اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ (اس کی مثال ایسے ہے) جیسے خشک درختوں میں ایک سرسبز درخت ہو ۔ اور غافلین میں اللہ کا ذکر کرنے والا تاریک کمرے میں چراغ کی طرح ہے ۔ غافلین میں اللہ کا ذکر کرنے والے کو اللہ اس کی زندگی میں اس کا جنت میں مقام دکھا دیتا ہے ، اور اللہ ، غافلین میں اس کا ذکر کرنے والے کے فصیح و اعجم کی تعداد کے برابر گناہ بخش دیتا ہے ۔‘‘ فصیح سے انسان اور اعجم سے حیوان مراد ہیں ۔ ضعیف جذا ، رواہ رزین (انظر الحدیث السابق : ۲۲۸۲) ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، ابن آدم کے تمام اعمال میں سے ، عذاب الہیٰ سے اسے سب سے زیادہ نجات دلانے والا عمل ، اللہ کا ذکر ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ مالک (۱ / ۲۱۱ ح ۴۹۳) و الترمذی (۳۳۷) و ابن ماجہ (۳۷۹۰)
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں ، جب وہ میرا ذکر کرتا ہے اور میرے (ذکر کے) ساتھ اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ البخاری (التوحید باب ۴۳ قبل ح ۷۵۲۴ معلقًا) و احمد (۲ / ۵۴۰) و ابن ماجہ (۲۷۹۲) و صححہ ابن حبان (۲۳۱۶) و الحاکم (۱ / ۴۹۶) ۔
عبداللہ بن عمر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ ہر چیز کے لئے ایک صفائی کرنے والی چیز ہوتی ہے ، جبکہ دلوں کی صفائی کرنے والی چیز اللہ کا ذکر ہے ، اور اللہ کے ذکر سے بڑھ کر ، اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی چیز نہیں ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، اگرچہ وہ اپنی تلوار اس قدر چلائے کہ وہ ٹوٹ جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۵ ح ۱۹) و شعب الایمان (۵۲۲ ، ۵۱۹) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ، ایک کم سو نام ہیں ، جو انہیں یاد کر لے وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ وتر (یکتا) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۱۰ ، ۷۳۹۲) و مسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ایک کم سو نام ہیں ، جو انہیں یاد کر لے وہ جنت میں داخل ہو گا : وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ بہت مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، وہ بادشاہ ہے ، وہ پاک ومنزّہ ، سلامتی دینے والا ، امن دینے والا ، نگہبان ، غالب ، جبار و متکبر ، پیدا کرنے والا ، عدم سے وجود میں لانے والا ، تصویر کشی کرنے والا ، بخشنے والا ، تمام مخلوق پر غالب ، عطا کرنے والا ، رزق دینے والا ، فیصلہ کرنے والا ، جاننے والا ، تنگی دور کرنے والا ، فراخی کرنے والا ، اوپر کرنے والا ، عزت دینے والا ، ذلت دینے والا ، دیکھنے والا ، حکم دینے والا ، عدل کرنے والا ، باریک بین ، خبر رکھنے والا ، عظمت والا ، بخشنے والا ، قدر دان ، بلند ، بڑا ، حفاظت کرنے والا ، نگرانی کرنے والا ، کفایت کرنے والا ، ، شان و بزرگی والا ، سخی داتا ، حفاظت کرنے والا ، دعائیں قبول کرنے والا ، کشائش والا ، حکمت والا ، محبت رکھنے والا ، شان و شوکت والا ، مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنے والا ، حاضر ، ثابت ، کارساز ، قوی ، طاقت والا ، مددگار ، قابل ستائش ، احاطہ کرنے والا ، پہلی بار پیدا کرنے والا ، دوبارہ پیدا کرنے والا ، مارنے والا ، زندگی بخشنے والا ، قائم رہنے اور قائم رکھنے والا ، پالنے والا ، بزرگی والا ، یکتا ، تنہا ، بے نیاز ، قادر و مقتدر ، آگے کرنے والا ، پیچھے کرنے والا ، اول ، آخر ، ظاہر ، باطن ، تمام اشیاء کا مالک ، بلند تر ، احسان کرنے والا ، توبہ قبول کرنے والا ، انتقام لینے والا ، درگزر کرنے والا ، شفقت کرنے والا ، شہنشاہ ، عظمت و اکرام والا ، روز قیامت جمع کرنے والا ، غنی بے نیاز کرنے والا ، روکنے والا ، نقصان پہنچانے والا ، نفع دینے والا ، مجسّم نور ، راہ دکھانے والا ، بے مثال ، پیدا کرنے والا ، باقی رکھنے والا ، وارث ، راہنمائی کرنے والا ، بہت برداشت کرنے والا ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی الداعات الکبیر ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۰۷) و البیھقی فی الدعوات الکبیر (۲ / ۳۰ ، ۳۱ ح ۲۶۲) ۔
بُریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اللہ ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، یکتا ، بے نیاز ہے ، جس کی اولاد ہے نہ والدین ، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے ۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص نے اللہ سے اس کے اسم اعظم کے توسل سے دعا کی ہے ، جب اس سے اس (یعنی اسم اعظم) کے ساتھ سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا فرماتا ہے ، اور جب اس کے ساتھ دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول فرماتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۴۷۵) و ابوداؤد (۱۴۹۳) ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا ، اس نے کہا : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر قسم کی حمد تیرے ہی لئے ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں (بندوں پر) رحم کرنے والا ، نعمتیں عطا کرنے والا ، زمین و آسمان کو عدم سے وجود بخشنے والا ، اے عزت و اکرام والے ! اے زندہ اور قائم رکھنے والے ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔ (یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس (بندے) نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے ، اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۵۴۴) و ابوداؤد (۱۴۹۵) و النسائی (۳ / ۵۲ ح ۱۳۰۱) و ابن ماجہ (۳۸۵۸) ۔
اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے ، (وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَاحِدٌ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ) اور سورہ آل عمران کے آغاز کی آیت (الٓمٓ 0 اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۴۷۸) و ابوداؤد (۱۴۹۶) و ابن ماجہ (۳۸۵۵) و الدارمی (۲ / ۴۵۰ ح ۲۳۹۲) ۔
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یونس ؑ جب مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ دعا کی تھی : (لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ) ’’ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو پاک ہے ، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا ۔‘‘ کوئی مسلمان شخص کسی معاملے میں ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۱ / ۱۷۰ ح ۱۴۶۲) و الترمذی (۳۵۰۵) ۔
بُریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں عشا کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تو ایک آدمی بلند آواز سے قراءت کر رہا تھا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ (آدمی) ریا کار ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ وہ تو (غفلت سے ذکر کی طرف) رجوع کرنے والا مومن شخص ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، اس وقت ابوموسیٰ اشعری ؓ بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غور سے ان کی قراءت سننے لگے ۔ پھر ابوموسیٰ ؓ بیٹھ کر دعا کرنے لگے تو انہوں نے کہا : اے اللہ ! میں تجھے گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، یکتا بے نیاز ہے ، جس نے کسی کو جنم دیا نہ اسے جنم دیا گیا ، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کے ساتھ سوال کیا ہے کہ جب اس سے اس (اسم) کے ساتھ سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے ، اور جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول فرماتا ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے آپ سے جو سنا ہے اس کے متعلق اسے بتا دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ‘‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات اسے بتا دی تو انہوں (ابوموسیٰ ؓ) نے مجھے فرمایا : آج سے تم میرے بھائی اور دوست ہو ، تم نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات بتائی ۔ صحیح ، رواہ رزین (لم اجدہ) و احمد (۵ / ۳۴۹ ح ۲۳۳۴۰) و ابوداؤد (۱۴۹۳ ، ۱۴۹۴) و ابن ماجہ (۳۸۵۷) و الترمذی (۳۴۷۵) ۔
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ چار کلمے ، سبحان اللہ ، الحمدللہ ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ، بہترین کلام ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ایک دوسری روایت میں :’’ اللہ کو چار کلمے انتہائی پسند ہیں ، سبحان اللہ ، الحمدللہ ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ، ان میں سے جسے بھی پہلے پڑھو وہ تمہارے لئے مضر نہیں ۔‘‘
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سُبْحَانَ اللہِ ، وَالْحَمْدُلِلہِ ، وَلَا اِلَٰہ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ ، پڑھ لینا مجھے پوری کائنات (کے مل جانے) سے زیادہ پسند ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دن میں سو مرتبہ ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ)) پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ، خواہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں ، معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۰۵) و مسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص صبح و شام سو مرتبہ ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ)) پڑھتا ہے تو قیامت کے دن اس سے کوئی شخص بہتر نہیں ہو گا بجز اس کے جس نے اس جتنا یا اس سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (لم اجدہ) و مسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو کلمے : ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَان اللہِ الْعَظِیْمِ)) زبان پر ہلکے ، میزان میں بھاری اور رحمن کو محبوب ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۶۸۲) و مسلم
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی روزانہ ہزار نیکی کمانے سے عاجز ہے ؟‘‘ تو آپ کی مجلس میں شریک کسی نے عرض کیا ، ہم میں سے کوئی ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سو مرتبہ ((سُبْحَانَ اللہِ)) کہنے سے اس کے لئے ہزار نیکی لکھی جاتی ہے یا اس کے ہزار گناہ مٹا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ مسلم ۔ اور انہی کی کتاب میں موسیٰ الجہنی کی تمام روایات میں ((اَوْیُحَطُّ)) ’’ یا مٹا دیے جاتے ہیں ‘‘ کے الفاظ ہیں ، ابوبکر برقانی نے فرمایا : اور اس حدیث کو شعبہ ، ابوعوانہ اور یحیی بن سعید قطان نے موسیٰ سے روایت کیا تو انہوں نے ((وْیُحَطُّ)) کے الفاظ روایت کیے ہیں یعنی الف کے بغیر ’’ اور مٹا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ کتاب الحمیدی میں بھی اسی طرح ہے ۔ رواہ مسلم ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا ، کون سا کلام افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے لئے منتخب کیا ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ)) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جویریہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر پڑھنے کے لئے صبح کے وقت ان کے پاس سے تشریف لے گئے جبکہ وہ اپنی جائے نماز پر تھیں ، پھر آپ چاشت کے وقت ان کے پاس تشریف لائے تو وہ وہیں بیٹھی ہوئیں تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آپ اسی حالت میں رہیں جس پر میں نے آپ کو چھوڑا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا ، جی ہاں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے آپ کے (پاس سے جانے کے) بعد تین کلمے چار مرتبہ پڑھے ہیں ، اگر ان کا ، آپ کے دن بھر کے کہے ہوئے کلمات کے ساتھ وزن کیا جائے تو وہ ان پر بھاری ہوں گے : ((سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ عَدَدَ خَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ ، وَزِنَۃَ عَرْشِہِ ، وَمِدَادَ کَلِمَاتِہِ)) پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ اپنی مخلوق کی تعداد ، اپنے نفس کی رضا ، اپنے عرش کے وزن اور اپنے کلمات کی روشنائی کے برابر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھتا ہے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے بادشاہت ہے ، اسی کے لئے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘ تو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے ، اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ اس کے سو گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، وہ پورا دن شام ہونے تک شیطان سے محفوظ رہے گا اور اس سے بہتر کوئی شخص نہیں آئے گا مگر وہ جس نے اس سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۰۳) و مسلم