It was narrated that Mughirah bin Shu'bah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ' Whoever narrates a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، سفیان کی سند سے، حبیب بن ابی ثابت سے اور میمون بن ابی شبیب کی سند سے, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔
Yahya bin Abu Muta' said:
I heard 'Irbad bin Sariyah رضی اللہ عنہ say: 'One day, the Messenger of Allah (ﷺ) stood up among us and delivered a deeply moving speech to us that melted our hearts and caused our eyes to overflow with tears. It was said to him: 'O Messenger of Allah, you have delivered a speech of farewell, so enjoin something upon us.' He said: 'I urge you to fear Allah, and to listen and obey, even if (your leader) is an Abyssinian slave. After I am gone, you will see great conflict. I urge you to adhere to my Sunnah and the path of the Rightly-Guided Caliphs, and cling stubbornly to it. And beware of newly-invented matters, for every innovation is a going astray.'
ہم سے عبداللہ بن احمد بن بشیر بن ذکوان الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن العلاء (یعنی ابن زبر) نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن ابی الموطاع نے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ نے ہمیں ایک مؤثر نصیحت فرمائی، جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو رخصت ہونے والے شخص جیسی نصیحت کی ہے، لہٰذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے ڈرو، اور امیر ( سربراہ ) کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، گرچہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، عنقریب تم لوگ میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے، تو تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رہنا، اور دین میں نئی باتوں ( بدعتوں ) سے اپنے آپ کو بچانا، اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے ۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin 'Amr As-Sulami that:
He heard Al-'Irbad bin Sariyah رضی اللہ عنہ say: The Messenger of Allah (ﷺ) delivered a moving speech to us which made our eyes flow with tears and made our hearts melt. We said: 'O Messenger of Allah. This is a speech of farewell. What did you enjoin upon us?' He said: 'I am leaving you upon a (path of) brightness whose night is like its day. No one will deviate from it after I am gone but one who is doomed. Whoever among you lives will see great conflict. I urge you to adhere to what you know of my Sunnah and the path of the Rightly-Guided Caliphs, and cling stubbornly to it. And you must obey, even if (your leader is) an Abyssinian leader. For the true believer is like a camel with a ring in its nose; wherever it is driven, it complies.
ہم سے اسماعیل بن بشر بن منصور اور اسحاق بن ابراہیم السواق نے بیان کیا, ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے معاویہ بن صالح کی سند سے، ضمرہ بن حبیب کی سند سے، عبدالرحمٰن بن عمرو العمرو السلمی کی سند سے بیان کیا
اس نےعرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جس سے ہماری آنکھیں ڈبدبا گئیں، اور دل لرز گئے، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو رخصت ہونے والے کی نصیحت معلوم ہوتی ہے، تو آپ ہمیں کیا نصیحت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو ایک ایسے صاف اور روشن راستہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اس راستہ سے میرے بعد صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرے گا، تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا، لہٰذا میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت سے جو کچھ تمہیں معلوم ہے اس کی پابندی کرنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رکھنا، اور امیر کی اطاعت کرنا، چاہے وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ مومن نکیل لگے ہوئے اونٹ کی طرح ہے، جدھر اسے لے جایا جائے ادھر ہی چل پڑتا ہے ۔
It was narrated from 'Irbad bin Sariyah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) led us in Fajr (morning) prayer, then he turned to us and delivered an eloquent speech . And he mentioned something similar (as no.43)
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن الصباح المسمعی نے بیان کیا، کہا ہم سے ثور بن یزید نے بیان کیا، وہ خالد بن معد ان سے اور عبدالرحمٰن بن عمرو سے, عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے، اور ہمیں ایک مؤثر نصیحت کی، پھر راوی نے سابقہ حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) delivered a sermon, his eyes would turn red, he would raise his voice and he would speak with intensity, as if he were warning of an (enemy) army, saying, 'They will surely attack you in the morning, or they will surely attack you in the evening!' He would say: 'I and the Hour have been sent like these two,' and he would hold his index and middle finger. Then he would say: 'The best of guidance is the guidance of Muhammad. The most evil matters are those that are newly-invented, and every innovation (Bid'ah) is a going astray.' And he used to say: 'Whoever dies and leaves behind some wealth, it is for his family, and whoever leaves behind a debt or dependent children, then they are both my responsibility.'
ہم سے سوید بن سعید اور احمد بن ثابت الجہدری نے بیان کیا: ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے جعفر بن محمد سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا,جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ، آواز بلند اور غصہ سخت ہو جاتا، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ( حملہ آور ) لشکر سے ڈرانے والے اس شخص کی طرح ہیں جو کہہ رہا ہے کہ لشکر تمہارے اوپر صبح کو حملہ کرنے والا ہے، شام کو حملہ کرنے والا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: میں اور قیامت دونوں اس طرح قریب بھیجے گئے ہیں ، اور ( سمجھانے کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت والی اور بیچ والی انگلی ملاتے پھر فرماتے: حمد و صلاۃ کے بعد! جان لو کہ سارے امور میں سے بہتر اللہ کی کتاب ( قرآن ) ہے، اور راستوں میں سے سب سے بہتر محمد کا راستہ ( سنت ) ہے، اور سب سے بری چیز دین میں نئی چیزیں ( بدعات ) ہیں ۱؎، اور ہر بدعت ( نئی چیز ) گمراہی ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو مرنے والا مال و اسباب چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا اہل و عیال چھوڑے تو قرض کی ادائیگی، اور بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Verily there are two things - words and guidance. The best words are the words of Allah, and the best guidance in the guidance of Muhammad. Beware of newly-invented matters, for every newly-invented matter is an innovation (Bid'ah) and every innovation is a going-stray. Do not let the desire for a long life causes your hearts to grow hard. That which is bound to happen is close to you, and the only thing that is far away is that which is not going to happen. The one who is doomed to Hell is doomed from his mother's womb, and the one who is destined for Paradise is the one who learns from the lessons of others. Killing a believer constitutes disbelief (Kufr) and verbally abusing him is immorality (Fusuq). It is not permissible for a Muslim to forsake his brother for more than three days. Beware of lying, for lying is never good, whether it is done seriously or in jest. A man should not make a promise to a child that he will not keep. Lying leads to immorality and immorality leads to Hell. Truthfulness leads to righteousness and righteousness leads to Paradise. It will be said of the truthful person: 'He spoke the truth and was righteous', and it will be said of the liar, 'He told lies and was immoral.' For a person continues to tell lies until he is recorded with Allah as a liar.
ہم سے محمد بن عبید بن میمون المدنی ابو عبید نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، وہ محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے، موسیٰ بن عقبہ سے، ابو اسحاق کی سند سے، ابو الاحوص کی سند سے,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس دو ہی چیزیں ہیں، ایک کلام اور دوسری چیز طریقہ، تو سب سے بہتر کلام اللہ کا کلام ( قرآن مجید ) ہے، اور سب سے بہتر طریقہ ( سنت ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، سنو! تم اپنے آپ کو دین میں نئی چیزوں سے بچانا، اس لیے کہ دین میں سب سے بری چیز «محدثات» ( نئی چیزیں ) ہیں، اور ہر «محدث» ( نئی چیز ) بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ سنو! کہیں شیطان تمہارے دلوں میں زیادہ زندہ رہنے اور جینے کا وسوسہ نہ ڈال دے، اور تمہارے دل سخت ہو جائیں ۔ خبردار! آنے والی چیز قریب ہے ، دور تو وہ چیز ہے جو آنے والی نہیں۔ خبردار! بدبخت تو وہی ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت لکھ دیا گیا، اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرے۔ آگاہ رہو! مومن سے جنگ و جدال اور لڑائی جھگڑا کرنا کفر ہے، اور اسے گالی دینا فسق ( نافرمانی ) ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے ۔ سنو! تم اپنے آپ کو جھوٹ سے بچانا، اس لیے کہ جھوٹ سنجیدگی یا ہنسی مذاق ( مزاح ) میں کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے ، کوئی شخص اپنے بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے جسے پورا نہ کرے ، جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے، اور سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، چنانچہ سچے آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ کہا اور نیک و کار ہوا، اور جھوٹے آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا اور گناہ گار ہوا۔ سنو! بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کذاب ( جھوٹا ) لکھ دیا جاتا ہے ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah (ﷺ) recited the following Verse: 'It is He Who has sent down to you (Muhammad) the Book (this Qur'an). In it are verses that are entirely clear, they are the foundations of the Book; and others not entirely clear (up to His saying: ) 'And none receive admonition except men of understanding.' Then he said: 'O 'Aishah, if you see those who dispute concerning it (the Qur'an), they are those whom Allah has referred to here, so beware of them.'
ہم سے محمد بن خالد بن خداش نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن الیاس نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا۔ اور ہم سے احمد بن ثابت اور یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے، عبداللہ بن ابی ملیکہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی: «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات هن أم الكتاب وأخر متشابهات» اللہ تعالیٰ کے یہ فرمان «وما يذكر إلا أولو الألباب» تک: ( سورة آل عمران: 7 ) ، یعنی: وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب اتاری، جس میں اس کی بعض آیات معلوم و متعین معنی والی محکم ہیں جو اصل کتاب ہیں، اور بعض آیات متشابہ ہیں، پس جن کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور ان کے معنی مراد کی جستجو کریں، حالانکہ ان کے حقیقی معنی مراد کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، اور پختہ و مضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان رکھتے ہیں، یہ تمام ہمارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہیں، اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں ۔ اور ( آیت کی تلاوت کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! جب ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیات میں جھگڑتے اور بحث و تکرار کرتے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اس آیت کریمہ میں مراد لیا ہے، تو ان سے بچو ۔
It was narrated that Abu Umamah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'No people go astray after having followed right guidance, but those who indulge in disputes.' Then he recited the Verse: Nay! But they are a quarrelsome people.'
ہم سے علی بن المنذر نے بیان کیا، ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا اور ہم سے حوثرہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے حجاج بن دینار نے ابو غالب کی سند سے بیان کیا, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ہدایت پر رہنے کے بعد گمراہ اس وقت ہوئی جب وہ «جدال» ( بحث اور جھگڑے ) میں مبتلا ہوئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: «بل هم قوم خصمون» بلکہ وہ جھگڑالو لوگ ہیں ( سورة الزخرف: 58 ) ۔
Hudhaifah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah will not accept any fasting, prayer, charity, Hajj, 'Umrah, Jihad, or any other obligatory or voluntary action from a person who follows innovation (Bid'ah). He comes out of Islam like a hair pulled out of dough. (Maudu')
ہم سے داؤد بن سلیمان العسکری نے بیان کیا : ہم سے محمد بن علی ابو ہاشم بن ابی خداش الموصیلی نے بیان کیا : ہم سے محمد بن محصن نے ابراہیم بن ابی ابلہ کی سند سے اور عبداللہ بن دیلمی کی سند سے بیان کیا , حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کسی بدعتی کا روزہ، نماز، صدقہ و زکاۃ، حج، عمرہ، جہاد، نفل و فرض کچھ بھی قبول نہیں کرتا، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جاتا ہے جس طرح گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے ۔
'Abdullah bin 'Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah refuses to accept the good deeds of one who follows innovation until he gives up that innovation.'
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن منصور الخیاط نے ابو زید کی سند سے اور ابو المغیرہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کسی بدعتی کا عمل قبول نہیں فرماتا جب تک کہ وہ اپنی بدعت ترک نہ کر دے ۔
Ans bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever gives up telling lies in support of a false claim, a palace will be built for him in the outskirts of Paradise. Whoever gives up argument when he is in the right, a palace will be built from him in the middle (of Paradise). And whoever had good behavior, a palace will be built for him in the highest reaches (of Paradise).'
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی اور ہارون بن اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی فدیک نے سلمہ بن وردان کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور وہ باطل پر تھا تو اس کے لیے جنت کے کناروں میں ایک محل بنایا جائے گا، اور جس نے حق پر ہونے کے باوجود بحث اور کٹ حجتی چھوڑ دی اس کے لیے جنت کے بیچ میں محل بنایا جائے گا، اور جس نے اپنے آپ کو حسن اخلاق سے مزین کیا اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں محل بنایا جائے گا ۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin 'As رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah will not take away knowledge by removing it from people (from their hearts). Rather He will take away knowledge by taking away the scholars, then when there are no scholars left, the people will take the ignorant as their leaders. They will be asked questions and they will issue verdicts without knowledge, thus they will go astray and lead others astray.'
ہم سے ابو کریب محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس، عبدہ، ابو معاویہ، عبداللہ بن نمیر اور محمد بن بشر نے بیان کیا۔ اور ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا, مالک بن انس، حفص بن میسرہ، اور شعیب بن اسحاق، ہشام بن عروہ سے، اپنے والد کی سند سے,عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں مٹائے گا کہ اسے یک بارگی لوگوں سے چھین لے گا، بلکہ اسے علماء کو موت دے کر مٹائے گا، جب اللہ تعالیٰ کسی بھی عالم کو باقی اور زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے مسائل پوچھے جائیں گے، اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، تو گمراہ ہوں گے، اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever is given a Fatwa (verdict) that has no basis, then his sin will be upon the one who issued that Fatwa.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی ایوب کے واسطہ سے، مجھ سے ابو ہانی حمید بن ہانی الخولانی نے بیان کیا، وہ ابو عثمان مسلم بن یسار کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے ( بغیر تحقیق کے ) کوئی غلط فتویٰ دیا گیا ( اور اس نے اس پر عمل کیا ) تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہو گا ۔
'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Knowledge is based on three things, and anything beyond that is superfluous: a clear Verse, an established Sunnah, or the rulings by which the inheritance is divided fairly.'
ہم سے محمد بن العلاء ہمدانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے رشدین بن سعد اور جعفر بن عون نے بیان کیا، انہوں نے ابن انعام سے جو افریقی ہیں، نے عبدالرحمٰن بن رافع کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم تین طرح کا ہے، اور جو اس کے علاوہ ہے وہ زائد قسم کا ہے: محکم آیات ، صحیح ثابت سنت ، اور منصفانہ وراثت ۔
Mu'adh bin Jabal رضی اللہ عنہ said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) sent me to Yemen, he said: 'Do not pass any judgment or make any decision except on the basis of what you know. If you are uncertain about a matter, wait until you understand it fully, or write to me concerning it.' (Maudu')
ہم سے حسن بن حماد سجادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید الاموی نے بیان کیا، وہ محمد بن سعید بن حسان نے، عبادہ بن نسیٰ سے اور عبدالرحمٰن بن غنم کی سند سے,معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو یمن بھیجا تو فرمایا: جن امور و مسائل کا تمہیں علم ہو انہیں کے بارے میں فیصلے کرنا، اگر کوئی معاملہ تمہارے اوپر مشتبہ ہو جائے تو ٹھہرنا انتظار کرنا یہاں تک کہ تم اس کی حقیقت معلوم کر لو، یا اس سلسلہ میں میرے پاس لکھو ۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr bin 'As رضی اللہ عنہما said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The affairs of the Children of Israel remained fair until Muwalladun emerged among them - the children of female slaves from other nations. They spoke of their own opinions (in religious matters) and so they went astray and led others astray.'
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی الرجال نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے، وہ عبدہ بن ابی لبابہ کی سند سے, عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بنی اسرائیل کا معاملہ ہمیشہ ٹھیک ٹھاک رہا یہاں تک کہ ان میں وہ لوگ پیدا ہو گئے جو جنگ میں حاصل شدہ عورتوں کی اولاد تھے، انہوں نے رائے ( قیاس ) سے فتوی دینا شروع کیا، تو وہ خود بھی گمراہ ہوئے، اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Faith has sixty-some or seventy parts, the least of which is to remove a harmful thing from the road and the greatest of which is to say La ilaha illalah (none has the right to be worshipped but Allah). And modesty is a branch of faith.' Another chain from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ) with similar wording.
ہم سے علی بن محمد الطنافیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، سہیل بن ابی صالح کی سند سے، عبداللہ بن دینار کی سند سے، وہ ابی صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے ساٹھ یا ستر سے زائد شعبے ( شاخیں ) ہیں، ان میں سے ادنی ( سب سے چھوٹا ) شعبہ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے، اور سب سے اعلیٰ اور بہتر شعبہ «لا إله إلا الله» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہنا ہے، اور شرم و حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے ۔
It was narrated from Salim that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said heard a man urging his brother to be modest. He said: 'Indeed modesty is a branch of faith.'
ہم سے سہل بن ابی سہل اور محمد بن عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے، سلیم نے اپنے والد سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے بھائی کو شرم و حیاء کے سلسلے میں ملامت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے ۔
It was narrated that Abdullah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'No one will enter Paradise who has even a mustard-seed's weight of arrogance in his heart, and no one will enter Hell who has even a mustard-seed's weight of faith in his heart.'
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، ہم سے علی بن مشیر نے العمش کی سند سے بیان کیا اور ہم سے علی بن میمون الرقی نے بیان کیا، ہم سے سعید بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، وہ علقمہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر تکبر ( گھمنڈ ) ہو گا وہ جنت میں نہیں داخل ہو گا، اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو گا وہ جہنم میں نہیں داخل ہو گا ۔
Abu Sa'eed Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When Allah has saved the believers from Hell and they are safe, none of you will dispute with his companion more vehemently for some right of his in this world than the believers will dispute with their Lord on behalf of their brothers in faith who have entered Hell. They will say: Our Lord! They are our brothers, they used to pray with us, fast with us and perform Hajj with us, and you have admitted them to Hell. He will say: Go and bring forth those whom you recognize among them. So they will come to them , and they will recognize them by their faces. The Fire will not consume their faces, although there will be some whom the Fire will seize halfway up their shins, and others whom it will seize up to their ankles. They will bring them forth, and will say. Our Lord, we have brought forth those whom You commanded us to bring forth. Then He will say: Bring forth those who have a Dinar's weight of faith in their hearts, then those who have half a Dinar's weight in their hearts, then those who have a mustard-seed's weight. Abu Sa'eed رضی اللہ عنہ said. : He who does not believe this, let him recite, 'Surely, Allah wrongs not even of the weight of an atom (or a small ant), but is there is any good (done), He doubles it, and gives from Him a great reward.'
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے بیان کیا، انہیں زید بن اسلم نے اور عطاء بن یسار سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ مومنوں کو جہنم سے نجات دیدے گا، اور وہ امن میں ہو جائیں گے تو وہ اپنے ان بھائیوں کی نجات کے لیے جو جہنم میں داخل کر دئیے گئے ہوں گے، اپنے رب سے ایسی بحث و تکرار کریں گے کہ کسی نے دنیا میں اپنے حق کے لیے اپنے ساتھی سے بھی ویسا نہیں کیا ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! یہ ہمارے بھائی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، روزہ رکھتے تھے، اور حج کرتے تھے، تو نے ان کو جہنم میں داخل کر دیا! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ ان میں سے جنہیں تم پہچانتے ہو نکال لو ، وہ مومن ان جہنمیوں کے پاس آئیں گے، اور انہیں ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، آگ ان کی صورتوں کو نہیں کھائے ہو گی، کسی کو آگ نے اس کی آدھی پنڈلیوں تک اور کسی کو ٹخنوں تک پکڑ لیا ہو گا، پھر وہ مومن ان کو جہنم سے نکالیں گے اور عرض کریں گے: اے ہمارے رب! جن کو تو نے نکالنے کا حکم دیا تھا ہم نے ان کو نکال لیا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس شخص کے دل میں ایک دینار کے برابر ایمان ہو اس کو بھی جہنم سے نکال لو، پھر جس کے دل میں آدھا دینار کے برابر ایمان ہو، پھر جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جس کو اس پر یقین نہ آئے وہ اس آیت کو پڑھ لے: «إن الله لا يظلم مثقال ذرة وإن تك حسنة يضاعفها ويؤت من لدنه أجرا عظيما» یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے، اور اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے ( سورة النساء: 40 ) ۔