جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوحمید انصاری ؓ نقیع سے دودھ کا برتن لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں ، خواہ تم عرض کے بل اس پر ایک لکڑی رکھ لیتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم سوتے وقت اپنے گھروں میں آگ (کو جلتے ہوئے) مت چھوڑو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، مدینہ میں رات کے وقت ایک گھر اہل خانہ سمیت جل گیا ، اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ آگ تمہاری دشمن ہے ، جب سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تم رات کے وقت کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے ہینگنے کی آواز سنو تو ((اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ)) پڑھو ، کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے ، جب (رات کے وقت) لوگوں کی آمد و رفت ختم ہو جائے تو تم (گھروں سے) نکلنا کم کرو ، کیونکہ اللہ عزوجل رات کے وقت اپنی مخلوق میں سے جو چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے ، اور دروازے بند رکھو اور ان پر اللہ کا نام لو ، کیونکہ جب دروازہ بند کر دیا جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو شیطان اسے نہیں کھولتا ، برتن ڈھانپو اور خالی برتن الٹا کر کے رکھو اور مشکیزوں کے منہ بند رکھو ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک چوہیا بتی کھینچتے ہوئے آئی اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس چٹائی پر رکھ دیا ، جس پر آپ تشریف فرما تھے ، اور اس نے درہم برابر چٹائی جلا دی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم سونے لگو تو اپنے چراغ گل کر دیا کرو کیونکہ شیطان اس طرح کی کسی چیز کی اس طرح کے فعل پر راہنمائی کرتا ہے تو وہ تمہیں جلا دیتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔