It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet said: There is no man who memorizes knowledge then conceals it, but he will be brought forth on the Day of Resurrection bridled with reins of fire. (Hasan) Another chain with similar wording.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسود بن عامر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمارہ بن زادان نے بیان کیا، ہم سے علی بن الحکم نے بیان کیا، ہم سے عطاء نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی علم دین یاد رکھتے ہوئے اسے چھپائے، تو اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنا کر لایا جائے گا ۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Hurmuz Al-A'raj heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ say:
By Allah, were it not for two Verses in the Book of Allah, I would never have narrated anything from him, meaning from the Prophet, were it not for the Words of Allah: Verily, those who conceal what Allah has sent down of the Book, and purchase a small gain therewith (of worldly things), they eat into their bellies nothing but fire. Allah will not speak to them on the Day of Resurrection, nor purify them, and theirs will be a painful torment. Those are they who have purchased error at the price of guidance, and torment at the price of forgiveness. So how bold they are (for evil deeds which will push them) to the Fire.'
ہم سے ابو مروان عثمانی، محمد بن عثمان نے بیان کیا, ہم سے ابراہیم بن سعد نے الزہری کی سند سے اور عبدالرحمٰن بن ہرمز العرج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
اللہ کی قسم! اگر قرآن کریم کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی بھی کوئی نہ حدیث بیان کرتا، اور دو آیتیں یہ ہیں: «إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب» إلى آخر الآيتين بیشک جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلہ میں معمولی قیمت لیتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ نہ تو ان سے بات کرے گا اور نہ ہی ان کو معاف کرے گا، اور ان کو سخت عذاب پہنچے گا، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے خرید لیا اور عذاب کو مغفرت کے بدلے، پس وہ کیا ہی صبر کرنے والے ہیں جہنم پر ( سورة البقرة: 174-175 ) ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'When the last people of this Ummah curse the first, (at that time) whoever conceals a Hadith will be concealing what Allah has revealed.' (Maudu')
ہم سے حسین بن ابی السری عسقلانی نے بیان کیا، کہا ہم سے خلف بن تمیم نے، عبداللہ بن سری کی سند سے اور محمد بن منکدر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اس امت کے خلف ( بعد والے ) اپنے سلف ( پہلے والوں ) کو برا بھلا کہنے لگیں، تو جس شخص نے اس وقت ایک حدیث بھی چھپائی اس نے اللہ کا نازل کردہ فرمان چھپایا ۔
Yusuf bin Ibrahim said:
'I heard Anas bin Malik رضی اللہ عنہ say: I heard the Messenger of Allah say: Whoever is asked about knowledge and conceals it, it will be bridled on the Day of Resurrection with reins of fire.'
ہم سے احمد بن الازہر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے الہیثم بن جمیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن سلیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے یوسف بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا :میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص سے دین کے کسی مسئلہ کے متعلق پوچھا گیا، اور باوجود علم کے اس نے اسے چھپایا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی ۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever conceals knowledge which Allah has made beneficial for mankind's affairs of religion, Allah will bridle him with reins of fire on the Day of Resurrection.
ہم سے اسماعیل بن حبان بن واقد ثقفی، ابواسحاق وسطی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن عاصم نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن داب نے صفوان بن سلیم کی سند سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی ایسا علم چھپایا جس سے اللہ تعالیٰ لوگوں کے دینی امور میں نفع دیتا ہے، تو اللہ اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائے گا ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever is asked about knowledge that he has and he conceals it, will be bridled on the Day of Resurrection with reins of fire.'
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حفص بن ہشام بن زید بن انس بن مالک نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو ابراہیم اسماعیل بن ابراہیم الکرابیسی نے بیان کیا، ابن عون کی سند سے اور محمد بن سیرین کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھا گیا، اور جاننے کے باوجود اس نے اس کو چھپایا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather that:
The Prophet (ﷺ) forbade the deal involving earnest money. (Hasan)Abu 'Abdullah said: Earnest money refers to when a man buys an animal for one hundred Dinar, then he gives the seller two Dinar in advance and says: If I do not buy the animal, then the two Dinar are yours. And it was said that it refers, and Allah knows best, to when a man buys something, and gives the seller a Dirham or less or more, and says: If I take it (all well and good), and if I do not, then the Dirham is yours.
ہم سے الفضل بن یعقوب الرخامی نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس کے کاتب حبیب بن ابی حبیب ابو محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عامر اسلمی نے بیان کیا، عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عربان کی بیع ) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبداللہ ( ابن ماجہ ) کہتے ہیں کہ عربان: یہ ہے کہ آدمی ایک جانور سو دینار میں خریدے، اور بیچنے والے کو اس میں سے دو دینار بطور بیعانہ دیدے، اور کہے: اگر میں نے جانور نہیں لیا تو یہ دونوں دینار تمہارے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے واللہ اعلم: ( عربان یہ ہے کہ ) آدمی ایک چیز خریدے پھر بیچنے والے کو ایک درہم یا زیادہ یا کم دے، اور کہے اگر میں نے یہ چیز لے لی تو بہتر، ورنہ یہ درہم تمہارا ہے۔