It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah(ﷺ) said : When any of the People of the Book greets you with Salam (peace), then say, Wa 'alaikum(and also upon you).
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ہم سے عبدہ بن سلیمان نے اور ان سے محمد بن بشر نے بیان کیا، وہ سعید کی سند سے، انہوں نے قتادہ کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم ( جواب میں صرف ) «وعليكم» کہو ( یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق ) ۔
It was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا that:
Some of the Jews came to the Prophet(ﷺ) and said: Assam o alaika (death be upon you), O Abul-Qasim! He said: Wa 'alayikum (and also upon you).
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، مسلم کی سند سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے، اور کہا: «السام عليك يا أبا القاسم» اے ابوالقاسم تم پر موت ہو ، تو آپ نے ( جواب میں صرف ) فرمایا: «وعليكم» اور تم پر بھی ہو۔
It was narrated from Abu 'Abdur-Rahman Al Juhani رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: I am riding to the Jews tomorrow. Do not initiate the greeting with them, and if they greet you, then say: Wa 'alaikum (and also upon you) .
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، وہ محمد بن اسحاق سے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے اور مرثد بن عبداللہ الیزانی کی سند سے, ابوعبدالرحمٰن جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کل سوار ہو کر یہودیوں کے پاس جاؤں گا، تو تم خود انہیں پہلے سلام نہ کرنا، اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم جواب میں «وعليكم» کہو ( یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق ) ۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah(ﷺ) came to us, and we were young boys, and he greeted us with (the greeting of) peace .
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد الاحمر نے حمید سے بیان کیا ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ( اس وقت ) ہم بچے تھے تو آپ نے ہمیں سلام کیا۔
Asma bint Yazid رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah(ﷺ) passed by us, among (a group of) women, and he greeted us with (the greeting of) peace.
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ ابن ابی حصین سے، انہوں نے کہا: انہوں نے اسے شہر بن حوشب سے سنا، انہوں نے کہا: اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم عورتوں کے پاس گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
O Messenger of Allah! Should we bow to one another? He said: No. We said: Should we embrace one another? He said: No, but shake hands with one another.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ جریر بن حازم نے حنظلہ بن عبدالرحمٰن السدوسی کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ( ملاقات کے وقت ) ہم ایک دوسرے سے جھک کر ملیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پھر ہم نے عرض کیا: کیا ہم ایک دوسرے سے معانقہ کریں ( گلے ملیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ مصافحہ کیا کرو ( ہاتھ سے ہاتھ ملاؤ ) ۔
It was narrated from Bara bin Azib رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: There are no two Muslims who meet and shake hands, but they will be forgiven before they part.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد الاحمر نے اور ان سے عبداللہ بن نمیر نے، الاجلح کی سند سے، ابو اسحاق کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے ملتے اور مصافحہ کرتے ( ہاتھ ملاتے ) ہیں، تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دی جاتی ہے ۔
It was narrated that Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
We kissed the hand of the Prophet(ﷺ).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی زیاد نے بیان کیا، وہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ چوما۔
It was narrated from Safwan bin 'Assal رضی اللہ عنہ that:
Some people among the Jews kissed the hands and feet of the Prophet(ﷺ).
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن ادریس نے، اور ان سے ابو اسامہ نے، شعبہ کی سند سے، وہ عمرو بن مرہ سے، انہوں نے عبداللہ بن سلمہ سے, صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
یہود کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں چومے۔
It was narrated from Abu Saeed Khudri رضی اللہ عنہ that:
Abu Musa رضی اللہ عنہ asked permission to enter upon 'Umar رضی اللہ عنہ three times, and he did not give him permission, so he went away. 'Umar رضی اللہ عنہ sent word to him saying: Why did you go back? He said: I asked permission to enter three times, as the Messenger of Allah(ﷺ) enjoined upon us, then if we are given permission we should enter, otherwise we should go back. He said: You should bring me proof of that, or else! Then he came to a gathering of his people and asked them to swear by Allah concerning that, and they did so, so he let him go.
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو داؤد بن ابی ہند نے خبر دی، وہ ابو نادرہ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ عمر رضی اللہ عنہ سے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب کی لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے ایک آدمی بھیجا اور بلا کر پوچھا کہ آپ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ویسے ہی تین مرتبہ اجازت طلب کی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، اگر ہمیں تین دفعہ میں اجازت دے دی جائے تو اندر چلے جائیں ورنہ لوٹ جائیں، تب انہوں نے کہا: آپ اس حدیث پر گواہ لائیں ورنہ میں آپ کے ساتھ ایسا ایسا کروں گا یعنی سزا دوں گا، تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی مجلس میں آئے، اور ان کو قسم دی ( کہ اگر کسی نے یہ تین مرتبہ اجازت طلب کرنے والی حدیث سنی ہو تو میرے ساتھ اس کی گواہی دے ) ان لوگوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا کر گواہی دی تب عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو چھوڑا ۔
It was narrated that Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ said:
We said: 'O Messenger of Allah(ﷺ), (we know) this (greeting of) Salam, but what does seeking permission to enter mean?' He said: 'It means a man saying SubhanAllah, and Allahu Akbar and Al Hamdulillah, and clearing his throat, announcing his arrival to the people in the house.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحیم بن سلیمان نے بیان کیا، وہ واصل بن السائب نے ابو سورہ کی سند سے, ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سلام تو ہمیں معلوم ہے، لیکن «استئذان» کیا ہے؟ ( یعنی ہم اجازت کیسے طلب کریں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «استئذان» یہ ہے کہ آدمی تسبیح، تکبیر اور تحمید ( یعنی «سبحان الله، الله أكبر، الحمد لله» کہہ کر یا کھنکار کر ) سے گھر والوں کو خبردار کرے ۔
It was narrated that Ali رضی اللہ عنہ said:
I had two times of visiting the Messenger of Allah(ﷺ), at night and during the day. If I came to him when he was praying, he would clear his throat (to let me know he was praying).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے مغیرہ کی سند سے، حارث کی سند سے، عبداللہ بن نجائی کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کے لیے میرے دو وقت مقرر تھے: ایک رات میں، ایک دن میں، تو میں جب آتا اور آپ نماز کی حالت میں ہوتے تو آپ میرے لیے کھنکار دیتے۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
I asked the Prophet(ﷺ) for permission to enter, and he said: 'Who is that?' I said: 'Me'. The Prophet(ﷺ) said Me, me?!
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہیں وکیع نے شعبہ کی سند سے، وہ محمد بن منکدر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب کی تو آپ نے ( مکان کے اندر سے ) پوچھا: کون ہو ؟ میں نے عرض کیا: میں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، میں کیا؟ ( نام لو ) ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
I said: 'How are you this morning, O Messenger of Allah?' He said: 'I am better than one who did not get up fasting, and who did not visit and sick.'
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن مسلمہ کی سند سے، وہ عبدالرحمٰن بن ثابت کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے صبح کیسے کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نہ آج روزہ رکھا، نہ بیمار کی عیادت ( مزاج پرسی ) کی خیریت سے ہوں ۔
It was narrated that Abu Usaid Sa'idi رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah(ﷺ) said to Abbas Ibn Abdul Muttalib رضی اللہ عنہ, when he entered upon them: Assalamu alaikum'. They said: 'Wa alaikas salamu wa ahmatullahi wa barakatuhu.' He said: 'How are you this morning?' They said: ' Well, praise is to Allah. And how are you this morning, may our fathers and mothers be ransomed for you, O Messenger of Allah?!' He said: 'I am well, praise is to Allah.' (Daif)
ہم سے ابواسحاق الحروی ابراہیم بن عبداللہ بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عثمان بن اسحاق بن سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا، مجھ سے میرے نانا مالک بن حمزہ بن ابی اسید السعدی نے اپنے والد سے روایت کی, ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے تو فرمایا: «السلام عليكم» انہوں نے ( جواب میں ) «وعليك السلام ورحمة الله وبركاته» کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كيف أصبحتم» آپ نے صبح کیسے کی ؟ جواب دیا: «بخير نحمد الله» خیریت سے کی اس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، لیکن آپ نے کیسے کی؟ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الحمد لله» میں نے بھی خیریت کے ساتھ صبح کی ۔
It was narrated from Ibn Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: If there comes to you a man who is respected among his own people, then honor him.
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، ہمیں سعید بن مسلمہ نے ابن عجلان سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس کسی قوم کا کوئی معزز آدمی آئے تو تم اس کا احترام کرو ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
Two men sneezed in he presence of the Prophet(ﷺ) and he replied (said: YarhamukAllah; may Allah have mercy on you') to one and not to the other. It was said: 'O Messenger of Allah(ﷺ), two men sneezed in your presence and you replied to one and not to the other?' He said: 'This one praised Allah(said Al-Hamdulillah fter sneezing) but that one did not.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے سلیمان تیمی کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کے جواب میں «يرحمك الله» اللہ تم پر رحم کرے کہا، اور دوسرے کو جواب نہیں دیا، تو عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا، آپ نے ایک کو جواب دیا دوسرے کو نہیں دیا، اس کا سبب کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نے ( چھینکنے کے بعد ) «الحمد لله» کہا، اور دوسرے نے نہیں کہا ۔
It was narrated from Ilyas bin Salamah bin Akwa' رضی اللہ عنہ that his father said:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: 'The one who sneezes may be responded to three times; if he sneezes more than that, he has a cold.'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے عکرمہ بن عمار نے، وہ ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھینکنے والے کو تین مرتبہ جواب دیا جائے، جو اس سے زیادہ چھینکے تو اسے زکام ہے ۔
It was narrated from Ali رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah(ﷺ) said: If anyone of you sneezes, let him say: Alhamdulillah (praise be to Allah). Those around him should respond by saying: Yarhamkullah (may Allah have mercy on you). And he should respond by saying: Yahdikum Allah wa yuslaha balakum (may Allah Guide you and set right your state).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ کی سند سے، وہ عیسیٰ بن عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله» کہے، اس کے پاس موجود لوگ«يرحمك الله» کہیں، پھر چھینکنے والا ان کو جواب دے «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے، اور تمہاری حالت درست کرے ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
Whenever the Prophet (ﷺ) met a man, he would speak to him, and would not tun away until he (the other man) was the one who turned away. And if he shook hands with him, he would not withdraw his hand until he (the other man) withdrew his hand. And he was never seen sitting with his knees ahead of the knees of the one who was sitting next to him.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہیں ابو یحییٰ الطّویل نے جو اہل کوفہ کے ایک شخص نے زید العمی کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب کسی شخص سے ملاقات ہوتی اور آپ اس سے بات کرتے تو اس وقت تک منہ نہ پھیرتے جب تک وہ خود نہ پھیر لیتا، اور جب آپ کسی سے مصافحہ کرتے تو اس وقت تک ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ خود نہ چھوڑ دیتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلایا۔