ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! گزشتہ رات بچھو کے کاٹنے سے مجھے بہت تکلیف ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! اگر تم نے شام کے وقت یوں کہا ہوتا :’’ میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے ، اس چیز کے شر سے ، جو اس نے پیدا فرمائی ، پناہ چاہتا ہوں تو وہ تمہیں نقصان نہ پہنچاتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور سحری کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ سننے والے نے سن لیا کہ ہم نے اللہ کی حمد بیان کی ، اس کی نعمتیں ہم پر اچھی ہیں ، ہمارے رب ! ہماری اعانت فرما ، اور ہم پر مزید احسانات فرما ، ہم جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے واپس تشریف لاتے تو آپ ہر بلند جگہ پر تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے ، پھر فرماتے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، واپس لوٹنے والے ، توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، سجدہ کرنے والے ، اپنے رب کی حمد بیان کرنے والے ہیں ، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ۔ اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر مشرکین کے خلاف دعا کی تو عرض کیا :’’ اے اللہ ! کتاب اتارنے والے ، جلد حساب لینے والے ، اے اللہ ! لشکروں کو شکست دے ، اے اللہ ! انہیں خوب شکست دے اور انہیں ہلا کر رکھ دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن بُسر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے تو ہم نے کھانا اور کھجور ، گھی اور پنیر سے تیار کردہ حلوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے اس سے تناول فرمایا ، پھر کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ انہیں کھاتے اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان پھینکتے جاتے ، آپ انگشت شہادت اور درمیانی انگلی اکٹھی کرتے تھے ، اور ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ گٹھلیاں اپنی دونوں انگلیوں ، انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی پشت پر پھینک رہے تھے ، پھر پانی پیش کیا گیا تو آپ نے اسے نوش فرمایا ، پھر میرے والد نے آپ کی سواری کی لگام پکڑتے ہوئے عرض کیا : ہمارے لئے اللہ سے دعا فرمائیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! تو نے جو کچھ انہیں عطا کیا ہے اس میں برکت فرما ، ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چاند دیکھتے تو آپ یہ دعا پڑھتے تھے :’’ اے اللہ ! تو اسے امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما ، (اے چاند !) میرا اور تیرا رب اللہ ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عمر بن خطاب ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مصیبت زدہ شخص کو دیکھ کر یہ دعا پڑھتا ہے :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے اس چیز سے عافیت دی جس میں تجھے مبتلا کیا ہے ، اور اس نے مجھے اپنی بہت سی مخلوق پر بہت زیادہ فضیلت دی ۔‘‘ تو اسے وہ مصیبت و بیماری نہیں پہنچے گی خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن ماجہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے اسے روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور عمرو بن دینار راوی قوی نہیں ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے بادشاہت اور حمد ہے ، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ، وہ زندہ ہے کبھی مرے گا نہیں ، ہر قسم کی خیرو بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘ تو اللہ اس کے لئے دس لاکھ نیکیاں لکھ لیتا ہے ، اس کی دس لاکھ خطائیں معاف کر دیتا ہے ، اس کے دس لاکھ درجات بلند کر دیتا ہے اور اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور شرح السنہ میں ’’ جو شخص بازار میں جائے ‘‘ کے الفاظ کے بجائے ’’ جس نے کسی بڑے تجارتی مرکز میں یہ دعا پڑھی ۔‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و شرح السنہ ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے اتمام نعمت کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کون سی چیز اتمام نعمت ہے ؟‘‘ اس نے کہا : دعا جس کے ذریعے میں خیر (مال کثیر) کی امید کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اتمام نعمت تو جنت میں داخلہ اور جہنم سے خلاصی ہے ۔‘‘ اور آپ نے کسی دوسرے آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے جلال و اکرام والے !‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری دعا قبول ہو گئی ، اب سوال کرو ۔‘‘ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اللہ سے مصیبت مانگی ہے ، اس سے عافیت کا سوال کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اسکی بے مقصد اور بے ہودہ باتیں زیادہ ہو جائیں اور پھر وہ اٹھنے سے پہلے یہ دعا :’’ اے اللہ ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ پڑھتا ہے تو اس کی اس مجلس میں ہونے والی خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و البیھقی ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ ان کی سواری کے لئے ایک جانور لایا گیا ، جب انہوں نے رکاب میں پاؤں رکھا تو کہا :’’ بسم اللہ ۔‘‘ جب اس کی پشت پر براجمان ہو گئے تو کہا :’’ الحمدللہ ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا جبکہ ہم تو اس کی قدرت نہیں رکھتے تھے ، اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں ۔‘‘ پھر انہوں نے تین مرتبہ ’’ الحمدللہ ‘‘ تین مرتبہ ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہا ، پھر کہا :’’ پاک ہے تو ، میں نے ہی اپنی جان پر ظلم کیا ، پس مجھے بخش دے ، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا ۔‘‘ پھر وہ مسکرائے ، ان سے پوچھا گیا ، امیرالمومنین ! آپ کس چیز سے مسکرائے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا جس طرح میں نے کیا ، پھر آپ مسکرائے تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کس چیز سے مسکرائے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تیرا رب اپنے اس بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے :’’ میرے رب ! میرے گناہ معاف کر دے ۔‘‘ رب تعالیٰ فرماتا ہے :’’ وہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی اور گناہ معاف نہیں کرتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی شخص کو الوداع کرتے تو آپ اس کا ہاتھ تھامے رکھتے حتیٰ کہ وہ آدمی خود نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ چھوڑ دیتا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھتے :’’ میں تمہارے دین ، تمہاری امانت اور تمہارے آخری عمل کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ تیرے عملوں کے خاتمے کو ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، اور ان دونوں (ابوداؤد ، ابن ماجہ) کی روایت میں ((وَآخِرَ عَمَلِکَ)) کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عبداللہ خطمی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لشکر روانہ کرنے کا ارادہ فرماتے تو یوں دعا فرماتے :’’ میں تمہارے دین ، تمہاری امانتوں اور تمہارے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں ، آپ مجھے زاد راہ عطا فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تمہیں تقویٰ کا زاد راہ عطا فرمائے ۔‘‘ اس نے عرض کیا : کچھ زیادہ فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ تمہارے گناہ بخش دے ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، زیادہ فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم جہاں بھی ہو اللہ تمہارے لئے خیرو بھلائی آسان فرما دے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں سفر کرنا چاہتا ہوں ، لہذا آپ مجھے کوئی وصیت فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے تقویٰ اور ہر اونچی جگہ پر اللہ اکبر پڑھنے کا التزام کرنا ۔‘‘ جب وہ آدمی واپس چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اس کی دوری و مسافت کو لپیٹ (کر سمیٹ) دے اور سفر کو اس کے لئے آسان کر دے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں ہوتے اور رات ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ زمین ! میرا اور تیرا رب اللہ ہے ، میں تیرے شر سے ، جو کچھ تجھ میں ہے اس کے شر سے ، جو تجھ میں پیدا کیا گیا ہے اس کے شر سے اور جو چیز تیری سطح پر چل رہی ہے اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔ میں شیر ، کالے ناگ ، سانپ و بچھو کے شر سے اور بستی کے باسیوں اور والد (شیطان) اور ذریت (اولاد شیطان) کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد کے لئے نکلتے تو یوں دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! تو ہی میرا بازو ہے ، تو ہی میرا مددگار ہے ، میں تیری ہی توفیق سے دشمن کی چالوں کو رد کرتا ہوں ، تیری ہی مدد سے (دشمن پر) حملہ کرتا ہوں اور تیری توفیق و نصرت سے قتال کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی قوم سے اندیشہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا فرماتے تھے :’’ اے اللہ ہم ان کے مقابلے میں تجھے کرتے ہیں ، اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو دعا فرماتے :’’ اللہ کے نام کے ساتھ ، میں نے اللہ پر توکل کیا ، اے اللہ ! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں کہ ہم (صراط مستقیم سے) پھسل جائیں یا گمراہ ہو جائیں ، یا ہم ظلم کریں یا ہم پر ظلم کیا جائے ، یا ہم کسی سے جہالت سے پیش آئیں یا ہمارے ساتھ جہالت سے پیش آیا جائے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے ، ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی میرے گھر سے تشریف لے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کر دیا جاؤں ، یا میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے ، یا میں جہالت سے پیش آؤں یا مجھ سے جہالت سے پیش آیا جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔