It was narrated that Miqdam Abu Karimah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: ' Putting up a guest for one night is obligatory. If you find a guest at your door in the morning, then this (hospitality) is (like) a debt that you (the host) owe him. If he (the guest) wants, he may request it, and if he wants, he may leave it'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے، منصور کی سند سے، شعبی کی سند سے, مقدام ابوکریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کے یہاں رات کو کوئی مہمان آئے تو اس رات اس مہمان کی ضیافت کرنی واجب ہے، اور اگر وہ صبح تک میزبان کے مکان پر رہے تو یہ مہمان نوازی میزبان کے اوپر مہمان کا ایک قرض ہے، اب مہمان کی مرضی ہے چاہے اپنا قرض وصول کرے، چاہے چھوڑ دے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: O Allah, bear witness that I have issued a warning concerning (failure to fulfill) the rights of the two weak ones: Orphans and women.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، وہ ابن عجلان کی سند سے، وہ سعید بن ابی سعید سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں ایک یتیم اور ایک عورت کا حق مارنے کو حرام قرار دیتا ہوں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: The best house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated well. And the worst house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated badly.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی ایوب سے، وہ یحییٰ بن سلیمان سے، وہ زید بن ابی عتاب سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ( پرورش پاتا ) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔
It was narrated from `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: Whoever raises three orphans, is like the one who spends his nights in prayer and fasts during the day, and goes out morning and evening drawing his sword in the cause of Allah. In Paradise, he and I will be brothers like these two sisters,' and he held up his forefinger and middle finger together.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن عبدالرحمٰن کلبی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم الانصاری نے عطاء بن ابی رباح کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین یتیموں کی پرورش کی تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ رات میں تہجد پڑھتا رہا، دن میں روزے رکھتا رہا، اور صبح و شام تلوار لے کر جہاد کرتا رہا، میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہو کر رہیں گے جیسے یہ دونوں بہنیں ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملایا ( اور دکھایا ) ۔
It was narrated that Abu Barzah Al-Aslami رضی اللہ عنہ said:
O Messenger of Allah! Tell me of an action by which I may benefit.' He said: 'Remove harmful things from the path of the Muslims.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے، ابان بن سمعہ کی سند سے، ابو الوازی الراسیبی کی سند سے بیان کیا, ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے میں فائدہ اٹھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet(ﷺ) said: There was a branch of a tree that annoyed the people. A man removed it, so he was admitted to Paradise.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن نمیر نے، العمش کی سند سے، ابوصالح رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستے میں ایک درخت کی شاخ ( ٹہنی ) پڑی ہوئی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک شخص نے اسے ہٹا دیا ( تاکہ مسافروں اور گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو ) اسی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا ۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Prophet(ﷺ) said: My nation was shown to me with their good deeds and bad deeds. Among their good deeds I saw a harmful thing being removed from the road. And among their bad deeds I saw sputum in the mosque that had not been removed.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا: ہم کو ہشام بن حسن نے ابو عیینہ کے آزاد کردہ غلام واصل کی سند سے، یحییٰ بن عقیل سے اور یحییٰ بن یمر سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا ۔
It was narrated that Sad bin Ubadah رضی اللہ عنہ said:
I said: 'O Messenger of Allah, what charity is best?' He said: 'Giving water to drink.'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ ہشام کے صحابی دستو ای نے، قتادہ کی سند سے، وہ سعید بن المسیب سے, سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پلانا ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: On the Day of Resurrection, people will be lined up in rows, (one of the narrators) Ibn Numair said: i.e., the people of Paradise, and a man from among the people of Hell will pass by a man (from the people of Paradise) and say: 'O so and so! Do you not remember the day when you asked for water and I gave you water to drink? So he will intercede for him. And another man will come and say: Do you not remember the day when I gave you water with which to purify yourself? and he will intercede for him. (In his narration, one of the narrators) Ibn NUmair said: And he will remember the day when you sent me to do such and such for you, and I went and did it for you?' and he will intercede for him.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے الاعمش کی سند سے اور یزید الرقاشی کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کی صف بندی ہو گی ( ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ اہل جنت کی صف بندی ہو گی ) پھر ایک جہنمی ایک جنتی کے پاس گزرے گا اور اس سے کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن تم نے پانی مانگا تھا اور میں نے تم کو ایک گھونٹ پانی پلایا تھا؟ ( وہ کہے گا: ہاں، یاد ہے ) وہ جنتی اس بات پر اس کی سفارش کرے گا، پھر دوسرا جہنمی ادھر سے گزرے گا، اور اہل جنت میں سے ایک شخص سے کہے گا: تمہیں یاد نہیں کہ میں نے ایک دن تمہیں طہارت و وضو کے لیے پانی دیا تھا؟ تو وہ بھی اس کی سفارش کرے گا۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ وہ شخص کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ تم نے مجھے فلاں اور فلاں کام کے لیے بھیجا تھا، اور میں نے اسے پورا کیا تھا؟ تو وہ اس بات پر اس کی سفارش کرے گا۔
It was narrated that Suraqah bin Ju'shum رضی اللہ عنہ said:
I asked the Messenger of Allah(ﷺ) about a lost camel that comes to my cisterns that I have prepared for my own camels - will I be rewarded if I give it some water to drink? He said: Yes, in every living being there is reward.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسحاق نے، زہری کی سند سے، عبدالرحمٰن بن مالک بن جُشم سے، اپنے والد سے, سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹوں کے متعلق پوچھا کہ وہ میرے حوض پر آتے ہیں جس کو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے تیار کیا ہے، اگر میں ان اونٹوں کو پانی پینے دوں تو کیا اس کا بھی اجر مجھے ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ہر کلیجہ والے جانور کے جس کو پیاس لگتی ہے، پانی پلانے میں ثواب ہے ۔
It was narrated from Jarir bin Abdullah Al-Bajali رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: Whoever is deprived of gentleness, he is deprived of goodness.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے، الاعمش سے، تمیم بن سلمہ سے، عبدالرحمٰن بن ہلال العبسی کی سند سے, جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نرمی ( کی خصلت ) سے محروم کر دیا جاتا ہے، وہ ہر بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: Allah is Gentle and loves gentleness, and He grants reward for it that He does not grant for harshness.
ہم سے اسماعیل بن حفص الابلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے العمش سے اور ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ مہربان ہے، اور مہربانی اور نرمی کرنے کو پسند فرماتا ہے، اور نرمی پر وہ ثواب دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا ۔
It was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet(ﷺ) said: Allah is Gentle and loves gentleness in all things.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن مصعب نے اوزاعی کی سند سے بیان کیا۔ اور ہم سے ہشام بن عمار اور عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے اوزاعی نے، زہری کی سند سے بیان کیا, عروہ کی سند پر، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور سارے کاموں میں نرمی کو پسند کرتا ہے ۔
It was narrated that Abu Dhar رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: '(Slaves are) your brothers whom Allah has put under your control, so feed them with the same food that you eat, clothe them with the same clothes you wear, and do not burden them with so much that they are overwhelmed; if you do burden them, then help them.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے الاعمش نے بیان کیا، المعرور بن سوید کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ( حقیقت میں لونڈی اور غلام ) تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کیا ہے، اس لیے جو تم کھاتے ہو وہ انہیں بھی کھلاؤ، اور جو تم پہنتے ہو وہ انہیں بھی پہناؤ، اور انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان کی قوت و طاقت سے باہر ہو، اور اگر کبھی ایسا کام ان پر ڈالو تو تم بھی اس میں شریک رہ کر ان کی مدد کرو ۔
It was narrated from Abu Bakr Siddiq( رضی اللہ عنہ) that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: No person who mistreats his slave will enter Paradise. They said: O Messenger of Allah, did you not tell us that this nation will have more slaves and orphans than any other nation? He said: Yes, so be as kind to them as you are to your own children, and feed them with the same food that you eat. They said: What will benefit us in this world? He said: A horse that is kept ready for fighting in the cause of Allah, and your slave to take care of you, and if he performs prayer, then he is your brother(in Islam).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے اسحاق بن سلیمان نے مغیرہ بن مسلم کی سند سے، فرقد السبخی کی سند سے اور مرۃ الطیب کی سند سے بیان کیا, ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدخلق شخص جو اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ بدخلقی سے پیش آتا ہو، جنت میں داخل نہ ہو گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت کے اکثر افراد غلام اور یتیم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ لیکن تم ان کی ایسی ہی عزت و تکریم کرو جیسی اپنی اولاد کی کرتے ہو، اور ان کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو ، پھر لوگوں نے عرض کیا: ہمارے لیے دنیا میں کون سی چیز نفع بخش ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: گھوڑا جسے تم جہاد کے لیے باندھ کر رکھتے ہو، پھر اس پر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہو ( اس کی جگہ ) تمہارا غلام تمہارے لیے کافی ہے، اور جب نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah( رضی اللہ عنہ) that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: By the One in Whose Hand is my soul, you will not enter Paradise until you believe, and you will not believe until you love one another. Shall I not tell you of something which, if you do it, you will love one another? Spread (the greeting of) peace among yourselves.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ اور ابن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے اور ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم مومن نہ بن جاؤ، اور اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے ہو جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے ( وہ یہ کہ ) آپس میں سلام کو عام کرو اور پھیلاؤ ۔
It was narrated that Abu Umamah رضی اللہ عنہ said:
Our Prophet(ﷺ) commanded us to spread (the greeting of) peace.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، وہ محمد بن زیاد سے, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سلام کو عام کریں اور پھیلائیں ۔
It was narrated from Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: Worship the Most Merciful and spread (the greeting of) peace.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، وہ عطاء بن السائب کے واسطہ سے اپنے والد سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، اور سلام کو عام کرو ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
A man entered the masjid, and the Messenger of Allah(ﷺ) was sitting in a corner of the mosque. He prayed, then he came and greeted him with Salam(peace), and he said: 'Wa 'alaikassalm.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی سعید المقبری نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وعلیک السلام» ( اور تم پر بھی سلامتی ہو ) ۔
It was narrated from Abu Salamah that 'Aishah رضی اللہ عنہا told him that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said to her: Jibrail send (greetings of) Salam to you. She said: Wa 'alahisalam wa rahmatullah (and upon him be peace and mercy of Allah).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحیم بن سلیمان نے بیان کیا، وہ زکریا کی سند سے، شعبی نے ابو سلمہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں ( یہ سن کر ) انہوں نے جواب میں کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» ( اور ان پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو ) ۔