انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے :’’ اللہ کے نام کے ساتھ ، میں نے اللہ پر توکل کیا ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے ۔‘‘ تو تب اسے کہا جاتا ہے : تیری راہنمائی کر دی گئی ، تجھے کفایت کر دی گئی اور تو بچا لیا گیا ۔ شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے ، اور دوسرا شیطان کہتا ہے : تمہارا ایسے آدمی پر کیسے زور چل سکتا ہے جس کی راہنمائی کر دی گئی ، اسے کفایت کر دی گئی اور اسے بچا لیا گیا ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے ((لہ الشیطان)) تک روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی اپنے گھر داخل ہو تو یہ دعا پڑھے :’’ اے اللہ ! میں داخل ہونے کی جگہ اور نکلنے کی جگہ کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اللہ کے نام کے ساتھ ہم داخل ہوئے اور اپنے رب اللہ پر ہم نے توکل کیا ، پھر وہ اپنے اہل خانہ کو سلام کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب شادی کے موقع پر کسی شخص کو دعا دیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ اللہ تیرے لئے برکت کرے اور تم دونوں پر برکت کرے اور تم دونوں کو خیر پر اکٹھا کرے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے یا کوئی غلام خریدے تو وہ یوں دعا کرے :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیرو بھلائی اور اس چیز کی خیرو بھلائی کا جس پر تو نے اسے پیدا کیا ، سوال کرتا ہوں ، اور میں اس کے شر سے اور اس چیز کے شر سے جس پر تو نے اسے پیدا کیا تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اور جب اونٹ خریدے تو اس کی کوہان کی چوٹی پکڑ کر یہی دعا کرے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں عورت اور خادم کے بارے میں ہے :’’ پھر اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر برکت کی دعا کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مغموم شخص کی دعا ہے :’’ اے اللہ ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں ، مجھے لمحہ بھر کے لیے بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا ، میرے تمام حالات درست کر دے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی شخص نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر رکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسا کلام نہ بتاؤں کہ جب تم وہ کلام پڑھو تو اللہ تمہارے غم دور کر دے اور تیری طرف سے تیرا قرض ادا کر دے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، کیوں نہیں ! ضرور بتائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صبح و شام یہ دعا پڑھا کرو :’’ اے اللہ ! میں فکر و غم سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، میں عجز و کاہلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، میں بخل و بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، میں قرض کے زیادہ ہونے اور لوگوں کے غلبہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ وہ شخص بیان کرتا ہے : میں نے یہ وظیفہ کیا تو اللہ نے میرا غم دور کر دیا اور میرا قرض ادا کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک مکاتب ان کے پاس آیا تو اس نے کہا : میں اپنی آزادی کے لئے طے شدہ رقم ادا کرنے سے عاجز ہوں لہذا آپ ؓ میری مدد فرمائیں ، انہوں نے فرمایا : کیا میں تجھے چند کلمات نہ سکھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سکھائے تھے ، اگر تجھ پر کسی بڑے پہاڑ کے برابر قرض ہو گا تو اللہ اسے تجھ سے ادا کر دے گا ، کہو :’’ اے اللہ ! تو اپنی حلال کردہ چیز کے ذریعے اپنی حرام کردہ چیز سے مجھے کافی ہو جا اور اپنے فضل کے ذریعے اپنے علاوہ مجھے سب سے بے نیاز کر دے ۔‘‘ ہم جابر ؓ سے مروی حدیث ((اِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْکِلَابِ)) باب تغطیۃ الاوانی میں ان شاء اللہ ذکر کریں گے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو آپ چند کلمات پڑھتے ، میں نے ان کلمات کے بارے میں آپ سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تو اچھی باتیں کی گئیں تو یہ کلمات روز قیامت تک ان پر بطور مہر ہوں گے ، اور اگر کوئی بُری باتیں کی گئیں تو یہ کلمات ان کے لئے کفارہ ہوں گے :’’ اے اللہ ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں ، انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاند دیکھتے تو تین بار فرماتے :’’ خیرو بھلائی کے چاند ! میں اس ذات پر ایمان لایا جس نے مجھے پیدا فرمایا ۔‘‘ پھر فرماتے :’’ ہر قسم کی تعریف اس ذات کے لئے ہے جو فلاں مہینے کو لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بہت زیادہ غم کا شکار ہو تو وہ یہ دعا کرے :’’ اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں ، تیرے بندے اور تیری لونڈی کا بیٹا ہوں ، میں تیرے قبضہ و قدرت کے تحت ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، تیرا حکم میرے بارے میں نافذ ہونے والا ہے ، تیرا میرے متعلق فیصلہ عدل پر مبنی ہے ، میں تیرے ہر اس نام سے ، جو تو نے اپنے لئے رکھا ، یا تو نے اسے اپنی کتاب میں نازل کیا ، یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ، یا تو نے اپنے بندوں کو الہام کیا ، یا تو نے اپنے پاس غیب کے خزانے میں اسے مخصوص کر لیا ، تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار ، میرے فکر و غم کا علاج بنا دے ۔‘‘ جو شخص یہ کلمات پڑھتا ہے تو اللہ اس کے غم دور کر دیتا ہے اور حزن و غم کو فرحت و مسرت میں تبدیل کر دیتا ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم اوپر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچتی تو آپ یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے زندہ قائم رہنے والے ! میں تیری رحمت کے ذریعے مدد طلب کرتا ہوں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور محفوظ نہیں ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ خندق کے موقع پر ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا کوئی کلمہ ہے جو ہم پڑھیں اب تو کلیجے منہ کو آ رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں : اے اللہ ! ہماری پردے کی چیزوں پر پردہ ڈال دے اور ہمارے خوف کو امن عطا فرما ۔‘‘ اللہ نے آندھی کے ذریعے آپ کے دشمن کا رخ بدل دیا ، اللہ نے آندھی کے ذریعے شکست دی ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
بُریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بازار تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اللہ کے نام کے ساتھ ، اے اللہ ! میں ، اس بازار اور جو اس میں ہے اس کی خیرو بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اس کے اور اس میں موجود شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں اس میں کوئی گھاٹے کا سودا کروں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آزمائش کی شدت ، بدبختی کی آمد ، تقدیر کی زحمت اور دشمنوں کی خوشی سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں فکر و غم ، عاجزی اور سستی ، بزدلی اور بخل ، قرضے کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں سستی ، بڑھاپے ، تاوان اور گناہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میں آگ کے عذاب ، آگ کے فتنہ ، قبر کے فتنے ، قبر کے عذاب ، تونگری کے فتنہ کے شر سے ، فقر کے فتنہ کے شر سے اور مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے ، میرے دل کو ایسے صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے ، اور میرے درمیان اور میرے گناہوں کے درمیان ایسی دوری پیدا فرما دے جیسے تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری پیدا فرمائی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں عاجزی اور سستی ، بزدلی اور بخل ، بڑھاپے اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما ، اس کا تزکیہ فرما اور تو بہترین تزکیہ کرنے والا ہے ، تو اس کا کارساز و مددگار ہے ، اے اللہ ! میں ایسے علم سے جو نفع مند نہ ہو ، ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ، ایسے نفس سے جو بھرتا نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تیری نعمت کے زائل ہو جانے ، تیری عافیت کے بدل جانے ، تیرے عذاب کے ناگہاں آ جانے سے اور تیری تمام ناراضیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں نے جو عمل کیا اس کے شر سے اور جو عمل نہیں کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔