It was narrated from Maimunah رضی اللہ عنہا that:
He (meaning the Prophet (ﷺ)) passed by a dead sheep belonging to the freed slave woman of Maimunah, that had been given to her in charity. He said: “Why don’t they take its skin and ten it, and make us of it?” They said: “O Messenger of Allah, it is dead meat.”* He said: “It is only unlawful to eat it.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زہری کی سند سے، عبید اللہ بن عبد اللہ کی سند سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے, ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ان کی ایک لونڈی کو صدقہ کی ایک بکری ملی تھی جو مری پڑی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس بکری کے پاس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے اس کی کھال کیوں نہیں اتار لی کہ اسے دباغت دے کر کام میں لے آتے ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے ۔
It was narrated that Salman رضی اللہ عنہ said:
“One of the Mothers of the Believers had a sheep that died. The Messenger of Allah (ﷺ) passed by it and said: ‘It would not have harmed its owners if they had made use of its hide.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحیم بن سلیمان نے لیث سے اور شہر بن حوشب کی سند سے,سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
امہات المؤمنین میں سے کسی ایک کے پاس ایک بکری تھی جو مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر گزر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ اس کی کھال کو کام میں لے آتے تو اس کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded that use should be made of the skins of dead animals, if they were tanned.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے مالک بن انس نے، ان سے یزید بن قصیط نے، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے اپنی والدہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: جب مردہ جانوروں کی کھال کو دباغت دے دی جائے، تو لوگ ا سے فائدہ اٹھائیں ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Ukaym said:
“There came to us a letter from the Prophet (ﷺ) (saying): ‘No not make use of the untanned skin and sinew of dead animals.’”
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ہم سے جریر نے منصور کی سند سے بیان کیا۔ اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے علی بن مشیر نے شیبانی کی سند سے بیان کیا۔ اور ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ہم سے غندر نے بیان کیا، شعبہ کی سند سے، وہ سب الحکم کی سند سے, عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی روایت سے,عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ
ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The sandals of the Prophet (ﷺ) had two thongs doubled around their straps.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، سفیان کی سند سے، خالد حذیفہ سے اور عبداللہ بن حارث کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے ۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
“The sandals of the Prophet (ﷺ) had two thongs.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ہمام کی سند سے اور قتادہ کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When anyone of you puts on his sandals, let him start with the right, and when he takes them off, let him start with the left.”
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے، شعبہ کی سند سے، محمد بن زیاد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں پیر سے شروع کرے، اور اتارے تو پہلے بائیں پیر سے اتارے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said; “None of you should walk in one sandal or in one leather sock. Let him take them both off or walk in both of them.”
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، ان سے ابن عجلان نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی سعید کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی شخص ایک جوتا یا ایک موزہ پہن کر نہ چلے، یا تو دونوں جوتے اور موزے اتار دے یا پھر دونوں جوتے اور موزے پہن لے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade putting on sandals whilst standing.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، وہ ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا.
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Prophet (ﷺ) forbade putting on sandals whilst standing.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، سفیان نے عبداللہ بن دینار سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے جوتا پہننے سے منع فرمایا۔
It was narrated from Ibn Buraidah رضی اللہ عنہ , from his father, that:
An-Najashi sent a pair of pure black Khuff as a gift to the Prophet (ﷺ) of, which he wore.
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے دلہم بن صالح الکندی نے بیان کیا، وہ حجیر بن عبداللہ الکندی کی سند سے, بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اپنے والد کے حکم پرکہ
نجاشی ( اصحمہ بن بحر ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو کالے اور چمڑے کے سادہ موزے تحفہ میں بھیجے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ attributed to the Prophet (ﷺ):
The Prophet (ﷺ) said: “The Jews and the Christians do not dye (their hair), so differ from them.”
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زہری کی سند سے، انہوں نے ابو سلمہ اور سلیمان بن یسار کو یہ کہتے ہوئے سنا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، تو تم ان کی مخالفت کرو ( یعنی خضاب لگاؤ ) ۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best things with which you change gray hair are henna and Katam.”*
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، انہوں نے اجلہ کی سند سے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، وہ ابو الاسود الدیلمی کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی بدلنے کے لیے سب سے بہترین چیز مہندی اور کتم ہے ۔
It was narrated that ‘Uthman bin Mawhab said:
“I entered upon Umm Salamah رضی اللہ عنہا and she brought out for me a hair of the Messenger of Allah (ﷺ), which was dyed with henna and Katam.”
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا, عثمان بن موہب کہتے ہیں کہ
میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال نکال کر مجھے دکھایا، جو مہندی اور کتم سے رنگا ہوا تھا۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that he said:
“Abu Quhaifah رضی اللہ عنہ was brought to the Prophet (ﷺ) on the Day of the Conquest (of Makkah), and his head was all white. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Take him to some of his womenfolk and let them change this, but avoid black.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، لیث کی سند سے، انہوں نے ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
فتح مکہ کے دن ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے ( یعنی خضاب لگا دے ) ، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ ۔
It was narrated that Suhaib Al-Khair رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The best thing with which you can dye your hair is this black (dye). It makes your women desire you and creates fear in the hearts of your enemies.’”
ہم سے ابو ہریرہ الصیرافی محمد بن فراس نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن الخطاب بن زکریا الراسیبی نے بیان کیا، کہا ہم سے دفع بن دغفل السدوسی نے بیان کیا، وہ عبد الحمید بن صیفی سے اپنے والد سے, صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خضاب تم لگاتے ہو ان میں بہترین کالا خضاب ہے، اس سے عورتیں تمہاری طرف زیادہ راغب ہوتی ہیں، اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہاری ہیبت زیادہ بیٹھتی ہے ۔
It was narrated from Sa’eed bin Abu Sa’eed that ‘Ubaid bin Juraij:
He asked Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما : “I see that you dye your beard yellow with Wars.” Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said: “As for my dyeing of my beard yellow with Wars, I saw the Messenger of Allah (ﷺ) dyeing his beard yellow.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے اور سعید بن ابی سعید سے, عبید بن جریج سے روایت ہے کہ
انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد ( پیلی ) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اس لیے زرد ( پیلی ) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد ( پیلی ) کرتے دیکھا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Prophet (ﷺ) passed by a man who had dyed his hair with henna and said: ‘How handsome this is!’ Then he passed by another who had dyed his hair with henna and Katam, and said: ‘This one is more handsome than that one.’ Then he passed by another who had dyed his hair yellow and said: ‘This one is more handsome than all of them.’” He (one of the narrators) said: Tawus used to dye his hair yellow.
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، وہ حمید بن وھب سے، انہوں نے ابن طاؤس سے، وہ طاؤس کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے ، پھر آپ ایک دوسرے شخص کے پاس سے گزرے جس نے مہندی اور کتم ( وسمہ ) کا خضاب لگایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس سے اچھا ہے ! پھر آپ کا گزر ایک دوسرے کے پاس ہوا جس نے زرد خضاب لگا رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا اور بہتر ہے ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ اسی لیے طاؤس بالوں کو زرد خضاب کیا کرتے تھے
It was narrated that Abu Juhaifah رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ), and this part of his hair was white” – meaning the tuft of hair between the lower lip and the chin.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ابو اسحاق سے, ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اور آپ کے بالوں کا یہ حصہ سفید تھا" یعنی نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان بالوں کا گڑھا۔
It was narrated that Humaid said:
“Anas bin Malik رضی اللہ عنہ was asked: ‘Did the Messenger of Allah (ﷺ) dye his hair?’ He said: ‘He did not have any white hair apart from approximately seventeen or twenty hairs at the front of his beard.’”
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث اور ابن ابی عدی نے بیان کیا, حمید کہتے ہیں کہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا ہے؟ کہا: میں نے آپ کی داڑھی میں سفید بال دیکھے ہی نہیں سوائے ان سترہ یا بیس بالوں کے جو آپ کی داڑھی کے سامنے والے حصے میں تھے۔