Back to Mishkat Al-Masabih

Foods

كتاب الأطعمة

Chapter 20

Hadith 4219
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ لَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے ہاتھ پر چکنائی لگی ہو اور وہ اسے دھوئے بغیر سو جائے پھر کوئی چیز اسے کاٹ لے تو وہ شخص اپنے آپ کو ہی ملامت کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 4220
sahih
وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّرِيدُ مِنَ الْخُبْزِ والثريدُ منَ الحَيسِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روٹی اور حیس (کھجور ، پنیر اور گھی) سے تیار شدہ ثرید بہت مرغوب تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4221
sahih
وَعَن أبي أُسَيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
Urdu

ابو اسید انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زیتون کا تیل کھاؤ اور بدن پر لگاؤ کیونکہ وہ مبارک درخت سے ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 4222
sahih
وَعَن أم هَانِئ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَعِنْدَكِ شَيْءٌ» قُلْتُ: لَا إِلَّا خُبْزٌ يَابِسٌ وَخَلٌّ فَقَالَ: «هَاتِي مَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أَدَمٍ فِيهِ خَلٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
Urdu

ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، میرے پاس صرف خشک روٹی اور سرکہ ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لے آؤ ، جس گھر میں سرکہ ہو وہ سالن سے خالی نہیں ہوتا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4223
sahih
وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً فَقَالَ: «هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ» وَأَكَلَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

یوسف بن عبداللہ بن سلام ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ نے جو کی روٹی کا ٹکڑا لیا ، اس پر کھجور رکھی اور فرمایا :’’ یہ اس کا سالن ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے تناول فرمایا ۔ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4224
sahih
وَعَن سعدٍ قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيِيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي وَقَالَ: «إِنَّكَ رجلٌ مفْؤودٌ ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رجل يتطبب فليأخذ سبع تمرات منم عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں شدید بیمار ہو گیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا جس سے میں نے اپنے دل پر اس کی ٹھنڈک محسوس کی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم تو دل کے مریض ہو ، تم حارث بن کلدہ ثقفی کے پاس جاؤ کیونکہ وہ طبیب آدمی ہے ۔ وہ مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں لے کر انہیں گھٹلیوں سمیت کوٹ ڈالے ، پھر وہ تجھے کھلا دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4225
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: وَيَقُولُ: «يَكْسِرُ حَرَّ هَذَا بِبَرْدِ هَذَا وَبَرْدَ هَذَا بِحَرِّ هَذَا» . وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھجوروں کے ساتھ تربوز کھایا کرتے تھے ۔ ترمذی ۔ امام ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ اس کی حرارت اس کی ٹھنڈک سے کم ہو جاتی اور اس کی ٹھنڈک اس کی حرارت سے کم ہو جاتی ہے ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 4226
sahih
وَعَن أَنَسٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ وَيُخْرِجُ السُّوسَ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پرانی کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ انہیں چیر کر ان میں سے کیڑے نکالنے لگے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4227
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبُنَّةٍ فِي تَبُوكَ فَدَعَا بالسكين فسمَّى وقطَعَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ تبوک کے موقع پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پنیر کا ٹکڑا پیش کیا گیا ، آپ نے چھری منگائی ، اللہ کا نام لیا اور اسے کاٹا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4228
sahih
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّمْنِ وَالْجُبْنِ وَالْفِرَاءِ فَقَالَ: «الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وموقوفٌ على الأصحِّ
Urdu

سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گھی ، پنیر اور رنگے ہوئے چمڑے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے جس چیز کو اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے وہ حلال ہے اور جسے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے وہ حرام ہے ، اور اس نے جس چیز کے متعلق سکوت اختیار کیا تو وہ ایسی چیز کے زمرے میں ہے جس سے درگزر فرمایا ۔‘‘ ابن ماجہ ، ترمذی ۔ اور امام ترمذی ؒ کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الترمذی ۔

Hadith 4229
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي خُبزةً بيضاءَ منْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ فَقَالَ: «فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟» قَالَ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ قَالَ: «ارْفَعْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيث مُنكر
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس گندم کے سفید آٹے کی روٹی ہو جو گھی اور دودھ سے گوندھ کر تیار کی گئی ہو ‘‘ صحابہ میں سے ایک آدمی اٹھا اور وہ اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لے آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ (گھی) کس چیز میں تھا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : سانڈھے کی جلد سے بنے ہوئے برتن میں تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے لے جاؤ ۔‘‘ ابوداؤد ، ابن ماجہ ، اور ابوداؤد نے فرمایا : یہ حدیث منکر ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 4230
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچا لہسن کھانے سے منع فرمایا ہے مگر پکا ہوا (کھانے میں کچھ حرج نہیں) اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 4231
sahih
وَعَن أبي زيادٍ قَالَ: سُئلتْ عائشةُ عَنِ الْبَصَلِ فَقَالَتْ: إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامُ فِيهِ بصل. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابوزیاد بیان کرتے ہیں ، عائشہ ؓ سے پیاز کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو آخری کھانا تناول فرمایا اس میں پیاز تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4232
sahih
وَعَن ابْنيْ بُسرٍ السُّلَمِيَّين قَالَا: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا وَكَانَ يُحِبُّ الزبدَ والتمرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

بسر کے دونوں بیٹوں سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کے سامنے مکھن اور کھجور پیش کیا ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکھن اور کھجور پسند فرمایا کرتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4233
sahih
وَعَنْ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: أُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيرَة من الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ فَخَبَطْتُ بِيَدِي فِي نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى يَدِيَ الْيُمْنَى ثُمَّ قَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ» . ثُمَّ أَتَيْنَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ التَّمْرِ فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطبقِ فَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ» ثُمَّ أَتَيْنَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمسح بَلل كَفَّيْهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَالَ: «يَا عِكْرَاشُ هَذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
Urdu

عکراش بن ذؤیب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہمارے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور بوٹیاں تھیں ، میں اس کے اطراف میں ہاتھ مار رہا تھا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے سامنے سے تناول فرما رہے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑا ، پھر فرمایا :’’ عکراش ! ایک جگہ سے کھاؤ کیونکہ کھانا ایک ہی طرح کا ہے ۔‘‘ پھر ہمارے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجوریں تھیں ، میں اپنے سامنے سے کھانے لگا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دست مبارک پورے طباق میں گھوم رہا تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عکراش ! جہاں سے چاہو کھاؤ کیونکہ وہ ایک قسم کی نہیں ہیں ۔‘‘ پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اپنے ہاتھوں کی نمی اپنے چہرے ، بازوؤں اور سر پر مل لی ۔ اور فرمایا :’’ عکراش ! یہ آگ سے پکی ہوئی چیز کا وضو ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4234
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فصُنعَ ثمَّ أَمر فَحَسَوْا مِنْهُ وَكَانَ يَقُولُ: «إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادُ الحزين ويسرو عَن فؤاد السقيم كَمَا تسروا إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل خانہ میں سے کسی کو بخار ہو جاتا تو آپ جو کا حریرہ بنانے کا حکم فرماتے ، جب وہ بنایا جاتا تو آپ انہیں حکم فرماتے اسے گھونٹ گھونٹ پیئو ، نیز آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ یہ غم زدہ شخص کو قوت بخشتا ہے اور مریض کے دل کو فرحت بخشتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی خاتون پانی کے ذریعے اپنے چہرے سے میل دور کرتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4235
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وماؤُها شفاءٌ للعينِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عجوہ جنت سے ہے اور اس میں زہر سے شفا ہے ، اور کھمبی مَن (من و سلویٰ) سے ہے ، اور اس کا پانی آنکھ کے لیے باعثِ شفا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4236
sahih
عَن المغيرةِ بن شعبةَ قَالَ: ضِفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ فَقَالَ: «مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ؟» قَالَ: وَكَانَ شارِبُه وَفَاء فَقَالَ لي: «أُقْصُّه عَلَى سِوَاكٍ؟ أَوْ قُصَّهُ عَلَى سِوَاكٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک رات رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں مہمان تھا آپ نے ایک پہلو (ران) کے متعلق حکم فرمایا تو اسے بھونا گیا ، پھر آپ نے چھری لی اور اس کے ساتھ اس سے میرے لیے کاٹنے لگے ، اتنے میں بلال ؓ آپ کو نماز کے لیے اطلاع دینے آئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری پھینک دی اور فرمایا :’’ اسے کیا ہوا اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں ۔‘‘ مغیرہ ؓ نے کہا : میری مونچھیں لمبی تھیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں مسواک پر رکھ کر انہیں کاٹ دوں ۔‘‘ یا فرمایا :’’ تم خود مسواک پر رکھ کر انہیں کاٹ لو ۔‘‘ سندہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4237
sahih
وَعَن حُذيفةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ يَدَهُ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسمُ اللَّهِ عليهِ وإِنَّه جَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَجَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا» . زَادَ فِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ ذَكَرَ اسمَ اللَّهِ وأكَلَ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی کھانے میں شریک ہوتے تو ہم کھانے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے جب تک رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شروع نہیں فرماتے تھے اور آپ اپنا ہاتھ بڑھاتے تھے ، ایک مرتبہ ہم آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھانے میں شریک ہوئے تو ایک بچی آئی گویا اسے دھکیلا جا رہا ہے ، اس نے کھانے میں اپنا ہاتھ رکھنا چاہا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ہاتھ سے پکڑ لیا ، پھر ایک دیہاتی آیا وہ بھی اسی طرح تھا جیسے اسے دھکیلا جا رہا ہو آپ نے اسے بھی ہاتھ سے پکڑ لیا ، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شیطان اس کھانے پر ، جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے ، دسترس حاصل کر لیتا ہے ، وہ اس بچی کو لے کر آیا تا کہ وہ اس کے ذریعے دسترس حاصل کر سکے ، لیکن میں نے اسے ہاتھ سے پکڑ لیا ، پھر وہ اس دیہاتی کو لایا تا کہ اس کے ذریعے دسترس حاصل کر سکے ، لیکن میں نے اسے بھی ہاتھ سے پکڑ لیا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بے شک اس (شیطان) کا ہاتھ ، اس (بچی) کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۔‘‘ اور ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کا نام لیا اور کھایا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 4238
sahih
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ غُلَامًا فَأَلْقَى بَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرًا فَأَكَلَ الْغُلَامُ فَأَكْثَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ كَثْرَةَ الْأَكْلِ شُؤْمٌ» . وَأَمَرَ بِرَدِّهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک غلام خریدنا چاہا تو آپ نے اس کے سامنے کھجوریں رکھیں ، اس غلام نے بہت زیادہ کھجوریں کھا لیں تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک زیادہ کھانا بے برکتی ہے ۔‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے واپس کرنے کا حکم فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔