انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے سالن کا سردار نمک ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب کھانا لگا دیا جائے تو اپنے جوتے اتار دیا کرو ، کیونکہ یہ تمہارے پاؤں کے لیے زیادہ آرام دہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ، رواہ الدارمی ۔
اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ جب ان کے پاس ثرید لایا جاتا تو آپ کے کہنے پر اسے ڈھانک دیا جاتا حتی کہ اس کا جوش حرارت ختم ہو جاتا ۔ اور وہ فرماتی تھیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ایسا کرنا زیادہ باعث برکت ہے ۔‘‘ دونوں روایتیں امام دارمی نے نقل کیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
نبیشہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی برتن میں کھا کر اسے اچھی طرح صاف کرتا ہے تو وہ برتن اس کے متعلق کہتا ہے : اللہ تمہیں جہنم سے آزادی عطا فرمائے جس طرح تم نے مجھے شیطان سے آزادی دی ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ خیر و بھلائی کی بات کرے ورنہ خاموش رہے ایک دوسری روایت میں : پڑوسی کے بجائے یہ الفاظ ہیں :’’ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ صلہ رحمی کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوشریح الکعبی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور وہ ایک دن ایک رات ہے ، اور ضیافت تین دن کے لیے ہے ، اس کے بعد صدقہ ہے ۔ اور مہمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں اس قدر قیام کرے کہ وہ اسے تنگی میں مبتلا کر دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ، آپ ہمیں بھیجتے ہیں ، اور ہم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے اس بارے میں جناب کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ ڈالو اور وہ مہمان نوازی کے مطابق تمہاری مہمان نوازی کریں تو اسے قبول کرو اور اگر وہ مہمان نوازی نہ کریں تو پھر مہمان نوازی کا جو حق ہے وہ ان سے وصول کر سکتے ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی روز یا کسی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کی ابوبکر اور عمر ؓ سے ملاقات ہو گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس وقت تمہیں کس چیز نے تمہارے گھروں سے نکالا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، بھوک نے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا جس نے تمہیں نکالا ہے ، چلو !‘‘ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل دیئے ۔ آپ ایک انصاری صحابی کے پاس تشریف لائے لیکن وہ گھر پر نہیں تھے ، جب اس کی اہلیہ نے آپ کو دیکھا تو کہا : خوش آمدید ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ فلاں کہاں ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، اتنے میں وہ انصاری بھی تشریف لے آئے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو پکار اٹھے : الحمد للہ ، مہمانی کے لحاظ سے آج کا دن میرے لیے بہت ہی باعث عزت ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ شخص گیا اور کھجوروں کا خوشہ لایا جس میں کچی ، پکی اور عمدہ ہر قسم کی کھجوریں تھیں ، اس نے عرض کیا ، آپ انہیں تناول فرمائیں ، اور خود اس نے چھری پکڑ لی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ دودھ دینے والی بکری سے احتیاط کرنا ۔‘‘ اس نے ان کی خاطر بکری ذبح کی ، انہوں نے اس بکری کا گوشت کھایا اور کھجوریں کھائیں اور پانی پیا ۔ جب وہ سیر و سیراب ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر و عمر ؓ سے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! روز قیامت تم سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، بھوک نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ، پھر تم ان نعمتوں سے مستفید ہو کر واپس جاؤ گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ ابن مسعود ؓ سے مروی حدیث :’’ انصار میں سے ایک آدمی تھا .... ۔’’ باب الولیمۃ‘‘ میں ذکر کی گئی ہے ۔
مقدام بن معدیکرب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کوئی مسلمان کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرے لیکن وہ حقِ ضیافت سے محروم رہے تو اس کی نصرت کرنا ہر مسلمان پر حق ہے حتی کہ وہ اس کے مال اور اس کی زراعت سے اس کا حقِ ضیافت لے لے ۔‘‘ دارمی ، ابوداؤد ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے :’’ جو کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرا لیکن انہوں نے اس کی ضیافت نہ کی تو وہ اپنے حقِ ضیافت کے برابر ان کے مال سے لے سکتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الدارمی و ابوداؤد ۔
ابواحوص جشمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ اگر میں کسی شخص کے پاس سے گزروں تو وہ میری ضیافت نہ کرے لیکن اس کے بعد وہ میرے پاس سے گزرے تو کیا میں اس کی ضیافت کروں یا اس کو بدلہ دوں (کہ ضیافت نہ کروں) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بلکہ ضیافت کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ یا ان کے علاوہ کسی صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعد بن عبادہ ؓ سے اجازت طلب کی اور فرمایا :’’ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ‘‘ سعد ؓ نے عرض کیا : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ، لیکن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آواز نہ سنائی حتی کہ آپ نے تین مرتبہ سلام کیا اور سعد ؓ نے بھی تین مرتبہ سلام کا جواب دیا لیکن آپ کو نہ سنایا ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے تو سعد ؓ ، آپ کے پیچھے گئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، آپ نے جتنی بار بھی سلام کیا میں نے اسے سنا اور آپ کو جواب عرض کیا لیکن میں نے آپ کو (اس لیے) نہیں سنایا کہ میں پسند کرتا تھا کہ آپ سے زیادہ سے زیادہ سلامتی اور برکت حاصل کر سکوں ، پھر وہ گھر تشریف لائے تو انہوں نے آپ کی خدمت میں منقی پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھایا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ نیکوکار تمہارا کھانا کھاتے رہیں ، فرشتے تم پر رحمتیں بھیجیں اور روزہ دار تمہارے ہاں افطار کرتے رہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابوسعید ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کے مثل ہے جو اپنے کھونٹے کے ساتھ بندھا ہوا ہے دوڑتا پھرتا ہے لیکن اپنے کھونٹے کی طرف ہی لوٹ آتا ہے ، اور مومن بھول جاتا ہے (غلطی کر بیٹھتا ہے) اور پھر ایمان کی طرف پلٹ آتا ہے ، تم اپنا کھانا متقی لوگوں کو کھلاؤ اور مومنوں کے ساتھ بھلائی کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عبداللہ بن بُسر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک برتن تھا جسے چار آدمی اٹھاتے تھے ، اسے غراء کہا جاتا تھا ، جب وہ چاشت کا وقت ہونے پر نماز چاشت پڑھ لیتے تو وہ برتن لایا جاتا اور اس میں ثرید تیار کیا جاتا ، پھر صحابہ کرام اس کے گرد جمع ہو جاتے ، جب وہ زیادہ ہو جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو زانوں ہو کر بیٹھ جاتے ، کسی اعرابی نے کہا : یہ کس طرح بیٹھنا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے مجھے متواضع سخی بنایا ہے اور مجھے متکبر سرکش نہیں بنایا ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اس (برتن) کے اطراف سے کھاؤ اور اس کے وسط کو چھوڑ دو اس میں برکت عطا کی جائے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
وحشی بن حرب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ شاید کے تم الگ الگ کھاتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اپنا کھانا اجتماعی شکل میں کھایا کرو ، اللہ کا نام لیا کرو (اس طرح) اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابو عسیب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے میرے پاس سے گزرے تو مجھے آواز دی ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر آپ ابوبکر ؓ کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی آواز دی ، وہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ پھر آپ ، عمر ؓ کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی آواز دی ، وہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ چلتے گئے حتی کہ کسی انصاری صحابی کے باغ میں تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باغ کے مالک سے فرمایا :’’ ہمیں پکی ہوئی کھجوریں کھلاؤ ۔‘‘ وہ ایک خوشہ لائے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے کھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٹھنڈا پانی منگایا اور اسے نوش فرمایا ، پھر فرمایا :’’ روزِ قیامت تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے وہ خوشہ پکڑ کر زمین پر مارا حتی کہ وہ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بکھر گئیں ، پھر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا روزِ قیامت ہم سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، مگر تین چیزوں کے متعلق سوال نہیں ہو گا ، وہ کپڑا جس سے آدمی اپنا ستر ڈھانپتا ہے ، یا روٹی کا ٹکڑا جس سے وہ اپنی بھوک مٹاتا ہے ، یا وہ کمرہ جس میں وہ گرمی ، سردی میں رہائش رکھتا ہے ۔‘‘ احمد ، بیہقی نے شعب الایمان میں اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب دسترخوان لگا دیا جائے تو دسترخوان اٹھائے جانے تک کوئی شخص نہ اٹھے ، اور جب تک کھانے میں شریک تمام افراد فارغ نہ ہو جائیں تب تک کوئی شخص کھانے سے اپنا ہاتھ نہ روکے خواہ وہ سیر ہو جائے اور اگر اسے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو عذر پیش کر دینا چاہیے ، ورنہ اس طرح اس کے ساتھ والے کو شرمندگی ہو گی اور وہ کھانے کی ضرورت کے باوجود اپنا ہاتھ روک لے گا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ساتھ کھانا کھاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے آخر پر کھانے سے فارغ ہوتے تھے ۔ بیہقی نے شعب الایمان میں مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے وہ ہمیں عنایت فرما دیا ، ہم نے عرض کیا ، ہمیں کھانے کی چاہت نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بھوک اور جھوٹ جمع نہ کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اکٹھے کھایا کرو ، الگ الگ مت کھاؤ ، کیونکہ برکت جماعت کے ساتھ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی کا پنے مہمان کے ساتھ گھر کے دروازے تک جانا مسنون ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔