحث کرے گا اس سے قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کیا جائے گا، اور جو اس سلسلہ میں کچھ نہ کہے تو اس سے سوال نہیں ہو گا ۔
Amr in Shu'aib narrated from his father that his grandfather said:
The Messenger of Allah (ﷺ) came out to his Companions when they were disputing about the Divine Decree, and it was as if pomegranate seeds had burst on his face (i.e. turned red) because of anger. He said: 'Have you been commanded to do this, or were you created for this purpose? You are using one part of the Qur'an against another part, and this is what led to the doom of the nations who came before you.' 'Abdullah bin 'Amr said: I was never happy to have missed a gathering with the Messenger of Allah (ﷺ) as I was to have missed that gathering.'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ہم سے داؤد بن ابی ہند نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب سے، وہ اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس آئے، وہ لوگ اس وقت تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سخت غصہ کی وجہ سے سرخ ہو گیا، گویا کہ آپ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا تم اسی لیے پیدا کیے گئے ہو؟ تم قرآن کے بعض حصہ کو بعض حصہ سے ٹکرا رہے ہو، اسی وجہ سے تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوئی ہیں ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا بیان ہے: میں نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے غیر حاضر ہونے کی ایسی خواہش اپنے جی میں نہیں کی جیسی اس مجلس سے غیر حاضر رہنے کی خواہش کی۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is no 'Adwa (contagion), no Tiyarah (evil omen) and no Hamah.' A Bedouin man stood up and said: 'O Messenger of Allah, what do you think about a camel that suffers from mange and then all other camels get mange?' He said: 'That is because of the Divine Decree. How else did the first one get mange?'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی حیہ ابوجناب کلبی نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں چھوا چھوت کی بیماری، بدفالی اور الو سے بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، ایک دیہاتی شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اونٹ کو ( کھجلی ) ہوتی ہے، اور پھر اس سے تمام اونٹوں کو کھجلی ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی تقدیر ہے، اگر ایسا نہیں تو پہلے اونٹ کو کس نے اس میں مبتلا کیا؟
Sha'bi said:
When 'Adi bin Hatim رضی اللہ عنہ came to Kufah, we came to him with a delegation of the Fuqaha of Kufah and said to him: 'Tell us of something that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'I came to the Prophet (ﷺ) and he said: O 'Adi bin Hatim, enter Islam and you will be safe. I said, What is Islam? He said: To testify to La ilaha illallah (none has the right to be worshipped but Allah) and that I am the Messenger of Allah, and to believe in all the Divine Decrees, the good of them and the bad of them, the sweet of them and the bitter of them.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن عیسیٰ جرار نے بیان کیا، وہ عبد الاعلی بن ابی المساور کی سند سے, شعبی کہتے ہیں کہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جب کوفہ آئے تو ہم اہل کوفہ کے چند فقہاء کے ساتھ ان کے پاس گئے، اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو وہ کہنے لگے: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا: اے عدی بن حاتم! اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے ، میں نے پوچھا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور ساری تقدیر پر ایمان لاؤ، چاہے اچھی ہو، بری ہو، میٹھی ہو، کڑوی ہو ۔
It was narrated that Abu Musa Al-Ash'ari رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The likeness of the heart is that of a feather blown about by the wind in the desert.'
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسباط بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے الاعمش نے بیان کیا، وہ یزید الرقاشی سے اور غنیم بن قیس سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دل کی مثال اس پر کی طرح ہے جسے ہوائیں میدان میں الٹ پلٹ کرتی رہتی ہیں ۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
A man from among the Ansar came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), I have a slave girl. Should I do 'Azl (coitus interruptus) with her?' He said 'Whatever is decreed for her shall come to her. He (the Ansari) came to him later on and said: The slave girl has become pregnant. The Prophet (ﷺ) said: Nothing is decreed for a person but it will surely come to pass.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے میرے ماموں یعلی نے بیان کیا، العمش کی سند سے، سالم بن ابی الجعد کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
انصار کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اس کے پاس آ کر رہے گا ، کچھ دنوں کے بعد وہ آدمی حاضر ہوا اور کہا: لونڈی حاملہ ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۔
Thawban said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Nothing extends one's life span but righteousness, nothing averts the Divine Decree but supplication, and nothing deprives a man of provision but the sin that he commits.'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ سفیان کی سند سے، عبداللہ بن عیسیٰ نے عبداللہ بن ابی الجعد کی سند سے, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز نہیں بڑھاتی ۱؎، اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں بدلتی ہے ۲؎، اور آدمی گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
Suraqah bin Ju'shum رضی اللہ عنہ said:
I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), is one's deed in that which has already dried of the Pen and what has passed of the Divine Decree, or is it in the future?' He said: 'No, it is in that which he already dried of the Pen and what has passed of the Divine Decree, and each person is facilitated for what he has been created.'
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عطاء بن مسلم الخفاف نے بیان کیا، کہا: ہم سے العمش نے مجاہد کی سند سے بیان کیا, سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں آیا اس تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے؟ یا ایسے امر کے مطابق ہوتے ہیں جو آگے ہونے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو قلم لکھ کر خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے، اور پھر ایک شخص کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Magicians of this Ummah are those who deny the decrees of Allah. If they fall sick, do not visit them; if they die, do not attend their funerals; and if you meet them, do not greet them with Salam.'
ہم سے محمد بن المصفی الحمصی نے بیان کیا، ہم سے بقیہ بن ولید نے بیان کیا، انہوں نے اوزاعی کی سند سے، ابن جریج نے ابو الزبیر کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو ۔
'Abdullah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'I have no need of the friendship of any Khalil (close friend) but if I were to have taken anyone as a close friend, I would have taken Abu Bakr as a close friend, but your companion is the close friend of Allah,' (One of the narrators) Waki' said: (by the phrase 'your companion'), he was referring to himself.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن مرہ کی سند سے اور ابو الاحواص کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ رہو! میں ہر خلیل ( جگری دوست ) کی دلی دوستی سے بری ہوں، اور اگر میں کسی کو خلیل ( جگری دوست ) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ( مخلص دوست ہے ) ۔ وکیع کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھی سے اپنے آپ کو مراد لیا ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'The wealth of none of you has benefited me as much as the wealth of Abu Bakr رضی اللہ عنہ .' Abu Bakr رضی اللہ عنہ wept and said: 'O Messenger of Allah, I and my wealth are only for you, O Messenger of Allah.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کسی بھی مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال نے فائدہ پہنچایا ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہا: اللہ کے رسول! میں اور میرا مال سب صرف آپ ہی کا ہے، اے اللہ کے رسول! ۔
'Ali رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Abu Bakr and 'Umar are the leaders of the mature people of Paradise, and the first and the last, except for the Prophets and Messengers, but do not tell them about that, O 'Ali, as long as they are still alive.'
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے حسن بن عمارہ سے، فراس کی سند سے، شعبی کی سند سے، حارث کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے ادھیڑ عمر والے جنتیوں کے سردار ہوں گے، علی! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا ۔
Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'The people of the highest degrees of Paradise will be seen by those beneath them as a rising star is seen on the horizon. Abu Bakr and 'Umar will be among them, and how blessed they are!'
ہم سے علی بن محمد اور عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے بیان کیا, ہم سے العمش نے عطیہ بن سعد کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند درجے والوں کو ( جنت میں ) نیچے درجہ والے دیکھیں گے جس طرح چمکتا ہوا ستارہ آسمان کی بلندیوں میں دیکھا جاتا ہے، اور ابوبکرو عمر بھی انہیں میں سے ہیں، اور ان میں سب سے فائق و برتر ہیں ۔
Hudhaifah bin Yaman رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I do not know how long I will stay among you, so follow the example of these two after I am gone,' and he pointed to Abu Bakr and `Umar رضی اللہ عنہما .
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے مومل نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے عبد الملک بن عمیر کی سند سے، ربعی بن حراش کے آزاد کردہ غلام کی سند سے اور ربعی بن حراش کی سند سے بیان کیا, حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ کب تک میں تمہارے درمیان رہوں، پس میرے بعد ان دونوں کی پیروی کرنا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کی جانب اشارہ کیا۔
Ibn Abi Mulaikah said:
I heard Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما say: 'When 'Umar رضی اللہ عنہ was placed on his bed (i.e., his bier), the people around him gathered around him, praying and invoking blessings upon him,' or he said, 'praising him and invoking blessings upon him before (the bier) was lifted up, and I was among them. No one alarmed me except a man who crowded against me and seized me by the shoulder. I turned and saw that it was 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ . He prayed for mercy for 'Umar رضی اللہ عنہ, then he said: You have not left behind anyone who it is more beloved to me to meet Allah with the like of his deeds than yourself. By Allah, I think that Allah will most certainly unite you with your two companions, and that is because I often heard the Messenger of Allah saying: 'Abu Bakr, 'Umar and I went; Abu Bakr, 'Umar and I came in; Abu Bakr, 'Umar and I went out.' So I think that Allah will most certainly join you to your two companions.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا، عمر بن سعید بن ابی حسین سے, ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کو ( وفات کے بعد ) ان کی چارپائی پہ لٹایا گیا تو لوگوں نے انہیں گھیر لیا، اور دعا کرنے لگے، یا کہا: تعریف کرنے لگے، اور جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے دعا کرنے لگے، میں بھی انہیں میں تھا، تو مجھے صرف اس شخص نے خوف زدہ کیا جو لوگوں کو دھکا دے کر میرے پاس آیا، اور میرا کندھا پکڑ لیا، میں متوجہ ہوا تو دیکھا کہ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، پھر بولے: میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑا جس کا عمل آپ کے عمل سے زیادہ مجھے عزیز و پیارا ہو کہ میں اس عمل کو لے کر اللہ سے ملوں، اور قسم ہے اللہ کی! میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم و ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ رکھے گا، اس وجہ سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر فرماتے ہوئے سنتا تھا: میں اور ابوبکرو عمر گئے، میں اور ابوبکرو عمر داخل ہوئے، میں اور ابوبکرو عمر نکلے ، لہٰذا میں آپ کے ان باتوں کی وجہ سے یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ( جنت میں ) رکھے گا ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah came out standing between Abu Bakr and 'Umar and said: 'Thus will I be resurrected,'
ہم سے علی بن میمون الرقی نے بیان کیا، ہم سے سعید بن مسلمہ نے بیان کیا، وہ اسماعیل بن امیہ کی سند سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرو عمر کے درمیان نکلے، اور فرمایا: ہم اسی طرح قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے.
'Awn bin Abi Juhaifah رضی اللہ عنہ that his father said:
The Messenger of Allah said: 'Abu Bakr and 'Umar are the leaders of the mature people of Paradise, the first and the last, except for the Prophets and the Messengers.'
ہم سے ابوشعیب صالح بن الہیثم الوصطی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالقدوس بن بکر بن خنیس نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے عون بن ابی جحیفہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرو عمر انبیاء و رسل کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں جنت کے ادھیڑ لوگوں کے سردار ہوں گے ۔