It was narrated that Yunus bin Maisarah bin Halbas said:
I heard Mu'awiyah bin Abu Sufyan رضی اللہ عنہما narrating the Messenger of Allah said: Goodness is a (natural) habit while evil is a stubbornness (constant prodding from Satan). When Allah wills good for a person, He causes him to understand the religion.'
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن جنہ نے بیان کیا، ان سے یونس بن میسرہ بن حلباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ
میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر ( بھلائی ) انسان کی فطری عادت ہے، اور شر ( برائی ) نفس کی خصومت ہے، اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں بصیرت و تفقہ عطاء کرتا ہے ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
It was narrated that Kathir bin Qais said:
I was sitting with Abu Darda' رضی اللہ عنہ in the mosque of Damascus when a man came to him and said: 'O Abu Darda', I have come to you from Al-Madinah, the city of the Messenger of Allah, for a Hadith which I have heard that you narrate from the Prophet.' He said: 'Did you not come for trade?' He said: 'No.' He said: 'Did you not come for anything else?' He said: 'No.' He said: 'I heard the Messenger of Allah say: Whoever follows a path in the pursuit of knowledge, Allah will make easy for him a path to Paradise. The angels lower their wings in approval of the seeker of knowledge, and everyone in the heavens and on earth prays for forgiveness for the seeker of knowledge, even the fish in the sea. The superiority of the scholar over the worshipper is like the superiority of the moon above all other heavenly bodies. The scholars are the heirs of the Prophets, for the Prophets did not leave behind a Dinar or Dirham, rather they left behind knowledge, so whoever takes it has taken a great share.'
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن داؤد نے، عاصم بن رجاہ بن حیوہ نے داؤد بن جمیل کی سند سے بیان کیا, کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ
میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابوالدرداء! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ سے ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث روایت کرتے ہیں؟! ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ کی آمد کا سبب تجارت تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، کہا: کوئی اور مقصد تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص علم دین کی تلاش میں کوئی راستہ چلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، آسمان و زمین کی ساری مخلوق یہاں تک کہ مچھلیاں بھی پانی میں طالب علم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے، لہٰذا جس نے اس علم کو حاصل کیا، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Seeking knowledge is a duty upon every Muslim, and he who imparts knowledge to those who do not deserve it, is like one who puts a necklace of jewels, pearls and gold around the neck of swines.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے کثیر بن شنظیر نے بیان کیا، وہ محمد بن سیرین کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور نااہلوں و ناقدروں کو علم سکھانے والا سور کے گلے میں جواہر، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever relieves a Muslim of some worldly distress, Allah will relieve him of some of the distress of the Day of Resurrection, and whoever conceals (the faults of) a Muslim, Allah will conceal him (his faults) in this world and the Day of Resurrection. And whoever relives the burden from a destitute person, Allah will relieve him in this world and the next. Allah will help His slave so long as His slave helps his brother. Whoever follows a path in pursuit of knowledge, Allah will make easy fro him a path to paradise. No people gather in one of the houses of Allah, reciting the Book of Allah and teaching it to one another, but the angels will surround them, tranquility will descend upon them, mercy will envelop them and Allah will mention them to those who are with Him. And whoever is hindered because of his bad deeds, his lineage will be of no avail to him.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے ابو معاویہ نے الاعمش کی سند سے اور ابو صالح کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانیوں میں سے کسی پریشانی کو دور کر دیا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے بعض پریشانیاں دور فرما دے گا اور جس شخص نے کسی مسلمان کے عیب کو چھپایا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے عیب کو چھپائے گا، اور جس شخص نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو شخص علم دین حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستہ کو آسان کر دیتا ہے، اور جب بھی اللہ تعالیٰ کے کسی گھر میں کچھ لوگ اکٹھا ہو کر قرآن کریم پڑھتے ہیں یا ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں، تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے مقرب فرشتوں میں کرتا ہے، اور جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا، تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں کر سکتا ۔
It was narrated that Zirr bin Hubaish said:
I went to Safwan bin 'Assal Al-Muradi رضی اللہ عنہ and he said: 'What brought you here?' I said: 'I am seeking knowledge.' He said: 'I heard the Messenger of Allah say: There is no one who goes out of his house in order to seek knowledge, but the angels lower their wings in approval of his action.'
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، عاصم بن ابی نجود کی سند سے, زر بن حبیش کہتے ہیں کہ
میں صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: کس لیے آئے ہو؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے کے لیے، صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اپنے گھر سے علم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever comes to this mosque of mine, and only comes for a good purpose, such as to learn or to teach, his status is like that of one who fights in Jihad in the cause of Allah. Whoever comes for any other purpose, his status is that of a man who is keeping an eye on other people's property.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے حمید بن صخر کی سند سے المقبری کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میری اس مسجد میں صرف خیر ( علم دین ) سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے درجہ میں ہے، اور جو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آئے تو وہ اس شخص کے درجہ میں ہے جس کی نظر دوسروں کی متاع پر لگی ہوتی ہے ۔
It was narrated that Abu Umamah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'You must acquire this knowledge before it is taken away, and its taking away means that it will be lifted up.' He joined his middle finger and the one that next to the thumb like this, and said: 'The scholar and the seeker of knowledge will share the reward, and there is no good in the rest of the people.'
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن ابی عتیقہ نے بیان کیا، وہ علی بن یزید کی سند سے، وہ القاسم کی سند سے, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس علم دین کو اس کے قبض کیے جانے سے پہلے حاصل کر لو، اور اس کا قبض کیا جانا یہ ہے کہ اسے اٹھا لیا جائے ، پھر آپ نے بیچ والی اور شہادت کی انگلی دونوں کو ملایا، اور فرمایا: عالم اور متعلم ( سیکھنے اور سکھانے والے ) دونوں ثواب میں شریک ہیں، اور باقی لوگوں میں کوئی خیر نہیں ہے ۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah came out of one of his apartments one day and entered the mosque, where he saw two circles, one reciting Qur'an and supplicating to Allah, and the other learning and teaching. The Prophet said: 'Both of them are good. These people are reciting the Qur'an and supplicating to Allah, and if He wills He will give them, and if He wills He will withhold from them. And these people are learning and teaching. Verily I have been sent as a teacher.' Then he sat down with them.
ہم سے بشر بن ہلال الصواف نے بیان کیا، کہا ہم سے داؤد بن الزبرقان نے بیان کیا، انہوں نے بکر بن خنیس سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن زیاد سے اور عبداللہ بن یزید کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے کسی کمرے سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے اس میں دو حلقے دیکھے، ایک تلاوت قرآن اور ذکرو دعا میں مشغول تھا، اور دوسرا تعلیم و تعلم میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں حلقے نیکی کے کام میں ہیں، یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں، اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور چاہے تو نہ دے، اور یہ لوگ علم سیکھنے اور سکھانے میں مشغول ہیں، اور میں تو صرف معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں، پھر انہیں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔
It was narrated from Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah said: May Allah cause his face to shine, the man who hears what I say and conveys it (to others). There are those who have knowledge but no understanding, and there may be those who convey knowledge to those who have more understanding of it than they do.' (One of the narrators) 'Ali bin Muhammed added to it: There are three things because of which hatred does not enter the heart of a Muslim: Sincerity in doing an action for the sake of Allah; being sincere towards the rulers of the Muslims; and adhering to the Jama'ah (main body of the Muslims.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا: ہم سے لیث بن ابی سلیم نے اپنے والد کی سند سے یحییٰ بن عباد ابی ہبیرہ الانصاری سے بیان کیا, زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچایا، اس لیے کہ بعض علم رکھنے والے خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں، اور بعض علم کو اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں ۔ علی بن محمد نے اپنی روایت میں اتنا مزید کہا: تین چیزیں ہیں کہ ان میں کسی مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا، ہر نیک کام محض اللہ کی رضا کے لیے کرنا، مسلمانوں کے اماموں اور سرداروں کی خیر خواہی چاہنا، مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہمیشہ رہنا، ان سے جدا نہ ہونا ۔
Muhammed bin Jubair bin Mut'im رضی اللہ عنہما narrated that his father said:
The Messenger of Allah stood up at Khaif in Mina and said: 'May Allah cause his face to shine, the man who hears what I say and conveys it (to others). There are those who have knowledge but no understanding, and there may be those who convey knowledge to those who have more understanding of it than they do.' (Hasan)Other chains with similar wording.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے، محمد بن اسحاق سے، عبدالسلام کی سند سے، الزہری کی سند سے، محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ کی مسجد خیف میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے علم دین رکھنے والے فقیہ نہیں ہوتے ہیں، اور بہت سے وہ ہیں جو علم کو اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں ۔
Abdur-Rahman bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ narrated from his father that:
The Prophet said: May Allah cause his face to shine, the man who hears a Hadith from us and conveys it, for perhaps the one to whom it is conveyed may remember it better than the one who (first) hears it.
ہم سے محمد بن بشار اور محمد بن ولید نے بیان کیا, ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, ہم سے شعبہ نے سماک کی سند سے، عبدالرحمٰن بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے وہ لوگ جنہیں حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ ادراک رکھنے والے ہوتے ہیں ۔
It was narrated that Abu Bakrah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah delivered a religious speech on the Day of Sacrifice and said: 'Let those who are present convey to those who are absent. For perhaps the one to whom it is conveyed will understand it better than the one who (first) hears it.'
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید القطان نے بیان کیا، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، وہ عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو خطبہ دیا اور فرمایا: یہ باتیں حاضرین مجلس ان لوگوں تک پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں، اس لیے کہ بہت سے لوگ جنہیں کوئی بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ اس بارے میں ہوشمند اور باشعور ہوتے ہیں ۔
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather Mu'awiyah Al-Qushairi رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Let the one who is present convey to the one who is absent.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا اور ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہمیں نضر بن شمائل نے بہز بن حکیم سے اپنے والد کی سند سے خبر دی, معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! حاضرین یہ باتیں ان تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah said: Let those of you who are present convey it to those of you who are absent.
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالعزیز بن محمد الدروردی نے خبر دی، کہا: مجھ سے قدامہ بن موسیٰ نے، محمد بن حصین تمیمی سے، ابو علقمہ کی سند سے، جو ابو علقمہ کے آزاد کردہ غلام ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, ابن عمر کا غلامعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو لوگ حاضر ہیں انہیں چاہیئے کہ جو لوگ یہاں حاضر نہیں ہیں، ان تک ( جو کچھ انہوں نے سنا ہے ) پہنچا دیں ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'May Allah cause to flourish a slave (of His) who hears my words and understands them, then he conveys them from me. There are those who have knowledge but no understanding, and there may be those who convey knowledge to those who may have more understanding of it than they do.'
ہم سے محمد بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے مبشر بن اسماعیل حلبی نے بیان کیا، انہوں نے معن بن رفاعہ سے اور عبد الوہاب بن بخت المکی کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی، اور اسے محفوظ رکھا، پھر میری جانب سے اسے اوروں کو پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے علم دین رکھنے والے فقیہ نہیں ہوتے ہیں، اور بہت سے علم دین رکھنے والے اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Some people open the door to good and close the door to evil, and some people open the door to evil and close the door to good. Glad tidings to those in whose hands Allah places they keys to good, and woe to those in whose hands Allah places the keys to evil.'
ہم سے حصین بن الحسن المروازی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی حمید نے بیان کیا، ہم سے حفص بن عبید اللہ بن انس نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض لوگ خیر کی کنجی اور برائی کے قفل ہوتے ہیں ۱؎ اور بعض لوگ برائی کی کنجی اور خیر کے قفل ہوتے ہیں، تو اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجیاں رکھ دیں ہیں، اور اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجیاں رکھ دی ہیں ۔
It was narrated from Sahl bin Sa'd رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah said: This goodness contains many treasures, and for those there are keys. So glad tidings to the one whom Allah makes a key to good and a lock for evil, and woe to the one whom Allah makes a key to evil and a lock to good.
ہم سے ہارون بن سعید اعیلی ابو جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے ابوحازم کی سند سے بیان کیا, سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خیر خزانے ہیں، اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی ہیں، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجی، اور شر کا قفل بنا دیا ہو، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجی، اور خیر کا قفل بنایا ہو ۔
It was narrated that Abu Dharr رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah say: 'Everyone in the universe, in the heavens and on earth, prays for forgiveness for the scholar, even the fish in the sea.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے عثمان بن عطا سے اپنے والد سے, ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: عالم کے لیے آسمان و زمین کی تمام مخلوق مغفرت طلب کرتی ہے، یہاں تک کہ سمندر میں مچھلیاں بھی ۔
Sahl bin Mu'adh bin Anas رضی اللہ عنہ narrated from his father that:
The Prophet said: Whoever teaches some knowledge will have the reward of the one who acts upon it, without that detracting from his reward in the slightest.
ہم سے احمد بن عیسیٰ المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن ایوب کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو علم دین سکھایا، تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ اس شخص کو جو اس پر عمل کرے، اور عمل کرنے والے کے ثواب سے کوئی کمی نہ ہو گی ۱؎۔