It was narrated that ‘Amr bin Maimun said:
“We performed Hajj with ‘Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ, and when we wanted to depart from Muzdalifah, he said: ‘The idolators used to say: “May the sun rise over you, O Thabir!* So that we may begin our journey (to Mina),” and they did not depart until the sun had risen.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) differed from them by departing before the sun rose.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، انہوں نے حجاج کی سند سے، انہوں نے ابو اسحاق کی سند سے, عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ
ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو جب ہم نے مزدلفہ سے لوٹنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: مشرکین کہا کرتے تھے: اے کوہ ثبیر! روشن ہو جا، تاکہ ہم جلد چلے جائیں، اور جب تک سورج نکل نہیں آتا تھا وہ نہیں لوٹتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف کیا، آپ سورج نکلنے سے پہلے ہی مزدلفہ سے چل پڑے ۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) departed during the Farewell Pilgrimage in a tranquil manner, and he urged them to be tranquil. He told them to throw small pebbles. He hastened through Muhassir Valley, and said: ‘Let my nation learn its rites (of Hajj), for I do not know, perhaps I will not meet them again after this year.’”
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن راجع مکی نے ثوری کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے کہا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں مزدلفہ سے اطمینان کے ساتھ لوٹے، اور لوگوں کو بھی اطمینان کے ساتھ چلنے کا حکم دیا، اور حکم دیا کہ وہ ایسی کنکریاں ماریں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آ سکیں، اور وادی محسر، میں آپ نے سواری کو تیز چلایا اور فرمایا: میری امت کے لوگ حج کے احکام سیکھ لیں، کیونکہ مجھے نہیں معلوم شاید اس سال کے بعد میں ان سے نہ مل سکوں ۔
It was narrated from Bilal bin Rabah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said to him, on the morning of Jama’: “O Bilal, calm the people down,” or “make them be quiet.” Then he said: “Allah has been very gracious to you in this Jam’ of yours. He has forgiven the wrongdoers among you because of the righteous among you, and He has given the righteous among you whatever they ask. Move on in the Name of Allah.”
ہم سے علی بن محمد اور عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی رواد نے ابوسلمہ حمصی کی سند سے بیان کیا, بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا: بلال! لوگوں کو خاموش کرو ، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا، اب اللہ کا نام لے کر ر وا نا ہو جاؤ.
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“We youngsters from the clan of ‘Abdul-Muttalib came to the Messenger of Allah (ﷺ), from Jam’, on donkeys of ours. He started striking our thighs and saying: ‘O my sons, do not stone the Pillar until the sun rises.’” (One of the narrations) Sufyan added: I cannot imagine anyone stoning them until the sun rises."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو ہماری اپنی گدھیوں پر پہلے ہی روانہ کر دیا، آپ ہماری رانوں پر آہستہ سے مارتے تھے، اور فرماتے تھے: میرے بچو! سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ مارنا ۔ سفیان نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے: میں نہیں سمجھتا کہ سورج نکلنے سے پہلے کوئی کنکریاں مارتا ہو ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“I was among the weak ones of his family (i.e., the women and children) whom the Messenger of Allah (ﷺ) sent on ahead.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو نے بیان کیا، عطاء کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں جن کمزور لوگوں کو پہلے بھیج دیا تھا ان میں میں بھی تھا۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
Sawdah bint Zam’ah رضی اللہ عنہا was a slow- moving woman, so she asked the Messenger of Allah (ﷺ) for permission to depart from Jam’ ahead of the people, and he gave her permission.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، عبدالرحمٰن بن القاسم سے، اپنے والد سے , ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ایک بھاری بھر کم عورت تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ سے لوگوں کی روانگی سے پہلے جانے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔
It was narrated from Sulaiman bin ‘Amr bin Ahwas رضی اللہ عنہا that his mother said:
“I saw the Prophet (saw on the Day of Sacrifice, at ‘Aqabah Pillar, riding a mule. He said: ‘O people! When you stone the Pillar, throw small pebbles.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مشیر نے بیان کیا، وہ یزید بن ابی زیاد کی سند سے, سلیمان بن عمرو بن احوص کی والدہ (ام جندب الازدیہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کے پاس ایک خچر پر سوار دیکھا، آپ فرما رہے تھے: لوگو! جب جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارو تو ایسی ہوں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آ جائیں ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“On the morning of ‘Aqabah, when he was atop his she-camel, the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Pick up some pebbles for me.’ So I picked up seven pebbles for him, suitable for Khadhf.* He began to toss them in his hand, saying: ‘Throw something like these.’ Then he said: ‘O people, beware of exaggeration in religious matters for those who came before you were doomed because of exaggeration in religious matters.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے عوف کی سند سے، زیاد بن حصین نے ابو العالیہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی صبح کو فرمایا، اس وقت آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے: میرے لیے کنکریاں چن کر لاؤ ، چنانچہ میں نے آپ کے لیے سات کنکریاں چنیں، وہ کنکریاں ایسی تھیں جو دونوں انگلیوں کے بیچ آ جائیں، آپ انہیں اپنی ہتھیلی میں ہلاتے تھے اور فرماتے تھے: انہیں جیسی کنکریاں مارو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! دین میں غلو سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں اسی غلو نے ہلاک کیا ۔
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Yazid said:
“When ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ stoned ‘Aqabah Pillar, he went to the bottom of the valley and turned to face the Ka’bah, with the Pillar on his right hand side. Then he threw seven pebbles, saying the Takbir with each one. Then he said: ‘From here, by the One besides Whom there is none worthy of worship, did the one throw, to whom Surat Al-Baqarah was revealed.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے مسعودی نے بیان کیا، جامی بن شداد کی سند سے, عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ
جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے نچلے حصے میں گئے، کعبہ کی طرف رخ کیا، اور جمرہ عقبہ کو اپنے دائیں ابرو پر کیا، پھر سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے جاتے تھے پھر کہا: قسم اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، یہیں سے اس ذات نے کنکری ماری ہے جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔
It was narrated from Sulaiman bin ‘Amr bin Ahwas that his mother said:
“I saw the Prophet (ﷺ) on the Day of Sacrifice, at ‘Aqabah Pillar. He went to the interior of the valley and threw seven pebbles, saying Takbir with each pebble, then he departed.” (Another chain) from Sulaiman bin Amr bin Ahwas, from Umm Jundub from the prophet ﷺ with similar wording.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے یزید بن ابی زیاد کی سند سے بیان کیا, سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ام جندب رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر کو جمرہ عقبہ کے پاس دیکھا، آپ وادی کے نشیب میں تشریف لے گئے، اور جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے پھر لوٹ آئے۔ اس سند سے بھی ( سلیمان بن عمرو بن احوص کی والدہ ام جندب رضی اللہ عنہا ) سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما :
He stoned ‘Aqabah Pillar, but he did not stay there, and he mentioned that the Prophet (ﷺ) had done likewise.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے طلحہ بن یحییٰ نے بیان کیا، وہ یونس بن یزید کی سند سے، وہ زہری کی سند سے، وہ سلیم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، اور اس کے پاس رکے نہیں، اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) had stoned ‘Aqabah Pillar, he would continue on, and would not stay there
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مشیر نے بیان کیا، وہ الحجاج کی سند سے، وہ حاکم بن عتیبہ نے مقسم کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی کر لی تو چلے گئے، رکے نہیں۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) stoned the Pillar from atop his mount.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، انہوں نے حجاج کی سند سے، الحکم کی سند سے، مقسم کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
It was narrated that Qudamah bin ‘Abdullah Al-‘Amiri رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Prophet (ﷺ) stone the Pillar, on the Day of Sacrifice, from atop a reddish-brown camel of his, without beating anyone, driving them off or telling them to go away.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہیں وکیع نے ایمن بن نبیل کی سند سے بیان کیا, قدامہ بن عبداللہ عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یوم النحر کو جمرہ کو اپنی سرخ اور سفید اونٹنی پر سوار ہو کر کنکریاں ماریں، اس وقت آپ نہ کسی کو مارتے، اور نہ ہٹاتے تھے، اور نہ یہی کہتے تھے کہ ہٹو! ہٹو!۔
It was narrated from Abu Baddah bin ‘Asim رضی اللہ عنہ , from his father, that:
The Prophet (ﷺ) granted permission for some shepherds to stone one day and to not stone (the next) day.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر سے اور عبدالملک بن ابی بکر کی سند سے, عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ ایک دن رمی کریں، اور ایک دن کی رمی چھوڑ دیں۔
It was narrated from Abu Baddah bin ‘Asim رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) granted permission to some camel herders regarding staying (in Mina),* and allowing them to stone the Pillars on the Day of Sacrifice, then to combine the stoning of two days after the sacrifice, so that they could do it on one of the two days.”** Malik said: “I think that he said: ‘On the first of the first of the two days, then they could stone them on the day of departure (from Mina).’”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک بن انس نے خبر دی، اور ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے مالک بن انس سے، مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر نے اپنے والد سے, ابو البدع بن عاصم رضی اللہ عنہ کی روایت سے، اپنے والد کی سند سے، جنہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو رخصت دی کہ وہ یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو رمی کر لیں، پھر یوم النحر کے بعد کے دو دنوں کی رمی ایک ساتھ جمع کر لیں، خواہ گیارہویں، بارہویں دونوں کی رمی بارہویں کو کریں، یا گیارہویں کو بارہویں کی بھی رمی کر لیں ۱؎۔ مالک بن انس کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: پہلے دن رمی کریں پھر جس دن کوچ کرنے لگیں اس دن کر لیں۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“We performed Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ), and there were women and children with us. We recited Talbiyah on behalf of the children and stoned the Pillars on their behalf.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن نمیر نے اشعث کی سند سے، ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے تھے، ہم نے بچوں کی طرف سے لبیک پکارا، اور ان کی طرف سے رمی کی۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) recited Talbiyah until he stoned ‘Aqabah Pillar.
ہم سے بکر بن خلف ابوبشر نے بیان کیا، کہا ہم سے حمزہ بن حارث بن عمیر نے اپنے والد سے، ایوب کے واسطہ سے، سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی تک لبیک پکارا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“Fadl bin ‘Abbas رضی اللہ عنہما said: ‘I was riding behind the Prophet (ﷺ) and I continued to hear him reciting the Talbiyah until he stoned ‘Aqabah Pillar, and when he stoned it, he stopped reciting the Talbiyah.’”
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحواس نے بیان کیا، وہ خصیف کی سند سے، مجاہد کی سند سے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار تھا، تو میں برابر آپ کا تلبیہ سنتا رہا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، جب آپ نے اس کی رمی کر لی تو لبیک کہنا ترک کر دیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“When you have stoned the Pillar, everything becomes permissible to you except your wives. A man said to him: ‘O Ibn ‘Abbas, and perfume?’ He said: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) perfume his head with musk. Is that perfume or not?’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے بیان کیا۔ اور ہم سے ابوبکر بن خلاد باہلی نے بیان کیا: ہم سے یحییٰ بن سعید، وکیع، اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا, سلمہ بن کوہیل کی سند سے، حسن العرنی کی سند سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب تم رمی جمار کر چکتے ہو تو ہر چیز سوائے بیوی کے حلال ہو جاتی ہے، اس پر ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر میں مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟