Back to Mishkat Al-Masabih

Supplications

كتاب الدعوات

Chapter 9

Hadith 2403
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بناصيتهِ اللهُمَّ أَنْت تكشِفُ المغرمَ والمأْثمَ اللهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لیٹتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تیرے عزت والے چہرے اور تیرے کامل کلمات کے ذریعے ہر اس چیز کے شر سے ، جس کی پیشانی تو نے تھام رکھی ہے ، پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! تو ہی قرض اور گناہ دور کرنے والا ہے ، اے اللہ ! تیرے لشکر کو شکست نہیں دی جا سکتی ، تیرا وعدہ خلاف نہیں ہوتا ، کسی تونگر شخص کی تونگری تیرے ہاں کام نہیں آ سکتی ، تو ہی اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2404
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِله إِلا هوَ الحيَّ القيومَ وأتوبُ إِليهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ أَوْ عَدَدَ رَمْلِ عَالَجٍ أَوْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ أَوْ عَدَدَ أَيَّامِ الدُّنْيَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے بستر پر آئے اور تین مرتبہ یہ دعا پڑھے : میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ زندہ ، قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ تو اللہ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں یا وادی عالج کی ریت کے ذرات کی تعداد یا درختوں کے پتوں یا دنیا کے ایام کے برابر ہوں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 2405
sahih
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَا من مُسْلِمٍ يَأْخُذُ مَضْجَعَهُ بِقِرَاءَةِ سُورَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكًا فَلَا يَقْرَبُهُ شَيْءٌ يُؤْذِيهِ حَتَّى يَهُبَّ مَتَى هَبَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان لیٹتے وقت قرآن مجید کی کوئی سورت تلاوت کرتا ہے تو اللہ اس پر ایک فرشتہ مامور فرما دیتا ہے تو پھر اس کے بیدار ہونے تک کوئی موذی چیز اس کے قریب نہیں جاتی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 2406
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَلَا وَهُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا ويكبِّرهُ عَشراً» قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ قَالَ: «فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ فِي اللِّسَان وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ وَإِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ يُسَبِّحُهُ وَيُكَبِّرُهُ وَيَحْمَدُهُ مِائَةً فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ سَيِّئَةٍ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ لَا نُحْصِيهَا؟ قَالَ: يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صِلَاتِهِ فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَنْفَتِلَ فَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَفْعَلَ وَيَأْتِيهِ فِي مَضْجَعِهِ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «خَصْلَتَانِ أَوْ خَلَّتَانِ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ» . وَكَذَا فِي رِوَايَتِهِ بَعْدَ قَوْلِهِ: «وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ» قَالَ: «وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ» وَيَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَيُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ . وَفِي أَكْثَرِ نُسَخِ المصابيح عَن: عبد الله بن عمر
Urdu

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جو کوئی مسلمان ان کی حفاظت کرتا ہے وہ جنت میں داخل ہو گا ، سن لو ! وہ بہت آسان ہیں ۔ لیکن انہیں بجا لانے والے قلیل ہیں ، ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ کہنا ، دس مرتبہ الحمدللہ کہنا اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہنا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے ان کی گرہ لگا رہے تھے ، فرمایا :’’ یہ (پانچوں نمازوں میں) زبان پر ایک سو پچاس ہیں جبکہ میزان میں پندرہ سو ہیں ۔ اور جب وہ لیٹتے وقت سبحان اللہ ، اللہ اکبر اور الحمدللہ کی سو مرتبہ گنتی کرے تو یہ زبان پر سو ہے جبکہ ترازو میں ہزار ، تم میں سے روزانہ اڑھائی ہزار گنا کون کرتا ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، ہم ان (دو خصلتوں) کی کیسے حفاظت نہیں کریں گے ؟ فرمایا :’’ تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے ۔ شیطان اس کے پاس آتا ہے تو کہتا ہے : فلاں چیز یاد کرو ، فلاں چیز یاد کرو حتیٰ کہ وہ شخص نماز سے فارغ ہو جاتا ہے ، شاید کہ وہ ایسے نہ کر سکے اور وہ اس کے لیٹنے کے وقت بھی اس کے پاس آتا ہے اور وہ اسے سلاتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ سو جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا :’’ دو خصلتیں ایسی ہیں جن کی مسلمان بندہ حفاظت نہیں کرتا ۔‘‘ اور اسی طرح اس کی روایت میں ہے :’’ میزان میں پندرہ سو ہے ۔‘‘ کہنے کے بعد فرمایا : جب وہ اپنے بستر پر آئے تو وہ چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہتا ہے ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہتا ہے اور تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہتا ہے ۔‘‘ اور مصابیح کے اکثر نسخوں میں عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 2407
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَنَّامٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: من قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ يَوْمِهِ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي فَقَدْ أَدَّى شُكْرَ ليلته . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عبداللہ بن غنام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص صبح کے وقت یہ دعا کرتا ہے :’’ اے اللہ ! جو نعمت مجھے یا تیری مخلوق میں سے کسی کو ملی ہے وہ صرف تجھ اکیلے ہی کی طرف سے ملی ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ، ہر قسم کی تعریف اور شکر تیرے ہی لئے ہے ۔‘‘ وہ شخص اس روز کا شکر ادا کر دیتا ہے ، اور جو شخص شام کے وقت یہی دعا کرتا ہے تو وہ اس شام کا شکر ادا کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2408
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى مُنْزِلَ التوراةِ والإِنجيل والقرآنِ أعوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَاغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوَاهُ مُسلم مَعَ اخْتِلَاف يسير
Urdu

ابوہریرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ اپنے بستر پر تشریف لاتے تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! زمین و آسمان کے رب ! اور ہر چیز کے رب ! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے ! تورات ، انجیل اور قرآن نازل کرنے والے ! میں ہر شر والی چیز کے شر سے جس کی تو پیشانی پکڑے ہوئے ہے پناہ چاہتا ہوں ، تو ہی اول ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں ، تو ہی غالب ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ، تو ہی باطن ہے اور تجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ، مجھ سے قرض دور کر دے ، اور مجھے فقر سے غنی کر دے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام مسلم نے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ و مسلم ۔

Hadith 2409
sahih
وَعَن أبي الْأَزْهَر الأيماري أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «بسمِ اللَّهِ وضعْتُ جَنْبي للَّهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَاخْسَأْ شَيْطَانِي وَفُكَّ رِهَانِي وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابوازہرا نماری ؓ روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنے بستر پر لیٹ جاتے تو یہ دعا پڑھتے تھے :’’ اللہ کے نام کے ساتھ ، میں نے اپنا پہلو اللہ کے لئے (بستر پر) لگایا ، اے اللہ میرے گناہ معاف کر دے ، میرے شیطان کو ذلیل کر دے ، مجھے تمام حقوق سے آزاد کر دے اور مجھے مجلس اعلیٰ میں شامل فرما ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2410
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے کفایت کیا ، مجھے مسکن عطا کیا ، مجھے کھلایا پلایا ، جس نے مجھ پر ان گنت انعام و احسان کیا ، جس نے مجھے عطا فرمایا تو بہت عطا فرمایا ، ہر حال میں اللہ کا شکر ہے ، اے اللہ ! ہر چیز کے رب اور اس کے مالک و بادشاہ اور ہر چیز کے معبود میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2411
sahih
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: شَكَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُول الله مَا أَنَام من اللَّيْلَ مِنَ الْأَرَقِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيّ والحكَمُ بن ظُهيرٍ الرَّاوِي قد ترَكَ حديثَهُ بعضُ أهل الحَدِيث
Urdu

بُریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، خالد بن ولید ؓ نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کرتے ہوئے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں بے خوابی کی وجہ سے پوری رات نہیں سوتا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم اپنے بستر پر آؤ تو یہ دعا پڑھو :’’ اے اللہ ! ساتوں آسمانوں اور جن چیزوں پر انہوں نے سایہ کیا ہے ان کے رب ! زمینوں اور جن چیزوں کو انہوں نے اٹھا رکھا ہے ان کے رب ! شیاطین اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے رب ! اپنی ساری مخلوق کے شر سے ، یہ کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی کرے ، مجھے پناہ دینے والا ہو جا ، تجھ سے پناہ لینے والا غالب آتا ہے ، تیری ثنا و تعریف بہت زیادہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا اس روایت کی اسناد قوی نہیں ۔ حکم بن ظہیر راوی کی احادیث کو بعض محدثین نے ترک کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 2412
sahih
وَعَن أَبِي مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ فَتْحَهُ وَنَصْرَهُ وَنُورَهُ وَبِرْكَتَهُ وَهُدَاهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَمِنْ شَرِّ مَا بَعْدَهُ ثُمَّ إِذَا أَمْسَى فَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابومالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو یہ دعا کرے :’’ ہم نے اور تمام جہانوں کے پروردگار کے ملک نے صبح کی ، اے اللہ ! میں تجھ سے اس دن کی فتح و نصرت ، اس کی روشنی و برکت اور اس کی ہدایت کا سوال کرتا ہوں ، اور اس دن کے اور اس کے بعد والے دنوں کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ پھر جب شام کرے تو بھی اسی طرح دعا پڑھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2413
sahih
وَعَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ أَسْمَعُكَ تَقُولُ كُلَّ غَدَاةٍ: «اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» تُكَرِّرُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِين تمسي فَقَالَ: يَا بُنَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أستن بسننه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عبدالرحمن بن ابوبکرہ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنے والد سے کہا : ابا جان ! میں آپ کو ہر روز یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں :’’ اے اللہ ! مجھے میرے بدن میں عافیت دے ، اے اللہ ! مجھے میرے کانوں میں عافیت دے ، اے اللہ ! مجھے میری آنکھوں میں عافیت دے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ آپ صبح و شام تین تین مرتبہ انہیں پڑھتے ہیں ۔ تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کلمات کے ذریعے دعا کرتے ہوئے سنا ہے لہذا میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کی اقتدا کرنا چاہتا ہوں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2414
sahih
وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْكِبْرِيَاءُ وَالْعَظَمَةُ لِلَّهِ وَالْخَلْقُ وَالْأَمْرُ وَاللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَمَا سَكَنَ فِيهِمَا لِلَّهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوَّلَ هَذَا النَّهَارِ صَلَاحًا وَأَوْسَطَهُ نَجَاحًا وَآخِرَهُ فَلَاحًا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» . ذَكَرَهُ النَّوَوِيُّ فِي كِتَابِ الْأَذْكَارِ بِرِوَايَةِ ابْنِ السّني
Urdu

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کرتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ ہم نے اور اللہ کے ملک نے صبح کی ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے ، کبریائی و عظمت اللہ کے لئے ہے ، خلق و امر ، لیل و نہار اور جو چیزیں ان میں ہیں اللہ کے لئے ہیں ، اے اللہ ! اس دن کے اول حصے کو صلاح بنا دے ، اس کے اوسط کو نجاح اور آخر کو فلاح بنا دے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔‘‘ امام نووی نے ابن السنی کی روایت سے اسے کتاب الاذکار میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔

Hadith 2415
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: «أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ
Urdu

عبدالرحمن بن ابزی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب صبح کرتے تو یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ ہم نے فطرتِ اسلام ، کلمہ اخلاص ، اپنے نبی محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دین اور اپنے باپ ابراہیم جو کہ یکسو تھے ، مشرکین میں سے نہیں تھے ، کی ملت پر صبح کی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الدارمی ۔

Hadith 2416
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی اہلیہ سے زن و شو قائم کرنے سےپہلے یہ دعا پڑھ لے :’’ اللہ کے نام کے ساتھ ، اے اللہ ! ہمیں اور جو (اولاد) تو ہمیں عطا فرمائے اسے شیطان سے بچا ۔‘‘ تو اگر اس وقت ان کے لئے بچہ مقدر کر دیا گیا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2417
sahih
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيم»
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کرب و تکلیف کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اللہ عظیم و حلیم کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور عرش عظیم کے رب کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، آسمانوں کے ، زمین کے اور عرش کریم کے رب کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2418
sahih
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ وَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» . فَقَالُوا لِلرَّجُلِ: لَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنِّي لستُ بمجنون
Urdu

سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں گالی گلوچ کرنے لگے جبکہ ہم آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اور ان میں سے ایک سخت غصے کی حالت میں دوسرے کو گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر وہ اس کلمہ کو پڑھ لے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا ، وہ کلمہ یہ ہے : میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ صحابہ ؓ نے اس آدمی سے کہا : کیا تم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات نہیں سن رہے ؟ اس نے کہا : میں دیوانہ نہیں ہوں ! متفق علیہ ۔

Hadith 2419
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَسَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانا»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل طلب کرو کیونکہ اس نے فرشتہ دیکھا ہے ، اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو کیونکہ اس نے شیطان دیکھا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2420
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى السَّفَرِ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ) اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ لَنَا بُعْدَهُ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ والأهلِ . وإِذا رجعَ قالَهنَّ وزادَ فيهِنَّ: «آيِبُونَ تائِبُونَ عابِدُونَ لربِّنا حامدون» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر پر روانہ ہونے کے لئے اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے تو آپ تین بار اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے :’’ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اسے مسخر کر دیا جبکہ ہم اس پر طاقت و قدرت نہیں رکھتے تھے ۔ اے اللہ ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی و تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند فرمائے ، اے اللہ ! یہ سفر ہم پر آسان کر دے اور اس کی دوری (لمبی مسافت کو ہمارے لئے) لپیٹ (کر قریب) دے ، اے اللہ ! اس سفر میں تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں نائب ہے ، اے اللہ ! میں سفر کی شدت و مشقت ، تکلیف دہ منظر اور اہل و مال میں بری واپسی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس کے ساتھ یہ اضافہ فرماتے :’’ واپس لوٹنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں ، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2421
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْل وَالْمَال. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عبداللہ بن سرجس ؓ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر کرتے تو آپ سفر کی شدت و مشقت ، بری واپسی ، نفع کے بعد نقصان ، مظلوم کی بددعا اور اہل و مال میں برے منظر سے پناہ طلب کیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2422
sahih
وَعَن خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يرحل من منزله ذَلِك . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

خولہ بنت حکیم ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص کسی جگہ پڑاؤ ڈالے اور یہ دعا پڑھے :’’ میں نے اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے ، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ تو جب تک وہ اس جگہ قیام پذیر رہتا ہے کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچاتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔