It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“I applied perfume to the Messenger of Allah (ﷺ) for his Ihram when he entered Ihram, and when he exited Ihram.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے میرے ماموں محمد نے، ابو معاویہ نے اور ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، عبید اللہ نے قاسم بن محمد کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھتے وقت، اور احرام کھولتے وقت خوشبو لگائی ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “O Allah, forgive those who shave (their heads).” They said: “O Messenger of Allah, and those who cut (their hair)?’ He said; “O Allah, forgive those who shave (their heads),” three times. They said: “O Messenger of Allah, and those who cut (their hair)?” He said: “And those who cut (their hair).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ہم سے عمرہ بن قعقاع نے بیان کیا، ابو زرعہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، آپ نے یہ تین بار فرمایا: تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بال کتروانے والوں کو بھی ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “May Allah have mercy on those who shave (their heads).” They said: “And those who cut (their hair), O Messenger of Allah!” He said: “May Allah have mercy on those who shave (their heads).” They said: “And those who cut (their hair), O Messenger of Allah!” He said: “May Allah have mercy on those who shave (their heads).” They said: “And those who cut (their hair), O Messenger of Allah!” He said: “And those who cut (their hair).”
ہم سے علی بن محمد اور احمد بن ابی الحواری الدمشقی نے بیان کیا: ہم سے عبداللہ بن نمیر نے عبید اللہ کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بال کٹوانے والوں پر بھی ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“It was said: ‘O Messenger of Allah, why did you support (by supplicating for) those who shave (their heads) three times and those who cut (their hair) only once?’ He said: ‘Because they did not entertain any doubts.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن اسحاق نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، مجاہد کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے شک نہیں کیا ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
Hafsah رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet (ﷺ), said: “I said: ‘O Messenger of Allah, what is the matter with people who have exited Ihram when you have not exited your Ihram?’ He said: ‘I have applied something to my head to keep my hair together, and I have garlanded my sacrificial animal, so I will not exit Ihram until I have offered my sacrifice.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے، وہ نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے اپنے عمرے سے احرام کھول دیا، اور آپ نے نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر کی تلبید ۱؎ کی تھی، اور ہدی ( کے جانور ) کو قلادہ پہنایا تھا ۲؎ اس لیے جب تک میں قربانی نہ کر لوں حلال نہیں ہو سکتا ۔
It was narrated from Salim, from his father:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting the Talbiyah when he entered Ihram with something applied to his head to keep the hair together.’”
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے ابن شہاب سے، سالم نے اپنے والد سے
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیک پکارتے ہوئے سنا، اس حال میں کہ آپ سر کی تلبید کیے ہوئے تھے۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “All of Mina is a place of sacrifice. Every road of Makkah is a thoroughfare and a place of sacrifice. All of ‘Arafat is the place of standing, and all of Muzdalifah is a place of standing.”
ہم سے علی بن محمد اور عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے اسامہ بن زید نے عطاء کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا منیٰ قربانی کی جگہ ہے، اور مکہ کی سب گلیاں راستے، قربانی کی جگہیں ہیں، پورا عرفات اور پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) was never asked about someone who had done one thing before another, but he would gesture with both his hands to say: ‘There is no harm in that.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ ایوب سے اور عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے حج کے کسی عمل کو دوسرے پر مقدم کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے یہی اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) was asked on the Day of Mina, and he would say: ‘There is no harm in that, there is no harm in that.’ A man came to him and said: ‘I shaved my head before I slaughtered (my sacrifice),’ and he said: ‘There is no harm in that.’ He said: ‘I stoned (the Pillar) after evening came,’ and he said: ‘There is no harm in that.’”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، انہوں نے خالد الحذاکی سند سے، انہوں نے عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
منیٰ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے آ کر کہا: میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں ، دوسرا بولا: میں نے رمی شام کو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) was asked about a man who slaughtered his sacrifice before shaving his head, or who shaved his head before slaughtering his sacrifice, and he said: “There is no harm in that.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے اور عیسیٰ بن طلحہ کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سر منڈانے سے پہلے قربانی کر لی، یا قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ۔
Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) sat in Mina, on the Day of Sacrifice, for the people (to come and speak to him). A man came to him and said: ‘O Messenger of Allah, I shaved my head before I slaughtered my sacrifice.’ He said: ‘There is no harm in that.’ Then another man came and said: ‘O Messenger of Allah, I slaughtered my sacrifice before I stoned (the Pillar).’ He said: ‘There is no harm in that.’ And he was not asked that day about anything being done before another but he replied: ‘There is no harm in that.’”
ہم سے ہارون بن سعید المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے اسامہ بن زید نے بیان کیا، مجھ سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں لوگوں ( کو حج کے احکام بتانے ) کے لیے بیٹھے، تو ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ، پھر دوسرا شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ، آپ سے اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جسے کسی چیز سے پہلے کر لیا گیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا: کوئی حرج نہیں ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) stoning ‘Aqabah Pillar at forenoon, but after that day, he would do it after the sun had passed its zenith.”
ہم سے حرملہ بن یحییٰ المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ابو الزبیر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت کی، اور اس کے بعد جو رمی کی ( یعنی ۱۱، ۱۲ اور ۱۳ ذی الحجہ ) کو تو وہ زوال ( سورج ڈھلنے ) کے بعد کی۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to stone the Pillars when the sun had passed its zenith, to the extent that, as soon as he finished stoning them, he would pray Zuhr.
ہم سے جبارہ بن المغلس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے ابو شیبہ نے الحکم کی سند سے، مقسم کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دسویں ذی الحجہ کے بعد والے دنوں میں ) رمی جمار سورج ڈھلنے کے بعد اس حساب سے کرتے تھے کہ جب آپ اپنی رمی سے فارغ ہوتے، تو ظہر پڑھتے۔
It was narrated from Sulaiman bin ‘Amr bin Ahwas that his father said:
“I heard the Prophet (ﷺ) say, during the Farewell Pilgrimage: ‘O people! Which day is the most sacred?’ three times. They said: ‘The day of the greatest Hajj.’ He said: ‘Your blood and your wealth and your honor are sacred to one another, as sacred as this day of yours, in this land of your. No sinner commits a sin but it is against himself. No father is to be punished for the sins of his child, and no child is to be punished for the sins of his father. Satan has despaired of ever being worshipping in this land of yours, but he will be obeyed in some matters which you regard as insignificant, and he will be content with that. All the blood feuds of the Ignorance days are abolished, and the first of them that I abolish is the blood feud of Harith bin ‘Abdul-Muttalib, who was nursed among Banu Laith and killed by Hudhail. All the usuries of the Ignorance days are abolished, but you will have your capital. Do not wrong others and you will not be wronged. O my nation, have I conveyed (the message)?’ (He asked this) three times. They said: ‘Yes.’ He said: ‘O Allah, bear witness!’ three times.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہناد بن السری نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو الاحواس نے شبیب بن غرقدہ سے، سلیمان بن عمرو بن احوص سے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا:عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا: لوگو! سنو، کون سا دن زیادہ تقدیس کا ہے ؟ آپ نے تین بار یہ فرمایا، لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی، اور تمہارے اس مہینے کی، اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے، جو کوئی جرم کرے گا، تو اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا، باپ کے جرم کا مواخذہ بیٹے سے، اور بیٹے کے جرم کا مواخذہ باپ سے نہ ہو گا، سن لو! شیطان اس بات سے ناامید ہو گیا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں کبھی اس کی عبادت کی جائے گی، لیکن عنقریب بعض کاموں میں جن کو تم معمولی جانتے ہو، اس کی اطاعت ہو گی، وہ اسی سے خوش رہے گا، سن لو! جاہلیت کے سارے خون معاف کر دئیے گئے ( اب اس کا مطالبہ و مواخذہ نہ ہو گا ) اور میں حارث بن عبدالمطلب کا خون سب سے پہلے زمانہ جاہلیت کے خون میں معاف کرتا ہوں، ( جو قبیلہ بنی لیث میں دودھ پیا کرتے تھے اور قبیلہ ہذیل نے انہیں شیر خوارگی کی حالت میں قتل کر دیا تھا ) سن لو! جاہلیت کے تمام سود معاف کر دئیے گئے، تم صرف اپنا اصل مال لے لو، نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم ہو، آگاہ رہو، اے میری امت کے لوگو! کیا میں نے اللہ کا حکم تمہیں پہنچا دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پہنچا دیا، آپ نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ ، اور اسے آپ نے تین بار دہرایا۔
It was narrated from Muhammad bin Jubair bin Mut’im رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) stood up in Khaif in Mina, and said: ‘May Allah make his face shine, the man who hears my words and conveys them. It may be that the bearer of knowledge does not understand it, and it may be that he takes it to one who will understand it more than he does. There are three things in which the heart of the believer does not betray: sincerity of action for the sake of Allah, offering sincere advice to the rulers of the Muslims, and adhering to the Jama’ah (main body of the Muslims). Their supplication is answered (i.e. encompassing every good, and all of the people).”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے، محمد بن اسحاق سے، عبدالسلام کی سند سے، الزہری کی سند سے، محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اور اسے لوگوں کو پہنچائے، کیونکہ بہت سے فقہ کی بات سننے والے خود فقیہ نہیں ہوتے، اور بعض ایسے ہیں جو فقہ کی بات سن کر ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں، تین باتیں ایسی ہیں جن میں کسی مومن کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ کے لیے عمل خالص کرنے میں، دوسرے مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے میں، اور تیسرے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ملے رہنے میں، اس لیے کہ ان کی دعا انہیں چاروں طرف سے گھیرے رہتی ہے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said, when he was atop his camel with the clipped ears in ‘Arafat: ‘Do you know what day this is, what month this is and what land this is?’ They said: ‘This is a sacred land, a sacred month and a sacred day.’ He said: ‘Your wealth and your blood are sacred to you as this month of yours, in this land of yours, on this day of yours. I will reach the Cistern (Hawd) before you, and I will be proud of your great numbers before the nations, so do not blacken my face (i.e., cause me to be ashamed). I will rescue some people, and some people will be taken away from me. I will say: “O Lord, my companions!” and He will say: “You do not know what innovations they introduced after you were gone.’”
ہم سے اسماعیل بن توبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زافر بن سلیمان نے ابو سنان کی سند سے، وہ عمرو بن مرہ سے مرہ کی سند سے ,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور اس وقت آپ عرفات میں اپنی کنکٹی اونٹنی پر سوار تھے: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے، اور کون سا مہینہ ہے، اور کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر، حرمت والا مہینہ، اور حرمت والا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! تمہارے مال اور تمہارے خون بھی ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ مہینہ تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس دن میں، سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم مجھے رو سیاہ مت کرنا، سنو! کچھ لوگوں کو میں ( عذاب کے فرشتوں یا جہنم سے ) نجات دلاؤں گا، اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے ( فرشتے مجھ سے چھین کر انہیں جہنم میں لے جائیں گے ) ، میں کہوں گا: یا رب! یہ میرے صحابہ ہیں وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے جو انہوں نے آپ کے بعد بدعتیں ایجاد کی ہیں ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) stood, on the Day of Sacrifice, between the Pillars, during the Hajj that he performed. The Prophet (ﷺ) said: “What day is this?” They said: “The day of sacrifice.” He said: “What land is this?” They said: “This is the sacred land of Allah.” He said: “What month is this?” They said: “The sacred month of Allah.” He said: “This is the day of the greatest Hajj, and your blood, your wealth and your honor are sacred to you, as sacred as this land, in this month, on this day.” Then he said: “Have I conveyed (the message)?” They said: “Yes.” Then the Prophet (ﷺ) started to say: “O Allah, bear witness.” Then he bade farewell to the people, and they said: “This is the Farewell Pilgrimage.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن غاز نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے نافع کو سنا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال حج کیا دسویں ذی الحجہ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ یوم النحر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حج اکبر کا دن ہے، اور تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزت و آبرو اسی طرح تم پر حرام ہیں جیسے اس شہر کی حرمت اس مہینے اور اس دن میں ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے ( اللہ کے احکام تم کو ) پہنچا دئیے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، ( آپ نے پہنچا دئیے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے: اے اللہ! تو گواہ رہ ، اس کے بعد لوگوں کو رخصت کیا، تو لوگوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع یعنی الوداعی حج ہے ۔
It was narrated from ‘Aishah and Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہم that:
The Prophet (ﷺ) delayed Tawafuz-Ziyarah until nighttime.
ہم سے بکر بن خلف ابوبشر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن طارق نے بیان کیا، وہ طاؤس اور ابو الزبیر کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت میں رات تک تاخیر فرمائی ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) did not walk quickly (Ramal) during the seven circuits of Tawaful-Ifadah (done on 10th day of Dhul-Hijjah).
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے عطاء کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کے سات چکروں میں رمل نہیں کیا ۔ عطا کہتے ہیں کہ طواف افاضہ میں رمل نہیں ہے۔
It was narrated that Muhammad bin ‘Abdur-Rahman bin Abu Bakr said:
“I was sitting with Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما , and a man came to him and he said: ‘Where have you come from?’ He said: ‘From Zamzam.’ He said: ‘Did you drink from it as you should?’ He said: ‘How is that?’ He said: ‘When you drink from it, turn to face the Qiblah and mention the name of Allah, drink three draughts and drink your fill of it. When you have finished, then praise Allah.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The sign (that differentiates) between us and the hypocrites is that they do not drink their fill from Zamzam.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے عثمان بن اسود سے بیان کیا, محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں کہ
میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا، تو انہوں نے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: زمزم کے پاس سے، پوچھا: تم نے اس سے پیا جیسا پینا چاہیئے، اس نے پوچھا: کیسے پینا چاہیئے؟ کہا: جب تم زمزم کا پانی پیو تو کعبہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو اور اللہ کا نام لو، اور تین سانس میں پیو، اور خوب آسودہ ہو کر پیو، پھر جب فارغ ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارے اور منافقوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ وہ سیر ہو کر زمزم کا پانی نہیں پیتے ۔