Back to Mishkat Al-Masabih

Supplications

كتاب الدعوات

Chapter 9

Hadith 2363
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّائِبَ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ تَفَرَّدَ بِهِ النَّهْرَانَيُّ وَهُوَ مَجْهُولٌ. وَفِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) رَوَى عَنْهُ مَوْقُوفًا قَالَ: النَّدَمُ تَوْبَةٌ والتَّائبُ كمن لَا ذَنْبَ لَهُ
Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ۔‘‘ ابن ماجہ ، بیہقی فی شعب الایمان ، اور فرمایا : اس میں نہرانی کا تفرد ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔ جبکہ شرح السنہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے موقوف روایت ہے ، فرمایا : ندامت سے توبہ مراد ہے ، اور توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی ۔

Hadith 2364
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ عَرْشِهِ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي «. وَفِي رِوَايَةٍ» غَلَبَتْ غَضَبي
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس نے ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس عرش پر ہے ، کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ میرے غضب پر غالب آ گئی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2365
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ للَّهِ مائةَ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطُفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَة»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی سو رحمتیں ہیں ، ان میں سے ایک رحمت جنوں ، انسانوں ، حیوانوں اور زہریلے جانوروں میں اتار دی جس کے ذریعے وہ باہم شفقت اور رحم کرتے ہیں ، اسی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچے پر شفقت کرتا ہے ، جبکہ اللہ نے ننانوے رحمتیں اپنے پاس رکھی ہیں جن کے ذریعے وہ روز قیامت اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2366
sahih
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ سَلْمَانَ نَحْوُهُ وَفِي آخِرِهِ قَالَ: «فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَكْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَة»
Urdu

صحیح مسلم میں سلمان سے مروی روایت اسی طرح ہے ، اور اس کے آخر میں ہے ، فرمایا :’’ پس جب روز قیامت ہو گا تو وہ اس رحمت سے ان (ننانوے رحمتوں) کو مکمل (سو) فرمائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2367
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ وَلَوْ يُعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ من جنته أحد»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر مومن کو اللہ کے عذاب کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی اس کی جنت کی امید نہ رکھے ، اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کا پتہ چل جائے تو کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2368
sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تم سے قریب ہے اور جہنم بھی اسی طرح ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2369
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ لِأَهْلِهِ وَفِي رِوَايَةٍ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ اذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فو الله لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ لَهُ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کسی آدمی نے ، جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی ، اپنے اہل خانہ سے کہا ، جبکہ دوسری روایت میں ہے : کسی آدمی نے بہت گناہ کیے تھے ، پس جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی ، جب وہ فوت ہو جائے تو اسے جلا دینا ، پھر اس (راکھ) کے نصف حصے کو خشکی میں اور اس کے نصف کو سمندر میں بہا دینا ، اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے اس (مجھ) پر تنگی کی تو وہ اسے ایسا عذاب دے گا کہ اس نے تمام جہان والوں میں سے کسی کو ایسا عذاب نہیں دیا ہو گا ، پس جب وہ فوت ہو گیا تو انہوں نے اس کی وصیت کے مطابق عمل کیا ، پس اللہ نے سمندر کو حکم دیا تو اس نے اس حصے کو جو کہ اس کے اندر تھا ، جمع کر دیا ، اور خشکی (زمین) کو حکم دیا تو اس نے بھی اس حصے کو جو اس کے اندر تھا ، جمع کر دیا ، پھر اس (اللہ تعالیٰ) نے اس (آدمی) سے فرمایا : تم نے ایسے کیوں کیا ؟ اس نے عرض کیا : رب جی ! تیرے ڈر کی وجہ سے ، جبکہ تو جانتا ہے ، پس اس نے اسے معاف کر دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2370
sahih
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ قَدْ تَحَلَّبَ ثديُها تسْعَى إِذا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟» فَقُلْنَا: لَا وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لَا تَطْرَحَهُ فَقَالَ: «لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِها»
Urdu

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے ، ان قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کی چھاتی سے دودھ نکل رہا تھا ، وہ دوڑتی پھرتی تھی ، جب وہ قیدیوں میں کوئی بچہ پاتی تو اسے پکڑ کر اپنے پیٹ سے لگاتی اور اسے دودھ پلاتی ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا :’’ کیا تم گمان کر سکتے ہو یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، نہیں ، اگر وہ اسے نہ پھینکنے پر قادر ہو ، (تو وہ نہیں پھینکے گی) ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اپنے بندوں پر اس عورت سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنا یہ اپنے بچے پر مہربان ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2371
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ» قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَتِهِ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا واغْدُوا وروحوا وشيءٌ من الدُّلْجَةِ والقَصدَ القصدَ تبلغوا»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کسی شخص کے اعمال اسے نجات نہیں دلائیں گے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ بھی نہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اور میں بھی نہیں ، مگر یہ کہ اللہ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے ، دُرستی کے ساتھ عمل کرتے رہو ، میانہ روی اختیار کرو ، صبح و شام اور رات کے کچھ حصہ میں عبادت کرو ، اعتدال کا خیال رکھو ، اعتدال کا خیال رکھو ، اس طرح تم منزل پا لو گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2372
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ وَلَا يُجِيرُهُ مِنَ النَّارِ وَلَا أَنا إِلا برحمةِ الله» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں داخل کرا سکتا ہے نہ اسے جہنم سے بچا سکتا ہے اور میں بھی اللہ کی رحمت کے ساتھ (جنت میں جاؤں گا) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2373
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ كَانَ زَلَفَهَا وَكَانَ بَعْدَ الْقِصَاصِ: الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهَا . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب بندہ مسلمان ہو جاتا ہے اور اپنے اسلام کو بہتر بناتا ہے تو اللہ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے ، اور اس (اسلام قبول کرنے) کے بعد پھر بدلہ شروع ہو جاتا ہے ، نیکی کا بدلہ دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے ، جبکہ برائی کا بدلہ اس کے مثل ہوتا ہے الا یہ کہ اللہ اس سے درگزر فرمائے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2374
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الحسناتِ والسيِّئاتِ: فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لهُ عندَهُ حَسَنَة كَامِلَة فَإِن هم بعملها كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَمَنْ هَمَّ بسيئة فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِن هُوَ هم بعملها كتبهَا الله لَهُ سَيِّئَة وَاحِدَة
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے نیکیاں اور برائیاں لکھی ہیں ، جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اسے کیا نہیں تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے ، اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور اسے کر بھی لے تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں دس گنا سے سات سو گنا اور اس سے بھی بڑھا کر لکھ لیتا ہے ، اور جو شخص برائی کرنے کا ارادہ کرے لیکن اسے کرے نہیں تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں ایک کامل نیکی لکھ لیتا ہے ، لیکن اگر وہ اس (برائی) کا ارادہ کرے اور اسے کر گزرے تو اللہ اسے اس کے حق میں ایک ہی برائی لکھتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2375
sahih
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يعْمل السَّيئَة ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ ثُمَّ عَمِلَ أُخْرَى فَانْفَكَّتْ أُخْرَى حَتَّى تَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ» رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة
Urdu

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص گناہ کرتا ہے اور پھر نیک عمل کرتا ہے اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس پر تنگ زِرہ ہو جس نے اس کا گلا گھونٹ رکھا ہو ، پھر وہ کوئی نیک عمل کرتا ہے تو ایک کڑی کھل گئی ، پھر اس نے دوسری نیکی کی تو دوسری کڑی کھل گئی حتیٰ کہ وہ کھل کر زمین پر آ رہی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔

Hadith 2376
sahih
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُول: (ولِمنْ خافَ مقامَ رَبِّهِ جنَّتانِ) قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الثَّانِيَةَ: (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جنَّتان) فقلتُ الثانيةَ: وإِنْ زنى وسرق؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الثَّالِثَةَ: (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ) فَقُلْتُ الثَّالِثَةَ: وَإِنْ زَنَى وسرق؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أبي الدَّرْدَاء» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر پر وعظ و نصیحت کرتے ہوئے سنا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری مرتبہ فرمایا :’’ جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں ۔‘‘ میں نے دوسری مرتبہ عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا :’’ جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں ۔‘‘ تو میں نے بھی تیسری مرتبہ عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد ۔

Hadith 2377
sahih
وَعَنْ عَامِرٍ الرَّامِ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ يَعْنِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ كِسَاءٌ وَفِي يَدِهِ شَيْءٌ قَدِ الْتَفَّ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَرْتُ بَغِيضَةِ شَجَرٍ فَسَمِعْتُ فِيهَا أَصْوَاتَ فِرَاخِ طَائِرٍ فَأَخَذْتُهُنَّ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي كِسَائِي فَجَاءَتْ أُمُّهُنَّ فَاسْتَدَارَتْ عَلَى رَأْسِي فَكَشَفْتُ لَهَا عَنْهُنَّ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِنَّ فَلَفَفْتُهُنَّ بِكِسَائِي فَهُنَّ أُولَاءِ مَعِي قَالَ: «ضَعْهُنَّ» فَوَضَعْتُهُنَّ وَأَبَتْ أُمُّهُنَّ إِلَّا لُزُومَهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أتعجبون لرحم أم الْفِرَاخ فراخها؟ فو الَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ: لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ أُمِّ الْفِرَاخ بِفِرَاخِهَا ارْجِعْ بِهِنَّ حَتَّى تَضَعَهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُنَّ وَأُمُّهُنَّ مَعَهُنَّ . فَرَجَعَ بِهِنَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عامر رام ؓ بیان کرتے ہیں ، اس اثنا میں کہ ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی آیا ، اس پر چادر تھی اور اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے اس نے لپیٹ رکھا تھا ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں درختوں کے جھنڈ کے پاس سے گزرا تو میں نے اس میں پرندوں کے بچوں کی آوازیں سنیں تو میں نے انہیں پکڑ لیا ، اور انہیں اپنی چادر میں رکھ لیا ، پھر ان کی ماں آئی اور میرے سر پر چکر لگانے لگی ، میں نے ان (بچوں) سے پردہ ہٹایا تو وہ بھی ان پر آ گری ، میں نے انہیں اپنی چادر میں لپیٹ لیا ، اور وہ یہ میرے پاس ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ انہیں رکھو ۔‘‘ اس نے انہیں رکھا تو ان کی ماں بھی ان کے ساتھ ہی رہی ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم بچوں کی ماں کے اپنے بچوں کے ساتھ رحم کرنے پر تعجب کرتے ہو ؟ اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ! اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ، بچوں کی ماں کے اپنے بچوں کے ساتھ رحم کرنے سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے ، انہیں وہیں جا کر رکھ آؤ جہاں سے تم نے انہیں اٹھایا تھا ۔‘‘ اور ان کی ماں بھی ان کے ساتھ تھی ، وہ (آدمی) انہیں واپس لے گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2378
sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَمَرَّ بِقَوْمٍ فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ وَامْرَأَةٌ تَحْضِبُ بِقِدْرِهَا وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجٌ تَنَحَّتْ بِهِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ؟ قَالَ: «بَلَى» قَالَتْ: أَلَيْسَ اللَّهُ أَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الْأُم على وَلَدهَا؟ قَالَ: «بَلَى» قَالَتْ: إِنَّ الْأُمَّ لَا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا الله . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی قوم کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ کون لوگ ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم مسلمان ہیں ، وہاں ایک عورت ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہی تھی ، اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا ، جب آگ کی تپش تیز ہوتی تو وہ اس بچے کو دور کر لیتی ، وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، کیا اللہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا نہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیوں نہیں ۔‘‘ پھر اس نے عرض کیا ، کیا اللہ اپنے بندوں پر ، ماں کے اپنے بچے پر رحم کرنے سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیوں نہیں ۔‘‘ اس نے عرض کیا : پھر ماں تو یقیناً اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈال سکتی ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سر جھکا کر رونے لگے ، پھر آپ نے اس کی طرف سر اٹھا کر فرمایا :’’ اللہ اپنے بندوں میں سے صرف سرکش لوگوں کو عذاب دے گا اور وہ سرکش بھی ایسے جو اللہ کے خلاف سرکشی کرتے ہیں اور ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) کہنے سے انکار کر دیتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 2379
sahih
وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لجبريل: إِن فلَانا عَبدِي يتلمس أَنْ يُرْضِيَنِي أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَيْهِ فَيَقُولُ جِبْرِيلُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى فُلَانٍ وَيَقُولُهَا حَمَلَةُ العرشِ ويقولُها مَن حَولهمْ حَتَّى يَقُولُهَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ثُمَّ تَهْبِطُ لَهُ إِلى الأَرْض . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ثوبان ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بندہ اللہ کی رضا مندی تلاش کرتا ہے ، وہ اسی کوشش میں لگا رہتا ہے تو اللہ عزوجل جبرائیل سے فرماتا ہے : میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے ، سن لو میری رحمت اس پر ہے ، تو جبرائیل فرماتے ہیں : اللہ کی رحمت فلاں شخص پر ہے ، پھر حاملین عرش یہی کہتے ہیں اور پھر ان کے آس پاس والے یہی کہتے ہیں ، حتیٰ کہ ساتوں آسمان والے یہی اعلان کرتے ہیں ، پھر اس کی وجہ سے وہ (رحمت) زمین پر اترتی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 2380
sahih
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: (فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سابقٌ بالخيراتَ) قَالَ: كُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ
Urdu

اسامہ بن زید ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اللہ تعالیٰ کہ اس فرمان :’’ ان میں سے کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے ، اور کوئی میانہ رو ہے اور کوئی نیکیوں میں بڑھنے والا ہے ۔‘‘ کے بارے میں روایت کرتے ہیں ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ سب جنتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی ۔

Hadith 2381
sahih
عَن عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ» وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ أَيْضًا: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّار وَعَذَاب فِي الْقَبْر» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب شام کرتے تو فرماتے :’’ ہم نے شام کی اور اللہ کی تمام بادشاہت نے شام کی ، ہر قسم کی حمد اللہ کے لئے ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اس کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اے اللہ ! میں تجھ سے اس رات کی بھلائی مانگتا ہوں اور جو اس میں ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں ، اور اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ اے اللہ ! میں کاہلی ، بڑھاپے ، بڑھاپے کی خرابی ، دنیا کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اور جب آپ صبح کرتے تو بھی یہی کہتے :’’ ہم نے اور اللہ کی بادشاہت نے صبح کی ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ رب جی ! میں تجھ سے آگ کے عذاب اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2382
sahih
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا» . وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: «الْحَمْدُ الله الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا مَا أماتنا وَإِلَيْهِ النشور» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے وقت اپنے بستر پر تشریف لاتے تو آپ اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے ، پھر یہ دعا پڑھتے :’’ اے اللہ ! میں تیرے ہی نام سے مرتا اور زندہ ہوتا ہوں ۔‘‘ اور جب آپ بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔