It was narrated from Umm Salamah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Hajj is the Jihad of every weak person.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ القاسم بن الفضل حدانی نے ابو جعفر کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج ہر ناتواں اور ضعیف کا جہاد ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) heard a man saying: “Labbaik ‘an Shubrumah (Here I am (O Allah) on behalf of Shubrumah.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Who is Shubrumah?” He said: “A relative of mine.” He said: “Have you ever performed Hajj?” He said: “No.” He said: “Then make this for yourself, then perform Hajj on behalf of Shubrumah.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے سعید کے واسطہ سے، وہ قتادہ کی سند سے، عزرہ نے سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو «لبیک عن شبرمہ» حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے کہتے ہوئے سنا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: شبرمہ کون ہے ؟ اس نے بتایا: وہ میرا رشتہ دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے کبھی حج کیا ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس حج کو اپنی طرف سے کر لو، پھر ( آئندہ ) شبرمہ کی طرف سے کرنا ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘Shall I perform Hajj on behalf of my father?’ He said: ‘Yes, perform Hajj on behalf of your father, for if you cannot add any good to his record (at least) you will not add anything bad.’”
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں سفیان الثوری نے سلیمان شیبانی سے اور یزید بن الاصام کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اپنے والد کی طرف سے حج کرو، اگر تم ان کی نیکی نہ بڑھا سکے تو ان کی برائی میں اضافہ مت کرو ۔
It was narrated from Abu Ghawth bin Husain رضی اللہ عنہ – a man from Furu’ – that:
He consulted the Prophet (ﷺ) about a Hajj that his father owed, but he had died and had not gone for Hajj. The Prophet (ﷺ) said: “Perform Hajj on behalf of your father.” And the Prophet (ﷺ) said: “The same applies to fasting in fulfillment of a vow – it should be made up for.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عثمان بن عطا نے اپنے والد سے بیان کیا, مقام فرع کے ایک شخص ابوالغوث بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے حج کی ادائیگی کے بارے میں سوال کیا جو ان کے والد پر فرض تھا، اور وہ بغیر حج کیے مر گئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج کرو ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: اسی طرح کا معاملہ نذر مانے ہوئے صیام کا بھی ہے کہ ان کی قضاء اس کی طرف سے کی جائے گی ۔
It was narrated from Abu Razin Al-‘Uqaili رضی اللہ عنہ that:
He came to the Prophet (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah, my father is an old man and he cannot perform Hajj or ‘Umrah, and he is not able to ride the mount (due to old age).” He said: “Perform Hajj and ‘Umrah on behalf of your father.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے شعبہ کی سند سے، نعمان بن سلیم نے عمرو بن اوس سے بیان کیا, ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی، اور نہ سواری پر سوار ہونے کی ( فرمائیے! ان کے متعلق کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
A woman from Khath’am came to the Prophet (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah, my father is an old man who has become weak, and now the command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but he cannot do it. Will it discharge his duty if I perform it on his behalf?” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Yes.”
ہم سے ابو مروان محمد بن عثمان العثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز الدراوردی نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن حارث بن عیاش بن ابی ربیعہ المخزومی نے حکیم بن حکیم بن عباد بن حنیف انصاری کی سند سے, نافع بن جبیر نے روایت کی ہے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ بہت ناتواں اور ضعیف ہو گئے ہیں، اور اللہ کا بندوں پر عائد کردہ فرض حج ان پر لازم ہو گیا ہے، وہ اس کو ادا کرنے کی قوت نہیں رکھتے، اگر میں ان کی طرف سے حج ادا کروں تو کیا یہ ان کے لیے کافی ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
Husain bin ‘Awf رضی اللہ عنہ told me: I said: “O Messenger of Allah, the command for Hajj has come but my father cannot perform Hajj unless he is tied to a saddle.” Some time passed, then he said: “Perform Hajj on behalf of your father.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، ہم سے محمد بن کریب نے اپنے والد سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا
مجھ سےحصین بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے لیکن وہ حج کرنے کی سکت نہیں رکھتے، مگر اس طرح کہ ا نہیں کجاوے کے ساتھ رسی سے باندھ دیا جائے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہم that his brother Fadl was riding behind the Messenger of Allah (ﷺ) in the morning of sacrifice (i.e., the 10th of Dhul-Hijjah), when a woman from Khath’am came and said: “O Messenger of Allah, the command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but my father is an old man and cannot ride. May I perform Hajj on his behalf?” He said: “Yes, because if your father owed a debt you would pay it off.”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، زہری کی سند سے، سلیمان بن یسار کی سند سے, عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ
وہ یوم النحر کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے بندوں پر عائد کیے ہوئے فریضہ حج نے میرے والد کو بڑھاپے میں پایا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس لیے کہ اگر تمہارے باپ پر کوئی قرض ہوتا تو تم اسے چکاتیں نا ؟
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“A woman held up a child of hers to the Prophet (ﷺ) during Hajj and said: ‘O Messenger of Allah, is there Hajj for this one?’ He said: ‘Yes, and you will be rewarded.’”
ہم سے علی بن محمد اور محمد بن طریف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا, مجھ سے محمد بن سو قہ نے، محمد بن المنکدر کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک عورت نے اپنے بچے کو حج کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں اور اجر و ثواب تمہارے لیے ہے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“Asma’ bint ‘Umais رضی اللہ عنہا gave birth at Shajarah, and the Messenger of Allah (ﷺ) told Abu Bakr رضی اللہ عنہ to tell her to take a bath and begin the Talbiyah.”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدہ بن سلیمان نے عبید اللہ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن القاسم سے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو مقام شجرہ میں نفاس آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کر کے تلبیہ پکاریں ۔
It was narrated from Abu Bakr رضی اللہ عنہا that:
He went out for Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ), and Asma’ bint ‘Umais رضی اللہ عنہا was with him. She gave birth, at Shajarah, to Muhammad bin Abu Bakr. Abu Bakr رضی اللہ عنہ came to the Prophet (ﷺ) and told him about that, and the Messenger of Allah (ﷺ) told him to tell her to take a bath, then begin the Talbiyah for Hajj, and to do everything that the people did, apart from circumambulating the House (Tawaf).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، وہ سلیمان بن بلال سے، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ انہوں نے قاسم بن محمد کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا, ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، ان کے ساتھ ( ان کی بیوی ) اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں، ان سے مقام شجرہ ( ذوالحلیفہ ) میں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ کو اس کی اطلاع دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کریں، پھر تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اور وہ تمام کام انجام دیں، جو دوسرے لوگ کریں البتہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“Asma’ bint ‘Umais رضی اللہ عنہا gave birth to Muhammad bin Abi Bakr and sent word to the Prophet (ﷺ). He told her to take a bath, fasten a cloth around her private part and begin the Talbiyah.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، جعفر بن محمد نے اپنے والد سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو محمد بن ابی بکر کی ( ولادت کی ) وجہ سے نفاس ( کا خون ) آیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے، اور کپڑے کا لنگوٹ کس کر احرام باندھ لینے کا حکم دیا۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The people of Al-Madinah should begin the Talbiyah from Dhul- Hulaifah, the people of Sham from Juhfah, and the people of Najd from Qarn.” ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said: “As for these three, I heard them from the Messenger of Allah (ﷺ). And it reached me that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘And the people of Yemen should enter Ihram from Yalamlam.’”
ہم سے ابو مصعب نے بیان کیا، کہا: ہم سے مالک بن انس نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ ذو الحلیفہ سے تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اہل شام جحفہ سے، اور اہل نجد قرن سے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رہیں یہ تینوں ( میقاتیں ) تو انہیں میں نے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، اور مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں، ( اور احرام باندھیں ) ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us and said: ‘The Talbiyah of the people of Al-Madinah begins at Dhul-Hulaifah. The Talbiyah of the people of Sham begins at Juhfah. The Talbiyah of the people of Yemen begins at Yalamlam. The Talbiyah of the people of Najd begins at Qarn. The Talbiyah of the people of the east begins at Dhat ‘Irq.’ Then he turned to face the (eastern) horizon and said: ‘O Allah, make their hearts steadfast.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یزید نے بیان کیا، ابو الزبیر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: اہل مدینہ کے تلبیہ پکارنے ( اور احرام باندھنے ) کا مقام ذو الحلیفہ ہے، اہل شام کا جحفہ، اہل یمن کا یلملم اور اہل نجد کا قرن ہے، اور مشرق سے آنے والوں کے احرام کا مقام ذات عرق ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا: اے اللہ! ان کے دل ایمان کی طرف لگا دے ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) put his foot in the stirrup and his riding beast rose up with him, he would say the Talbiyah from the mosque of Dhul-Hulaifah.
ہم سے محریز بن سلمہ العدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمد الدراوردی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبید اللہ بن عمر نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے اور اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی، تو آپ ذو الحلیفہ کی مسجد کے پاس سے لبیک پکارتے ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“I was by the knees of the she-camel of the Messenger of Allah (ﷺ), at Shajarah. When it rose up with him, he said: ‘Labbaika bi ‘Umrah wa Hajjah ma’an [Here I am (O Allah) for ‘Umrah and Hajj together].’ That was during the Farewell Pilgrimage.”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ولید بن مسلم اور عمر بن عبد الواحد نے بیان کیا، کہا: ہم سے الاوزاعی نے ایوب بن موسیٰ سے، عبداللہ بن عبید بن عمیر کی سند سے، انہوں نے کہا: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں مقام شجرہ ( ذو الحلیفہ ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے پاؤں کے پاس تھا، جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے کہا: «لبيك بعمرة وحجة معا» میں عمرہ و حج دونوں کی ایک ساتھ نیت کرتے ہوئے حاضر ہوں ، یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔
It was narrated from Nafi’, that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“I learned the Talbiyah from the Messenger of Allah (ﷺ) who said: Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan- ni’mata laka, wal-mulk. La sharika laka (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” He said: “And Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما used to add: Labbaika labbaika labbaika wa sa’daika wal-khairu fi yadaika, labbaika war-raghba’u ilaika wal-‘amal (Here I am, here I am, here I am, and at Your service; all good is in Your Hands, here I am, seeking Your pleasure and striving for Your sake).”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ان سے ابو معاویہ، ابو اسامہ، اور ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا، آپ فرماتے تھے: «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ثنا، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، تیرا ( ان میں ) کوئی شریک نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں یہ اضافہ کرتے: «لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» حاضر ہوں، اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر ( بھلائی ) تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف تمام رغبت اور عمل ہے ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The Talbiyah of the Messenger of Allah (ﷺ) was: ‘Labbaika Allahumma labbaik, (labbaika) la sharika laka labbaik. Innal-hamd wan-ni’mata laka, wal-mulk. La sharika laka (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).’
ہم سے زید بن اخزم نے بیان کیا، کہا ہم سے مومل بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، جعفر بن محمد سے اپنے والد سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا: «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» حاضر ہوں اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، حمد و ثناء، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، ان میں کوئی شریک نہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to say in his Talbiyah: “Labbaika ilahal-haqq, labbaika (Here I am, O god of Truth, here I am).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا, ہم سے عبدالعزیز بن عبد اللہ بن ابی سلمہ نے، عبد اللہ بن الفضل کی سند سے، العرج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تلبیہ میں یوں کہا: «لبيك إله الحق لبيك» حاضر ہوں، اے معبود برحق، حاضر ہوں ۔
It was narrated from Sahl bin Sa’d As-Sa’idi رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no (pilgrim) who recites the Talbiyah but that which is to his right and left also recites it, rocks and trees and hills, to the farthest ends of the earth in each direction, from here and from there.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرہ بن غزیہ الانصاری نے بیان کیا، ابوحازم کی سند سے, سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے، تو اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے درخت، پتھر اور ڈھیلے سبھی تلبیہ کہتے ہیں، دونوں جانب کی زمین کے آخری سروں تک ۔