It was narrated from Khallad bin Sa’ib رضی اللہ عنہ , from his father, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Jibra’il came to me and told me to command my Companions to raise their voices when reciting the Talbiyah.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے، انہوں نے عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام کے واسطہ سے، انہوں نے ان سے خلاد بن سائب رضی اللہ عنہ کے والد کی سند سے بیان کیا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل ( علیہ السلام ) آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ سے کہوں کہ تلبیہ بلند آواز سے پکاریں ۔
It was narrated from Zaid bin Khalid Al-Juhani رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Jibril came to me and said: ‘O Muhammad! Tell your Companions to raise their voices when reciting the Talbiyah, for it is one of the symbols of Hajj.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن ابی لبید نے، وہ المطلب بن عبداللہ بن حنطب کی سند سے، وہ خلاد بن السائب کی سند سے, زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور بولے: اے محمد! اپنے صحابہ سے کہو کہ وہ تلبیہ باآواز بلند پکاریں، اس لیے کہ یہ حج کا شعار ہے ۔
It was narrated from Abu Bakr As-Siddiq رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) was asked: “Which actions are best?” He said: “Raising one’s voice and slaughtering the sacrificial animal.”
ہم سے ابراہیم بن المنذر الحزامی اور یعقوب بن حمید بن کاسب نے بیان کیا: ہم سے ابن ابی فدیک نے ضحاک بن عثمان کی سند سے، محمد بن المنکر کی سند سے، عبدالرحمٰن بن یربو ع کی سند سے, ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عج» اور«ثج» ، یعنی باآواز بلند تلبیہ پکارنا، اور خون بہانا ( یعنی قربانی کرنا ) ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no Muhrim (pilgrim in Ihram) who exposes himself to the sun all day for the sake of Allah, reciting the Talbiyah until the sun goes down, but his sins will disappear and he will go back like on the day his mother bore him.”
ہم سے ابراہیم بن المنذر الحزامی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن نافع، عبداللہ بن وہب اور محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا: ہم سے عاصم بن عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے عاصم بن عبید اللہ کے واسطہ سے، انہوں نے عامر بن عبد اللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم ( احرام باندھنے والا ) جو چاشت کے وقت سے سورج ڈوبنے تک سارے دن اللہ کے لیے ( دھوپ میں ) لبیک کہتا رہے، تو سورج اس کے گناہوں کو ساتھ لے کر ڈوبے گا، اور وہ ایسا ( بےگناہ ) ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے جنم دیا ہو ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“I put perfume on the Messenger of Allah (ﷺ) for his Ihram before he entered into it, and when he exited Ihram before he returned.”* Sufyan (in his narration, she said): said "With these two hands of mine."
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، ان سب نے عبدالرحمٰن بن القاسم سے اپنے والد کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے وقت احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگائی، اور احرام کھولنے کے وقت بھی طواف افاضہ کرنے سے پہلے۔ سفیان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: خوشبو میں نے اپنے انہی دونوں ہاتھوں سے لگائی۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“It is as if I can see the races of perfume in the parting (of hair) of the Messenger of Allah (ﷺ), while he is reciting the Talbiyah.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے الاعمش نے بیان کیا، ابو الضحیٰ کی سند سے اور مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک کہہ رہے ہیں۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“It is as if I can see the traces of perfume in the parting (of hair) of the Messenger of Allah (ﷺ) after three days, and he was a Muhrim.”
ہم سے اسماعیل بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے شر یک نے بیان کیا، ابواسحاق نے اسود کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
گویا میں تین دن بعد تک خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ احرام کی حالت میں ہیں۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
A man asked the Messenger of Allah (ﷺ), what clothes may the Muhrim wear? The Messenger of Allah (ﷺ) said: “He should not wear a shirt, or turbans (or head cover), pants or pajamas, hooded cloaks and no leather socks, unless he cannot find sandals, in which case he may wear leather socks but should cut them to below the ankles. And he should not wear any clothes that have been touched (dyed) with saffron or Wars.”*
ہم سے ابو مصعب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مالک بن انس نے نافع کی سند سے بیان کیا,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: قمیص، عمامے ( پگڑیاں ) ، پاجامے، ٹوپیاں، اور موزے نہ پہنے، البتہ اگر جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے، اور کوئی ایسا لباس بھی نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگی ہو ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the Muhrim to wear a garment dyed with Wars or saffron.”
ہم سے ابو مصعب نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن دینار کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو ورس ( خوشبودار گھاس ) اور زعفران سے رنگا کپڑا پہننے سے منع فرمایا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“I heard the Prophet (ﷺ) delivering a sermon – (one of the narrators) Hisham said: ‘On the pulpit’ – and he said: ‘Whoever does not have a waist wrap, let him wear pants or pajamas, and whoever does not have sandals, let him wear leather socks.’” In his narration, Hisham said: “If he does not find any, then let him wear pants or pajamas.”
ہم سے ہشام بن عمار اور محمد بن الصباح نے بیان کیا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار کی سند سے اور جابر بن زید ابو الشعثا کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ( ہشام نے اپنی روایت میں منبر پر کا اضافہ کیا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے تہ بند میسر نہ ہو تو وہ پاجامہ پہن لے، اور جسے جوتے نہ مل سکیں وہ موزے پہن لے ، ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں: وہ پاجامے پہنے جب تہ بند نہ ہو ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever does not have sandals let him wear leather socks, and let him cut them to below the ankle.”
ہم سے ابو مصعب نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، انہوں نے نافع کی سند سے اور عبداللہ بن دینار سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے ۔
It was narrated that Asma’ bint Abu Bakr رضی اللہ عنہما said:
“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) until, when we were in ‘Arj, we stopped to camp. The Messenger of Allah (ﷺ) sat, with ‘Aishah رضی اللہ عنہا by his side, and I was sitting beside Abu Bakr رضی اللہ عنہ. Our mount* and the mount of Abu Bakr رضی اللہ عنہ was one, under the care of the slave of Abu Bakr. The slave looked and his camel was not with him, so he said to him: ‘Where is your camel?’ He said: ‘I lost it yesterday.’ He said: ‘You have one camel with you and you lost it?’ He started to beat him, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Look at what this Muhrim is doing!’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن اسحاق کی سند سے، وہ یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن الزبیر نے اپنے والد سے, اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے، جب مقام عرج میں پہنچے تو ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس بیٹھ گئیں، اور میں ( اپنے والد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس، اس سفر میں میرا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سامان اٹھانے والا اونٹ ایک تھا جو ابوبکر کے غلام کے ساتھ تھا، اتنے میں غلام آیا، اس کے ساتھ اونٹ نہیں تھا تو انہوں نے اس سے پوچھا: تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: کل رات کہیں غائب ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تمہارے ساتھ ایک ہی اونٹ تھا، اور وہ بھی تم نے گم کر دیا، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے ؟
It was narrated from Ibrahim bin ‘Abdullah bin Hunain رضی اللہ عنہ , from his father, that:
‘Abdullah bin ‘Abbas and Miswar bin Makhramah رضی اللہ عنہم disagreed at Abwa’. Abdullah bin ‘Abbas said that the Muhrim may wash his head, and Miswar said that the Muhrim may not wash his head. Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما sent me to Abu Ayyub Al-Ansari to ask him about that, and I found him taking a bath near the well, screened with a piece of cloth. I greeted him with Salam, and he said: “Who is this?” I said: “I am ‘Abdullah bin Hunain. ‘Abdullah bin ‘Abbas رضی اللہ عنہما sent me to you to ask you how the Messenger of Allah (ﷺ) used to wash his head when he was in Ihram.” He said: “Abu Ayyub رضی اللہ عنہ put his hand on the cloth and lowered it until his head appeared, then he said to someone who was pouring water for him, Pour water. So he poured water on his head. Then he rubbed his head with his hands, forwards and backwards, and said: ‘This is what I saw him (ﷺ) doing.’”
ہم سے ابو مصعب نے بیان کیا، ہم سے مالک نے بیان کیا، وہ زید بن اسلم سے، وہ ابراہیم بن عبداللہ بن حنین رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے
عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کے درمیان مقام ابواء میں اختلاف ہوا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم اپنا سر دھو سکتا ہے، اور مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، تاکہ میں ان سے اس سلسلے میں معلوم کروں، میں نے انہیں کنویں کے کنارے دو لکڑیوں کے درمیان ایک کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، میں نے سلام عرض کیا، تو انہوں نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے معلوم کروں کہ حالت احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے، ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے جھکایا یہاں تک کہ مجھے ان کا سر دکھائی دینے لگا، پھر ایک شخص سے جو پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو، تو اس نے آپ کے سر پر پانی ڈالا، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھ سر کے آگے سے لے گئے، اور پیچھے سے لائے، پھر بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“We were with the Prophet (ﷺ), and we were in Ihram. When a rider met us we would lower our garments from the top of our heads, and when he has gone, we would lift them up again.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن ابی زیاد کی سند سے اور مجاہد کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، جب ہمیں کوئی سوار ملتا تو ہم اپنا کپڑا اپنے سروں کے اوپر سے لٹکا لیتے، اور جب سوار آگے بڑھ جاتا تو ہم اسے اٹھا لیتے ۔
It was narrated from Abu Bakr bin ‘Abdullah bin Zubair from his grandmother – he (the narrator) said: “I do not know if it was Asma’ bint Abu Bakr or Su’da bint ‘Awf’ – that:
The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon Duba’ah bint ‘Abdul-Muttalib رضی اللہ عنہا and said: “What is keeping you, O my aunt, from performing Hajj?” She said: “I am a sick woman, and I am afraid of being prevented (from completing Hajj).” He said: ‘Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے عثمان بن حکیم نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبداللہ بن زبیر اپنی جدّہ (دادی یا نانی) سے روایت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اسماء بنت ابی بکر ہیں یا سعدیٰ بنت عوف) کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا: پھوپھی جان! حج کرنے میں آپ کے لیے کون سی چیز رکاوٹ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: میں ایک بیمار عورت ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں پہنچ نہیں سکوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ احرام باندھ لیں اور شرط کر لیں کہ جس جگہ بہ سبب بیماری آگے نہیں جا سکوں گی، وہیں حلال ہو جاؤں گی۔
It was narrated that Duba’ah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me when I was unwell. He said: ‘Do you intend to perform Hajj this year?’ I said: ‘I am sick, O Messenger of Allah.’ He said: ‘Go for Hajj and say: “I will exit Ihram from the point where I am prevented.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل اور وکیع نے بیان کیا، ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے,ضباعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں اس وقت بیمار تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا امسال آپ کا ارادہ حج کرنے کا نہیں ہے ؟ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کرو اور یوں ( نیت میں ) کہو: اے اللہ جہاں تو مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہو جاؤں گی ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
Duba’ah bint Zubair bin ‘Abdul- Muttalib رضی اللہ عنہا came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: “I am a heavy woman and I want to go for Hajj. How should I enter Ihram?” He said: “Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented.”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، وہ ابن جریج کی سند سے، مجھے ابو الزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے طاؤس اور عکرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں، اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں، تو میں تلبیہ کیسے پکاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور ( اللہ سے ) شرط کر لو کہ جہاں تو مجھے روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Prophets used to enter the Haram walking barefoot. They would circumambulate the House and complete all the rituals barefoot and walking.”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن صبیح نے بیان کیا، ہم سے مبارک بن حسن ابو عبداللہ نے عطاء بن ابی رباح سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انبیاء کرام ( علیہ السلام ) حرم میں پیدل اور ننگے پاؤں داخل ہوتے تھے، اور بیت اللہ کا طواف کرتے تھے، اور حج کے سارے ارکان ننگے پاؤں اور پیدل چل کر ادا کرتے تھے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to enter Makkah from the upper mountain pass and when he left, he would leave from the lower mountain pass.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں «ثنية العليا» بلند گھاٹی سے داخل ہوتے، اور جب نکلتے تو «ثنية السفلى» نشیبی گھاٹی سے نکلتے ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) entered Makkah by day.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے عمری نے بیان کیا، نافع کی سند سے,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن میں داخل ہوئے۔