ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشروب میں پھونک مارنے سے منع فرمایا تو ایک آدمی نے عرض کیا ، برتن میں گرا ہوا تنکا دیکھوں تو پھر (کیا کروں) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے پھینک دو ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میں ایک سانس سے سیراب نہیں ہوتا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے منہ سے پیالہ ہٹا ، پھر سانس لے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالے کے ٹوٹے ہوئے حصے سے پینے سے اور مشروب میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
کبشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ نے لٹکے ہوئے مشکیزے سے کھڑے ہو کر پانی پیا ، میں نے اس (مشکیزے) کے منہ کی طرف توجہ رکھی اور میں نے اس (مشکیزے کے منہ) کو کاٹ لیا ۔ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
امام زہری نے عروہ کی سند سے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ٹھنڈا شیریں مشروب زیادہ پسند تھا ۔ ترمذی اور انہوں نے کہا : صحیح وہ ہے جو زہری کی سند سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسل روایت کیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ یوں دعا کرے :’’ اے اللہ ! اس میں برکت عطا فرما ، اور ہمیں اس سے بہتر کھلا ۔‘‘ اور جب دودھ پیئے تو یوں دعا کرے :’’ اے اللہ اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے زیادہ عطا فرما ۔‘‘ کیونکہ دودھ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے سے کفایت کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سقیا سے آبِ شیریں لایا جاتا تھا ، مشہور ہے کہ وہ مدینہ سے دو روز کی مسافت پر ایک چشمہ ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں ، یا کسی ایسے برتن میں ، جس میں اس (سونے یا چاندی) میں سے کچھ ہو تو وہ شخص اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ہی انڈیلتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الدارقطنی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنے اس پیالے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر قسم کا مشروب پلایا ، شہد ، نبیذ ، پانی اور دودھ ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک مشکیزے میں نبیذ تیار کیا کرتی تھیں ، جسے اوپر سے باندھ دیا جاتا تھا ، اور اس کے نیچے بھی منہ تھا ، ہم صبح نبیذ تیار کرتیں تو آپ اسے شام کو نوش فرما لیتے اور ہم شام کو تیار کرتیں تو آپ اسے صبح کو نوش فرما لیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے رات کے پہلے حصے میں نبیذ تیار کی جاتی ، جب اس دن صبح ہوتی تو آپ اسے نوش فرماتے اور رات کو بھی پیتے ، اگلے دن اور اگلی رات بھی نوش فرماتے اور اگلے روز عصر تک نوش فرما لیتے ، اگر کچھ بچ جاتی آپ اسے خادم کو پلا دیتے یا پھر آپ کے حکم پر اسے انڈیل دیا جاتا ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی ، اگر وہ مشکیزہ نہ پاتے تو پھر آپ کے لیے پتھر کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو کے بنائے ہوئے برتن ، سبز گھڑے ، روغن کیے ہوئے برتن اور لکڑی سے کریدے ہوئے برتن میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چمڑے کے مشکیزوں میں نبیذ تیار کرنے کا حکم فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں (مذکورہ) ظروف (میں نبیذ تیار کرنے) سے منع کیا تھا ، کوئی ظرف (برتن نہ تو) کسی چیز کو حلال کرتا ہے اور نہ اسے حرام کرتا ہے ، ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، فرمایا :’’ میں نے چمڑے کے برتنوں کے علاوہ دیگر برتنوں میں مشروبات (رکھنے ، پینے) سے تمہیں منع کیا تھا ، تم تمام برتنوں میں پیو ، مگر نشہ آور چیزیں مت پیو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابومالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میری امت کے کچھ لوگ شراب کا کوئی اور نام رکھ کر شراب نوشی کریں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز گھڑے کی نبیذ سے منع فرمایا تو میں نے عرض کیا ، کیا ہم سفید میں پی لیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب سورج غروب ہو جائے یا جب تم شام کرو تو اپنے بچوں کو روک لیا کرو ، کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں ، لیکن جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو ان (بچوں) کو چھوڑ دو اور دروازے بند کر لو اور اللہ کا نام لو ، کیونکہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا ، اپنے مشکیزے بند رکھو ، ان پر اللہ کا نام لو ، اپنے برتن ڈھانپ کر رکھو ان پر اللہ کا نام لو ، خواہ کوئی معمولی چیز ہی ان پر رکھو اور اپنے چراغ بجھا دیا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
اور بخاری کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ برتن ڈھانپو ، مشکیزوں کو باندھو ، دروازے بند رکھو اور شام کے وقت اپنے بچوں کو اکٹھا کر لو کیونکہ (اس وقت) جن پھیل جاتے ہیں ، اور اچک لیتے ہیں اور سوتے وقت چراغ گل کر دیا کرو کیونکہ بسا اوقات چوہیا چراغ کی بتی کھینچ کر لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا ڈالتی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
اور مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ برتن ڈھانپو ، مشکیزوں کے منہ باندھو ، دروازے بند رکھو ، چراغ گل کر دو ، کیونکہ شیطان مشکیزے کا منہ نہیں کھولتا اور نہ بند دروازے کھولتا ہے اور نہ ہی کسی برتن سے ڈھکنا اٹھاتا ہے ، اور اگر تم میں سے کوئی لکڑی کے سوا کوئی چیز نہ پائے تو وہ اسے ہی عرض کے بل اس پر رکھ دے اور اللہ کا نام لے ، وہ ایسے ضرور کرے ، کیونکہ چوہیا گھر کو اہل خانہ سمیت جلا دیتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
اور مسلم ہی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی ابتدائی تاریکی غائب ہو جانے تک اپنے مویشی اور اپنے بچے نہ چھوڑو ، کیونکہ اس وقت شیطان چھوڑے جاتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
اور مسلم ہی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ برتن ڈھانپو ، مشکیزوں کے منہ باندھو ، کیونکہ سال میں ایک ایسی رات ہے جس میں وبا پھیلتی ہے ، اور وہ وبا جب ایسے برتن سے گزرتی ہے جس پر ڈھکنا نہ ہو یا کسی ایسے مشکیزے سے گزرتی ہے جس کا منہ بند نہ ہو تو وہ اس میں داخل ہو جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔