ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ جب دسترخوان اٹھا لیا جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے :’’ ہر قسم کی بہت زیادہ پاکیزہ اور بابرکت حمد اللہ کے لیے ہے ، کفایت کی گئی نہ چھوڑی گئی ، اور نہ اس سے بے نیازی دکھائی جائے ، اے ہمارے رب !‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ بندے کے اس طرز عمل سے خوش ہوتا ہے کہ وہ ایک لقمہ کھائے تو اس پر اس کی حمد بیان کرے یا وہ کوئی چیز پیئے تو اس پر اس کی حمد بیان کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ وَسَنَذْکْرْ حَدِیْثَنْی عَائِشَۃَ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ : مَا شَبعَ اٰلُ مُحَمَّدِ ، وَخَرَجَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنَ الدُّنْیَا ، فِیْ بَابِ فَضْلِ الْفُقَرَآءِ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالیٰ ۔ ہم عائشہ ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی احادیث :’’ ما شبع ال محمد ‘‘ اور خرج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من الدنیا ‘‘ ان شاء اللہ تعالیٰ ’’ باب فضل الفقراء ‘‘ میں ذکر کریں گے ۔
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ کھانا پیش کیا گیا ، میں نے کوئی کھانا نہیں ایسا دیکھا کہ ہم نے کھایا ہو اور اس کے شروع میں بہت زیادہ برکت ہو اور اس کے آخر میں بہت کم برکت ہو ، ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ کیسے ہوا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’ جب ہم نے کھانا کھایا تو ہم نے اس پر اللہ کا نام لیا ، پھر کوئی ایسا شخص بیٹھا جس نے اللہ کا نام نہیں لیا اس وجہ سے شیطان نے اس کے ساتھ کھایا (اس لیے برکت اٹھ گئی) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھائے اور اپنے کھانے پر اللہ کا نام لینا بھول جائے تو وہ کہے :’’ اس کا آغاز و اختتام اللہ کے نام سے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
امیہ بن مخشی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی کھانا کھا رہا تھا ، اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی تھی ، حتی کہ ایک لقمہ باقی رہ گیا اور وہ لقمہ جب اس نے اسے منہ کی طرف اٹھایا تو اس نے کہا :’’ بسم اللہ اولہ و آخرہ ‘‘ تو (یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیے ، پھر فرمایا :’’ شیطان اس کے ساتھ کھاتا رہا حتی کہ جب اس نے اللہ کا نام لیا تو اس نے اپنے پیٹ کا سب کچھ قے کر دیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کھانا کھا کر شکر کرنے والا ، صبر کرنے والے روزہ دار کی طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
امام ابن ماجہ اور امام دارمی نے سنان بن سنہ عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا کھاتے یا کوئی چیز نوش فرماتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے کھانا کھلایا ، پلایا اور اسے حلق سے اترنے والا بنایا اور پھر اس کے نکلنے کی راہ بنائی ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت اس کے بعد ہاتھ منہ دھونے میں ہے ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کھانے کی برکت اس سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ منہ دھونے میں ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلا سے باہر تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا ۔ صحابہ نے عرض کیا ، کیا ہم آپ کی خدمت میں وضو کا پانی پیش نہ کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے وضو کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
امام ابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ثرید کا پیالہ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کے کناروں سے کھاؤ اور اس کے وسط سے نہ کھاؤ کیونکہ برکت وسط میں نازل ہوتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا :’’ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ پیالے (پلیٹ) کے بالائی حصے سے نہ کھائے بلکہ وہ اس کے نچلے حصے (یعنی اپنے آگے اور قریب) سے کھائے ، کیونکہ برکت اس کے بالائی حصے میں نازل ہوتی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی تکیہ لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی آپ کے پیچھے دو آدمی چلتے ہوئے دیکھے گئے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ کی خدمت میں روٹی اور گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے تناول فرمایا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ کھایا ، پھر آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ، اور ہم نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ ہم نے کنکریوں کے ساتھ اپنے ہاتھ صاف کر لیے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گوشت کی دستی پیش کی گئی اور آپ دستی کا گوشت پسند فرمایا کرتے تھے ، آپ نے دانتوں کے ساتھ اس سے نوچ لیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ چھری کے ساتھ (پکے ہوئے) گوشت کو مت کاٹو کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے ، بلکہ اسے دانتوں کے ساتھ کھاؤ ، کیونکہ ایسا کرنا زیادہ لذیذ اور کھانے میں زیادہ سہل ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان ، اور دونوں نے فرمایا : یہ روایت قوی نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ام منذر ؓ بیان کرتیں ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور علی ؓ بھی آپ کے ہمراہ تھے ، ہمارے گھر میں کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں تناول فرمانے لگے اور علی ؓ بھی آپ کے ساتھ کھانے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی ؓ سے فرمایا :’’ علی ! باز رہو ، کیونکہ تم ابھی ابھی صحت یاب ہوئے ہو ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے ان کے لیے چقندر اور جو پکائے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ علی ! یہ کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ موزوں ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برتن (ہنڈیا ، دیگچی) کے پیندے کے ساتھ لگا ہوا کھانا پسند تھا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
نبیشہ ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی برتن میں کھا کر اسے اچھی طرح صاف کرتا ہے تو وہ برتن اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔