Abdullah bin Abu Qatadah رضی اللہ عنہ narrated that his father said:
The Messenger of Allah said: 'The best things that a man can leave behind are three: A righteous son who will pray for him, ongoing charity whose reward will reach him, and knowledge which is acted upon after his death.' (Hasan) Another chain with similar wording.
ہم سے اسماعیل بن ابی کریمہ حرانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن سلمہ نے ابوعبدالرحیم کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے زید بن ابی انیسہ نے بیان کیا، زید بن اسلم کی سند سے، انہوں نے اپنے والد عبد اللہ بن عبداللہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی, کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنی موت کے بعد جو چیزیں دنیا میں چھوڑ جاتا ہے ان میں سے بہترین چیزیں تین ہیں: نیک اور صالح اولاد جو اس کے لیے دعائے خیر کرتی رہے، صدقہ جاریہ جس سے نفع جاری رہے، اس کا ثواب اسے پہنچتا رہے گا، اور ایسا علم کہ اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا رہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'The rewards of the good deeds that will reach a believer after his death are: Knowledge which he taught and spread; a righteous son whom he leaves behind; a copy of the Qur'an that he leaves as a legacy; a mosque that he built; a house that he built for wayfarers; a canal that he dug; or charity that he gave during his lifetime when he was in good health. These deeds will reach him after his death.'
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن وہب بن عطیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے مرزوق بن ابی الحذیل نے بیان کیا، مجھ سے الزہری نے بیان کیا، مجھ سے ابو عبداللہ الاغر نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کو اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے اس کے مرنے کے بعد جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے وہ یہ ہیں: علم جو اس نے سکھایا اور پھیلایا، نیک اور صالح اولاد جو چھوڑ گیا، وراثت میں قرآن مجید چھوڑ گیا، کوئی مسجد بنا گیا، یا مسافروں کے لیے کوئی مسافر خانہ بنوا دیا ہو، یا کوئی نہر جاری کر گیا، یا زندگی اور صحت و تندرستی کی حالت میں اپنے مال سے کوئی صدقہ نکالا ہو، تو اس کا ثواب اس کے مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet said: The best of charity is when a Muslim man gains knowledge, then he teaches it to his Muslim brother.
ہم سے یعقوب بن حمید بن کاسب مدنی نے بیان کیا، مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے، صفوان بن سلیم کی سند سے، عبید اللہ بن طلحہ کی سند سے، حسن بصری کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر اور افضل صدقہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان علم دین سیکھے، پھر اسے اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے ۔
It was narrated from Shu'aib bin 'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہما that his father said:
The Messenger of Allah was never seen eating while reclining or making two men walk behind him. (Sahih) Other chains with the same meanings.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سوید بن عمرو نے بیان کیا، وہ حماد بن سلمہ نے، وہ ثابت کی سند سے، وہ شعیب بن عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ کبھی آپ کے پیچھے پیچھے دو آدمی چلتے تھے۔
It was narrated that Abu Umamah رضی اللہ عنہ said:
The Prophet walked on a very hot day towards Baqi' Al-Gharqad (graveyard of Al-Madinah), and the people were walking behind him. When he heard the sound osxxxf their shoes, it affected his soul so he sat down until he made them go ahead of him, lest that make him feel too proud.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو المغیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معن بن رفاعہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے علی بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی کے دن میں بقیع غرقد نامی مقبرہ سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں کی چاپ سنی تو آپ کے دل میں خیال آیا، آپ بیٹھ گئے، یہاں تک کہ ان کو اپنے سے آگے کر لیا کہ کہیں آپ کے دل میں کچھ تکبر نہ آ جائے۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما said:
When the Prophet walked, his Companions would walk in front of him, and he would leave his back for the angels.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے، سفیان کی سند سے، اسود بن قیس نے نبیح العنزی کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے آگے آگے چلتے اور آپ کی پیٹھ فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے۔
Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ narrated:
The Messenger of Allah said: People will come to you seeking knowledge. When you see them say to them, 'Welcome, welcome,' in obedience to the injunctions of the Messenger of Allah and instruct them in knowledge. (One of the narrators said) I said to Al-Hakam: 'What is 'Iqnuhum?' He said: 'Instruct them.'
ہم سے محمد بن حارث بن راشد المصری نے بیان کیا، کہا: ہم سے الحکم بن عبدہ نے ابو ہارون العبدی کی سند سے بیان کیا,ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس کچھ لوگ علم حاصل کرنے آئیں گے، لہٰذا جب تم ان کو دیکھو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق انہیں «مرحبا» ( خوش آمدید ) کہو، اور انہیں علم سکھاؤ ۔ محمد بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے حکم سے پوچھا کہ «اقنوهم» کے کیا معنی ہیں، تو انہوں نے کہا: «علموهم»، یعنی انہیں علم سکھلاؤ۔
It was narrated that Isma'il said:
We entered upon Hasan to inquire after him until we filled the house. He tucked up his legs, the he (hasan) said: 'We entered upon Abu Hurairah to inquire after him until we filled the house. He (Abu Hurairah) tucked up his legs and said: We entered upon the Messenger of Allah until we filled the house. He was lying on his side, but when he saw us he tucked up his legs then he said: 'After I am gone, there will come to you people seeking knowledge. Welcome them, greet them and teach them.' (Maudu')A narrator said: By Allah! We came across some people who did not welcome us, greet us, nor teach us until we used to go to them, then they treated us rudely.
ہم سے عبداللہ بن عامر بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معلی بن ہلال نے بیان کیا,اسماعیل (اسماعیل بن مسلم) کہتے ہیں کہ
ہم حسن بصری کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا، انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر کہا: ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا، تو انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے، اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے، جب آپ نے ہمیں دیکھا تو اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر فرمایا: عنقریب میرے بعد کچھ لوگ طلب علم کے لیے آئیں گے، تو تم انہیں مرحبا کہنا، مبارکباد پیش کرنا، اور انہیں علم دین سکھانا ۔ پھر حسن بصری کہتے ہیں: قسم اللہ کی ( طلب علم میں ) ہمارا بہت سے ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا کہ انہوں نے نہ تو ہمیں مرحبا کہا، نہ ہمیں مبارکباد دی، اور نہ ہی ہمیں علم دین سکھایا، اس پر مزید یہ کہ جب ہم ان کے پاس جاتے تو وہ ہمارے ساتھ بری طرح پیش آتے۔
It was narrated that Abu Harun Al-'Abdi said:
When we came to Abu Sa'eed Al-Khudri, he would say: 'Welcome, in accordance with the injunction of the Messenger of Allah, for the Messenger of Allah said to us: The people will follow you; they will come to you from all parts of the earth seeking to understand the religion. So when they come to you, take care of them.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن محمد عنقزی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، ہارون عبدی کہتے ہیں کہ
جب ہم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تو وہ فرماتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق تمہیں خوش آمدید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: لوگ تمہارے پیچھے ہیں، اور عنقریب وہ تمہارے پاس زمین کے مختلف گوشوں سے علم دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے، لہٰذا جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے ساتھ بھلائی کرنا ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
One of the supplications that the Prophet used to say was: 'Allahumma, inni a'udhu bika min 'ilmin la yanfa'u, wa mindu'a'in la yusma'u, wa min qalbin la yakhsha'u, wa min nafsin la tashba'u [O Allah, I seek refuge with You from knowledge that is of no benefit, from a supplication that is not heard, from a heart that does not fear (You) and from a soul that is not satisfied].'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، انہوں نے ابن عجلان کی سند سے، وہ سعید بن ابی سعید کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ دعا بھی تھی: «اللهم إني أعوذ بك من علم لا ينفع ومن دعا لا يسمع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع» اے اللہ! میں اس علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے، اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے، اور اس دل سے جو ( اللہ سے ) نہ ڈرے، اور اس نفس سے جو آسودہ نہ ہوتا ہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah used to say: 'Allahumma, anfa'ni bima 'allamtani, wa 'allimnima yanfa'uni, wa zidni 'ilman. Wa'l-hamdu Lillahi 'ala kulli hal. [O Allah, benefit me by that which You have taught me, and teach me that which will benefit me, and increase my knowledge. Praise is to Allah in all circumstances].'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن عبیدہ سے اور محمد بن ثابت کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! میرے لیے اس چیز کو نفع بخش اور مفید بنا دے جو تو نے مجھے سکھایا ہے، مجھے وہ چیز سکھا دے جو میرے لیے نفع بخش اور مفید ہو، اور میرا علم زیادہ کر دے، اور ہر حال میں ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever acquires knowledge by which the pleasure of Allah is sought, but he only acquires it for the purpose of worldly gain, will not smell the fragrance of Paradise on the Day of Resurrection.' (Hasan) Another chain with similar wording.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد اور سریج بن نعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر ابی طوالہ نے سعید بن یسار کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے علم دین کو جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہوتی ہے محض کسی دنیاوی فائدہ کے لیے سیکھا تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah said: Whoever seeks knowledge in order to argue with the foolish, or to show off before the scholars, or to attract people's attention, will be in Hell.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو کریب ازدی نے بیان کیا، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے علم سیکھا تاکہ بے وقوفوں سے بحث و مباحثہ کرے، یا علماء پر فخر کرے، یا لوگوں کو اپنی جانب مائل کرے، تو وہ جہنم میں ہو گا ۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما that:
The Prophet said: Do not seek knowledge in order to show off in front of the scholars, or to argue with the foolish, and do not choose the best seat in a gathering, due to it (i.e. the knowledge which you have learned) for whoever does that, the Fire, the Fire (awaits him).
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، ہم کو یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، ابن جریج نے ابو الزبیر کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کے لیے نہ سیکھو، اور علم دین کو مجالس میں اچھے مقام کے حصول کا ذریعہ نہ بناؤ، جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے جہنم ہے، جہنم ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet said: There will be some people among my Ummah (nation) who will gain knowledge of the religion, and they will recite Qur'an, and will say: 'We come to the rulers so that we may have some share of their worldly wealth, and we will make sure that our religious commitment is not affected,' but that will not be the case. Just as nothing can be harvested from the Qatad except thorns, so nothing can be gained from being close to them except (sins).' (Da'if)(One of the narrators) Muhammed bin As-Sabbah said: It is as if he meant, 'except sins'.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم کو ولید بن مسلم نے خبر دی، وہ یحییٰ بن عبدالرحمٰن کندی کی سند سے، وہ عبید اللہ بن ابی بردہ کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک میری امت کے کچھ لوگ دین کا علم حاصل کریں گے، قرآن پڑھیں گے، اور کہیں گے کہ ہم امراء و حکام کے پاس چلیں اور ان کی دنیا سے کچھ حصہ حاصل کریں، پھر ہم اپنے دین کے ساتھ ان سے الگ ہو جائیں گے، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) یہ بات ہونے والی نہیں ہے، جس طرح کانٹے دار درخت سے کانٹا ہی چنا جا سکتا ہے، اسی طرح ان کی قربت سے صرف... چنا جا سکتا ہے ۔ محمد بن صباح راوی نے کہا: گویا آپ نے ( گناہ ) مراد لیا۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Seek refuge with Allah from the pit of grief.' They said: 'O Messenger of Allah, what is the pit of grief?' He said: 'A valley in Hell from which Hell itself seeks refuge four hundred times each day.' It was said: 'O Messenger of Allah, who will enter it?' He said: 'It has been prepared for reciters of the Qur'an who want to show off their deeds. The most hateful of reciters of the Qur'an to Allah are those who visit the rulers.' (Da'if) Other chains of narrators.
ہم سے علی بن محمد اور محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن محمد المحربی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عمار بن سیف نے ابو معاذ بصری کی سند سے بیان کیا۔ اور ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا, عمار بن سیف کی سند سے، ابو معاذ بصری کی سند سے، ابن سیرین کی سند سے،ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب الحزن» سے اللہ کی پناہ مانگو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! «جب الحزن» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان قراء کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اپنے اعمال میں ریاکاری کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین قاری وہ ہیں جو مالداروں کا چکر کاٹتے ہیں ۔ محاربی کہتے ہیں: امراء سے مراد ظالم حکمران ہیں۔
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said:
If the people of knowledge had taken care of it and presented it only to those who cared for it, they would have become the leaders of their age by virtue of that. But they squandered it on the people of wealth and status in this world in order to gain some worldly benefit, so the people of wealth and status began to look down on them. I heard your Prophet say: 'Whoever focuses all his concerns on one issue, the concerns of the Hereafter, Allah will suffice him and spare him the worries of this world. But whoever wanders off in concern over different worldly issues, Allah will not care in which of these valleys he is destroyed.' (Da'if) Another chain with similar wording.
ہم سے علی بن محمد اور حسین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا: ہم سے عبداللہ بن نمیر نے معاویہ النصری سے، نہشل کی سند سے، الضحاک کی سند سے، اسود بن یزید کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا
اگر اہل علم علم کی حفاظت کرتے، اور اس کو اس کے اہل ہی کے پاس رکھتے تو وہ اپنے زمانہ والوں کے سردار ہوتے، لیکن ان لوگوں نے دنیا طلبی کے لیے اہل دنیا پر علم کو نچھاور کیا، تو ان کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنی تمام تر سوچوں کو ایک سوچ یعنی آخرت کی سوچ بنا لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی غموں کے لیے کافی ہو گا، اور جس کی تمام تر سوچیں دنیاوی احوال میں پریشان رہیں، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہو جائے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet said: Whoever seeks knowledge for a reason other than the sake of Allah, or intends it for a purpose other than for the sake of Allah, let him take his place in hell.
ہم سے زید بن اخزم اور ابو بدر عباد بن الولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عباد اہنائی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے علی بن مبارک الہنائی نے ایوب سختیانی سے اور خالد بن دریک کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے غیر اللہ کے لیے علم طلب کیا، یا اللہ کے علاوہ کی ( رضا مندی ) چاہی، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم کو بنا لے ۔
It was narrated that Hudhaifah رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah say: 'Do not acquire knowledge in order to show off before the scholars, or to argue with the foolish, or to attract people's attention, for whoever does that will be in Hell.'
ہم سے احمد بن عاصم العبادانی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشیر بن میمون نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اشعث بن سوار کو ابن سیرین سے سنا, حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کرنے یا لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے نہ سیکھو، جس نے ایسا کیا اس کا ٹھکانا جہنم میں ہو گا ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever seeks knowledge in order to argue with the foolish, or to show off before the scholars, or to attract people's attention, Allah will admit him to Hell.'
ہم سے محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم کو وہب بن اسماعیل اسدی نے خبر دی، ہم سے عبداللہ بن سعید المقبری نے اپنے دادا کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم کو علماء پر فخر کرنے، اور بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرنے، اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سیکھا، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا ۔