‘Amr bin Shu’aib narrated from his father that his grandfather said:
“I performed Tawaf with ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما , and when we had finished seven (circuits), we prayed two Rak’ah at the back of the Ka’bah. I said: ‘Why do you not seek refuge with Allah from the Fire?’ He said: ‘I seek refuge with Allah from the fire.’ Then he went and touched the Corner, then he stood between the (Black) Stone and the door (of the Ka’bah) and clung with his chest, hands and cheek against it. Then he said: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do this.’”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مثنیٰ بن صباح کو کہتے سنا: مجھ سے عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
میں نے ( اپنے دادا ) عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو ہم نے کعبہ کے پیچھے طواف کی دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: کیا ہم جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ چاہیں؟ انہوں نے کہا: میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، شعیب کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے چل کر حجر اسود کا استلام کیا، پھر حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے، اور اپنا سینہ، دونوں ہاتھ اور چہرے کو اس سے چمٹا دیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ), intending only to perform Hajj. When we were in Sarif or close to Sarif, my menses came. The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me when I was weeping. He said: ‘What is the matter with you? Have your menses come?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘This is something that Allah has decreed for the daughters of Adam. Do all the rites, but do not circumambulate the House.’” She said: “And the Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed a cow on behalf of his wives.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبدالرحمٰن بن القاسم سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں تھے یا سرف کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کیا حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر لکھ دیا ہے، تم حج کے سارے اعمال ادا کرو، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) performed Hajj Ifrad.*
ہم سے ہشام بن عمار اور ابو مصعب نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا the Mother of the Believers that:
The Messenger of Allah (ﷺ) performed Hajj Ifrad.
ہم سے ابو مصعب نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، انہیں ابو الاسود محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، جو عروہ بن الزبیر کی سرپرستی میں یتیم تھے، عروہ بن زبیر سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) performed Hajj Ifrad (Single Hajj).
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز الدراوردی اور حاتم بن اسماعیل نے جعفر بن محمد کی سند سے اپنے والد سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, ‘Umar and ‘Uthman رضی اللہ عنہم performed Hajj Ifrad (Single Hajj).
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے القاسم بن عبداللہ العمری نے بیان کیا، وہ محمد بن المنکدر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے حج افراد کیا۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) to Makkah, and I heard him say: ‘Labbaika ‘Umratan wa hajjatan [Here I am (O Allah), for ‘Umrah and Hajj].’”
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، ہم سے عبد الاعلی بن عبد العلا نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے، میں نے آپ کو حج اور عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ۱؎۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Labbaika bi-‘Umratin wa hajjatin [Here I am (O Allah), for ‘Umrah and Hajj].”
نصر بن علی نے روایت کیا، عبد الوہاب نے روایت کیا، حمید نے روایت کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لبيك بعمرة وحجة» حاضر ہوں عمرہ اور حج کے ساتھ ۔
It was narrated that ‘Abdah bin Abu Lubabah said: “I heard Abu Wa’il, Shaqiq bin Salamah, say: ‘I heard Subai bin Ma’bad say: “I was a Christian man, then I became Muslim and I entered Ihram for Hajj and ‘Umrah. Salman bin Rabi’ah and Zaid bin Suhan heard me when I was entering Ihram for them both together at Qadisiyyah. They said: ‘This man is more lost than his camel!’ It was as if they had heaped a mountain on me with their words. I went to ‘Umar bin Khattab and told him about that. He turned to them and reproached them, then he turned to me and said: ‘You have been guided to the Sunnah of the Prophet (ﷺ), you have been guided to the Sunnah of the Prophet (ﷺ).’
صبی بن معبد کہتے ہیں کہ
میں نصرانی تھا، پھر اسلام لے آیا اور حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا، سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان نے مجھے قادسیہ میں عمرہ اور حج دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارتے ہوئے سنا، تو دونوں نے کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ نادان ہے، ان دونوں کے اس کہنے نے گویا میرے اوپر کوئی پہاڑ لاد دیا، میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ملامت کی، پھر میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پایا، تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پایا ۱؎۔ ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ شقیق کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں صبی بن معبد کے پاس اس حدیث کے متعلق پوچھنے باربار گئے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہ said:
“Abu Talhah رضی اللہ عنہ told me that the Messenger of Allah (ﷺ) performed Hajj and ‘Umrah together (Qiran).”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، حسن بن سعد سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
مجھے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ملایا یعنی قران کیا۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah, Ibn ‘Umar and Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہم that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions came (to Makkah) to perform their Hajj and ‘Umrah, they only performed Tawaf once.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن یعلی بن حارث المحاربی نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے غیلان بن جمیع سے، لیث سے، عطاء، طاؤس اور مجاہد سے, جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جب مکہ آئے تو انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) performed one Tawaf for Hajj and ‘Umrah.
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابذر بن قاسم نے اشعث کی سند سے اور ابو الزبیر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کے لیے ایک ہی طواف کیا۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
He came (to Makkah) to perform Hajj and ‘Umrah together (Qiran). He circumambulated the House seven times, and performed Sa’y between Safa and Marwah, then he said: “This is what the Messenger of Allah (ﷺ) did.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن خالد زنجی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ حج قران کا احرام باندھ کر آئے، اور خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی اور کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever enters Ihram for Hajj and ‘Umrah, one Tawaf is sufficient for both, and he should not exit Ihram until he has completed his Hajj, when he should exit Ihram for both.”
ہم سے محرز بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تو ان دونوں کے لیے اسے ایک ہی سعی کافی ہے، اور وہ احرام نہ کھولے جب تک حج کو پورا نہ کر لے، اور اس وقت ان دونوں سے ایک ساتھ احرام کھولے گا۔
‘Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, when he was in ‘Aqiq: “Someone came to me from my Lord and said: ‘Pray in this blessed valley and say: (I intend to do) ‘Umrah in Hajj.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن مصعب نے بیان کیا، اور ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، جس کا مطلب ہے دحیما نے، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہیں عکرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی عقیق میں فرماتے سنا: میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو: یہ عمرہ ہے حج میں ( یہ الفاظ دحیم کے ہیں ) ۔
It was narrated that Suraqah bin Ju’shum رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) stood up to deliver a speech in this valley, and said: ‘Lo! ‘Umrah has been included in Hajj until the Day of Resurrection.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، میسر کی سند سے، عبد الملک بن میسرہ نے طاؤس کی سند سے, سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: آگاہ رہو، عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ۔
It was narrated that Mutarrif bin ‘Abdullah bin Shikhkhir said:
“Imran bin Husain رضی اللہ عنہما said to me: ‘I will tell you a Hadith, that Allah may benefit you thereby after this day. Know that Allah’s Messenger (ﷺ) had a group from his family perform ‘Umrah during the ten (days) of Dhul-Hijjah, and the Messenger of Allah (ﷺ) did not forbid that, and no abrogation of that was revealed, and it does not matter what anyone else suggests.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے الجریری سے اور ابو العلا یزید بن الشخیر کی سند سے, مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ
مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آج کے بعد فائدہ پہنچائے، جان لو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے ایک جماعت نے ذی الحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع نہیں کیا، اور نہ قرآن مجید میں اس کا نسخ اترا، اس کے بعد ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۔
It was narrated from “Abu Musa Al-Ash’ari رضی اللہ عنہ :
He used to issue rulings concerning Tamattu’. Then a man said to him: ‘Withhold some of your rulings, for you do not know what the Commander of the Believers has introduced into the rites after you.’ (Abu Musa said:) ‘Then when I met him later on, I asked him.’ ‘Umar said: ‘I know that the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions did it, but I did not like that people should lie with their wives in the shade of the Arak trees and then go out for Hajj with their heads dripping,’ (i.e. due to the bath after sexual relations).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا۔ اور ہم سے نصر بن علی الجہدمی نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے الحکم سے، عمیرہ بن عمیر کی سند سے، ابراہیم بن ابی موسیٰ کی سند سے اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے، ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتوؤں سے دستبردار ہو جائیں کیونکہ آپ کے بعد امیر المؤمنین نے حج کے مسئلہ میں جو نئے احکام دئیے ہیں وہ آپ کو معلوم نہیں، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے پوچھا، تو آپ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ایسا کیا ہے، لیکن مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ لوگ پیلو کے درخت کے نیچے عورتوں کے ساتھ رات گزاریں پھر حج کو جائیں، اور ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“We began our Talbiyah for Hajj only with Allah’s Messenger (ﷺ), and we did not mix it with ‘Umrah. We arrived in Makkah when four nights of Dhul-Hijjah had passed, and when we had performed Tawaf around the Ka’bah and Sa’y between Safa and Marwah, the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to make it ‘Umrah, and to come out of Ihram and have relations with our wives. We said: ‘There are only five (days) until ‘Arafah. Will we g out to it with our male organs dripping with semen?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I am the most righteous and truthful among you, and were it not for the sacrificial animal, I would have exited Ihram.’ Suraqah bin Malik said: ‘Is this Tamattu’ for this year only or forever?’ He said: ‘No, it is forever and ever.’”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے اوزاعی نے عطاء کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہا ( یعنی احرام باندھا ) ، اس میں عمرہ کو شریک نہیں کیا ، پھر ہم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کی چار راتیں گزر چکی تھیں، جب ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں تبدیل کر دیں، اور اپنی بیویوں کے لیے حلال ہو جائیں، ہم نے عرض کیا: اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں، اور کیا ہم عرفات کو اس حال میں نکلیں کہ شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سب سے زیادہ نیک اور سچا ہوں، اگر میرے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) نہ ہوتا تو میں بھی ( عمرہ کر کے ) حلال ہو جاتا ( یعنی احرام کھول ڈالتا اور حج کو عمرہ میں تبدیل کر دیتا ) ۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس وقت عرض کیا: حج میں یہ تمتع ہمارے لیے صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) when there were five nights left of Dhul-Qa’dah, intending only to perform Hajj. When we came close, the Messenger of Allah (ﷺ) ordered that whoever did not have a sacrificial animal, then he should exit the Ihram. So all the people exited Ihram, except those who had the sacrificial animal. When the Day of Sacrifice i.e., the 10th of Dhul-Hijjah) came, some beef was brought to us, and it was said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) has offered a sacrifice on behalf of his wives.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے عمرہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ پہنچے یا اس سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن لوگوں کے پاس ہدی ( قربانی ) کا جانور نہیں تھا احرام کھول دینے کا حکم دیا، تو سارے لوگوں نے احرام کھول دیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی ( قربانی ) کے جانور تھے، پھر جب نحر کا دن ( ذی الحجہ کا دسواں دن ) ہوا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، لوگوں نے کہا: یہ گائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے ذبح کی ہے۔