Back to Mishkat Al-Masabih

Supplications

كتاب الدعوات

Chapter 9

Hadith 2243
sahih
وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا فَإِذَا فَرَغْتُمْ فامسحوا بهَا وُجُوهكُم» . رَوَاهُ دَاوُد
Urdu

ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ اللہ سے سیدھے ہاتھوں سے دعا کیا کرو ، الٹے ہاتھوں سے دعا نہ کیا کرو ، اور جب تم (دعا سے) فارغ ہو جاؤ تو ان (ہاتھوں) کو اپنے چہروں پر پھیر لیا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۴۸۵) ۔

Hadith 2244
sahih
وَعَن سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعوات الْكَبِير
Urdu

سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا رب بڑا حیادار ، سخی داتا ہے ، جب بندہ اس کے سامنے دستِ سوال دراز کرتا ہے تو اسے خالی لوٹاتے ہوئے اسے حیا آتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۵۶) و ابوداؤد (۱۴۷۷) و البیہقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۷ ح ۱۸۰ ، ۱۸۱) و ابن ماجہ (۳۸۶۵) ۔

Hadith 2245
sahih
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ لَمْ يَحُطَّهُمَا حَتَّى يمسح بهما وَجهه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا کرتے تھے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں چہرے پر پھیر کر نیچے گرایا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۳۸۵) و الادب المفرد (۶۰۹) ۔

Hadith 2246
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جامع دعائیں کرنا پسند کرتے تھے اور ان کے علاوہ باقی دعائیں چھوڑ دیا کرتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤ (۱۴۸۲) وصحیحہ ابن حبان (۲۴۱۲) و الحاکم (۱ / ۵۳۹) ۔

Hadith 2247
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کسی شخص کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۹۸۰) و ابوداؤد (۱۵۳۵) ۔

Hadith 2248
sahih
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ فَأَذِنَ لِي وَقَالَ: «أَشْرِكْنَا يَا أُخَيُّ فِي دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا» . فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ بِهَا الدُّنْيَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَانْتَهَتْ رِوَايَتُهُ عِنْدَ قَوْلِهِ «لَا تنسنا»
Urdu

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عمرہ کے لیے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اجازت عطا کی اور فرمایا :’’ پیارے بھائی ! ہمیں اپنی دعا میں یاد رکھنا اور ہمیں بھول نہ جانا ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسی بات فرمائی جس کے بدلے میں پوری دنیا کا حصول میرے لیے باعث مسرت نہیں ۔ ابوداؤد ، ترمذی ۔ اور امام ترمذی کی روایت ((ولا تنسنا)) کے الفاظ پر ختم ہو جاتی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۴۹۸) و الترمذی (۳۵۶۲) ۔

Hadith 2249
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بعد حِين . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تین آدمیوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے ، روزہ دار جب وہ افطار کے وقت دعا کرتا ہے ، عادل بادشاہ اور دعائے مظلوم ، اللہ اس (دعا) کو بادلوں کے اوپر اٹھا لیتا ہے ، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور رب فرماتا ہے : میری عزت کی قسم ! میں ضرور تمہاری مدد کروں گا خواہ کچھ دیر سے ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۹۸) ۔ و ابن ماجہ (۱۷۵۳) و صحیحہ ابن خزیمہ (۱۹۰۱) و ابن حبان (۲۴۰۷ ، ۲۴۰۸) ۔

Hadith 2250
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٍ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تین دعائیں ایسی ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ، والد کی دعا ، مسافر کی دعا اور مظلوم کی دعا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی (۱۹۰۵) و ابوداؤ (۱۵۳۶) و ابن ماجہ (۳۸۶۲) و صحیحہ ابن حبان (۲۴۰۶) ۔

Hadith 2251
sahih
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا حَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَ نَعله إِذا انْقَطع»
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے ہر شخص کو اپنی تمام ضرورتیں اپنے رب سے مانگنی چاہئیں حتیٰ کہ جب اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کے بارے میں بھی اسی سے سوال کرنا چاہیے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۸ / ۶۰۴) ۔

Hadith 2252
sahih
زَادَ فِي رِوَايَةٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ مُرْسَلًا «حَتَّى يَسْأَلَهُ الْمِلْحَ وَحَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَهُ إِذَا انْقَطع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

اور ثابت بُنانی سے مروی مرسل روایت میں اتنا اضافہ ہے :’’ حتیٰ کہ وہ نمک بھی اس سے مانگے اور حتیٰ کہ جب اس کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اس سے مانگے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی (۹ / ۳۶۰۴) ۔

Hadith 2253
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرى بياضُ إبطَيْهِ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دورانِ دعا اپنے ہاتھ اس قدر بلند فرماتے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۸ ح ۱۸۲) و مسلم و احمد (۳ /۲۵۹)۔

Hadith 2254
sahih
وَعَن سهل بن سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ يَجْعَل أصبعيه حذاء مَنْكِبَيْه وَيَدْعُو
Urdu

سہل بن سعد ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ہاتھوں کی انگلیاں کندھوں کے برابر کیا کرتے تھے اور دعا فرماتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۴۰ ح ۱۸۵) و صححہ الحاکم (۱ / ۵۳۵ ، ۵۳۶ ح ۱۹۶۴) و ابوداؤد (۱۱۰۵) ۔

Hadith 2255
sahih
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرفع يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَة فِي «الدَّعْوَات الْكَبِير»
Urdu

سائب بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دعا کیا کرتے تھے تو آپ ہاتھ اٹھاتے اور پھر اپنے ہاتھ چہرے پر پھیر لیتے تھے ۔ امام بیہقی نے تینوں احادیث ’’ الدعوات الکبیر ‘‘ میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۹ ، ۱۴۰ ح ۱۸۱) و ابوداؤد (۱۴۹۲) ۔

Hadith 2256
sahih
وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: الْمَسْأَلَةُ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ أَوْ نَحْوِهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ وَالِابْتِهَالُ أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: والابتهالُ هَكَذَا وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُورَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُ
Urdu

عکرمہ ؒ ابن عباس ؓ سے بیان کرتے ہیں ، دعا (کا ادب) یہ ہے کہ تم اپنے ہاتھ کندھوں یا تقریباً کندھوں کے برابر اٹھاؤ ، طلبِ مغفرت (کا ادب) یہ ہے کہ تم ایک انگلی (انگشت شہادت) کے ساتھ اشارہ کرو اور تضرع عاجزی یہ ہے تم اپنے دونوں ہاتھ دراز کر دو ۔ اور ایک روایت میں ہے ، فرمایا : تضرع و عاجزی اس طرح ہے اور انہوں نے اپنے ہاتھ اس قدر بلند کیے اور ہاتھوں کی پشت کو اپنے چہرے کی طرف کیا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۴۸۹ ، ۱۴۹۰) ۔

Hadith 2257
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ يَقُولُ: إِنَّ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ بِدْعَةٌ مَا زَادَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا يَعْنِي إِلَى الصَّدْر رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے : تمہارا (دعا کے لیے) ہاتھ اٹھانا بدعت ہے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس (یعنی) سینے سے اوپر ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۶۱ ح ۵۲۶۴) ۔

Hadith 2258
sahih
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا فَدَعَا لَهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيح
Urdu

ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کو یاد فرماتے تو اس کے لیے دعا فرماتے اور پہلے اپنے لیے کرتے ۔ ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۳۸۵) و ابوداؤد (۳۹۸۴)

Hadith 2259
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عنهُ من السُّوءِ مثلَها قَالُوا: إِذنْ نُكثرُ قَالَ: «الله أَكثر» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو تو اللہ اس وجہ سے تین چیزوں میں سے کوئی ایک اسے عطا فرما دیتا ہے : یا تو اس کی دعا فوراً قبول فرما لیتا ہے یا اسے اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر لیتا ہے یا پھر اس کی مثل تکلیف اس سے دور فرما دیتا ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا ، تب تو ہم زیادہ دعائیں کریں گے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ (دعائیں قبول کرنے میں) بہت زیادہ ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۳ / ۱۸ ح ۱۱۱۵۰) و عبد بن حمید (۹۳۷) و البخاری فی الادب المفرد (۷۱۰) و صححہ الحاکم (۱ / ۴۶۳) ۔

Hadith 2260
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ حَتَّى يَنْتَصِرَ وَدَعْوَةُ الْحَاجِّ حَتَّى يَصْدُرَ وَدَعْوَةُ الْمُجَاهِدِ حَتَّى يَقْعُدَ وَدَعْوَةُ الْمَرِيضِ حَتَّى يَبْرَأَ وَدَعْوَةُ الْأَخِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ . ثُمَّ قَالَ: «وَأَسْرَعُ هَذِهِ الدَّعْوَات إِجَابَة دَعْوَة الْأَخ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ
Urdu

ابن عباس نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پانچ دعائیں ہیں جو قبول کی جاتی ہیں : مظلوم کی دعا حتی کہ وہ انتقام لے لے ، حاجی کی دعا حتیٰ کہ وہ واپس آ جائے ، مجاہد کی دعا حتیٰ کہ وہ (جہاد سے) فارغ ہو جائے ۔ مریض کی دعا حتیٰ کہ وہ صحت یاب ہو جائے اور بھائی کی دعا جو وہ اپنے (مسلمان) بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کرتا ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ ان دعاؤں میں بھائی کی غائبانہ دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (لم اجدہ و رواہ فی شعب الایمان : ۱۱۲۵ ، نسخۃ محققۃ : ۱۰۸۷) ۔

Hadith 2261
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فَيْمَنْ عِنْدَهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کچھ لوگ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں ، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ اپنے ہاں فرشتوں کے پاس اس کا تذکرہ فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2262
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ: جُمْدَانُ فَقَالَ: «سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ» . قَالُوا: وَمَا الْمُفَرِّدُونَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «الذَّاكِرُونَ الله كثيرا وَالذَّاكِرَات» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ کی شاہ راہ پر محو سفر تھے ، آپ جُمدان نامی پہاڑ کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ چلتے جاؤ یہ جمدان ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ مفردون سبقت لے گئے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مفردون کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔