ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ لوگ بلند آواز سے اللہ اکبر پڑھنے لگے ، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگو ! اپنے آپ پر آسانی کرو ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ تم تو سننے دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے ، اور جس ذات کو تم پکارتے ہو وہ تو تمہاری سواری کی گردن سے بھی تمہارے زیادہ قریب ہے ۔‘‘ ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں آپ کے پیچھے اپنے دل میں ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) پڑھ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کے متعلق بتاؤں ؟‘‘ میں نےعرض کیا ، کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) ’’ گناہ سے بچنا اورنیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۳۸۴) و مسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ((سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ)) پڑھتا ہے تو اس کے لئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۶۴) ۔
زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر صبح ایک اعلان کرنے والا (فرشتہ) اعلان کرتا ہے : منزہ و مقدس بادشاہ کی تسبیح بیان کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۶۹) ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سب سے افضل ذکر ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) اور افضل دعا ((اَلْحَمْدُلِلہِ)) ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۳۸۳) و ابن ماجہ (۳۸۰۰) و صححہ ابن حبان (۳۲۶ ، الاحسان : ۸۴۳) و الحاکم (۱ / ۴۹۸) ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ الحمد (اللہ کی تعریف کرنا) شکر کی چوٹی ہے ، جو بندہ اللہ کی حمد بیان نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۴۳۹۵) المصنف عبدالرزاق (۱۹۵۷۴) ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت سب سے پہلے ان لوگوں کو جنت کی طرف بلایا جائے گا جو خوشحالی اور تنگ حالی میں اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں بیان کی ہیں ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۴۳۷۳ ، ۴۴۸۳ ، ۴۴۸۴) و البغوی فی شرح السنہ (۵/ ۵۰ ح ۱۲۷۰) و الحاکم (۱ / ۵۰۲ ح ۱۸۵۱) ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ موسی ؑ نے عرض کیا ، پروردگار ! مجھے کوئی چیز سکھا دے جس کے ساتھ میں تیرا ذکر کیا کروں یا میں اس کے ساتھ تجھ سے دعا کیا کروں ۔ فرمایا : موسیٰ ! ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) پڑھا کرو ، انہوں نے عرض کیا : پروردگار ! تیرے سارے بندے اسے پڑھتے ہیں ، میں تو ایسی چیز چاہتا ہوں جو میرے ساتھ خاص ہو ۔ فرمایا : موسیٰ ! اگر ساتوں آسمان اور میرے سوا جہان میں بسنے والے اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) ان پر بھاری ہو گا ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ (۵ / ۵۴ ، ۵۵ ح ۱۲۷۳) و ابن حبان (۲۳۲۴) و الحاکم (۱ / ۵۲۸ ، ۱۳۶۲) ۔
ابوسعید ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ)) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق فرماتا ہے ، اور فرماتا ہے : میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں ۔ اور جب (بندہ) کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ تو اللہ فرماتا ہے : میرے اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا کوئی شریک نہیں ، اور جب وہ کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ہر قسم کی حمد و تعریف ہے ، تو اللہ فرماتا ہے : میرے سوا کوئی معبود نہیں ، بادشاہت اور حمد میرے ہی لئے ہے اور جب وہ کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے ، تو اللہ فرماتا ہے : میرے سوا کوئی معبود نہیں ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض میری ہی توفیق سے ہے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ جو شخص اپنی بیماری میں یہ کلمات پڑھے اور پھر وہ فوت ہو جائے تو اسے آگ نہیں چھوئے گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۳۰) و ابن ماجہ (۲۷۹۴) و النسائی فی الکبری (۹۸۶) ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس آئے ۔ اس کے سامنے کھجور کی گھٹلیاں یا کنکریاں پڑی ہوئی تھیں اور وہ ان پر تسبیح پڑھ رہی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس سے آسان تر یا افضل ہے ؟ ((وَ سُبْحَانَ اللہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ........ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ مِثْلَ ذَلِکَ)) اللہ کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو اس نے آسمان میں تخلیق فرمائیں ، اللہ کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو اس نے زمین میں پیدا فرمائیں ، اس کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو ان کے درمیان ہیں ، اور اللہ کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو وہ پیدا کرنے والا ہے ، اور اللہ کے لئے بڑائی ہے اسی مثل ، اللہ کے لئے حمد ہے اسی مثل ، ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ )) اسی مثل اور ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) اسی مثل ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۶۸) و ابوداؤد (۱۵۰۰) ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتےہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ سبحان اللہ کہتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے سو حج کیا ہو ، جو شخص سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام الحمدللہ کہتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اللہ کی راہ میں سو گھوڑے فراہم کیے ہوں ، جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) پڑھتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسماعیل ؑ کی اولاد سے سو غلام آزاد کیے ہوں اور جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ ((اَللہُ اَکْبَرُ)) کہتا ہے تو روز قیامت اس سے بڑھ کر کوئی افضل عمل لے کر حاضر نہیں ہو گا مگر وہ شخص جس نے اس کے مثل یا اس سے زیادہ (یہ وظیفہ) کیا ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۷۱) ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سبحان اللہ کہنا نصف میزان ہے جبکہ الحمدللہ کہنا اس کو بھر دیتا ہے ، اور ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) کسی حجاب یا رکاوٹ کے بغیر اللہ تک پہنچ جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند قوی نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۱۸ ، ۳۵۱۹)
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب کوئی بندہ کبیرہ گناہوں سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) کہتا ہے تو اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۹۰) ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ شب معراج ابراہیم ؑ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا :’’ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری طرف سے اپنی امت کو سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی ہے اور اس کا پانی شیریں ہے لیکن وہ ایک صاف میدان ہے ، اور ((سُبْحَانَ اللہِ وَ الْحَمْدُلِلہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَر)) کہنا اس میں درخت لگانا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث سند کے لحاظ سے حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۶۲) و احمد (۵ / ۴۱۸ ح ۲۳۹۴۸) ۔
یُسیرہ ؓ جو کہ مہاجرات میں سے تھیں بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا :’’ ((سُبْحَانَ اللہِ)) ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) اور ((سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسَ)) پڑھنے کا التزام (اہتمام) کرو اور انہیں انگلیوں کے پوروں پر شمار کرو کیونکہ (روز قیامت) ان سے پوچھا جائے گا اور وہ کلام کریں گے ، غافل نہ ہونا ورنہ تمہیں رحمت سے محروم کر دیا جائے گا ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۸۳) و ابوداؤد (۱۵۰۱)
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، مجھے کوئی کلام سکھائیں جسے میں پڑھا کروں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کہو ((لا الہ الا اللہ ...... العزیز الحکیم)) ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ کے لئے بہت زیادہ حمد ہے ، پاک ہے اللہ جہانوں کا پروردگار ، گناہوں سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ غالب حکمت والے کی توفیق ہی سے ممکن ہے ۔‘‘ اس اعرابی نے عرض کیا ، یہ کلمات تو میرے رب کے لئے ہوئے تو میرے لئے کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کہو : اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت نصیب فرما ، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے عافیت میں رکھ ۔‘‘راوی کو ((عافنی)) کے الفاظ میں شک ہے ۔ رواہ مسلم ۔
انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے پاس سے گزرے جس کے پتے خشک ہو چکے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اپنی لاٹھی ماری تو پتے گر پڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ((الْحَمْدَلِلہِ ، سُبْحَانَ اللہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ)) بندے کے گناہ گرا دیتاہے جیسے اس درخت کے پتے گررہے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۳۳) و احمد (۳ / ۱۵۲) و البخاری فی الادب المفرد (۶۳۴) ۔
مکحول ، ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ)) کثرت سے پڑھا کرو ، کیونکہ وہ جنت کاخزانہ ہے ۔‘‘ مکحول نے فرمایا : جو شخص ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ وَلَا مَنْجَاءَ مِنَ اللہِ اِلَّا اِلَیْہِ)) پڑھتا ہے تو اللہ اس سے ستر قسم کی تکلیفیں دور فرما دیتا ہے اور ان میں سے سب سے کم فقر ہے ۔ ترمذی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : اس حدیث کی سند متصل نہیں ، مکحول نے ابوہریرہ ؓ سے نہیں سنا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۶۰۱) و ابن حبان (۲۳۳۸) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) ننانوے بیماریوں کی دوا ہے اور ان میں سے سب سے ہلکی بیماری غم ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۲۸ ح ۱۷۱) و صححہ الحاکم (۱ / ۵۴۲) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں ، جو کہ عرش کے نیچے جنت کا خزانہ ہے ، اور وہ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے اطاعت اختیار کر لی اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں روایتیں الدعوات الکبیر میں روایت کی ہیں ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۰۱ ح ۱۳۵) و احمد (۲ / ۲۹۸ ، ۳۶۳)و النسائی (۱۳ و الکبری : ۹۸۴۱) و صححہ الحاکم (۱ / ۲۱) و احمد ۲ / ۵۲۰) و النسائی (۳۵۸) و الحاکم ۱ ۵۱۷) و فتح الباری (۱۱ / ۵۰۱) ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ((سُبْحَانَ اللہِ)) کہنا مخلوق کی عبادت ہے ، ((اَلْحَمْدُلِلہِ)) کلمۂ شکر ہے ، ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) کلمہ اخلاص ہے ، ((اَللہُ اَکْبَرُ)) زمین و آسمان کے خلا کو بھر دیتا ہے ، اور جب بندہ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ)) پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس نے اطاعت اختیار کی اور اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیا ۔ رواہ رزین ، لم اجدہ و رواہ الحاکم (۱ / ۲۱) و احمد (۲ / ۲۹۸ ، ۳۶۳ ، ۳۳۵ ، ۳۵۵ ، ۴۰۳) ۔