It was narrated from Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ), that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever begins the Talbiyah for ‘Umrah from Baitul-Maqdis, that will be an expiation for all his previous sins.” She said: “So I went out.” Meaning, from Baitul-Maqdis for ‘Umrah.
ہم سے محمد بن المصفی الحمصی نے بیان کیا، کہا: ہم سے احمد بن خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی سفیان نے اپنی والدہ ام حکیم بنت امیہ کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا یہ اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ ہو گا ، تو میں بیت المقدس سے عمرہ کے لیے نکلی۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) performed ‘Umrah four times: The ‘Umrah of Hudaibiyah, the ‘Umrah to make up for (the one not completed previously), the third from Ji’ranah and the fourth that he did with his Hajj.”
ہم سے ابواسحاق شافعی ابراہیم بن محمد نے بیان کیا, ہم سے داؤد بن عبدالرحمٰن نے عمرو بن دینار کی سند سے اور عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے: عمرہ حدیبیہ، عمرہ قضاء جو دوسرے سال کیا، تیسرا عمرہ جعرانہ سے، اور چوتھا جو حج کے ساتھ کیا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed in Mina, on the Day of Tarwiyah (the 8th of Dhul-Hijjah), Zuhr, ‘Asr, Maghrib, ‘Isha’ and Fajr, then he went in the morning to ‘Arafat.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے اسماعیل کی سند سے اور عطاء کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر نویں ( ذی الحجہ ) کی صبح کو عرفات تشریف لے گئے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
He used to pray all five prayers in Mina, then he would tell them that the Messenger of Allah (ﷺ) used to do that.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن عمر نے نافع کی سند سے خبر دی ,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ پانچ وقت کی نماز منیٰ میں پڑھتے تھے، پھر انہیں بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
‘I said: ‘O Messenger of Allah, should we not build you a house in Mina?’ He said: ‘No, Mina is just a stopping place for those who get there first.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے اسرائیل سے، ابراہیم بن مہاجر نے، یوسف بن ماہک کی سند سے، وہ اپنی والدہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“We said: ‘O Messenger of Allah, should we not build you a house in Mina that will be a means of shade for you?’ He said: ‘No, Mina is just a stopping place for those who get there first.’”
ہم سے علی بن محمد اور عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، بنی اسرائیل سے، ابراہیم بن مہاجر نے، یوسف بن ماہک کی سند سے اور ان کی والدہ مسیکہ کی سند سے,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم منیٰ میں آپ کے لیے ایک گھر نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
“We went in the morning on this day with the Messenger of Allah (ﷺ) from Mina to ‘Arafat. Some of us recited the Takbir (Allahu Akbar) and some of us recited the Tahlil (La ilaha illallah), and neither criticized the other.”
ہم سے محمد بن ابی عمر العدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن عقبہ کی سند سے، وہ محمد بن ابی بکر کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا: نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا، اور نہ ان لوگوں نے ان پر.
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to stop at ‘Arafat in Namirah Valley. When Hajjaj killed Ibn Zubair رضی اللہ عنہما , he sent word to Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما asking: “At what hour did the Prophet (ﷺ) go out on this day?” He said: “When that time comes, we will go out.” So Hajjah sent a man to watch for the time when they went out. When Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما wanted to set out, he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “It has not passed the zenith yet.” So he sat down. Then he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “It has not passed the zenith yet.” So he sat down. Then he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “Yes.” When they said that it had passed the zenith, he set out.
ہم سے علی بن محمد اور عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہمیں نافع بن عمر الجمحی نے سعید بن حسن کی سند سے خبر دی,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کی وادی نمرہ میں ٹھہرتے، راوی کہتے ہیں: جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کس وقت ( نماز اور خطبہ کے لیے ) نکلتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا کہ وہ دیکھتا رہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کب نکلتے ہیں؟ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا، تو پوچھا: کیا سورج ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، تو وہ بیٹھ گئے، پھر پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، پھر آپ بیٹھ گئے، پھر آپ نے کہا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو جب لوگوں نے کہا: ہاں، تو وہ چلے۔ وکیع نے «ارتحل» کا معنی «راح» ( چلے ) بتایا ہے۔
It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) stopped at ‘Arafat and said: ‘This is the place of standing, and all of ‘Arafat is a place of standing.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، وہ سفیان کی سند سے، وہ عبدالرحمٰن بن عیاش نے، وہ زید بن علی سے، وہ اپنے والد سے، وہ عبید اللہ بن ابی رافع سے,علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا، اور فرمایا: یہ جگہ اور سارا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔
It was narrated that Yazid bin Shaiban رضی اللہ عنہ said:
“We were standing in a place that was far from the place of standing. Ibn Mirba’ came to us and said: ‘I am the messenger of the Messenger of Allah (ﷺ) to you. He said: “Stay where you are today for today you are on the legacy of Ibrahim.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ عمرو بن عمرو بن عبداللہ بن صفوان سے, یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم عرفات میں ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے، جس کو ہم موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) سے دور سمجھ رہے تھے، اتنے میں ہمارے پاس ابن مربع آئے اور کہنے لگے: میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں، آپ فرما رہے ہیں: تم لوگ اپنی اپنی جگہوں پر رہو، کیونکہ تم آج ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہو ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما that"
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “All of ‘Arafat is the place of standing, but keep away from the interior of ‘Uranah. And all of Muzdalifah is the place of standing but keep away from the interior of Muhassir. And all of Mina is the place of sacrifice, except for what is beyond ‘Aqaba.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے القاسم بن عبداللہ العمری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا عرفات جائے وقوف ہے، اور بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا ( مزدلفہ ) ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور بطن محسر سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا منٰی منحر ( مذبح ) ہے، سوائے جمرہ عقبہ کے پیچھے کے ۔
‘Abdullah bin Kinanah bin ‘Abbas bin Mirdas As-Sulami رضی اللہ عنہ narrated that his father told him, from his father, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed for forgiveness for his nation one evening at ‘Arafat, and the response came: “I have forgiven them, except for the wrongdoer, with whom I will settle the score in favor of the one whom he wronged.” He said: “O Lord, if You will, then grant Paradise to the one who is wronged, and forgive the wrongdoer.” No response came (that evening).The next day at Muzdalifah he repeated the supplication, and received a response to what he asked for. He (the narrator) said: “The Messenger of Allah (ﷺ) laughed,” or he said, “He smiled. Abu Bakr and ‘Umar said to him: ‘May my father and mother be ransomed for you, this is not a time when you usually laugh. What made you laugh, may Allah make your years filled with laughter?’ He said: ‘The enemy of Allah, Iblis, when he came to know that Allah answered my prayer and forgiven my nation, took some dust and started to sprinkle it on his head, uttering cries of woe and doom, and what I saw of his anguish made me laugh.’”
ہم سے ایوب بن محمد الہاشمی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد القاہر بن السری السلمی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن کنانہ بن عباس بن مرداس السلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ انہیں ان کے والد نے اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کی مغفرت کی دعا کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب ملا کہ میں نے انہیں بخش دیا، سوائے ان کے جو ظالم ہوں، اس لیے کہ میں اس سے مظلوم کا بدلہ ضرور لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے رب! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے اور ظالم کو بخش دے ، لیکن اس شام کو آپ کو جواب نہیں ملا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں صبح کی تو پھر یہی دعا مانگی، آپ کی درخواست قبول کر لی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یا مسکرائے، پھر آپ سے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ ایسا وقت ہے کہ آپ اس میں ہنستے نہیں تھے تو آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ اللہ آپ کو ہنساتا ہی رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ہے، اور میری امت کو بخش دیا ہے، تو وہ مٹی لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور کہنے لگا: ہائے خرابی، ہائے تباہی! جب میں نے اس کا یہ تڑپنا دیکھا تو مجھے ہنسی آ گئی ۔
It was narrated from Ibn Musayyab that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no day on which Allah ransoms more slaves from the Fire than the Day of ‘Arafah. He draws closer and closer, then He boasts about them before the angels and says: ‘What do these people want?’”
ہم سے ہارون بن سعید المصری ابو جعفر نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے مخرمہ بن بکیر نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے یونس بن یوسف کو ابن المسیب کی روایت سے سنا، انہوں نے کہا: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جتنا عرفہ کے دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں، اللہ تعالیٰ قریب ہو جاتا ہے، اور ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور فرماتا ہے: میرے ان بندوں نے کیا چا ہا ؟
Sufyan bin Bukair bin ‘Ata’ said:
“I heard ‘Abdur-Rahman bin Ya’mur Dili رضی اللہ عنہ say: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was standing at ‘Arafat, and some people from Najd came to him and said: “O Messenger of Allah, what is Hajj?” He said: “Hajj is ‘Arafah. Whoever comes before Fajr prayer on the night of Jam’, he has completed his Hajj. The days at Mina are three. ‘But whosoever hastens to leave in two days, there is no sin on him and whosoever stays on, there is no sin on him.’” [2:203] Then he seated a man behind him on his mount and he started calling out these words.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بقر بن عطاء سے بیان کیا
میں نے عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۔
It was narrated from ‘Urwah bin Mudarris At-Ta’i رضی اللہ عنہ that:
He performed Hajj during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and he did not catch up with the people until they were at Jam’ (Al-Muzdalifah). He said: “I came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, I have made my camel lean (because of the long journey) and I have worn myself out. By Allah, there is no sand hill on which I did not stand. Have I performed Hajj?’ The Prophet (ﷺ) said: ‘Whoever attended the prayer (i.e., Fajr at Muzdalifah) with us and departed from ‘Arafat, by night or day, may remove the dirt and has completed his Hajj.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے بیان کیا, ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، عامر کی سند سے، جس کا معنی الشعبی ہے, عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں حج کیا، تو اس وقت پہنچے جب لوگ مزدلفہ میں تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی اونٹنی کو لاغر کر دیا اور اپنے آپ کو تھکا ڈالا، اور قسم اللہ کی! میں نے کوئی ایسا ٹیلہ نہیں چھوڑا، جس پر نہ ٹھہرا ہوں، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ نماز میں حاضر رہا ہو، اور عرفات میں ٹھہر کر دن یا رات میں لوٹے، تو اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا، اور اس کا حج پورا ہو گیا ۔
It was narrated from Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہما that:
He was asked: “How did the Messenger of Allah (ﷺ) travel when he departed from ‘Arafat?” He said: “He moved at a quick pace, and when he reached an open space he would make his camel run.”
ہم سے علی بن محمد اور عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا: ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا,اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ان سے پوچھا گیا: عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے چلتے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم«عنق» کی چال ( تیز چال ) چلتے، اور جب خالی جگہ پاتے تو «نص» کرتے یعنی دوڑتے۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عنق» سے زیادہ تیز چال کو «نص» کہتے ہیں۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Quraish said: ‘We are the neighbors of the House and we do not leave the sanctuary.’ Allah said: ‘Then depart from the place whence all the people depart.’” [2:199]
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں ثوری نے اپنے والد سے خبر دی, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
قریش کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں، حرم کے باہر نہیں جاتے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں ( یعنی عرفات سے ) اتاری۔
It was narrated that Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہما said:
“I departed from ‘Arafat with the Messenger of Allah (ﷺ), and when he reached the mountain path at which the chiefs would dismount, he dismounted and urinated, then performed ablution. I said: ‘(Is it time for) prayer?’ He said: ‘The prayer is still ahead of you.’ When he reached Jam’ (Muzdalifah) he called the Adhan and Iqamah, then he prayed Maghrib. Then no one among the people unloaded (the camels) until he had prayed ‘Isha’.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے ابراہیم بن عقبہ سے، کریب کی سند سے بیان کیا, اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات سے لوٹا، جب آپ اس گھاٹی پر آئے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، پھر وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: نماز ( پڑھ لی جائے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ( پڑھی جائے گی ) پھر جب مزدلفہ میں پہنچے تو اذان دی، اقامت کہی، اور مغرب پڑھی، پھر کسی نے اپنا کجاوہ بھی نہیں کھولا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عشاء پڑھی.
It was narrated from ‘Abdullah bin Yazid Al-Khatmi that:
He heard Abu Ayyub Al-Ansari رضی اللہ عنہ say: “I prayed Maghrib and ‘Isha’ with the Messenger of Allah (ﷺ) during the Farewell Pilgrimage, at Muzdalifah.”
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں لیث بن سعد نے یحییٰ بن سعید کی سند سے، عدی بن ثابت انصاری کی سند سے، عبداللہ بن یزید الخطمی رضی اللہ عنہ سے کہ
انہوں نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء مزدلفہ میں پڑھی۔
It was narrated from ‘Ubaidullah, from Salim, from his father, that:
The Prophet (ﷺ) prayed Maghrib at Muzdalifah. When we halted he said: “Prayer should be done with Iqamah.”
ہم سے محریز بن سلمہ العدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ کے واسطہ سے، وہ سالم کے واسطہ سے، وہ اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب مزدلفہ میں پڑھی، پھر جب ہم نے اپنے اونٹوں کو بٹھا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اقامت کہہ کر عشاء پڑھو ۔