امام بیہقی نے اسے ابوہریرہ ؓ اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے کہا : اس کی سند میں ضعف ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس گھر میں کھانا کھلایا جائے اس میں خیر و برکت اس تیزی سے داخل ہوتی ہے ، جس تیزی کے ساتھ چھری اونٹ کی کوہان کو کاٹتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
فجیع عامری ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ، ہمارے لیے مردہ جانور کی کون سی چیز حلال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا کھانا کیا ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : ہم شام اور صبح کے وقت دودھ کا ایک پیالہ پیتے ہیں ، ابو نعیم کا بیان ہے کہ عقبہ نے مجھے وضاحت سے بتلایا کہ ایک پیالہ صبح ، ایک پیالہ شام کو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے باپ کی قسم ! یہ تو پھر بھوک ہے ۔‘‘ آپ نے اس حال میں ان کے لیے مردار کو حلال قرار دیا ۔ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابو واقدلیثی ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم ایسی سرزمین پر ہوتے ہیں جہاں ہم بھوک کا شکار ہو جاتے ہیں تو ہمارے لیے مردار کھانا کب حلال ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم صبح یا شام کھانے کے لیے کوئی ترکاری نہ پاؤ ، تب اس حالت میں تم مردار کھا سکتے ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پینے کے دوران تین سانس لیا کرتے تھے ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور امام مسلم ؒ نے ایک روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے :’’ یہ (تین سانس لینا) زیادہ پیاس بجھاتا ہے ، صحت افزا ہے اور زیادہ باعث ہضم ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے پینے سے منع فرمایا ہے ۔ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشکیزوں کے منہ موڑ کر ان سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے ۔ اور ایک روایت میں اضافہ نقل کیا ہے : مشکیزوں کا منہ موڑنا یہ ہے کہ اس کا دہانہ اُلٹا کر پھر ان سے پیا جائے ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو کر پیئے ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہو کر نہ پیئے ، تم میں سے جو شخص بھول جائے تو وہ قے کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ڈول میں آبِ زم زم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر نوش فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نمازِ ظہر ادا کی پھر لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے وہ کوفہ کے چبوترے پر بیٹھ گئے حتی کہ نماز عصر کا وقت ہو گیا ، پھر پانی لایا گیا تو انہوں نے پانی پیا ، اپنا چہرا اور ہاتھ دھوئے ، اور راوی نے ذکر کیا ، آپ نے اپنا سر اور دونوں پاؤں دھوئے ، پھر کھڑے ہوئے اور بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا ، پھر فرمایا : لوگ کھڑے ہو کر پینا ناپسند کرتے ہیں ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کیا جیسے میں نے کیا ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری صحابی کے پاس تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ آپ کے ایک ساتھی بھی تھے ، آپ نے سلام کیا تو اس آدمی نے سلام کا جواب دیا جبکہ آدمی باغ کو پانی لگا رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تیرے پاس رات کا باسی پانی مشکیزے میں ہے تو ٹھیک ورنہ ہم تالاب سے منہ لگا کر پی لیتے ہیں ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا ، میرے پاس رات کا باسی پانی ہے ، وہ سائبان کی طرف گیا ، پیالے میں پانی ڈالا پھر اس پر گھر میں پلی ہوئی بکری کا دودھ دھویا (اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا) تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا ، وہ آدمی دوبارہ لایا تو اس آدمی نے پیا ، جو کہ آپ کے ساتھ تھا ۔ رواہ البخاری ۔
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیلتا ہے ۔‘‘ بخاری مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ بے شک جو شخص چاندی اور سونے کے برتن میں کھاتا اور پیتا ہے ۔‘‘
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ باریک اور موٹا ریشمی کپڑا مت زیب تن کرو اور سونے چاندی کے برتن میں پیو اور نہ ان کی پلیٹوں میں کھاؤ ، کیونکہ وہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے گھر میں پلی ہوئی بکری کا دودھ دھویا گیا اور پھر اس کے ساتھ انس ؓ کے گھر کے کنویں کا پانی ملایا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں وہ پیالہ پیش کیا گیا تو آپ نے اسے نوش فرمایا ، آپ کے بائیں طرف ابوبکر ؓ تھے اور آپ کے دائیں طرف ایک اعرابی تھا ، عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ابوبکر کو دیں ، لیکن آپ نے اس اعرابی کو عطا فرمایا جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں طرف تھا ، پھر فرمایا :’’ دایاں تو دایاں ہی ہے ۔‘‘ ایک روایت میں ہے :’’ دائیں طرف والوں کو ، دائیں طرف والوں کو ، سنو ! دائیں طرف والوں کو مقدم رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا تو آپ نے اس سے نوش فرمایا ، آپ کے دائیں طرف ایک چھوٹا سا لڑکا تھا جبکہ عمر رسیدہ لوگ آپ کے بائیں طرف تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لڑکے ! کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں یہ پیالہ عمر رسیدہ اشخاص کو دے دوں ؟‘‘ اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں آپ کی بچی ہوئی چیز اپنے علاوہ کسی کو دینا پسند نہیں کرتا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ اسے ہی عطا فرمایا ۔ متفق علیہ ۔ ہم ابوقتادہ ؓ سے مروی حدیث ان شاء اللہ تعالیٰ باب المعجزات میں ذکر کریں گے ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چلتے پھرتے اور کھڑے ہو کر بھی کھا پی لیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی اور بیٹھ کر بھی پی لیا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اونٹ کی طرح ایک ہی گھونٹ میں نہ پیو بلکہ دو اور تین گھونٹوں میں پیو اور جب تم پیو تو اللہ کا نام لو اور جب تم برتن منہ سے ہٹاؤ تو الحمد للہ کہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔